Saturday, 31 January 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Mushtaq Ur Rahman Zahid
  4. Sindh, Balochistan: Mehroomi Ke Saaye Mein Jurwan Bhai

Sindh, Balochistan: Mehroomi Ke Saaye Mein Jurwan Bhai

سندھ، بلوچستان: محرومی کے سائے میں جڑواں بھائی

شہر قائد کی اندرونی سڑکیں تو ناگفتہ بہ صورتحال سے دوچار ہیں ہی، اس پر تو کچھ کہنا سورج کو چراغ دکھانے کے مترادف ہے، مگر جیسے ہی منی پاکستان کو اللہ حافظ کہتے ہیں اور حیدرآباد شروع ہو جاتا ہے تو پتا لگ جاتا ہے کہ ہم اس سے بھی زیادہ پسماندہ و محروم زدہ علاقے میں داخل ہو گئے ہیں جسے اندرونِ سندھ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ یہاں کے بعد سڑکوں کی صورتحال دیکھ کر تو کراچی کی سڑکوں پر بھی رشک آنے لگتا ہے۔ حیدرآباد سے سکھر کے درمیان نیشنل ہائی وے N-5 پر ڈائیورشنز اور سڑک کی خراب صورتحال مسافروں کے لیے ایک بڑا مسئلہ بن چکی ہے۔

جنوری 2026 کے مطابق نیشنل ہائی وے N-5 پر اس وقت کئی مقامات پر مرمتی کام اور چھوٹے پلوں کی تعمیر کی وجہ سے ڈائیورشنز موجود ہیں، خاص طور پر مٹیاری، ہالا اور نوشہرو فیروز کے قریب سڑک کی ری کارپٹنگ اور کچھ حصوں کی بحالی کا کام چل رہا ہے، جس کی وجہ سے ٹریفک سست روی کا شکار رہتی ہے۔ ٹرکوں اور ٹرالوں کی بھاری ٹریفک اور بوجھ کی وجہ سے سڑک بار بار ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتی ہے، جس کی تعمیر و مرمت کے لیے نیشنل ہائی وے اتھارٹی عارضی پیچ ورک تو کر رہی ہے، لیکن یہ کوئی مستقل حل ثابت نہیں ہو رہا۔

ڈائیورشنز اور ٹریفک کے دباؤ کو مستقل طور پر ختم کرنے کے لیے حیدرآباد-سکھر موٹروے M-6 ہی واحد حل ہے۔ اس حوالے سے حکومت نے رانی پور سے سکھر سیکشن 5 اور نوشہرو فیروز سے رانی پور سیکشن 4 کے لیے ٹھیکیداروں کی پری کوالیفیکیشن کا نوٹس جاری کر دیا ہے، جس کی آخری تاریخ 26 جنوری 2026 ہے۔ ان حصوں کے لیے باقاعدہ نیلامی مارچ 2026 میں ہوگی۔ وفاقی وزیر مواصلات کے مطابق، سال 2026 کے پہلے حصے میں ہی مشینری زمین پر نظر آنے کی امید ہے۔

اسلامی ترقیاتی بینک اور سعودی فنڈ سے فنڈنگ کے معاملات طے پائے جا چکے ہیں، جس کا مطلب ہے کہ اب مالی وجوہات کی بنا پر کام رکنے کا خدشہ نہایت کم ہے، اگر ایمانداری سے اسے کیا جائے۔ وفاقی وزیر احسن اقبال نے حال ہی میں حکم دیا ہے کہ حیدرآباد-سکھر موٹروے کو تین سال کے اندر اندر ہر صورت مکمل کیا جائے۔ تب تک نیشنل ہائی وے N-5 پر ڈائیورشنز کو کم کرنے اور سڑک کی حالت بہتر بنانے کے لیے نیشنل ہائی وے اتھارٹی کو خصوصی فنڈز بھی جاری کیے گئے ہیں۔

جب تک مستقل بنیادوں پر حیدرآباد سے سکھر موٹروے نہیں بن جاتا، اس پر سفر کرنا کسی عذاب سے کم نہیں۔ ٹریفک جام کی وجہ سے کئی کئی گھنٹے لگ جاتے ہیں۔ دھول مٹی، ٹریفک کے ہجوم، تھکاوٹ، پریشانی اور تکلیف سے انسان کی حالت بدتر ہو جاتی ہے۔ دن کے اوقات میں تو یہ تکالیف اور پریشانیاں کسی حد تک برداشت بھی ہو جاتی ہیں، مگر رات کے وقت اس پر سفر کرنا وبالِ جان بن جاتا ہے۔ کراچی سے حیدرآباد اور پھر سکھر سے اسلام آباد کا طویل سفر اتنا طویل محسوس نہیں ہوتا جتنا محض حیدرآباد سے سکھر کا ہوتا ہے۔

