سنو ماہرنگ لانگو

سنو ماہرنگ لانگو! تم محرومیوں اور حقوق غصب ہونے کی بات کرتی ہو تومیں تمہاری ذات سے شروع کرتا ہوں کہ تمہارے ایف ایس سی میں 67 فیصد تھے مگر اس کے باوجود تمہیں ایم بی بی ایس میں داخلہ مل گیا جبکہ پنجاب کی94فیصد نمبر لینے والی لائق فائق اور ذہین بیٹیاں بھی میڈیکل کالجز پہنچنے میں ناکام ہوگئیں کیونکہ کوٹے کے نام پر بلوچستان کی تم جیسی نالائقوں اور نااہلوں کو ڈاکٹر بننے کا حق دے دیا گیا۔
اب مجھے بتائو کیا تم نے کوٹے کے نام پر ان طالبات کا حق غصب نہیں کیا، تم نے ان بچیوں ان کے خوابوں سے محروم نہیں کیا اور پھر بے شرمی کے ساتھ اسی ریاست سے اپنی فیس سے بھی زیادہ وظیفہ لیتی رہیں جس کے خلاف تم محرومیوں اور حقوق غصب ہونے کا پروپیگنڈہ کر رہی ہو جبکہ غاصب تم خود ہو۔ کیا پنجاب کی ان ہزاروں طالبات کو تمہارے خلاف وزیراعظم کو خطوط نہیں لکھنے چاہئیں کہ تم نے اور تمہاری بہنوں نے ان کا حق غصب کیا، نالائق اور نااہل ہونے کے باوجود سیٹیں لے گئیں۔
سنو ماہرنگ لانگو! بات یہاں تک محدود نہیں بلکہ جب تم ڈاکٹر بن گئیں تو پاکستان نے، محکمہ صحت بلوچستان کے ذرائع کے مطابق، تم پر مجموعی طور پر ایک کروڑ روپے سے زائد کا خرچ کیا کیونکہ تم اس میڈیکل کالج میں پڑھتی تھیں جس کی صرف بلوچستان میں ہونے کی وجہ سے فیس انتہائی کم تھی، ظاہر ہے یہ رقم کسی کی جیب سے تو جانی تھی اور یہ ٹیکس پئیرز کا پیسہ تھا جو تم نے استعمال کیا مگر ڈاکٹر بننے کے بعد تم نے نہ کسی ہسپتال میں نوکری کی اور نہ ہی اپنے علاقے کی غریب مائوں اور بچوں کی زندگیاں بچائیں۔
تمہیں ریاست، نے ڈاکٹر اس لئے بنایا تھا کہ تم انجکشن پکڑو مگر تم نے اپنے ابا کی وہ بندوق پکڑ لی جس کی قیمت آج بھی لاکھوں روپوں میں ہے اور نئی تو شائد کروڑوں میں ملتی ہو۔ اس کے بعد سپیشلائزیشن کے نام پر ایک مرتبہ پھر وظیفہ خوری مگر اپنی قوم کی خدمت صفر۔ وہ بلوچستان جس میں مائیں بچوں کو پیدا کرتے ہوئے مر رہی ہیں کیا ریاست نے اس لئے تمہیں ڈاکٹر بنایا کہ تم شناختی کارڈ دیکھ کے پاکستانیوں کو مارنے والوں کی آواز بن جائو؟ آہ، تم مسیحا کی بجائے قاتل بنیں۔
سنوماہرنگ لانگو! تم انسانی حقوق کی بات کرتی ہو تو کیا انسانی حقوق صرف ان کے ہیں جو قاتل ہیں، دہشتگرد ہیں، ڈاکو ہیں، سرمچار ہیں اور اس دھرتی کے غدار ہیں۔ سنوماہرنگ لانگو، اس وقت سب سے بڑا انسانی حق زندگی کے تحفظ کا ہے۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی جس بی ایل اے کا سیاسی چہرہ بنی ہوئی ہے وہ اسی ملک کے شہریوں کو شناختی کارڈ دیکھ کر گولیاں مار دیتی ہے۔
ابھی رمضان کا مقدس مہینہ جاری ہے اور تم لوگوں نے اسی مہینے میں پنجاب کے پینتیس معصوم محنت کشوں کی لاشیں دی ہیں۔ تم پنجاب کو ظالم کہتی ہو مگر کیا قتل کرنے والا ظالم ہوتا ہے یاقتل ہونے والا۔ تم حقیقی معنوں میں ظالم ہو۔ تم اپنے سرمچاروں کے انسانی حقوق کی بات کرتی ہو تو کیا انسانی حقوق صرف دہشتگردوں اور غداروں کے ہوتے ہیں۔ کیا انسانی حقوق ان مائوں، بیویوں اور بیٹیوں کے نہیں ہوتے جن کے بیٹے، شوہر اور باپ تم قتل کروا دیتی ہو اور کمال ڈھٹائی کے ساتھ اس کی مذمت کرنے سے بھی انکار کرتی ہو۔
سنو ماہرنگ لانگو! جان کے تحفظ کے بعد سب سے بڑا حق اچھی زندگی گزارنے کا ہے۔ تم اور تمہارے گروہ کے بدمعاش بلوچستانیوں کے اس حق پر اس وقت ڈاکا ڈالتے ہیں جب سی پیک، گوادر پورٹ اور ریکوڈک جیسے منصوبوں کی مخالفت کرتے ہیں۔ مجھے بتاؤ جب تمہارا مافیا سبی ہرنائی ریلوے ٹریک کے پل دھماکوں سے اڑاتا ہے تو اس سے کیا وہ ہرنائی اور اس سے ملحقہ علاقوں میں دنیا کی بہترین سبزیاں اگانے والے کسانوں کے رزق اور کاروبار کو نہیں چھینتا۔
مجھے بتائو جب تم گوادر کمپلیکس پر خود کش حملہ کرتے ہو، جب تم جعفر ایکسپریس یرغمال بناتے ہو، جب تم کوئٹہ ریلوے اسٹیشن پر بم دھماکہ کرتے ہو، جب تم تعمیراتی کمپنیوں کی کروڑوں اور اربو ں روپوں مالیت کی مشینری جلاتی ہو تو حقیقت میں تم بلوچستانیوں کے ہی حقوق غصب کرتی ہو، تعمیر و ترقی کے ساتھ خوشحالی ان سے دور کرتی ہو۔ سنو ماہرنگ لانگو! تم جن معدنیات کی باتیں کرتی ہو ابھی تک وہ کتابوں اورکہانیوں میں ہی ہیں مگر پنجاب ضرور اپنے این ایف سی کے شئیر سے بلوچستان کو حصہ دیتا ہے۔ اعداد و شمار چیک کرو، تمہارا صوبہ اپنے ٹیکسوں سے اپنے ملازمین کی تنخواہیں بھی نہ دے سکے، وہ بھی پنجاب کے ٹیکسوں سے وفاق جو شئیر دیتا ہے، اس سے ادا ہوتی ہیں، تم کھاتی بھی ہو اور خنجر بھی مارتی ہو۔
سنو ماہرنگ لانگو! بلوچستان کو بلوچستان، ریاستوں کو جمع کرکے پاکستان نے بنایا ہے اور جس اہم ترین ساحل کی بات کی جاتی ہے وہ گوادر کا ساحل ہے جسے اومان سے پاکستان نے خرید کے اس کا حصہ بنایا۔ یہ نہیں ہوسکتا کہ مخلوق خالق پر ہی حاوی ہوجائے۔ یوں بھی بلوچستان سے زیادہ بلوچی تو بلوچستان سے باہر رہتے ہیں بلکہ بلوچستان میں تو وہ خود سادہ اکثریت میں نہیں ہیں لہٰذا ان کے نام پر بلیک میلنگ بند ہونی چاہئے۔ تم بھارت کی مدد سے وہی کھیل کھیلنے کی کوشش کررہی ہو جو شیخ مجیب الرحمان نے اکہتر میں کھیلا تھا مگر سنو ماہرنگ لانگو! مشرقی پاکستان اس لئے الگ ہوگیا کہ ہمارے درمیان ایک ہزار کلومیٹر کا جغرافیائی فاصلہ تھا اور دوسرے یہ کہ وہاں بھارت نے ننگی جارحیت کی۔ اب بھارت تم جیسوں کو اپنے بغل بچے ضرور بنا رہا ہے مگر وہ بلوچستان میں وہ فوجی کردارنہیں ادا کر سکتا جو وہ ڈھاکہ میں کر چکا۔ تمہاری بھارت سے جڑی خوش فہمی جلد دو ر ہو جائے گی۔
سنو ماہرنگ لانگو! لاشوں کا بھی سن لو، یہی نجی جیلیں چلانے والے سردار جب غلامی سے اور یہی بھارت سے فنڈز لینے والی بی ایل اے جب غداری سے انکار کرنے والے محب وطن بلوچوں کو جان سے مار کے پھینکتی ہے تو الزام سیکورٹی فورسز پر لگا دیتی ہے یعنی ایک تیر سے دو شکار۔ سنو ماہرنگ لانگو! ہم سب جانتے ہیں کہ یہ تمہاری جدوجہد نہیں بلکہ تمہارا دھندا ہے۔ تم بی بی سی کے سامنے روتی ہو کہ ماں کے کپڑے بیچ کے فیس ادا کی تو حقیقت میں ڈراما کرتی ہو۔ تم پاکستان کے خلاف پروپیگنڈے کے لئے دوسرے ممالک کے سفر کرو اور تمہارے باپ کے پاس لاکھوں مالیت کی رائفلیں ہوں، غربت میں یہ کیسے ممکن ہے۔
تمہارا اصل ایجنڈا بلوچوں کو رائلٹی خور سرداروں کا غلام رکھنا ہے۔ تم ان سرداروں کی ایجنٹ ہو جن کے اپنے بچے ہارورڈ اورآکسفورڈ میں پڑھتے ہیں مگر اپنے عوام کو وہ اچھا سکول، کالج تک نہیں دیتے۔ تم چاہتی ہو کہ سی پیک، گوادراور ریکوڈک سے خوشحالی نہ آئے تاکہ بلوچوں کے بچے آزاد نہ ہوجائیں۔ تم پنجاب سے نفرت اور تعصب کے نام پر انہیں نسل درنسل غلام رکھنا چاہتی ہو۔ یہی بلوچ سرداروں، بی ایل اے، بھارت کا اپنے اپنے مقاصد کے لئے مکروہ اتحاد ہے۔