1.  Home
  2. Blog
  3. Tahira Kazmi
  4. Unchi Zaat Ki Aurat

Unchi Zaat Ki Aurat

اونچی ذات کی عورت

شادی ذات برادری کے باہر۔۔ نہیں ہو سکتا بھئی۔

لڑکے کی شادی۔۔ ٹھیک تو نہیں مگر ناممکن نہیں۔

لڑکی کی؟

ہر گز نہیں، توبہ استغفار۔۔ سوچا بھی تو کیوں؟

کیا کریں ان سوالوں کا؟ پیچھا ہی نہیں چھوڑتے۔ منہ پھیرو، نظر انداز کر دو، کان بند کر لو، آنکھ پھیر لو، کہیں نہ کہیں سے کسی نہ کسی کونے سے نکل آئے گا کوئی نہ کوئی۔ لپلپاتی زبان اور ڈنک ایسا کہ جسم نیلا پڑ جائے، ذہن پناہ مانگنے لگے اور دل۔۔ دل چاہے کہ سوال کا گلا دبا دیں۔ موا زندہ رہنے کو مشکل بناتا رہتا ہے ہر پل۔

ارائیں، راجے، چودھری، راجپوت، گکھڑ، مراثی، ٹوانہ، باجوہ، بٹر، بھٹی، میاں، نارو، چھٹہ، چیمہ، گجر، گھمن، سید، مرزا، مغل، برہمن، شودر، کھتری، جاٹ، سیال، شیخ، خان، خٹک، بٹ، تالپور، بزدار، جتوئی، جوکھیو، رانگڑ، کلہوڑہ، گبول، بلوچ۔۔

کیا معنی ہیں ان الفاظ کے؟

جو لوگ ان الفاظ سے پہچانے جاتے ہیں، کیا فرق ہے ان کے بیچ؟

کون برتر اور کون کم تر؟

کیا ہم سب آدم و حوا کی اولاد نہیں؟

اگر ہاں تو پھر یہ الفاظ کہاں سے آئے اور ان کی غلامی کیوں؟

"تم میں سے کسی کو کسی پر فضیلت نہیں۔ نہ عربی کو عجمی پر، نہ عجمی کو عربی پر، نہ گورے کو کالے پر اور نہ کالے کو گورے پر"۔

ذات پات کی اہمیت زیادہ یا ختم الزماں کا آخری پیغام؟ بتائیے، چپ کیوں ہیں؟ سانپ کیوں سونگھ گیا؟ سانپ تو یہ سوال ہیں جن کا زہر کا توڑ نہیں۔

کیسے بنیں ذاتیں اور کس نے بنائیں؟ آدم و حوا کی اولاد جب زمین پہ پھیلی، برادریاں اور نظام بنے، طاقت، اختیار اور ملکیت کے معنی سمجھ میں آئے تو کچھ تو چاہئے تھا نا کنٹرول کے لیے۔ چاہے ایک قبیلہ مسلط ہوتا دوسرے پہ، ایک گروہ زیر کرتا کئی گروہوں کو، اونچی ذات نچلے درجے کی ذاتوں کواور شاہی خاندان راج کرتا کمی کمینوں پہ۔

اسکے ساتھ ایک اور بات بھی چلی وہ یہ کہ طاقت کا محور مرد کو مانا گیا سو اس مرد کو حاکم بننا تھا اور عورت محکوم۔ عورت و مرد کے رشتے میں بھی ملکیت کا تصور آیا۔۔ میری عورت، میری عزت، میری غیرت۔

آپ دانت کچکچاتے ہوئے سوچیں گے نا آ گئی یہ عورت اپنے مخصوص ایجنڈے پر، خاص اوزار لے کر، ازل کا رونا، مگر مچھ کے آنسو۔

تو کیا کریں ہم جب دکھتا ہو صاف صاف کہ ذات پات بانٹتے ہوئے بھی مرد کے مفادات کا خیال رکھا گیا۔

مرد شادی کرنا چاہے کسی اور قبیلے میں، کسی اور قوم یا کسی اور مذہب و نسل میں۔۔ کر لے بھئی ضرور کرے مرد بچہ، کیا فرق پڑتا ہے؟ نسل تو مرد سے ہی چلنی ہے نا، تھوڑی بہت مکسنگ ہو بھی جائے چلے گی، مرد تو اتنی پابندی نہیں سہار سکتا نا۔

