Friday, 09 January 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Mushtaq Ur Rahman Zahid
  4. Tapti Garmi Se Barf Posh Paharon Tak Haseen Safar

Tapti Garmi Se Barf Posh Paharon Tak Haseen Safar

تپتی گرمی سے برف پوش پہاڑوں تک حسین سفر

یہ گزشتہ سال جولائی کا مہینہ تھا اور اس سال کراچی سمیت پورے سندھ میں قیامت خیز گرمی تھی۔ ایسی شدید گرمی جو شاید ہم نے گزشتہ تیس برسوں میں بھی نہیں دیکھی تھی پارہ چالیس پینتالیس سے ہائی تھا۔ اس تباہ کن اور قیامت خیز گرمی سے نجات کے لیے ہم نے ایک منصوبہ بنایا کہ کیوں نہ پاکستان کی حسین وادیوں کا سفر کیا جائے۔

چنانچہ سولہ جولائی، دس محرم الحرام، منگل کے دن ہم نے فجر کی نماز کے بعد کراچی سے اپنی گاڑی میں اس سفر کا آغاز کیا۔ اس سفر میں میرے دو برادران، سمیع الرحمٰن فاروقی، نعیم الرحمٰن فاروقی، صاحبزادہ محمد سفیان فاروقی اور میرا چھوٹا بھتیجا محمد ریان فاروقی بھی رفقائے سفر تھے۔

ہم نے سفر کی تمام ضروری اشیاء اپنے ساتھ لے رکھی تھیں، جن میں جیکٹس، جوتے، سلنڈر، کھانے پینے کی اشیاء اور دیگر ضروری سامان شامل تھا۔ سپر ہائی وے سے ہمارا سفر شروع ہوا اور جیسے ہی ہم حیدرآباد پہنچے اس کے بعد گرمی مزید شدید ہوتی چلی گئی۔ گاڑی میں بیٹھنا اور گاڑی چلانا دونوں ہی محال ہوگیا تھا۔

چونکہ دونوں بھائی ڈرائیونگ کر رہے تھے اس لیے ہر دس پندرہ منٹ بعد گاڑی روکی جاتی۔ کسی چشمے، ٹیوب ویل یا ہینڈ پمپ کے تازہ مگر گرم پانی سے منہ ہاتھ دھوئے جاتے، تولیہ گیلا کرکے سر پر رکھا جاتا اور پھر سفر دوبارہ شروع کیا جاتا۔ یوں ہم سندھ کے تپتے ہوئے صحراؤں میں محوِ سفر تھے۔

شام کے قریب موٹروے پر ہماری گاڑی کا ایک ٹائر خراب ہوگیا۔ چونکہ ہمارا ارادہ رات کو اسلام آباد پہنچنے کا تھا مگر خرابی ٹائر اور رات اندھیرا ہونے کی وجہ سے ہم نے مزید سفر جاری رکھنا مناسب نہیں سمجھا اور قریبی شہر گوجرہ میں رات گزارنے کا فیصلہ کیا۔ اس چھوٹے سے شہر میں خستہ حال ہوٹل کے ایک پنجرہ نما کمرے میں ہم نے رات کا قیام کیا۔

اگلی صبح ہلکا پھلکا ناشتہ کرنے کے بعد گاڑی کے ٹائر وغیرہ تبدیل کروائے اور دوبارہ اسلام آباد کی جانب روانہ ہو گئے۔ دوپہر بارہ ایک بجے کے قریب ہم اسلام آباد پہنچے۔ وہاں ہمارے بچپن کے ساتھی اور پڑوسی عبید بھائی ٹیکسلا میں ہمارے منتظر تھے۔ چنانچہ وہیں ان کے ہاں ظہرانے اور عشائیے کا اہتمام ہوا۔ ٹیکسلا اور اس کے گرد و نواح کی کھلی فضا میں گھوم پھر کر ہم رات کو ان کی رہائش گاہ پر واپس لوٹے۔

