1.  Home/
  2. Asif Mehmood/
  3. Bachon Ko To Hum Aisay Theek Karen Ge

Bachon Ko To Hum Aisay Theek Karen Ge

گرمی اپنے جوبن پر ہے۔ سا نس لینا محال ہے۔ اسلام آباد پاک سیکرٹریٹ کے سنٹرل ایئر کنڈیشنڈ عشرت کدے کا ماحول مگر بالکل مختلف ہے۔ موسم کی شدت سے بے نیاز ہو کر بنائی گئی ان عمارتوں کو ٹھنڈا رکھنے کے نام پر غریب عوام کی رگوں سے نکالے گئے ٹیکس کا جس بے رحمی سے استعمال ہو رہا ہے، کبھی آ کر دیکھیے۔ اور دیکھتے وقت یہ یاد رکھیے کہ یہ تو اس مال غنیمت میں سے چاول کا صرف ایک دانا ہے جو حکمران اشرافیہ نے اپنے لیے مختص کر رکھا ہے اور مزے کر رہی ہے، دیگ تو پوشیدہ ہے۔ وسیع و عریض عمارات میں غیر ضروری افسران اور عملے کے لشکر اترے پڑے ہیں۔ دیکھ کر خوف آتا ہے کہ اٹھارویں ترمیم کے بعد جب بہت سارے معاملات صوبوں کو منتقل کیے جا چکے تو یہ لشکری کس محاذ پر داد شجاعت دے رہے ہیں؟ یہ افلاطون یہاں بیٹھ کر ریاست پاکستان کے معاملات چلا رہے ہیں یا پورے جنوبی ایشیاء کی ذمہ داری ان کے نازک کندھے پر آن پڑی ہے۔

اسلام آباد ہو، لاہور ہو، پشاور ہو، کراچی ہو یا کوئٹہ مراعات کا ایک بحر رواں ہے جہاں بیوروکریسی خیمہ زن ہے۔ جون کے موسم میں یہاں یخ بستہ ماحول میں بیٹھ کر جب یہ بابو لوگ اور یہ وزرائے کرام فیصلے کرتے ہیں تو ان کی جانے بلا کہ باہر موسم کی حدت کیا ہے۔ غریب عوام کی شاہ رگ سے کشید کیے گئے، وسائل کی بنیاد پر ان کے گھر، دفاتر اور گاڑیاں ہی نہیں، ان کے واش رومزبھی جون میں دسمبر ہوتے ہیں۔ یہ اس ٹھنڈے ماحول میں بیٹھ کر جب جون کی گرمی میں تعلیمی ادارے کھولنے کا فیصلہ کرتے ہیں تو انہیں کوئی احساس نہیں ہوتا کہ پرائمری سکول کے بچوں پر کیا بیتے گی۔ کنویں کے مینڈک کی طرح ان کا بھی یہی خیال ہوتا ہے کہ دنیا ان کے کنویں ہی کا نام ہے۔ ان کے کنویں کا جون ٹھنڈا ہے، تو انہیں کوئی پرواہ نہیں کہ جنوبی پنجاب کے ریگستان کا عالم کیا ہو گا۔

نا اہلی ہی نہیں سفاک قسم کی بے حسی کی یہ اعلی مثال ہے۔ ان کو انسان کی سطح پر لانا ہے تو یہ ضروری ہے کہ انہیں انسانوں جیسا ماحول دیا جائے۔ تاکہ عام لوگوں کی طرح انہیں بھی موسموں کی حدت کا اندازہ ہو۔ بے ہودہ مناظر میں سب سے کریہہ منظر وہ ہوتا ہے، جب پاکستان میں مئی جون کی گرمی میں بابو لوگ اور یہ وزرائے کرام پینٹ کوٹ پہن کر رعایا سے کلام کرتے ہیں اور اس کے بارے میں فیصلے کرتے ہیں۔ غریب عوام نے اپنے حصے کی خوشیاں انہیں دے رکھی ہیں۔ اساتذہ تنخواہوں کا مطالبہ کریں تو وززیر داخلہ آنسو گیس کے فالتو شیل ٹیسٹ کرواتا ہے کہ کام کر رہے ہیں یا ضائع ہو چکے ہیں۔ لیکن ان بابو لوگوں اور وزراء کو ٹھنڈی ہوا اور گرم لو سے محفوظ رکھا گیا ہے۔ چنانچہ اس مخلوق کو کچھ خبر ہی نہیں ز مین پر کیا عالم ہے۔ ان کی کل دنیا ان کا " کنواں " اور ان کا ٹویٹر ہے۔ یہ وہ مقامات ہیں جہاں دسمبر سرد نہیں ہوتا اور جون میں گرمی نہیں ہوتی۔

