Friday, 30 January 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Mushtaq Ur Rahman Zahid
  4. T20 World Cup: Kya Islamabad Aur Dhaka Mein Qurbatain Barh Sakeingi

T20 World Cup: Kya Islamabad Aur Dhaka Mein Qurbatain Barh Sakeingi

ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ: کیا اسلام آباد اور ڈھاکہ میں قربتیں بڑھ سکیں گی

حالیہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں بنگلہ دیش نے ہندوستان جانے سے انکار کر دیا ہے۔ چونکہ ورلڈ کپ ہندوستان میں منعقد ہونے جا رہا ہے، اس لیے بنگلہ دیش کی ٹیم وہاں جانا نہیں چاہتی اور انہوں نے برملا اس کا اعلان بھی کر رکھا ہے۔ یہ فیصلہ صرف کرکٹ ایونٹ سے دستبرداری نہیں بلکہ خطے کی بدلتی ہوئی سیاسی، سفارتی اور عوامی ترجیحات کی عکاسی بھی کرتا ہے۔ ادھر آئی سی سی نے بنگلہ دیش کرکٹ ٹیم کے اس اعلان کے بعد اس کے متبادل کے طور پر اسکاٹ لینڈ کو ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس نے عالمی کرکٹ حلقوں میں ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔

اس صورتِ حال میں اب لوگوں کی نظریں پاکستان کرکٹ ٹیم پر مرکوز ہو چکی ہیں کہ کیا پاکستان کرکٹ ٹیم وہ ورلڈ کپ، جو ہندوستان میں منعقد ہونے جا رہا ہے، اس میں شرکت کرے گی یا نہیں اور اس حوالے سے مختلف قیاس آرائیاں زور پکڑتی جا رہی ہیں۔ میڈیا، سیاسی حلقے، سابق کرکٹرز اور عوامی فورمز پر اس معاملے پر کھل کر گفتگو ہو رہی ہے اور ہر طبقہ اپنی رائے کا اظہار کر رہا ہے۔

اگرچہ اس ضمن میں دو دن قبل پی سی بی کے چیئرمین اور وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف سے ایک تفصیلی ملاقات بھی کی ہے، جس میں اس بات پر غور کیا گیا کہ پاکستان کو اس غیر معمولی صورتِ حال میں کیا لائحۂ عمل اختیار کرنا چاہیے۔ یہ ملاقات اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ معاملہ محض کھیل تک محدود نہیں بلکہ اس کے سفارتی، سیاسی اور علاقائی اثرات بھی گہرے ہیں۔

عوامی رائے اور مجموعی صورتِ حال کو دیکھا جائے تو اس اہم موقع پر پاکستان کو بنگلہ دیش کی سپورٹ کرتے ہوئے ہندوستان میں منعقد ہونے والے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں جانے سے بائیکاٹ کر دینا چاہیے۔ یہ بائیکاٹ خطے میں پاکستان کی خارجہ پالیسی کو بھی ایک نئی سمت دے سکتا ہے۔

چونکہ بنگلہ دیش میں شیخ حسینہ واجد کا تختہ الٹنے کے بعد جب سے وہاں محمد یونس کی سربراہی میں عبوری حکومت آئی ہے تو نہ صرف حکومتی سطح پر بلکہ عوامی سطح پر بھی پاکستان کے ساتھ ان کے تعلقات میں کافی حد تک بہتری آئی ہے۔ جو دوریاں شیخ حسینہ واجد کے دور میں تھیں، جو پاکستان مخالف اور ہندوستان پرو گورنمنٹ کہلائی جاتی تھی، عوامی بغاوت کے نتیجے میں اس حکومت کے خاتمے کے بعد اب وہ دوریاں تقریباً ختم ہوتی دکھائی دے رہی ہیں اور قربتوں میں واضح طور پر تبدیل ہو رہی ہیں۔

یہ تبدیلی محض بیانات تک محدود نہیں بلکہ عملی اقدامات، رابطوں اور ملاقاتوں کی صورت میں بھی سامنے آ رہی ہے، جس کے لیے عوامی سطح پر بھی، سیاسی سطح پر بھی اور حکومتی سطح پر بھی سنجیدہ کوششیں کی جا رہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کی فضا بحال ہونے کے آثار نمایاں نظر آ رہے ہیں۔

گزشتہ دنوں پاکستان کی سیاست کی سرکردہ شخصیت، جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے بنگلہ دیش کا دورہ کیا تھا اور انہیں بنگلہ دیشی عوام کی طرف سے بھرپور پذیرائی ملی تھی۔ انہوں نے لاکھوں کے مجمعے سے مختلف شہروں میں خطابات کیے، خاص طور پر ڈھاکا میں بھی، جس سے یہ تاثر مزید مضبوط ہوا کہ بنگلہ دیشی عوام کے دلوں میں پاکستان کے لیے ایک نرم گوشہ موجود ہے۔

