Tasawwuf Ka Azeem Baab Hamesha Ke Liye Band
تصوف کا عظیم باب ہمیشہ کے لئے بند

ابھی پیر طریقت رہبر شریعت شیخ ذوالفقار نقشبندیؒ کی وفات سے زخم تازہ تھے، آنکھیں اشکبار تھیں کہ ایک اور دردناک اور افسوسناک خبر ملی کہ عظیم روحانی شخصیت پیر سید مختار الدین شاہ بھی اللہ کوپیارے ہوگئے۔ اناللہ واناالیہ راجعون۔
دنیاکے اس بےپناہ شور میں کچھ شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو خاموشی سے آتی ہیں، پوری زندگی اخلاص کے ساتھ خدمت کرتی ہیں ذکر و اذکار اور لوگوں کی آخرت کی بھلائی کے لئے پوری زندگی صرف کرتی ہیں اور پھر خاموشی سے ہی ہزاروں لوگوں کو افسردہ چھوڑ کر دنیا سے رخصت ہو جاتی ہیں، مگر ان کی خوشبو، ان کا نور اور ان کی نسبتیں زمانے کے دل و دماغ میں دیر تک باقی رہتی ہیں۔ شیخِ طریقت، صاحبِ نسبت بزرگ حضرت پیر مختارالدین شاہ کا شمار بھی انہی خوش نصیب اور مقبولِ بارگاہِ الٰہی ہستیوں میں ہوتا ہے، جن کے وصال نے اہلِ علم، اہلِ دل اور طالبانِ حق کو گہرے رنج و ملال میں مبتلا کر دیا ہے۔
حضرت پیر مختارالدین شاہ نے 1950ء میں کربوغہ شریف خیبرپختونخواہ کے ایک معروف دینی اور روحانی گھرانے میں آنکھ کھولی۔ یہ وہ ماحول تھا جہاں قرآن کی تلاوت، ذکر و اذکار، علمِ دین کی مجالس اور بزرگوں کی صحبت روزمرہ زندگی کا حصہ ہوا کرتی تھیں۔ اس پاکیزہ و دینی فضا نے ان کی شخصیت کی بنیاد رکھی۔ بچپن ہی سے سنجیدگی، متانت، خاموشی اور عبادت سے رغبت ان کی فطرت میں شامل تھی۔
ابتدائی دینی تعلیم اپنے آبائی علاقے میں حاصل کرنے کے بعد جب علم کی پیاس مزید بڑھی تو وہ کراچی تشریف لے گئے۔ جامعہ دارالعلوم کورنگی میں انہیں عصرِ حاضر کے جلیل القدر عالمِ دین مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد تقی عثمانی کی شاگردی نصیب ہوئی۔ یہ شرفِ تلمذ ان کی زندگی کا ایک اہم موڑ ثابت ہوا۔ آپ نے نہ صرف فقہ و حدیث میں گہری مہارت حاصل کی بلکہ تخصص فی الفقہ کی دستار بھی وہیں باندھی، جو ان کے علمی مقام کا واضح ثبوت ہے۔
حضرت پیر مختارالدین شاہ کا کمال صرف علمِ ظاہر تک محدود نہ تھا۔ ان کے دل میں باطن کی اصلاح، نفس کی پاکیزگی اور قربِ الٰہی کی تڑپ بھی موجزن تھی۔ یہی طلب انہیں شیخ الحدیث اور عظیم روحانی پیشوا مولانا زکریا کاندھلویؒ کی بارگاہ تک لے گئی، جہاں انہوں نے بیعت کی اور ان کی خلافت سے بھی سرفراز ہوئے۔ حضرت مولانا زکریا کاندھلویؒ سلسلۂ چشتیہ کے ان عظیم مشائخ میں سے تھے جنہوں نے علم و روحانیت کو ایک لڑی میں پرو رکھا۔ حضرت پیر مختارالدین شاہ ان کے آخری خلفاء میں شامل تھے، جو ان کے اعتماد، اخلاص اور روحانی استعداد کی روشن دلیل ہے۔
