Thursday, 01 December 2022
  1.  Home/
  2. Blog/
  3. Noor Hussain Afzal

Hubb e Rasool Aur Hazrat Umar

حب رسول ﷺ اور اتباع سنت کا تقاضا ہے کہ ہم اپنی جان سے زیادہ نبی اکرم ﷺ سے محبت کریں۔ ایک دفع حضرت عمرؓ نے بارگاہ نبوت میں عرض کیا کہ اپنی جان کے سوا حضور ﷺ تمام دنیا سے زیادہ محبوب ہیں، ارشاد ہوا، عمر میری محبت اپنی جان سے بھی زیادہ ہونی چاہیے، حضرت عمرؓ نے کہا اب اپنی جان سے بھی آپ ﷺ عزیز ہیں۔

آپ جمال نبوت کے سچے شیدائی تھے، ان کو اس راہ میں جان ومال اولاد اور عزیز واقارب کی قربانی سے بھی دریغ نہ تھا، عاصی بن ہشام حضرت عمرؓ کا ماموں تھا، معرکۂ بدر میں خود ان کے ہاتھ سے مارا گیا۔ حضرت عمرؓ کی محبت کا اندازہ اس سے ہوسکتا ہے کہ حضور ﷺ نے وفات پائی تو ان کو کسی طرح اس کا یقین نہیں آتا تھا، مسجد نبوی ﷺ میں حالت وارفتگی میں قسمیں کھا کر اعلان کرتے تھے جس کی زبان سے نکلے گا کہ میرا محبوب آقا دنیا سے اُٹھ گیا اس کا سر اڑا دوں گا، (فتح الباری ج9: 251)۔

آپ ﷺ کے وصال کے بعد جب کبھی عہد مبارک یاد آجاتا تو رقت طاری ہو جاتی اور روتے روتے بیتاب ہو جاتے، ایک دفعہ سفرِشام کے موقع پر حضرت بلالؓ نے مسجد اقصیٰ میں اذان دی تو رسول اللہ ﷺ کی یاد تازہ ہو گئی اور اس قدر روئے کہ ہچکی بندھ گئی۔ (فتوح شام، ازدی، فتح بیت المقدس)۔ یہ فطری امر ہے کہ محبوب کا عزیز بھی عزیز ہوتا ہے۔ اس بنا پر جن لوگوں کو آنحضرت ﷺ اپنی زندگی میں عزیز رکھتے تھے۔ حضرت عمرؓ نے اپنے ایام خلافت میں ان کا خاص خیال رکھا۔

چنانچہ جب آپ نے صحابہؓ کے وظائف مقرر کیے تو آنحضرت ﷺ کے محبوب غلام زید بن حارثہ کے فرزند اسامہ بن زید کی تنخواہ اپنے بیٹے عبد اللہ سے زیادہ مقرر کی، عبد اللہ نے عذر کیا تو آپ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ اسامہ کو تجھ سے زیادہ عزیز رکھتے تھے۔ (مستدرک الحاکم ج3: مناقب عبداللہ بن عمر ؓ)۔ حضرت عمرؓ کے دستور عمل کا سب سے زریں صفحہ اتباع سنت تھا، وہ خور و نوش، لباس وضع، نشست وبرخاست غرض ہر چیز میں اسوۂ حسنہ کو پیش نظر رکھتے تھے، رسول اللہ ﷺ نے زندگی ہمیشہ فقر وفاقہ سے بسر کی تھی، اس لیے حضرت عمرؓ نے روم وایران کی شہنشاہی ملنے کے بعد بھی فقر وفاقہ کی زندگی کا ساتھ نہ چھوڑا۔

ایک دفعہ حضرت حفصہؓ نے کہا کہ اب خدا نے کشاد گی عطا فرمائی ہے اس لیے آپ کو نرم لباس اور نفیس غذا سے پرہیز نہ کرنا چاہیے، حضرت عمرؓ نے کہا، جان پدر!تم رسول اللہ ﷺ کی عسرت اورتنگ حالی کو بھول گئی، خداکی قسم!میں اپنے آقا کے نقش قدم پر چلوں گا۔ کہ آخرت کی فراغت اور خوشحالی نصیب ہو، اس کے بعد دیر تک رسول اللہ ﷺ کی عسرت کا تذکرہ کرتے رہے، یہاں تک کہ حضرت حفصہؓ بے تاب ہوکر رونے لگیں۔ (کنز العمال ج6: 236)۔

اسلام میں شعائر اللہ کی تعظیم کا حکم ہے اس لیے آنحضرت ﷺ نے حجراسود کو بوسہ دیاہے، حضرت عمرؓ کو اپنے زمانہ خلافت میں جب اس کا موقع پیش آیا تو اس خیال سے کہ ایسا نہ ہو کہ پتھر کو بوسہ دینے سے کبھی مسلمانوں کو یہ دھوکا ہوکہ اس میں بھی الہی شان ہے حجراسود کو بوسہ تو دیا، لیکن اس کے سامنے کھڑے ہوکرکہا:

إِنِّي أَعْلَمُ أَنَّكَ حَجَرٌ لَا تَضُرُّ وَلَا تَنْفَعُ وَلَوْلَا أَنِّي رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُكَ مَا قَبَّلْتُكَ

"میں جانتا ہوں کہ تو ایک پتھر ہے نہ نقصان پہنچا سکتا ہے نہ نفع، اگر میں رسول اللہ ﷺ کو بوسہ دیتے نہ دیکھتا تو تجھے ہرگز بوسہ نہ دیتا۔ " (بخاری شریف حدیث نمبر: 1494)۔

ان کی ہمیشہ یہ کوشش رہتی تھی کہ رسول اللہ ﷺ کوجو کام جس طرح کرتے دیکھا اسی طرح وہ بھی عمل پیرا ہوں، ایک دفعہ رسول اللہ ﷺ نے ذوالحلیفہ میں دو رکعت نماز پڑھی تھی، حضرت عمرؓ نے جب اس طرف سے گزرتے تو اس جگہ دورکعت نماز ادا کرلیتے تھے، ایک شخص نے پوچھا یہ نماز کیسی ہے؟ آپ نے فرمایا کہ میں نے یہاں رسول اللہ ﷺ کو نماز پڑھتے دیکھا ہے، یہ کوشش صرف اپنی ذات تک محدود نہ تھی، بلکہ وہ چاہتے تھے کہ ہر شخص کا دل اتباع سنت کے جذبہ سے معمور ہوجائے۔

اللہ تعالی ہمیں بھی اتباع سنت میں سیدنا فاروق اعظمؓ کی پیروی کی توفیق عطا فرمائے۔

Check Also

Malacca Stick Kya Hai?

By Noor Hussain Afzal