اس کے علاوہ بھی مختلف حلقۂ احباب، سیاسی رہنماؤں اور مذہبی شخصیات سے ان کی ملاقاتیں ہوئیں۔ اس وقت بھی یوں کہا جا رہا تھا کہ مولانا فضل الرحمٰن کسی اہم مشن پر وہاں گئے ہیں اور بنگلہ دیش کے عوامی حلقوں کی طرف سے اتنی پذیرائی اور مقبولیت سے یہ اندازہ بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ اس وقت بنگلہ دیشی عوام پاکستان کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں اور ان کی خواہش ہے کہ پاکستان کے ساتھ دوبارہ برادرانہ تعلقات بحال ہوں۔

علاوہ ازیں دفاعی سطح پر بھی گزشتہ دنوں دونوں ممالک کےدرمیان کافی اہم ملاقاتیں ہو چکی ہیں اور جے ایف سترہ تھنڈر سمیت دیگر دفاعی تعاون کے امور پر شراکت داری کی بات چیت ہو رہی ہے۔ دفاعی تعاون کسی بھی دو ممالک کے تعلقات میں اعتماد کی بلند ترین سطح کی نشاندہی کرتا ہے اور یہ بات چیت اس بات کا ثبوت ہے کہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے قریب آنا چاہتے ہیں۔

ان تمام صورتِ حال کو مدنظر رکھتے ہوئے یہی ایک بہترین موقع ہے کہ پاکستان بنگلہ دیش کا بھرپور ساتھ دے اور حالیہ ورلڈ کپ کا بائیکاٹ کرے۔ اس کے نتیجے میں ستر سالوں میں جو دوریاں اور چپقلشیں شیخ حسینہ کی حکومتوں کی وجہ سے پیدا ہوئیں، وہ عوامی سطح پر بھی اور حکومتی سطح پر بھی یکدم تبدیل ہو سکتی ہیں۔

پاکستان کو اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے، کیونکہ سفارتی دنیا میں بعض اوقات ایسے مواقع کم ہی میسر آتے ہیں جہاں ایک فیصلہ تاریخ کا دھارا موڑ سکتا ہو۔ پاکستانی عوام کی بھی بڑی تعداد یہی رائے رکھتی ہے کہ بنگلہ دیش کے ساتھ کھڑے ہونا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

اگر پاکستان ایسا فیصلہ کرتا ہے تو یہ بنگلہ دیش کے ساتھ مضبوط تعلقات میں کلیدی کردار ادا کرے گا اور ایک بار پھر یہ دونوں ممالک برادرانہ تعلقات استوار کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے، جو اس وقت خطے کے بدلتے ہوئے حالات کے تناظر میں پاکستان کے لیے ناگزیر بھی ہیں۔

یہی وہ سرپرائز موقع ہے کہ دونوں ممالک یک جان دو قالب بن جائیں اور اسی میں دونوں ممالک کی بہتری، استحکام اور ترقی بھی نظر آتی ہے۔ پاکستان کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سے بائیکاٹ کے نتیجے میں آئی سی سی کو بھی شدید دھچکا لگے گا اور بین الاقوامی سطح پر آئی سی سی کی ساکھ متاثر ہوگی۔

چونکہ یہ بات تو مسلم ہے کہ دنیا بھر میں ورلڈ کپ یا کوئی بھی بڑا ایونٹ ہو، تو اس میں پاک بھارت ٹاکرے کو خصوصی اہمیت دی جاتی ہے۔ نہ صرف ان میچوں میں اربوں روپے کمائے جاتے ہیں بلکہ کرکٹ دنیا بھر میں خاص طور پر دیکھی جاتی ہے اور یہی مقابلہ ایونٹ کی جان سمجھا جاتا ہے۔

آئی سی سی چونکہ اکثر ہندوستان کے زیرِ اثر رہتا ہے، اس لیے اس پر یہ دباؤ نہایت مؤثر ثابت ہو سکتا ہے کہ وہ مستقبل میں ایونٹس کے انعقاد میں غیر جانبداری کا مظاہرہ کرے۔ اگر وہ اسکاٹ لینڈ کو متبادل کے طور پر لیتا ہے یا کسی اور ملک کو شامل کرتا ہے، تو اس ورلڈ کپ کی وہ اہمیت اور حیثیت نہیں رہے گی جو پاکستان کی شمولیت سے ہوتی ہے۔

دنیا بھر میں شائقینِ کرکٹ اس دن کا انتظار کرتے ہیں کہ کب ان دونوں ممالک کے درمیان ٹاکرا ہوگا۔ پاکستان کی عدم شرکت نہ صرف آئی سی سی بلکہ عالمی کرکٹ کے تجارتی مفادات کے لیے بھی ایک بڑا سوالیہ نشان بن جائے گی۔ ہماری طرف سے یہ ایک سرپرائز بھی ہوگا برادر ملک بنگلہ دیش کے لیے۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے اور کیا پاکستان اس نازک مگر تاریخی موقع پر ایسا فیصلہ کر سکے گا جو آنے والے برسوں میں خطے کی سیاست اور تعلقات پر گہرے اثرات مرتب کرسکے۔

Check Also

Kashan Mein Aik Din

By Javed Chaudhry