روحانی اجازت کے بعد آپ نے کربوغہ شریف میں دارالایمان والتقویٰ کے نام سے ایک روحانی مرکز کی بنیاد رکھی، جو بعد ازاں جامعہ زکریا دارالعلوم کربوغہ شریف کے نام سے معروف ہوا۔ یہ ادارہ وقت کے ساتھ ساتھ محض ایک مدرسہ نہیں رہا بلکہ اصلاحِ باطن، تزکیۂ نفس، تربیتِ سالکین اور دینی تعلیم کا ایک جامع مرکز بن گیا۔ یہاں ملک کے کونے کونے سے ہی نہیں بلکہ بیرونِ ملک سے بھی لوگ اپنی اصلاح کے لیے آتے، چند دن یا چند ہفتے قیام کرتے اور حضرت کی صحبت سے فیض یاب ہو کر لوٹتے۔
حضرت پیر مختارالدین شاہ کی زندگی کا بنیادی مقصد اللہ کی مخلوق کو اللہ سے جوڑنا تھا۔ وہ لوگوں کو دنیا کی وقتی چمک دمک، غفلت اور نفس پرستی سے نکال کر آخرت کی فکر کی طرف متوجہ کرتے تھے۔ ان کی گفتگو میں نہ خطیبانہ جوش ہوتا تھا اور نہ کسی پر الزام تراشی، بلکہ سادگی، درد، حکمت اور خیر خواہی ان کے بیان کی پہچان تھی۔ وہ دلوں کو مخاطب کرتے تھے، زبان کو نہیں۔ ان کی ظاہری اور باطنی شخصیت میں ایک عجیب ہم آہنگی تھی۔ ان کا منور چہرہ، پرسکون انداز، خاموش مسکراہٹ اور عاجزی دیکھنے والوں کو خود بخود متاثر کر دیتی تھی۔ وہ ہمہ وقت ذکر و اذکار میں مشغول رہتے، مگر دنیا سے کٹے ہوئے نہیں تھے۔ تدریس بھی فرماتے، اصلاح بھی کرتے، ادارے کی نگرانی بھی کرتے اور آنے والوں کی دلجوئی بھی یہ سب کام نہایت سکون اور نظم کے ساتھ انجام دیتے تھے۔
اتنی مصروفیات کے باوجود انہوں نے قومی سطح پر دینی تعلیم کے نظام میں بھی فعال کردار ادا کیا۔ انہیں ملک کے سب سے بڑے دینی تعلیمی بورڈ وفاق المدارس العربیہ پاکستان کی سرپرستی کی ذمہ داری سونپی گئی، جو ان کی علمی وقعت، دیانت اور اعتدال پسند مزاج کا عملی اعتراف تھا۔ یہ منصب کسی رسمی حیثیت کا نہیں بلکہ ایک اعتماد کی علامت تھا۔ حضرت پیر مختارالدین شاہ کا وصال اگرچہ ایک عظیم سانحہ ہے، مگر ان کی زندگی ایک مکمل درس ہے۔ ان کے چھوڑے ہوئے ادارے، ان کے تربیت یافتہ شاگرد، ان کے خلفاء اور ان کے مریدین اس بات کی گواہی دیتے رہیں گے کہ انہوں نے زندگی کو مقصد کے ساتھ جیا۔ ایسے لوگ جسمانی طور پر دنیا سے تورخصت ہو جاتے ہیں، مگر اپنے افکار، اعمال اور روحانی نسبتوں کے ذریعے زندہ رہتے ہیں۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم حضرت پیر مختارالدین شاہ کی زندگی سے سبق حاصل کریں اخلاص، سادگی، علم، عمل اور اصلاحِ نفس کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔ یہی ان کے لیے سب سے بڑا خراجِ عقیدت بھی ہے اور ان کے مشن کی حقیقی تکمیل بھی۔ حضرت کی نمازہ جنازہ منگل کے روز کربوغہ شریف میں اداکی گئی جس میں علماء، طلباء مریدین زندگی کے مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے افراد سمیت عام شہریوں نے ہزاروں کی تعداد میں شرکت کی اور یوں انہیں ہزاروں اشکبار آنکھوں کے سامنے کربوغہ شریف میں ہی سپردخاک کیاگیا۔
اللہ تعالیٰ حضرت پیر مختارالدین شاہ کے درجات بلند فرمائے، ان کی قبر کو نور سے بھر دے، ان کے قائم کردہ اداروں کو مزید ترقی عطا فرمائے اور ہمیں بھی ایسے ہی اہلِ دل بزرگوں کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔

