Thursday, 20 June 2024
  1.  Home
  2. Blog
  3. Noor Hussain Afzal
  4. Hazrat Abu Bakr Siddiq (24)

Hazrat Abu Bakr Siddiq (24)

حضرت ابوبکر صدیق (24)

(1) ماں باپ کا ادب:

حضرت ابوبکر صدیقؓ اپنے والدین کا بہت احترام کرتے تھے۔ تمام عمر دل و جان سے ان کی خدمت کرتے رہے۔ جس روز پہلا خطبہ اسلام پڑھنے پر آپؓ کو کفار نے بہت مارا، اور موت کے قریب پہنچ گئے، جب ہوش آیا، تو بارگاہ رسالت ﷺ میں حاضر ہونے کی خواہش ظاہر کی، آپ کی والدہ ام الخیر سلمیٰ بنت صخر اور فاطمہ بنت خطاب ؓما کے سہارے حضور اکرم ﷺ کی بارگاہ میں پہنچے۔

اور حضور اکرم ﷺ سے درخواست کی، یارسول اللہ میری والدہ کے لیے دعا فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ انہیں ہدایت نصیب فرمائے، اور جہنم کے عذاب سے محفوظ رہیں۔ حضور اکرم ﷺ کی دعا سے آپ کی والدہ اسی وقت مشرف بہ اسلام ہوگئیں۔ آپ کے والد ابو قحافہ نے فتح مکہ تک اسلام قبول نہیں کیا۔ فتح مکہ کے دن آپ اپنے والد ماجد کو حضور اقدس ﷺ کی خدمت میں لائے۔ حضور اکرم ﷺ نے انہیں اسلام کی تلقین کی، اور وہ اسی وقت شرف اسلام سے بہرور ہو گئے۔

(2) بیویوں سے حسن سلوک:

رسول اکرم ﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ تم میں کوئی شخص کامل الایمان والا نہیں ہو سکتا، جب تک اپنی بیوی سے اچھا سلوک نہ کرے۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ اپنی بیویوں سے بہت اچھا سلوک کرتے تھے، اور آپؓ کی خانگی زندگی بہت خوشگوار تھی۔ مختلف روایتوں سے معلوم ہوتا ہے، کہ آپؓ تمام بیویوں کے ساتھ مساویانہ سلوک کرتے تھے، اور ان کے حقوق پورا کرنے میں عدل کو ہمیشہ ملحوظ رکھتے تھے۔

(3) مریضوں کی عیادت:

مریضوں کی عیادت کرنا بڑے اجر و ثواب کا کام ہے۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ کبھی رسالت مآب ﷺ کے ساتھ اور کبھی تنہا مریضوں کی عیادت کے لیے تشریف لے جاتے تھے، اور ان کی دلجوئی کرتے تھے۔ صحیح بخاری میں ہے کہ حضرت جابر بن عبد اللہ انصاریؓ بیمار ہوئے، تو حضرت ابوبکر صدیقؓ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ پیادہ بنو سلمہ کے محلے گئے، اور حضرت جابرؓ کی گھر جا کر ان کی عیادت کی۔

(4) تعزیت:

انتقال کرنے والوں کے اعزہ و اقارب کے پاس جا کر ان کو صبر کی تلقین کرنا، اور تسلی دینا سنت نبوی ﷺ ہے۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ اکثر غمزدہ خاندانوں میں تعزیت کے لیے جایا کرتے تھے۔ حضور اکرم ﷺ کے وصال نے ان کو سخت غمزدہ کر دیا تھا، لیکن پھر بھی ام ایمن کے پاس تعزیت کے لیے تشریف لے گئے، جو بچپن میں حضور اکرم رسالت ﷺ کو کھلایا کرتی تھیں، حضرت ابوبکر صدیقؓ ان کو امی کہہ کر پکارا کرتے تھے۔ مشہور صحابی حضرت عبد اللہ بن سہیلؓ جنگ یمامہ میں شہید ہو گئے۔ تو آپؓ مکہ گئے، اور ان کے والد سہیل بن عمرو کے پاس جا کر ان کی تعزیت کی۔

(5) خوش طبعی:

حضرت ابوبکر صدیقؓ میں خوش طبعی اور مزاج کی حس بھی پورے وقار اور متانت سے موجود تھی۔ ایک مرتبہ حضرت ابوبکر صدیقؓ نماز عصر مسجد نبوی میں پڑھ کر آ رہے تھے، آپ کی ایک جانب حضرت علی کرم اللہ وجہہ تھے۔ اس اثناء میں ان کا گزر حضرت حسن بن علیؓ کے پاس سے ہوا، جو بچوں کے ساتھ کھیل رہے تھے۔ آپؓ نے جلدی سے انہیں اٹھایا، اور اپنے کندھے پر سوار کر لیا، اور بار بار یہ جملہ ارشاد فرمانے لگے:

"میرا باپ فدا ہو، یہ حسن نبی اکرم ﷺ کے مشابہ ہے، علی کے مشابہ نہیں ہے۔ "

علی مسکرا رہے تھے۔

(سیرۃ خلیفۃ الرسول سیدنا ابوبکر صدیق از طالب ہاشمی)

Check Also

Chota Gosht

By Javed Ayaz Khan