Saturday, 31 January 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Mushtaq Ur Rahman Zahid
  4. Wifaq Ul Madaris Ka Nizam Eimtihan, Asri Idaron Ke Liye Role Model

Wifaq Ul Madaris Ka Nizam Eimtihan, Asri Idaron Ke Liye Role Model

وفاق المدارس کا نظام امتحان، عصری اداروں کے لئے رول ماڈل

پاکستان کے سب سے بڑے تعلیمی اور امتحانی بورڈ وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے سالانہ امتحانات سترہ جنوری سے بائیس جنوری تک منعقد ہو رہے ہیں۔ آج جب یہ کالم لکھا جا رہا ہے منگل کے دن چوتھا پیپر اپنے اختتام کو پہنچ چکا ہے۔ ان امتحانات میں مجموعی طور پر چھ لاکھ انسٹھ ہزار تین سو پینتیس طلبہ و طالبات شریک ہوئے جبکہ گزشتہ سال یہ تعداد چھ لاکھ اکتیس ہزار دو سو باسٹھ تھی۔

اس سال اٹھائیس ہزار تہتر طلبہ و طالبات کا اضافہ ہوا۔ شرکائے امتحان میں ایک لاکھ سولہ ہزار چھ سو سات حفاظ و حافظاتِ قرآن شریک تھیں جو پچھلے سال کی نسبت تین ہزار چار سو آٹھ زیادہ ہے۔ ان امتحانات کے لیے ملک بھر میں حفظ کے گیارہ سو اسی مراکز قائم کیے گئے جن میں چار ہزار چودہ ممتحنین و ممتحنات نے امتحان لیا جبکہ شعبۂ کتب کے لیے تین ہزار آٹھ سو ستتر مراکز قائم کیے گئے اور پچیس ہزار پانچ سو باسٹھ ممتحنین نے حصہ لیا جو پچھلے سال کی نسبت انتیس سو چار عملہ اضافی تعینات ہوا اور تین سو پندرہ امتحانی مراکز میں بھی اضافہ ہوا۔ یوں مجموعی طور پر اس سال پینتالیس ہزار طلبہ و طالبات وفاق المدارس العربیہ کے زیر انتظام درسی نظامی سے فارغ التحصیل ہوئے جو پچھلے کئی سالوں کی نسبت ریکارڈ اضافہ ہے۔

وفاق المدارس العربیہ صرف امتحانی بورڈ ہی نہیں بلکہ یہ ملک گیر مدارس کا ایک مضبوط نیٹ ورک بھی ہے جس میں ہزاروں مدارس رجسٹرڈ ہیں جو وفاق کے نظام کے تحت چلتے ہیں۔ اس کا نظام امتحان انتہائی مضبوط، مثالی اور جدید ہے نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر کے عصری تعلیمی اداروں کے لیے بھی وفاق المدارس کا نظام امتحان رول ماڈل کی حیثیت رکھتا ہے جو اپنے بے پناہ امتیازی خصوصیات کی وجہ سے نہایت ہی اہمیت کا حامل ہے۔