عورت کرنا چاہے۔۔ ہر گز نہیں، زمانہ کیا کہے گا؟ خاندان سے باہر کیسے کریں؟ برادری کی ناک کٹ جائے گی لوگ حقہ پانی بند کر دیں گے اگر اونچی ذات کی عورت نچلی جاتی میں چلی گئی تو؟

نسل خراب، خانہ خراب۔

کیوں؟ آخر کیوں؟

جرمن شیفرڈ کی نسل بڑھانی ہو تو جرمن شیفرڈ سے ہی ملاپ کروائیں گے نا، اور سیامی بلی کو گلی کے بلے سے گلے ملنا تو نہیں دیا جاسکتا۔ نسل خراب ہوتی ہے بابا۔ جب جانور کی نسل کے لیے اتنا اہتمام تو انسان کی نسل گندی ہونے دیں کیا؟ جرمن شیفرڈ کی بجائے گلی کا کتا؟

اخ تھو۔

جب سب انسان آدم و حوا کی اولاد ہیں تو پھر کیسے ہوئیں مختلف نسلیں؟

لو آ گئیں یہ اپنا فلسفہ جھاڑنے۔۔

بیٹی کو ذات برادری سے باہر بیاہ دینے سے اگر نسل خراب ہونے کا مسئلہ ہے تو حضور پاک کی نسل تو ان کی بیٹی سے چلی۔۔ ہے نا؟

ہاں ہاں وہ اور بات ہے۔

اور بات کیا؟

چپ کرو زیادہ بحث مت کیا کرو، بہت لمبی زبان ہے تمہاری۔

ہائیں، یہ کیا جواب ہوا؟

چلیے جناب سائنس بہت ترقی کر چکی۔ اصل اور نقل پل بھر میں علیحدہ، سب نقاب نوچ کر پھینک دیتی ہے ہوئی سائنس۔۔ قطرہ بھر ڈی این اے ہی تو چاہئے انسان کو آسمان سے زمین پہ لانے کے لیے۔

تو چلیے کروائیے ٹیسٹ، نتیجہ دیکھیے اور سر دھنیے۔۔

جب چودھری اور مراثی ایک صف میں کھڑے نظر آئیں۔۔

راجہ اور مصلی کے دادا پردادا ایک سے نکلیں۔۔

سید اور ارائیں جڑواں۔۔

مزاری، زرداری، نیازی، باجوہ اور قریشی ایک ہی ڈی این اے اٹھائے پھرتے ہوں۔

خود ہی سوچیے، صدیوں کے سفر میں جب کسی کو پچاس سو برس پہلے کی خبر نہیں وہاں یہ یقین کہ رگوں میں دوڑتا خون فلاں کا نہیں فلاں کا، دیوانے کی بڑ نہیں تو اور کیا ہے؟

اور ویسے بھی فلاں فلاں کے خون میں ایسا تھا کیا جس سے تعلق کا زعم ختم ہی نہیں ہوتا۔

چلیے امتحان لئے لیتے ہیں آپ کا۔ نومولود بچہ گود میں اگر ڈال دیا جائے تو کیسے جانچ کریں گے کہ بچہ بھٹی ہے یا شیخ؟

خٹک ہے یا سید؟

یہ فیصلہ گود کرتی ہے جو بچے کے گلے میں ذات نامی ٹیگ لٹکا کر سمجھتی ہے، دنیا میں بول بالا ہوا۔

ہمارے ساتھ ایک عراقی ڈاکٹر ہوا کرتی تھیں گوری چٹی، نیلی آنکھیں، نازک اندام۔ ایک روز آئیں، ہنس ہنس کے بے حال، پتہ چلا کہ ڈی این اے کے تجزیے کے نتیجے میں عراق کا دور دور تک نام و نشان نہیں۔

یہی ہوا ہماری اور آپ سب کی فیورٹ ہما کوکب بخاری کے ساتھ۔ ڈی این اے نے کسی ایسی جگہ سے تعلق جوڑ دیا جہاں نہ عرب سرزمین سے کوئی پہنچا اور نہ عجم سے۔ آپس کی بات ہے ایک کٹ انہوں نے ہمارے لیے ابھی سے منگوا رکھی ہے کہ ذرا ہمارا پول بھی کھلے۔ آپس کی بات ہے، ہم تو دیکھنے میں ہی منگول لگتے ہیں، چنگیز خانی مزاج کے ساتھ۔

