Sunday, 22 September 2019

Dais Pardes Ki Khabrain

اب ساری دنیا سمٹ کر ایک ایسی بستی بن چکی ہے جہاں اربوں انسانوں کے درمیان سیاسی، معاشی، معاشرتی، تہذیبی اور ثقافتی رشتوں کے علاوہ فنون لطیفہ یہاں تک کہ کھیل اور تفریحی سرگرمیاں بھی مشترک ہو گئی ہیں۔ ان رشتوں کی بدولت وہ ایک دوسرے سے اتنے جڑ گئے ہیں کہ سات سمندر پار برا زیل میں Amazonجنگلوں میں پرانے درخت کاٹنے کی رفتار نئے درخت لگانے سے تیز ہو جائے تو یورپ میں کالم نگار کی پیشانی پر پسینے کے قطرے نمودار ہو جاتے ہیں۔ قانون کی حکمرانی، آلودگی سے پاک ماحول، انسانی حقوق کا احترام، خواتین، بچوں، معذوروںاور اقلیتوں کے حقوق کی حفاظت، اب یہ ایسی اخلاقی اور عالمی اقدار ہیں کہ ان کی خلاف ورزی قطب شمالی میں ہو تو قطب جنوبی تک کہرام مچ جاتا ہے۔ برائے مہربانی مندرجہ ذیل سطور پڑھیں اور ایک لمحہ کے لئے ضرور سوچیں کہ ان کا ہمارے ملک میں رونما ہونے والے واقعات سے کون سا منطقی رشتہ ہے؟ جہاں میں یہ دیکھ کر خوش ہوا کہ مصر میں ڈاکٹر مرسی کی وفات پر ہمارے سب سے بڑے اخباروں میں تعزیتی مضامین شائع ہوئے، وہاں جو بات دکھ دینے والی تھی وہ یہ تھی کہ تمام مضمون اور کالم نگار جماعت اسلامی یا اخوان المسلمین یا دونوں کے سیاسی نظریات سے متفق تھے۔ ہمارے جو دانشور سیکولر اور لبرل ذہن رکھتے ہیں وہ ڈاکٹر مرسی کی وفات پر خاموش رہے۔ انہیں یہ خیال بھی نہ آیا کہ اگر وہ بنیادی انسانی حقوق اور جمہوری قدروں کو دل وجان سے عزیز رکھنے کادعویٰ کرتے ہیں تو کیا اُن کا اخلاقی فرض نہیں کہ وہ چاہے کسی سیاسی راہنما سے نظریاتی اختلاف رکھتے ہوں، اگر وہ انتخابات جیت کر اقتدار حاصل کرتا ہے تو وہ عوام کی اکثریت کا نمائندہ ہے اور اُس سے اتفاق نہ کرنے والے بھی اُس کا حقِ حکمرانی صدقِ دل سے تسلیم کرتے ہیں۔ میں ایک مثال دوں گا اور وہ ہے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی قید سے رہائی کے مطالبے کی۔ انہیں امریکہ کے خلاف طالبان کے جہاد میں اُن کا حامی یا مددگار ہونے یا اس کے شک و شبہ میں وہ سزا دی گئی جو سزائے موت سے بدترہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ملک کے لبرل اور دانشور اپنی طالبان دشمنی میں امریکی بیانیے سے اس حد تک متفق ہیں کہ ماسوائے جماعت اسلامی اور جمعیت الاسلام (ف) کے سینیٹر طلحہ صاحب کے کوئی اور جماعت عافیہ صدیقی کی رہائی کیلئے آواز بلند نہیں کرتی۔ تین اور افراد کو بھی مذکورہ بالا فہرست میں شامل کرلیں، صحافیوں میں حامد میر، اراکین اسمبلی میں سے سیمابیہ طاہر اور سول سوسائٹی میں جسٹس (ر) وجیہہ الدین احمد۔

دور دراز کی خبروں کا تذکرہ شمالی افریقہ (جسے جغرافیہ دان مغرب کہتے ہیں) کے ایک چھوٹے مگر کمال کے ملک تیونس کے صدرBeji Caid Essebsi کی و فات سے شروع کرتے ہیں۔ انہوں نے 92 سال عمر پائی اور لاکھوں افراد نے ان کی آخری رسومات میں شرکت کی جو کہ عرب دنیا اور افریقہ میں ایک طویل عرصہ بعد دیکھنے میں آیا، غالباًجمال عبدالناصر کے تاریخی جنازہ کے بعد پہلی بار۔ عرب دنیا میں بہار کا جھونکا سب سے پہلے تیونس میں آیا اور اس ملک کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ صرف وہاں جمہوریت کے لگائے گئے نئے پودے نے جڑ پکڑی۔ انقلاب کے بعد وہ وزیراعظم بنے۔ وہ سیکولر سیاسی قوتوں کے محاذNidaa Toune کے قائد تھے۔ 2014ء میں انہوں نے 56 فیصد ووٹ لے کر صدارتی الیکشن جیت لیا، مگر اس کے باوجود اُن کی سب سے گہری دوستی اپنی مخالف جماعت کے سربراہ Rachid Ghannouchi سے قائم رہی۔ اُن کا سب سے بڑا کارنامہ وراثت میں عورتوں کو برابر کے حقوق دلوانا تھا۔ آج کا تیونس دو بڑی قوتوں کی رزم گاہ بن گیا، ایک طرف محنت کشوں کی تنظیمیں اور دوسری طرف ارب پتی کاروباری لوگ اور اُن کا گٹھ جوڑ۔ تیونس کے عوام کو دائیں اوربائیں بازو کے تاریخی، فرسودہ، گھِسے پٹے اور بنجر تصادم میں ہر گز کوئی دلچسپی نہیں، انہیں صرف اپنی دال روٹی کی فکر ہے، کیونکہ تیونس کی مالی حالت ہر گز اچھی نہیں اور ایک سنگین بحران اس کے دروازے پر دستک دے رہا ہے۔

امریکی ریاست کے دو چہرے ہیں۔ ایک روشن اور دوسرا تاریک (جو ان دنوں برسر اقتدار ہے)۔ Massachusettsکی سینیٹر ایک روشن خیال اور عوام دوست اور وال سٹریٹ (جو امریکی سرمایہ داری کی شاہ رگ ہے) دشمن خاتون ہیں۔ نام ہے Elazabeth Warren۔ وہ ڈیمو کریٹک پارٹی سے صدارتی نامزدگی حاصل کرنا چاہتی ہیں، تاکہ وہ صدر ٹرمپ کے خلاف میدان جنگ میں اُتر کر اسے شکست دے سکیں۔ جوں جوں ان کی مقبولیت بڑھتی جا رہی ہے، وال سٹریٹ ان کو وہائٹ ہائوس سے محفوظ فاصلے پر رکھنے کے لئے ہر قسم کے جتن کر رہا ہے۔ یقینا آپ کو یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ ایک سرمایہ دار ملک میں سرمائے کی قوت کس حد تک سیاست پر براہ راست اثر انداز ہوتی ہے۔ ایلزبتھ وارن بڑے بینکوں کی اجارہ داری ختم کرنا چاہتی ہیں، اربوں ڈالر کی آمدنی پر ویلتھ ٹیکس لگانا چاہتی ہیں۔ وہ Prime Equility Firm کو قانوناً اُن کمپنیوں کا قرض ادا کرنے کی پابند بنانا چاہتی ہیں جنہیں وہ خرید (یا ہڑپ) چکی ہوں۔ 2008-09 ء کے مالی بحران کے بعد یہ بے حد قابل فیصلہ کرنے کا سہرا اُن کے سر باندھا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں صارفین کے مالی تحفظ کے لئے ایک خصوصی ادارہ قائم کیا گیا جو بینکوں کے استحصال اور لوٹ مار سے عام صارفین کو بچانے میں بڑا مؤثر ثابت ہوا ہے۔  

پاکستان کے بگڑتے حالات پر آنسو بہانے والوں کو مشرق بعید کے ایک ملک پر نظر ڈالنی چاہئے، تاکہ ان کی ڈھارس بندھ جائے اور وہ خدا کا شکر ادا کریں کہ نہ صرف ہمارے حالات فلپائن سے ہزار درجہ بہتر ہیں بلکہ فلپائن کے صدر کے مقابلے میں ہمارے وزیراعظم بہت بہتر نظر آتے ہیں۔ چونکہ فلپائنی صدر کے حکم پر (ایک محتاط اندازے کے مطابق) ایسے 20 ہزار افراد کو موت کے گھاٹ اتارا جا چکا ہے جو منشیات فروخت کرنے کے جرم میں ملوث سمجھے جاتے تھے۔ موصوف کو جوش آجائے تو خود کو ہٹلر اور ایدی امین کا جانشین قرار دیتے ہیں، مگر آپ یہ پڑھ کر حیران ہوں گے اور خوش بھی کہ قدرت نے ا ن سے ایک اچھا کام لینے کی سبیل نکال لی، اور وہ یوں کہ اس نے وحدانی نظامِ حکومت کو ختم کر کے فلپائن کو 18 صوبوں پر مشتمل وفاق بنانے کی تجویز پیش کی ہے، جس کی منظوری کے لئے آئین میں ترمیم کرنا ہوگی۔ اگر یہ تجویز منظور ہوگئی تو Mindaonao کے جزیرے میں برسوں پرانی مسلمانوں کی مسلح جدوجہد ختم ہو جانے اور امن و امان قائم ہو جانے کے امکانات پیدا ہو جائیں گے۔ کالم نگار ڈرتا ہے کہ فلپائن میں آئین میں مذکورہ بالا ترمیم کے بعد اس کا وہ حشر نہ ہو جو اٹھارہویں ترمیم کے بعد ہمارے زخم خوردہ اور نڈھال اور روزانہ پامال ہونے والے آئین کا ہوا۔  

کراچی مون سون بارشوں سے ایک سیلاب میں ڈوبا تو وہ صرف اٹھارہویں ترمیم نہیں سارے آئین کو بہا کر لے گیا۔ بڑی تعداد میں قیمتی جانیں بجلی کے کھمبوں سے ضائع ہوئیں۔ کئی گھروں کے چراغ بجھے، مگر ہمارے میڈیا کی ساری توجہ سینیٹ میں چیئرمین کے خلاف ناکام ہو جانے والی قرار داد ِ عدم اعتماد پر مرکوز رہی۔ 20 کروڑ لوگوں میں (ماسوائے غمز دہ گھرانوں کے) 20 لوگ بھی ایسے نہ تھے جو اُس گلے سڑے نظام پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے جو کراچی کو گندے پانی میں غرق ہو نے سے بچا نہیں سکتا، جو نہ بجلی کے کھمبوں کو محفوظ بنا سکتا ہے اور نہ کراچی کو ہزاروں ٹن کوڑا کرکٹ اور غلاظت سے پاک و صاف کر سکتا ہے۔ آخر اس نیک کام کا (سالہا سال کی تاخیر کے بعد) خیال کس کو آیا؟ علی زیدی صاحب کو۔ کیا وہ کراچی کے میئر ہیں؟ جواب نفی میں ہے۔ کیا وہ سندھ کے وزیر یا وزیراعلیٰ ہیں؟ یہ بھی نہیں۔ وہ وفاقی وزیر ہیں اور وہ بھی جہاز رانی اور بحری اُمور کے۔ غالباً جب زیدی صاحب نے کراچی میں ندی نالوں کو دریائوں کی شکل میں بہتے دیکھا تو انہوں نے حساب لگایا کہ اب پانی میں (اور وہ بھی گندے پانی میں) ڈوبے ہوئے شہر کی گندگی کو صاف کرنے کی عوامی مہم چلانا اُن کی وزارتی ذمہ داریوں میں شامل ہوگیا ہے۔ کتنی خوشی اور فخر کی بات ہے کہ سول سوسائٹی کے افراد بھی اُن کے دست و بازو بن گئے ہیں۔ اب آپ دیکھیں گے کہ یہ عوامی تحریک یقینا کامیاب رہے گی۔ کراچی کے لوگوں نے اپنے شہر کا حلیہ اپنے ہاتھوں سے بگاڑا، اب وہی اسے سنواریں گے۔ غیر ملکی سامراجی طاقتوں کی حکومت ہو تو سارے کام سرکارکرتی ہے، آزاد ملک میں عوام اپنے شہر کی صفائی اور خوبصورتی کی ذمہ داری سنبھالتے ہیں۔