Thursday, 05 February 2026
  1.  Home
  2. Syed Badar Saeed
  3. Kahanion Ke Takhayul Se Aari Bache

Kahanion Ke Takhayul Se Aari Bache

کہانیوں کے تخیل سے عاری بچے

دنیا میں ایک نئی بحث جنم لے چکی ہے۔ جدید ٹیکنالوجی کی دوڑ میں انسان کی اہمیت ختم ہوتی جا رہی ہے۔ سچ یہ ہے کہ آج کا انسان جتنا کنیکٹڈ ہے اتنا ہی تنہا ہوتا جا رہا ہے۔ سمارٹ فون کی شکل میں پوری دنیا ہماری جیب میں ہے لیکن دوسری جانب اسی سمارٹ فون نے ہمارے دماغ کو اپنی اسکرین میں قید کر لیا ہے۔ ہم معلومات کے سمندر میں کھڑے ہیں مگر فہم کے قطرے کو ترس رہے ہیں۔ اس کیفیت کو "کاگنیٹو ڈرفٹ سنڈروم" کہا جاتا ہے یعنی وہ کیفیت جس میں ڈیجیٹل ڈیوائسز کا مسلسل استعمال انسان کی توجہ، سوچ اور تخلیقی صلاحیت کو آہستہ آہستہ بہا لے جاتے ہیں۔

یہ مسئلہ صرف بڑوں تک محدود نہیں رہا بلکہ اس کا سب سے زیادہ اثر بچوں پر پڑ رہا ہے۔ وہ بچے جو کبھی کہانیوں سے اپنی دنیا تخلیق کرتے تھے آج ریلز اور شارٹس میں گم ہو چکے ہیں۔ وہ تخیل جو کھلونوں، خاکوں اور کرداروں کے ذریعے پروان چڑھتا تھا اب ایلگورتھم کے ہاتھوں یرغمال ہو چکا ہے۔ دو دہائی قبل تک بچے کہانیاں سنتے تھے تو ان کا تخیل مضبوط ہوتا تھا، ان کا ذہن کہانی سن کر ایک مکمل منظر نامہ تخلیق کرتا تھا۔ آج کا بچہ اس قدرتی صلاحیت سے محروم ہوتا چلا جا رہا ہے۔

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق پانچ سال سے کم عمر بچوں کے لیے روزانہ سکرین ٹائم ایک گھنٹے سے زیادہ نہیں ہونا چاہیے مگر پاکستان میں عملی صورت حال اس کے بالکل برعکس ہے۔ یونیسیف کی رپورٹس بتاتی ہیں کہ شہری علاقوں میں 8 سے 12 سال کے بچے اوسطا روزانہ چار سے چھ گھنٹے موبائل یا ٹیبلٹ اسکرین کے سامنے گزارتے ہیں۔ یہ وہ عمر ہوتی ہے جہاں بچے کا دماغ کھیل، مشاہدے اور تخلیقی تجربات سے نشوونما پاتا ہے مگر اب یہ نشوونما انگلی کے ایک اسکرول پر رک جاتی ہے۔ ہم نے اپنے مستقبل سے تخلیق، حساب اور تخیل کی صلاحیت خود چھین لی ہے۔ یہ کتنا بڑا نقصان ہے اس کا ہمیں اندازہ ہی نہیں ہے۔

اصل مسئلہ محض وقت کے ضیاع کا نہیں بلکہ "اٹینشن اوور لوڈ" کا ہے۔ روزانہ دکھائی دینے والا ہر نوٹیفکیشن، ہر وائبریشن اور ہر پاپ آپ ہمارے دماغ کے ارتکاز کو توڑ دیتا ہے جس کے نتیجہ میں بچہ ہو یا بڑا کوئی بھی گہری توجہ برقرار نہیں رکھ پاتا۔ یہی وجہ ہے کہ آج ہم پانچ منٹ میں پانچ کام کرنے کی کوشش کرتے ہیں مگر کسی ایک میں بھی مکمل نہیں ہوتے۔ اس کا ایک اور خطرناک پہلو یہ ہے کہ اس سے تخلیقی سوچ کمزور ہو جاتی ہے۔

تخیل عموماََ تنہائی، خاموشی اور آزاد سوچ سے جنم لیتا ہے۔ مگر آج کا بچہ بور ہی نہیں ہوتا کہ اسے جیسے ہی بوریت کا احساس ہو تو ساتھ ہی اس کے پاس موبائل حاضر ہوتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ دماغ کو سوچنے، سوال کرنے اور نئی دنیا تخلیق کرنے کا موقع ہی نہیں ملتا۔ معاشی تعاون و ترقی کی عالمی تنظیم OECD کی ایک تحقیق کے مطابق وہ بچے جو روزانہ دو گھنٹے سے زیادہ اسکرین استعمال کرتے ہیں ان کی ریڈنگ کمپری ہینشن (پڑھ کر سمجھنے کی صلاحیت) اور مسئلہ حل کرنے کی اہلیت نمایاں طور پر کم پائی گئی یعنی ہم سہولت کے نام پر ایک ایسی نسل تیار کر رہے ہیں جو معلومات تو رکھتی ہے مگر فہم سے محروم ہوتی جا رہی ہے۔