سو وہ سب چودھری، میاں، ٹوانہ، تالپور، گیلانی اور کچھ بھی جو اپنے آپ کو اعلی و ارفع سمجھے بیٹھے ہیں، ذرا یہ چھوٹا سا امتحان تو دے دیجیے۔ کچھ باتوں کا یہیں حساب کتاب ہو جائے تو بہتر۔۔ منکر نکیر، روز قیامت، پل صراط میں تو کچھ دیر باقی ہے۔

ہمیں تجسس ہوا کہ تحقیق کریں برصغیر میں ذات پات کی تقسیم کے نظام کا آغاز کب ہوا؟ کیسے ہوا؟

اس سوال کا جواب ملا مختلف تھیوریز کی شکل میں جو تاریخ دانوں نے لکھیں۔

سوشیو ہسٹوریکل تھیوری کے مطابق برصغیر میں ذات پات کی تقسیم کا آغاز آریاؤں کی آمد سے ہوا جنہوں نے مقامی لوگوں سے ہر چیز چھین کر ایک ایسا سسٹم وضع کیا جسکے مطابق اہم عہدوں پر کلیدی حثیت آریاؤں کی تھی۔ جلد کارنگ اس سسٹم کی مختلف کلاسز کو ظاہر کرتا تھا۔ گہری رنگت رکھنے والے مقامی لوگوں کو غلام بنانے کے لیے یہ سسٹم خوب کارگر ثابت ہوا۔

تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ آریاؤں کے ڈالے گئے بیج کے نتیجے میں ذات پات کے اس گھناؤنے نظام کی جڑیں گہری ہوتی گئیں اور ایسا اس لیے ممکن ہوا کہ معاشرتی ارتقا کے نتیجے میں بہت سی اور چیزیں اس میں شامل ہوئیں۔ ان میں خاندانی پیشے، برہمن کا طاقت کو اپنے ہاتھ میں رکھنے کی خواہش، بادشاہوں کا کمزور نظام عدل اور ذات پات کے نظام کو ختم نہ کرنا، چھوٹی ذاتوں کو مقدر سے نہ لڑنے کا سبق، جغرافیائی لحاظ سے برصغیر کا الگ تھلگ ہونا، ہندو معاشرت کا جمود، بیرونی حملہ آوروں کا غلبہ اور دیہاتی طرز معاشرت شامل تھے۔

مذہبی تھیوری کے مطابق ہندو مائتھالوجی کی روایت بیان کرتی ہے کہ معاشرہ کائناتی روح پروشا کی تقسیم کے بعد وجود میں آیا۔ پروشا کے منہ اور سر سے برہمن، بازوؤں سے جنگ جو(شتریا) ٹانگوں سے تاجر (ویشیا) اور پاؤں سے شودر اور دلیت بنے۔

بائیولوجیکل تھیوری کے مطابق ہر انسان مختلف عادات و اطوار لے کر پیدا ہوتا ہے۔ ستوا کو ملتی ہے عقل و دانش، ذہانت، نیک فطرت۔ راجہ کو ملتا ہے فخرو غرور، بہادری اور جذبہ۔ پیچھے رہ گیا شودر تو اسے نصیب ہوئی حماقت، جہالت اور بے وقوفی۔ ان اوصاف کی بنیاد پہ ستوا بنے برہمن، راجہ ستوا اور احمق رہے شودر کے شودر۔

تینوں تھیوریز میں جس کو بھی لیجیے اس نے ایک ہی کام کیا۔ انسان پہ ذات کا ٹھپہ لگایا اور معاشرے کو مختلف کلاسز میں تقسیم کر دیا، پیدائشی ذات سے لے کر پیشوں کی ذات تک۔ وجود میں آنے والے مختلف طبقات نے اپنی ذات جو کہ کسی نے بھی خود نہیں چُنی تھی کو محترم بنا کر اپنے لیے فخر اور غرور کی راہ نکالی۔

کمزور اور نچلی ذات سمجھے جانے والے زیر عتاب آئے اور ان سے بہتر زندگی گزارنے کا حق چھین لیا گیا۔ اونچی ذات والوں نے معاشرے کی ہر فائدہ مند چیز پہ اپنا ٹھپہ لگا کر اپنا احساس برتری مزید مضبوط کیا۔

جو جس ذات میں پیدا ہوتا، وہی اسکا ہمیشہ کے لیے مقدر بن جاتی، کسی کے لیے قطب مینار اور کسی کے لیے پاتال۔ پاتال سے نکلنے کی کسی غلام کو اجازت تو نہیں دی جا سکتی چاہے وہ کتنا ہی قابل کیوں نہ ہو، اور قطب مینار پہ رہنے والا ہمیشہ وہیں رہنے کا حقدار چاہے حماقت میں کوئی ثانی نہ ہو۔