رات قیام کے بعد اگلی صبح بغیر ناشتے کے ہم نے ہزارہ موٹروے کے ذریعے اپنے اگلے سفر کا آغاز کیا۔ انتہائی دلکش نظارے، پرسکون ماحول، چاروں اطراف سرسبز و شاداب پہاڑیاں اور کھیتی باڑی کرتے لوگ۔ بالاکوٹ جاتے ہوئے عطرشیشے کے مقام پر ہمارے عزیز عثمان وغیرہ سے رابطہ تھا جو رات سے صبح کے ناشتے پر ہماری مہمان نوازی کے لیے بےتاب تھے۔ ہزارہ موٹروے کی خوبصورت اور حسین وادیوں میں سفر کرتے ہوئے ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے ہم کسی جنت نما وادی کی طرف جا رہے ہوں۔

عطرشیشے کے مقام پر ہم نے تھوڑی دیر قیام کیا اور دن گیارہ بجے صبح کا ناشتہ کرنے کے بعد بالاکوٹ کے راستے کاغان اور ناران کی طرف چل دیے۔ راستے میں دائیں بائیں ہر طرف سرسبز و شاداب پہاڑیاں تھیں اور نیچے تیز رفتار شفاف پانی بہہ رہا تھا۔ ایسا دل موہ لینے والا منظر تھا جسے شاید کبھی بھلایا نہ جا سکے۔

کیوائی واٹر فال پر پہنچ کر تھوڑی دیر کے لیے اسٹاپ کیا۔ پہاڑوں کے درمیان بہتا ہوا برف پگھلتا ٹھنڈا پانی جو بالکل برف محسوس ہو رہا تھا، جس میں تیس سے چالیس سیکنڈ سے زیادہ کھڑا ہونا بھی ممکن نہ تھا۔ وہاں چارپائیوں پر بیٹھ کر چائے اور چپس کے ساتھ اردگرد کے حسین مناظر سے خوب لطف اندوز ہوئے اور سفر جاری رکھا۔

کاغان کے قریب پہنچ کر ہم نے دوبارہ تھوڑی دیر کے لیے وقفہ لیا۔ وہاں برفانی پہاڑیاں اور خوشگوار ماحول تھا جہاں پاکستان بھر سے آئے ہوئے سیاح لطف اندوز ہو رہے تھے۔ ہم بھی وہاں گھوم پھر کر، تصاویر بنا کر اور ہلکا پھلکا ناشتہ کرنے کے بعد ناران کی طرف روانہ ہو گئے۔

ناران پہنچتے ہی ہم ایک انتہائی خوبصورت اور حسین وادی میں داخل ہوئے۔ چاروں طرف سرسبز و شاداب پہاڑیاں، نیچے بہتا ہوا صاف شفاف دریا اور فطرت کا حسین امتزاج تھا۔ ہم نے وہیں دریا کے کنارے اپنے کھانے کا انتظام کیا اور ساتھ لائے ہوئے سلنڈر کے ذریعے پلاؤ پکایا۔ کھانے کے بعد وہیں چائے نوشی کی اور اس دلکش ماحول سے بھرپور لطف اٹھایا۔

شام ہوتے ہی ہم ہوٹل کی طرف روانہ ہوئے جہاں ایک رشتہ دار کے ذریعے طے شدہ ہوٹل میں ہمارا قیام تھا۔ رات گزارنے کے بعد اگلی صبح ہم بابوسر ٹاپ کی طرف روانہ ہوئے۔ راستے میں بٹہ کنڈی کے مقام پر ایک اور وقفہ کیا۔ وہاں بہتا ہوا ٹھنڈا پانی، سرسبز پہاڑیاں اور قدرتی مناظر دیکھ کر ہم مزید لطف اندوز ہوئے اور پھر بابوسر ٹاپ کی طرف روانہ ہو گئے۔

بابوسر ٹاپ پہنچتے ہی بارش شروع ہوگئی اور شدید سردی پڑنے لگی۔ سردی اتنی زیادہ تھی کہ ہمارے وہم و گمان میں بھی نہ تھی۔ ایک طرف کراچی کی قیامت خیز گرمی اور دوسری طرف یہاں کی یخ بستہ ہوائیں، یہ تضاد ناقابلِ یقین تھا۔ بارش اور سردی کے باعث وہاں کھڑا ہونا ممکن نہ رہا چنانچہ ہم ایک جھونپڑی نما ہوٹل میں پناہ گزین ہو گئے۔ انڈے، چپس اور چائے کے ذریعے خود کو گرم کرنے کی کوشش کی۔

