Tuesday, 20 April 2021
  1.  Home/
  2. Blog/
  3. Umar Farooq/
  4. 9 Aham Tareen Kaam

9 Aham Tareen Kaam

میرے ایک جاننے والے ہیں، بزرگ ہیں، پہلی مرتبہ سوشل میڈیا پر رابطہ ہوا، گوجرانوالہ تشریف لائے تو میری ان سے ملاقات ہوئی، ملاقات کے آخری لمحات میں میں نے گزارش کی "آپ میرے لئے استاد کی طرح محترم ہیں، میں چاہوں گا آپ مجھے کوئی نہ کوئی نصیحت ضرور کریں، جس کا ثمر آپ نے اپنی زندگی میں دیکھا ہو" انہوں نے فرمایا "بیٹا زندگی میں کسی کا دل مت دکھانا، یہ یاد رکھنا دل ٹوٹنے سے فقط دل ہی نہیں ٹوٹتا بلکہ پورا انسان ٹوٹ جاتا ہے، انسان کا آخری سہارا اللہ ہوا کرتا ہے اور اللہ شکستہ دلوں سے نکلی فریاد کبھی رد نہیں کرتا اور یہ بات بھی پلے باندھ لو، انسان کی محنت کبھی رائیگاں نہیں جاتی، قدرت کبھی بھی کسی کی محنت ضائع نہیں کرتی اور نا ہی اس کا حق مارتی ہے، یہ حق دار کو اس کا حق ضرور پہنچاتی ہے چناچہ جتنی ہوسکے محنت ضرور کرنا۔

چند لمحوں کا توقف کرنے کے بعد وہ فرمائے لگے "بیٹا میں نے زندگی میں بے شمار کتابیں پڑھی ہیں، میں تیس سالوں سے حکمت اور دانش کی محفلوں میں بیٹھ رہا ہوں، میں سائنسی ترقی اور دریافتوں کا بھی دل سے قائل ہو جس نے انسانی زندگی سہل بنانے کے لیے بے شمار قربانیاں دیں لیکن جتنی صداقت، جتنی حکمت اور جتنی جامعیت رسالت ماب صلی اللہ علیہ وسلم کی باتوں میں ہے کسی اور چیز میں ہے ہی نہیں، انسان ابتدائے آفرینش سے اپنے لئے آسانیاں پیدا کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے مگر اس کے باوجود زندگی کے دھاگے ایسے الجھے ہوئے ہیں کہ سکون کا نام و نشان تک نہیں، یہ انفرادی زندگیوں میں بھی طرح طرح کے مسائل، پیچیدگیوں اور ذہنی تناؤ کا شکار ہے، یہ جب بھی راحتوں کے سفر پر گامزن ہوگا اسے بہرحال حضور کی سیرت اور افکار سے رہنمائی لینا پڑے گی، میں تمہیں حضور کی ایک حدیث سے روشناس کرواتا ہوں، یہی سب سے بڑی نصیحت، یہی سب سے بڑا پیغام اور یہی سرمایہ حیات ہے، اس پر عمل سے تمہاری زندگی میں نہ صرف امن وامان آجائے گا بلکہ تمہاری آخرت بھی سنور جائے گی۔

رسالت ماب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی اس حدیث میں نو باتوں کی تلقین کی، فرمایا "

1-ظاہر اور باطن۔۔۔ہر حال میں اللہ سے ڈرو" یاد رکھو تمہاری خلوت اور جلوت برابر ہونی چاہیے، تمہارا ظاہر اور باطن ایک جیسا ہونا چاہیے، اگر تم ظاہر میں اللہ سے ڈرتے ہو تو تم باطن میں بھی اللہ سے ڈرنا یہ نہ ہو کہ تمہیں موقع ملے اور تم بےباک ہوکر اپنی خلوتیں داغ دار کر بیٹھو

2- "غصے اور خوشی میں انصاف کی بات کہو" انسان غصے اور خوشی میں توازن کھو بیٹھتا ہے، یہ نہ ہو کہ تمہیں غصہ آئے اور تم انصاف کا پرچم سرنگوں کر دو اور خوشی میں اتنا جھوم اٹھو کے تمہیں انصاف اور ناانصافی کی پرواہ ہی نہ رہے