اونچی ذات والوں نے اس سسٹم کو مزید مضبوط بنانے کا ایک اور طریقہ سوچا۔ اور اس ترکیب میں بھی مرد کو برتر سمجھ کر چھوٹ دے دی گئی اور عورت کو ملکیت سمجھ کر اس حق سے محروم رکھا گیا۔

اینولوما شادی ایکٹ کے مطابق اونچی ذات کے مرد کو نچلی ذات کی عورت سے شادی کی اجازت تھی لیکن پریتی لوما شادی ایکٹ کے تحت اونچی ذات کی عورت اپنے سے کم ذات کے مرد سے شادی نہیں کر سکتی تھی۔

یہاں یہ بات یاد رکھیے کہ ذات پات کی جڑیں اس معاشرے میں اس قدر گہری تھیں کہ جب ہندوؤں کی ایک بڑی تعداد جن میں زیادہ تر شودر اور دلیت شامل تھے، برابری کی چاہ میں اسلام قبول کر چکے تب ان کی زندگی بہتر نہ ہو سکی کیونکہ اس نظام کو مذہب بھی تبدیل نہ کر سکا۔ شودر اور دلیت مسلمان ہو کر مصلی بنے اور برہمن چودھری اور راجے۔

باوجود اس حکم کے کہ سب انسان برابر ہیں، نہ عرب میں قبائلی معاشرت کا خاتمہ ہوا اور نہ ہی برصغیر میں چودھری کی بیٹی کی شادی کمہار کے بیٹے سے ہو سکی۔ یاد ہے نا آپ کو اینو لوما شادی ایکٹ اور پریٹی لوما شادی ایکٹ۔

بیسویں صدی کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ ڈاکٹر امبیڈکرنے ذات پات میں پسے اور معاشرے کے دھارے سے کاٹ کر علیحدہ رکھے گئے انسانوں کا مقدمہ اس صدی میں دنیا کے سامنے پیش کیا۔ تقسیم کے بعد ہندوستان کا آئین بنانے والا دانشور جسے پیدائشی طور پہ دلیت کا ٹھپہ ملا مگر انہوں نے اپنی ذہانت اور قابلیت سے تمام تھیوریز کو غلط ثابت کرتے ہوئے دلیت حقوق کی ایک لمبی جنگ لڑی۔ ان کا یقین تھا کہ کوئی بھی معاشرہ اس وقت تک ترقی نہیں کر سکتا جب تک ذات پات کے نظام کی جڑوں کو اکھاڑ کر پھینک نہ دیا جائے۔

ڈاکٹر امبیڈکرکے مطابق اگر ایک ملک دوسرے پہ حکومت کرے تو ظالم اور غاصب، پھر ایک ذات دوسری ذات پہ کیسے حاوی ہو سکتی ہے؟ کون ہے جو اس دنیا میں اپنی مرضی سے کسی مخصوص گھر میں پیدا ہوتا ہے؟ پھر یہ برتری کمتری کیسی؟ کسی بھی ذات سے تعلق رکھنے کا جھوٹا احساس فخر کیوں؟

تھوڑا سا مختلف انداز فکر اختیار کرتے ہوئے بات کو ذات کے دائرے سے نکال کر اگر انسان تک لے جائیں تو کیا یہ حیرت کی بات نہیں کہ برہمن مرد سے جوتے کھانے والا شودر مرد اور چودھری مرد کی گالیاں سن کر گھر آنے والا مصلی مرد گھر کی عورت کو اسی نظر سے دیکھتا ہے جس نظر سے اس کی ذات کو ایک دوسرے طاقتور مرد نے پرکھا۔ گھر بیٹھی عورت کے سامنے اب طاقت اس کے ہاتھ سو اب وہ حاکم اور عورت محکوم۔

چھوٹا منہ بڑی بات اگر نہ سمجھی جائے تو ڈاکٹر امبیڈکر کی بات کو کچھ آگے بڑھا دیں ہم۔ جب ایک ملک دوسرے ملک پہ حکومت کرے تو غاصب، ایک ذات دوسری ذات پہ حاوی ہو تو ظالم اور ناجائز اور جب ایک انسان (مرد) دوسرے انسان (عورت) کو اپنی ملکیت، محکوم اور مطیع سمجھ کر اس پہ حکومت کرے تو اسے کیا کہیں گے؟

کیا کوئی جواب ہے کسی کے پاس؟

Check Also

Exceptional Case

By Azhar Hussain Bhatti