بارش کچھ دیر کو تھمی تو ہم اردگرد موجود برف کی طرف گئے، گھوم پھر کر واپس آئے اور پھر نیچے چلاس کی طرف سفر شروع کر دیا۔ یہ راستہ انتہائی خطرناک مگر بے حد خوبصورت تھا۔ بارش کے دوران سفر کرتے ہوئے جگہ جگہ انتظامیہ کی جانب سے گاڑیاں روکی جاتیں اور زیادہ گرم ٹائروں والی گاڑیوں کو کچھ دیر آرام کا کہا جاتا۔ اسی طرح سفر کرتے ہوئے ہم چلاس پہنچے جہاں کا موسم بالکل مختلف اور سندھ جیسا محسوس ہو رہا تھا۔

چلاس سے آگے بڑھتے ہوئے ہم جگلوٹ پہنچے جہاں ہمارے میزبان مجاہد بھائی ہمارے منتظر تھے۔ انہوں نے جگلوٹ بازار میں ہی ناشتہ کروایا اور پھر ہم ان کے گاؤں برماس کی طرف روانہ ہوئے۔ وہاں سرسبز و شاداب کھیت، درخت، دریا اور دیہی زندگی کا خوبصورت منظر دیکھنے کو ملا۔ رات ہم نے وہیں گزاری۔

صبح برماس گاؤں کا مکمل وزٹ کیا۔ ہر طرف پھل فروٹ کے درخت جن میں اخروٹ، بادام، انجیر شامل تھے۔ ٹھنڈا بہتا پانی، خوبصورت دیہاتی ماحول جس نے بچپن کی یادیں تازہ کر دیں۔ برماس گویا گاؤں اور شہر کا حسین امتزاج تھا۔

اگلے دن ہم نے اسکردو کا سفر شروع کیا۔ جگلوٹ سے دائیں جانب اسکردو کا راستہ جاتا ہے جو بے حد خوبصورت ہے۔ نیچے دریا اور اوپر پہاڑوں کے درمیان روڈ کچھ جگہوں پر کچا مگر مجموعی اعتبار سے موٹروے جیسا تھا۔ ہر طرف خاموشی چھائی ہوئی تھی سوائے پانی کی آواز کے۔ یہ سفر ناقابلِ بیان تھا۔

اسکردو پہنچنے سے پہلے شنگریلا جھیل کا وزٹ کیا جہاں پاکستان بھر سے آئے ہوئے سیاح بھی موجود تھے۔ اسکردو میں بازار سے کچھ فاصلے پر محلے نما علاقے میں مجاہد بھائی ایک گیسٹ ہاؤس کا انتظام کر رکھا تھا جس میں ہمارے علاوہ امریکہ اور آسٹریلیا کی کچھ فیملیز بھی آئی ہوئی تھیں۔

رات اسکردو میں قیام کے بعد ہم نے واپس جگلوٹ کا سفر شروع کیا۔ اگلی رات پھر جگلوٹ میں گزار کر ہم ہنزہ کی طرف عازمِ سفر ہوئے۔ عطا آباد کی خوبصورت نیلے پانی والی جھیل کا دورہ کیا۔ کشتی میں پکوڑوں اور چٹ پٹی چاٹ کے ساتھ جھیل سے لطف اندوز ہوئے جو ایک یادگار لمحہ تھا۔

رات واپس جگلوٹ آ کر قیام کیا اور اگلی صبح سوات کی طرف نکلنے کا پلان تھا۔ واپس بابوسر ٹاپ سے ہی سوات جانا تھا مگر بھائیوں کے اصرار پر کہ کوئی نیا راستہ تلاش کیا جائے تاکہ مزید سیر کی جا سکے، مشاورت کے بعد گلگت سے ضلع غذر کے ذریعے چترال کا سفر طے ہوا۔ اگرچہ یہ ایک تلخ اور مشکل فیصلہ تھا کیونکہ میزبانوں کے بقول ہماری گاڑی کے لیے راستہ ناہموار تھا۔ راستہ کیا، بس پتھروں پر سفر کرنا تھا وہ بھی دس بیس کی اسپیڈ سے۔