وزرائے تعلیم کے رویے دیکھ کر خوف آتا ہے۔ انہیں کچھ معلوم نہیں زمین پر کیا ہو رہا ہے۔ ان کے پاس کوئی پالیسی نہیں۔ تعلیم جیسے اہم شعبے کو انہوں نے بازیچہ اطفال بنا دیا ہے۔ معلوم نہیں یہ عمران خان سے کچھ پرانے بدلے لے رہے ہیں یا ان کی فکری استعداد ہی اتنی ہے۔ بڑی کلاسزکے امتحانات مقصود تھے تو سیدھی ڈیٹ شیٹ جاری کر کے امتحان لیا جا سکتا تھا۔ اس سے تسلی نہیں ہو رہی تھی اور پڑھانا مقصود تھا تو صرف ان بڑی کلاسزہی کو بلا لیا جاتا۔ پرائمری سکول کے معصوم بچوں کو اس گرمی میں سکول بلانے کا کیا مقصد ہے؟ ہماری کم نصیبی یہ ہے کہ ہم نے فیصلہ سازی ان کو سونپ رکھی ہے جن کے بچے ہمارے بچوں کے ساتھ پڑھتے ہی نہیں۔ ان کی دنیا ہی الگ ہے۔ انہیں ہمارے بچوں کا کیا احساس؟

بعض سکول پہلے ہی امتحانات لے چکے ہیں۔ لیکن حکومت کے پاس کوئی اعدادو شمار نہیں۔ اگر ادارے امتحانات کے لیے کھولے ہیں تو پھر ان اداروں کو کیوں کھولا گیا ہے جو امتحانات تین ماہ پہلے لے چکے ہیں؟ ان اداروں میں امتحانات تو ہونے ہی نہیں۔ وہاں تو معمول کی کلاسز ہو رہی ہیں؟ سوال یہ ہے کہ کیوں ہو رہی ہیں؟

اگر نجی تعلیمی اداروں میں فیسوں کا مسئلہ ہے تو اس کی سزا بچوں کو کیوں دی جائے؟ کیا حکومت نے کبھی جاننے کی کوشش کی کہ سکولوں کو کتنی فیس ملی اور انہوں نے کتنی تنخواہیں ادا کیں؟ فیسیں تو انہوں نے لے ہی لینی ہوتی ہیں لیکن سٹاف کی انہوں نے بہانے سے ڈائون سائزنگ کر رکھی ہے۔ کیا وزیر تعلیم بتا سکتے ہیں کہ حکومتی سطح پر ان اداروں کی مانیٹرنگ کا کیا انتظام ہے؟ اپنی انتظامی بد حواسی کا تاوان معصوم بچوں سے وصول کرنا کہاں کا طرز حکمرانی ہے؟

امتحانات کا جو فارمولا دیا گیا ہے ملا نصیر الدین بھی اسے پڑھ لے تو سر پیٹ لے۔ صرف اختیاری مضامین کے امتحانات کے ساتھ ایسی انتظامی اور عملی ززندگی کے مسائل جڑے ہوئے ہیں جو بچوں کے کیریئر کے لیے تباہ کن ہوں گے۔ لیکن کسی سے مشاورت کیے بغیر فیصلہ فرما دیا گیا ہے۔ کوئی سوال پوچھ لے تو وزیران محترم " کبڈی کبڈی" کے رجز شروع کر دیتے ہیں جیسے لڑنے آئے ہیں۔ بچوں کی نکسیریں پھوٹ رہی ہیں، سن سٹروک کا خطرہ ہے، سکولوں میں بجلی نہیں، جہاں ہے وہاں لوڈ شیڈنگ ہے، پینے کا ٹھنڈا پانی نہیں ہے۔ جنوبی پنجاب کا تو بہت برا حال ہے۔ یوں لگتا ہے بستی میں منگول آ گئے ہیں اور وہ پکار پکار کر کہہ رہے ہیں کہ " بچوں کو تو ہم ایسے ٹھیک کریں گے"۔۔۔۔۔۔۔۔

برادرم عامر خاکوانی نے اپنے کالم میں لکھا ہے کہ سوشل میڈیا پر صارفین نے جناب مراد راس کو ان کے نام کی مناسبت سے کوئی خطاب دے رکھا ہے۔ مجھے اس خطاب کا علم نہیں ہے۔ آپ کو معلوم ہے میں تو سوشل میڈیا سے بہت دور اوربے خبر رہتا ہوں۔ کیا کوئی میری رہنمائی کر سکتا ہے کہ خلق خدا نے وزیر تعلیم کو کیا خطاب دے رکھاہے۔

Check Also

Budget 2021 Ghareeb Ka Ya Ameer Ka?

By Humayun Shahid