سن انیس سو ننانوے سے لے کر دو ہزار چھ تک راقم بھی اس امتحانی نظام کا حصہ رہا بطور معاون نگران آٹھ سال خدمات انجام دیں، انتہائی شفاف، صاف ستھرا اور امانت دارانہ نظام ہے جس کی بنیاد ہی اخلاص پر رکھی گئی۔ پیپرز لکھنے کے لیے انتہائی سنجیدہ، سلیقہ مند، مدبر اور تقویٰ دار علمائے کرام کا انتخاب کیا جاتا ہے جو انتہائی باریک بینی سے پیپرز تیار کراتے ہیں اور انتہائی رازداری کے ساتھ امتحانی سینٹرز تک پہنچائے جاتے ہیں، پاکستان کے تمام صوبوں سندھ، پنجاب، بلوچستان، کے پی کے اور آزاد کشمیر و گلگت بلتستان سمیت تمام امتحانی سینٹرزتک بیک وقت یہ پیپر پہنچائے جاتے ہیں۔ البتہ شہری امتحانی سینٹرز میں صبح سویرے فجر کے بعد پیپر پہنچا دیے جاتے ہیں جبکہ ملک کے دور دراز اور برف پوش پہاڑوں میں قائم سینٹرزتک ایک روز قبل پیپرز پہنچا دیے جاتے ہیں انتہائی رازداری کے ساتھ اور پھر امتحان ہال میں امتحانی وقت پر تمام طلبا کرام کے سامنے سیل پیک پیپرز کو کھول دیا جاتا ہے جس میں ذرا بھر بھی کوئی شائبہ تک نہیں ہوتا اور نہ اس حوالے سے کوئی سوچ بھی سکتا ہے جن جن مراحل سے یہ پیپر پہنچائے جاتے ہیں وہ وفاق المدارس کے انتہائی ذمہ دار اور سنجیدہ افراد کے ذمہ پہنچائے جاتے ہیں۔

اسی طرح امتحان ہال بھی ایک باوقار اور نمایاں خصوصیت رکھتا ہے جس میں انتہائی خاموشی نہ کوئی شور و غوغا سنجیدگی، وقار اور اطمینان سے طلبا و طالبات اپنے پیپرز حل کرتے ہیں اور وفاق کا نگران عملہ اس کی نگرانی کرتے ہیں۔ اگر پیپر میں سے کوئی الفاظ یا کوئی مسائل سمجھ نہ آئے تو انتہائی ادب اور احترام کے ساتھ طلبا نگران عملے سے پوچھتے ہیں اور انہیں انتہائی تسلی بخش جواب دیا جاتا ہے۔ جوابی پیپرز جمع ہونے کے بعد تمام نگران عملے کے سامنے وہ اپنے ہاتھوں سے اسے سیل کرکے وفاق المدارس العربیہ کے ہیڈ آفس ملتان بھجواتے ہیں اور یہ تمام ڈاک پاکستان پوسٹ کے ذریعے کی جاتی ہے جو انتہائی منظم انداز سے اور ایمانداری سے یہ کام سرانجام دیتا ہے۔

وفاق المدارس کا صدر دفتر پاکستان کے دل ملتان میں واقع ہے کچّا پھاٹک گارڈن ٹاون شیر شاہ روڈ ملتان میں قائم اس مرکز میں تمام صوبوں اور شہروں کے پیپرز جمع ہو جاتے ہیں اور اس کے بعد پھر مارکنگ کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ مارکنگ کے لیے بھی ہیڈ کوارٹر ملتان کے علاوہ کراچی اور مختلف مقامات پر بڑے بڑے مراکز قائم کئے جاتے ہیں جس میں اکابر علما کرام اور تجربہ کار ٹیچرز کو یہ ذمہ داری سونپی جاتی ہے جو صبح سے لے کر رات تک تسلسل کے ساتھ تمام پرچہ جات کی مارکنگ کرتے ہیں۔ مارکنگ کا عمل بھی انتہائی پر سکون اور پر امن ماحول میں منصفانہ طریقے سے سرانجام دیا جاتا ہے۔ مارکنگ کے عمل کے بعد انتہائی مختصر مدت صرف تقریباً ایک ماہ میں ان لاکھوں پیپرز کا رزلٹ تیار کرکے بیک وقت اسے اعلان کر دیا جاتا ہے جو وفاق المدارس کی ویب سائٹ کے ساتھ ساتھ مختلف قومی اخبارات میں بھی شائع ہوتا ہے اور اس کے علاوہ انفرادی طور پر بھی تمام مدارس کو اسی وقت ارسال کر دیا جاتا ہے۔