کراچی سے پنجاب، کشمیر، خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان تک آمدورفت کا واحد راستہ یہی ہے۔ ہزاروں مسافر بسیں اور کوچز دن رات اسی پر محوِ سفر ہوتی ہیں اور اس میں لاکھوں لوگ سفر کرتے ہیں، لیکن اس کے باوجود اس کی یہ ابتر صورتحال خود ہمیں بتاتی ہے کہ اس کی کیا اوقات ہے۔ بعینہٖ یہی صورت حال ملک کے سب سے بڑے رقبے والے صوبے بلوچستان کی میں شاہراہ کا بھی ہے۔ جیسے ہی کراچی سے بلوچستان کی طرف جاتے ہوئے شہرِ قائد کو الوداع کہتے ہیں تو وہاں سے کوئٹہ اور چمن تک ایک ہی سنگل ٹریک بنا ہوا ہے جسے خونی سڑک بھی کہا جاتا ہے۔

یہاں دن رات سیکڑوں مسافر بسیں چلتی ہیں۔ اسی طرح کوچز، پرائیویٹ، چھوٹی بڑی گاڑیاں، ان کی آمد و رفت بھی جاری رہتی ہے جس میں ہزاروں لوگ سفر کرتے ہیں، جن میں بچے، خواتین اور ہر قسم کے مسافر شامل ہوتے ہیں۔ یہاں ایسا کوئی دن نہیں جو کسی حادثے سے خالی ہو۔ آئے روز اس خونی سڑک پر حادثات ہوتے ہیں، ایکسیڈنٹ ہو جاتے ہیں، جن میں لوگوں کا جان بحق ہونا اور زخمی ہو جانا ایک معمول بن چکا ہے اور لوگوں کو اس کی عادت پڑ گئی ہے۔ سارے راستے میں لوگ کلموں کا ورد کرتے ہوئے سفر کرتے ہیں۔

سڑک انتہائی تنگ ہے اور گاڑیوں کی تعداد بہت زیادہ اور دو طرفہ ہے، جبکہ انتہائی اسپیڈ سے گاڑیاں چلتی ہیں، خاص طور پر مسافر کوچز وغیرہ جو یوں چلتی ہیں جیسے گویا وہ کوئی ہوائی جہاز ہوں، ہوں اور ان کے علاوہ فضا میں کوئی اور موجود نہ ہو۔ تو لامحالہ سامنے سے آنے والی گاڑیوں کے ساتھ کسی نہ کسی موڑ پر کسی وجہ سے ایکسیڈنٹ ہو جاتے ہیں اور یوں لوگ جان بحق ہو جاتے ہیں۔

یہ کراچی سے افغانستان تک آمدورفت کا اکلوتا ذریعہ ہے جس پر نہ صرف مسافر سفر کرتے ہیں بلکہ لاکھوں کروڑوں کا یہاں پر باقاعدہ کاروبار ہوتا ہے اور سیکڑوں لوگوں کا روزگار اس سے وابستہ ہے۔ لیکن ایک زمانے سے یہ مین شاہراہ بھی تنگیِ داماں کا شکار ہے اور سوئی ہوئی حکومت کو جگانے کے لیے چیخ چیخ کر پکار رہی ہے کہ مجھ پر بھی کوئی ترس کیا جائے، لیکن مجال ہے کہ اس صوبے کو کسی بھی طرح ہم ترقی ہونے کی اجازت دیں یا اس پر توجہ دیں۔ ایک ہی ملک میں صوبوں کو الگ الگ نظروں سے دیکھا جاتا ہے۔ کہیں پر نوازشات بہت زیادہ ہو جاتی ہیں اور کوئی بنیادی ضروریات سے بھی محروم ہو جاتے ہیں۔

یہی حال اس وقت ملک کے سب سے بڑے رقبے والے صوبے بلوچستان کے ساتھ ہے۔ اس صوبے کے ساتھ گویا سوتیلی ماں جیسا سلوک کیا جا رہا ہے۔ یہاں کی زندگیاں انتہائی پسماندگی کی طرف جا رہی ہیں اور اس کو لاوارث سمجھا گیا ہے۔ جبکہ اگر دوسری طرف دیکھا جائے تو پنجاب، جسے اللہ پاک نے قدرتی حسن، سرسبز و شاداب تو بنایا ہے ہی، لیکن اگر سڑکوں اور شاہراہوں کی بات کی جائے تو وہاں پورا جال بچھا ہوا ہے۔ ملک کا کوئی ایسا حصہ نہیں جہاں پنجاب سے آنے والی یا جانے والی سڑک پر موٹروے نہ بنی ہو اور یقیناً یہ اس صوبے کے لیے باعثِ فخر بھی ہے اور باعثِ مسرت بھی اور اس کی داد بھی دینی چاہیے۔ خاص طور پر پاکستان مسلم لیگ کے دورِ حکومت میں تمام موٹرویز اور شاہراہوں پر خصوصی کام کیے جاتے ہیں، لیکن اگر یہ نوازشات اور کرم نوازیاں سندھ اور بلوچستان جیسے پسماندہ صوبوں پربھی کی جائیں تو یقیناان دو صوبوں کی احساس محرومی بھی ختم ہوجائگی یہ ملک کے بہتر مستقبل کے لیے انتہائی فائدہ مند ہوگا۔

Check Also

Bharat Europen Union Deal Pakistan Par Kya Asar Daale Gi?

By Amir Khakwani