راستہ انتہائی خوبصورت، پرکشش، سرسبز جھیلوں، کھیتوں اور میدانوں سے بھرپور تھا مگر سخت دشوار گزار۔ جگہ جگہ کھلے میدان، سرسبز وادیاں اور ٹھنڈا موسم دل کو بھا گیا۔ راستے میں گاھکوچ، مستوج اور دیگر چھوٹے چھوٹے بازار بھی آئے۔ خوش مزاج لوگوں کا علاقہ جیسا سنا تھا ویسا ہی پایا۔ راستے ہی میں مقامی دوست احمد علی بھائی کی فرمائش پر کیلاش جانے کا پروگرام بھی طے پایا۔

ایک رات ضلع غذر کے سب سے آخری اور بے پناہ حسن سے لبریز گاؤں برست میں گزاری اور اگلی صبح چترال کی طرف روانہ ہوئے۔ شندور ٹاپ پہنچ کر ایسا محسوس ہوا جیسے ہم کسی اور ہی دنیا میں آ گئے ہوں، گویا خلا میں پہنچ چکے ہوں۔ وہاں سے نیچے اترتے ہوئے تقریباً رات دس بجے چترال شہر پہنچے، رات قیام کیا اور پھر صبح کیلاش کی طرف روانہ ہوئے۔

کیلاش کا سفر اور وہاں کا کلچر ناقابلِ بیان ہے۔ معروف گاؤں بمبوریت، رمبورو وغیرہ کا وزٹ کیا۔ گائیڈر کے ذریعے لوگوں سے ملاقاتیں کیں اور ان کا کلچر جانا۔

کیلاش سے واپس براستہ دیر چکدرہ سیدھا منی سویٹزرلینڈ سوات پہنچے۔ وہاں کے سیاحتی مقام مدین میں ہمارے دوست ڈاکٹر امیر زادہ خان ہمارے منتظر تھے۔ رات گیارہ بجے ان کی طرف سے عشائیے کا اہتمام کیا گیا۔ رات قیام کے بعد صبح مدین کے سیاحتی مقام دریا، پارک وغیرہ گئے اور ٹھنڈے پانی میں نہا کر انجوائے کی اگلی صبح اگلی منزل مشہور سیاحتی مقام کالام کی طرف روانہ ہوئے۔

خوبصورت نظاروں سے گزرتے ہوئے تقریباً دس کلومیٹر کے فاصلے پر بحرین میں کچھ دیر قیام کیا، پھر کالام کی طرف روانہ ہوئے۔ کافی فاصلہ طے کرنے کے بعد آگے راستہ شدید ٹریفک جام کی وجہ سے بند تھا جس کے کھلنے کے دور دور تک آثار نظر نہیں آ رہے تھے۔ چونکہ ہم پہلے کالام ہو آئے تھے اس لیے سوچا یہی سے واپسی ہو جائے اور گاڑی واپس مینگورہ، سیدو شریف اور فضاء گٹ کی طرف موڑ دی۔

راستے میں خوبصورتی کی نئی دنیا دیکھی۔ وہاں گھوم پھرنے کے بعد دوپہر کو اپنے آبائی علاقے ضلع شانگلہ کا رخ کیا ضلع کی تحصیل مارتونگ جہاں اپنے برادر نسبتی معروف پشتو شاعر فدا سواتی کے ٹھکانے پر حاضری دی۔ رات گزارنے کے بعد صبح صبح مارتونگ کی سیر کی۔

یہاں سے کراچی واپسی کا سفر شروع ہوا۔ چکیسر، تھاکوٹ سے ہوتے ہوئے ہزارہ موٹروے کے ذریعے شام کو پشاور پہنچے جہاں صدر اور اردگرد کے مضافات کا دورہ کیا۔ صدر کے مشہور بن کباب سے لطف اندوز ہوئے۔ صبح فجر کی نماز کے بعد تاریکی میں رحمتِ الٰہی کے سائے میں کراچی کی طرف روانہ ہوئے۔ موسلا دھار بارش نے کافی دور تک ہمارا پیچھا کیا۔

یوں ہم پاکستان کی حسین اور خوبصورت وادیوں کا ناقابلِ فراموش سفر مکمل کرکے اپنے مستقل مسکن شہرِ قائد پہنچ گئے جو مدتوں یاد رہے گا۔ اللہ پاک نے ہمارے ملک کو جو بے پناہ خوبصورتی عطا فرمائی ہے، شاید ہم اس کی قدر نہ کر سکے۔

Check Also

Haramain Shareefain Ka Aik Aur Bulawa

By Mushtaq Ur Rahman Zahid