یہاں ایک اور اصطلاح بھی بہت اہم ہے جسے "ڈیجیٹل ڈوپامین لوپ" کہا جاتا ہے یعنی اسکرول، ویڈیو، لائک اور پھر اسکرول۔ اس میں ہر بار دماغ کو ایک چھوٹا سا خوشی کا سگنل ملتا ہے جو آہستہ آہستہ عادت میں بدل جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فون سے دوری پر بے چینی محسوس ہوتی ہے جسے ماہرین منی وِد ڈرال بھی کہتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بچے ہی نہیں بلکہ بڑے بھی اسی جال میں پھنس چکے ہیں۔

ہم خبر یا فائل پڑھتے ہوئے میسج چیک کرتے ہیں، میٹنگ میں بیٹھے نوٹیفکیشن دیکھتے ہیں اور بچوں کے ساتھ وقت گزارتے ہوئے بھی اسکرین کو ترجیح دیتے ہیں۔ یوں ہم خود بھی "کاگنیٹو ڈرفٹ سنڈروم" کا شکار ہیں اور انجانے میں یہی بیماری اگلی نسل کو منتقل کر رہے ہیں۔ اسمارٹ فون نے بہت سی سہولیات مہیا کیں لیکن اس نے خاندانی گفتگو اور تعلقات کو سرد کر دیا ہے۔ ایک ہی کمرے میں بیٹھے افراد الگ الگ ڈیجیٹل دنیاں میں کھوئے ہوتے ہیں۔ ریسٹورنٹ میں دوست ملاقات کے لیے اکٹھے ہوتے ہیں لیکن ایک ہی میز پر بیٹھے اپنے اپنے موبائل کی سکرین میں گم ہوتے ہیں۔

مکالمہ ختم، مشاہدہ کم اور جذبات سطحی ہوتے جا رہے ہیں۔ اب ہمارے بچے والدین کے چہرے کے تاثرات پڑھنا نہیں سیکھتے کیونکہ ان کا زیادہ رابطہ انسان کی بجائے اسکرین سے ہوتا ہے۔ اس صورتحال پر ماہرینِ اطفال بھی تشویش ظاہر کر چکے ہیں۔ American Academy of Pediatrics کے مطابق زیادہ اسکرین ٹائم بچوں میں توجہ کی کمی، نیند کی خرابی اور جذباتی بے چینی کو بڑھا رہا ہے۔ یہی نہیں بلکہ مسلسل ڈیجیٹل مصروفیت جسمانی سرگرمی کو بھی کم کر دیتی ہے جس کے نتیجے میں موٹاپا اور ذہنی دبا جیسے مسائل جنم لیتے ہیں۔ ہم ٹیکنالوجی کے خلاف نہیں لیکن ان مسائل کا حل بھی ضروری ہے۔

ہمیں ٹیکنالوجی کو دشمن بنانے کے بجائے اسے حدود میں لانا ہوگا۔ گھروں میں اسکرین فری آورز مقرر کیے جائیں۔ بچوں کو روزانہ کھیل، کتاب اور تخلیقی سرگرمیوں کا وقت دیا جائے۔ والدین خود رول ماڈل بنیں اور فون رکھ کر بات کریں۔ اسکولوں میں ڈیجیٹل لٹریسی کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل ڈسپلن بھی پڑھایا جائے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ اسمارٹ فون بذاتِ خود مسئلہ نہیں بلکہ اصل مسئلہ اس کا بے لگام استعمال ہے۔ اگر ہم نے ابھی اس جانب توجہ نہ دی تو بہت جلد ایک ایسی نسل ہمارے سامنے ہوگی جو ہر سوال کا جواب سرچ تو کر لے گی مگر اپنے اندر جھانکنے کی صلاحیت کھو بیٹھے گی۔

ہمیں یہ بات سمجھنا ہوگی کہ اصل دانشوری معلومات جمع کرنے میں نہیں بلکہ سوچنے، محسوس کرنے اور تخلیق کرنے میں ہے اور یہ صلاحیت اسکرین سے نہیں بلکہ انسان کے انسان سے رشتے کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہے۔ اگر ہم واقعی اپنے بچوں کو ایک صحت مند ذہنی مستقبل دینا چاہتے ہیں تو ہمیں آج ہی موبائل اسکرول سے نظریں ہٹا کر ان کی آنکھوں میں جھانکنا ہوگا۔

Check Also

Oil And Space War

By Javed Chaudhry