3- "غریبی اور امیری میں اعتدال پر قائم رہو" آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے "سب سے خیر والا کام میانہ روی والا ہے" ہم اگر اپنی زندگی میں صرف میانہ روی اختیار کرلیں تو ہمارے بہت سارے مسائل حل ہوسکتے ہیں، متوازن زندگی ہی پرسکون زندگی ہے وہ غریب کی ہو یا پھر امیر کی لہذا ہمیشہ اعتدال کا دامن تھامے رکھو

4- "جو مجھ سے کٹے۔۔۔اس سے جڑنا" بیٹا ہم زندگی میں بہت کم لوگوں سے آشنا ہوتے ہیں، اربوں انسانوں میں گنے چنے لوگ ہمارے واقف ہوتے ہیں اور یہی لوگ ہماری اصل زندگی ہوتے ہیں، یہ لوگ اور انائیں ساتھ ساتھ نہیں چل سکتیں لہذا انا مار دینا اور بندہ بچا لینا

5- "جو مجھے محروم کرے۔۔۔میں اسے دو" یہ یاد رکھو برائی کا بدلہ برائی سے دینا کوئی عقلمندانہ بات نہیں، اگر کوئی تمہیں محروم کرے تو یہ اس کا ظرف ہے، تم اپنے ظرف کے مطابق ردعمل کا اظہار کرنا، تم اسے عطا کرنے والے بننا کیونکہ دینے والا ہاتھ لینے والے ہاتھ سے بہرحال بہتر ہوتا ہے،

6- "جو مجھ پر ظلم کرے۔۔۔اسے معاف کردو" تم خود بتاؤ کیا یہ سنت اپنانا بہتر نہ ہوگا کہ ظالم پر ظلم کرنے کے بجائے اسے یہ کہہ کر معاف کر دیا جائے "اے میرے مالک یہ نادان ہے کچھ نہیں جانتا تو اس کو معاف کر دے"

7- "میری خاموشی فکر کی خاموشی ہو" بیٹا خاموشی ایک عظیم نعمت ہے لیکن اگر یہی خاموشی غور وفکر والی خاموشی بن جائے تو یہ انسان کو خدا کے قریب لے جاتی ہے یہی وجہ ہے کہ حضور نے فرمایا میری خاموشی غور وفکر کی خاموشی ہو

8- "آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا میرا بولنا ذکر الہی کا بولنا ہوں "ہمارا پورا معاشرہ فضول بولنے کی عادت میں مبتلا ہے، ہماری ساری باتیں بے نتیجہ اور بلاوجہ ہوتی ہیں، اگر ہم اپنے بولنے کو اللہ کی رضا سے منسلک کر دیں اور ساتھ ہی یہ عہد بھی کر لیں کہ "ہمارا بولنا بامقصد اور نتیجہ خیز ہو گا" تو یہ بولنا ذکر الہی کا بولنا بن جائے گا اور آخر میں رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا "میرا دیکھنا عبرت کا دیکھنا ہو" زندگی میں حسین چہروں کو تلاش کرنا ایسے چہرے جن پر نظر پڑتے ہی خدا یاد آجائے، جو محبتیں بانٹنے والے چہرے ہوں، جن سے انسانیت فیضیاب ہو رہی ہو جو خدا سے دور لے جانے کے بجائے خدا کے نزدیک لے جانے والے چہرے ہوں، تم ایسے لوگوں کو تھام لینا تمہارا دیکھنا عبرت کا دیکھنا بن جائے گا، انہوں نے مجھے یہ حدیث سنائی اور ایک چھوٹی سی صحبت میں زندگی کے اہم ترین اسباق سکھا گئے۔

نوٹ: یہ حدیث نسائی اور مسند احمد میں روایت کی گئی ہے

Check Also

Kya Shaukat Tareen Maeeshat Ko Sahara De Payenge?

By Nusrat Javed