امتحانات میں جو طلبہ و طالبات راسب ہو جاتے ہیں یعنی جسے بالفاظ دیگر فیل کہا جاتا ہے تو یہاں پر ایک اور مرحلہ بھی آتا ہے جس میں ری چیکنگ کا عمل ہوتا ہے اگر کسی کو اپنے نمبرات مناسب نہ لگے ہوں تو وہ ری چیکنگ کے ذریعے اپلائی کر سکتے ہیں اور ری چیکنگ بھی انتہائی منظم طریقے سے کی جاتی ہے اور اگر خدا نخواستہ طلبہ کی کوئی حق تلفی ہوئی بھی ہو تو اسے پورا کر دیا جاتا ہے یوں یہ ملک گیر امتحانی سلسلہ اپنے اختتام تک پہنچ جاتا ہے۔

ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ اس ملک میں جو ادارے منظم، کامیاب اور دوسروں کے لیے مثالی بن جاتے ہیں تو ان اداروں کی راہ میں روڑے اٹکائے جاتے ہیں اسے دیوار سے لگانے کی کوشش کی جاتی ہے اسے عوام میں اور عالمی سطح پر بھی بدنام کرنے کی کوشش کی جاتی ہے اور متبادل کے طور پر کچھ چیزیں سامنے لائی جاتی ہیں یہی کچھ وفاق المدارس العربیہ کے ساتھ بھی کافی عرصے سے ہو رہا ہے۔ کچھ نئے مدارس بورڈ کے نام سے یہ سلسلہ جاری ہے لیکن تاحال اس میں کوئی کامیابی نہیں مل سکی ہے اور وفاق المدارس العربیہ کے صدر مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد تقی عثمانی اور اس کے ناظم اعلیٰ مولانا قاری محمد حنیف جالندھری نے اس کی باقاعدہ روکنے کی منصوبہ بندی کی ہے اور آج تک الحمد للہ وہ اس پر کامیابی سے عمل درآمد بھی کر رہے ہیں۔

ڈمی مدارس بورڈ سے جب وفاق المدارس العربیہ کو دیوار سے لگانے کی کوششیں ناکام ہو جاتی ہیں تو پھر وفاق المدارس کے نظام امتحان میں دراڑیں ڈالنے اور اسے بدنام کرنے کی منظم سازشیں کی جاتی ہیں اس سال بھی پچھلے سالوں کی طرح وفاق المدارس کے پرچہ جات لیک کرنے کی منظم سازش کی گئی لیکن وفاق المدارس کی انتظامیہ کی سمجھ داری نے اس کو ناکام بنا دیا۔ وفاق المدارس کو اس بار بھی پتہ چلا کہ انتہائی بڑے منصوبے کے تحت اس کے پرچہ جات لیک کئے جائیں گے تو وفاق نے ٹیسٹ پیپرز کے طور پر اپنے امتحانی سینٹرز میں پیپر بھجوائے اور جو اصل امتحانی پیپر تھے اسے اپنے پاس ہی روکے رکھا۔

جب ٹیسٹ پیپرز بھیج دئیے گئے تو جن افراد کی ذمہ داری لگائی گئی تھی پرچہ لیک کرنے کی انہوں نے اپنی وہی پرانی روش اختیار کی اور پرچے لیک کئے۔ اس کے بعد جب وفاق المدارس کو اس نیٹ ورک کا پتہ چلا تو اس پر گرفت بھی کیا اور ابھی تک اس پر کارروائی ہو رہی ہے کہ اس کے پیچھے اصل محرکات اور عوامل کیا ہیں کون اس کے پیچھے کارفرماہے اس کے بعد وفاق المدارس نے اپنے اصل پیپرز دو دن کی تاخیر سے اپنے امتحانی سینٹرز میں پہنچائے جو ان کا انتہائی مدبرانہ فیصلہ تھا اور اللہ پاک نے اس کو اس میں کامیابی بھی عطا کی۔

Check Also

America, China Aur Islami Mumalik Ka Khel

By Farhat Abbas Shah