Friday, 09 January 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Mushtaq Ur Rahman Zahid
  4. Qaumi Cricket Team, Pasand o Na Pasand Ki Bheent

Qaumi Cricket Team, Pasand o Na Pasand Ki Bheent

قومی کرکٹ ٹیم، پسند و ناپسند کی بھینٹ

کرکٹ اگچہ قومی تو نہیں مگر ملک کا سب سے مقبول ترین کھیل ہے جو قومی کھیل سے بھی کئی گنا زیادہ دیکھی اور کھیلی جاتی ہے جس سے نوجوان نسل نشےاور دیگر غیرضروری نقصان دہ چیزوں سے بچ جاتے ہیں۔ اگرچہ تعلیم چھوڑ کر مستقل اس شعبےکو اپنانے کا بھی میں بھی حامی نہیں البتہ تعلیم کے ساتھ ساتھ اسے اگر جاری رکھا جائے تو شاید کوئی مضائقہ نہیں۔

ہم نے بھی 90 کی دہائی میں اچھی خاصی کرکٹ کھیلی ہے مگر اسے مستقل زندگی کا حصہ نہیں بنایا۔ لڑکپن کا وقت ایسا ہوتا ہے کہ اگر جسمانی نشوونما کے ساتھ ساتھ ذھنی سکون کے لئے اگر اس میں خود کو مصروف نہ رکھا جائے تو نتیجتا انسان بےراہ روی کا شکار ہوجاتا ہے پھر کچھ یہ طمع بھی ہوتی ہے کہ خوب کرکٹ کھیل کر اپنے آپ کو غیرمعمولی صلاحیتوں کا مالک سمجھ کر قومی کرکٹ ٹیم میں شمولیت کا جذبہ بیدار رہتا ہے لیکن پریشانی کا عالم یہ ہے کہ ملک کے اس مقبول ترین کھیل کو دیکھ کر پاکستان کرکٹ ٹیم اس وقت ایک عجیب مخمصے کا شکار ہے۔

یوں محسوس ہوتا ہے کہ ایک طویل عرصے سے پاکستان کرکٹ ٹیم بنائی نہیں جا رہی بلکہ بگاڑی جا رہی ہے۔ اس زوال کی بنیاد سب سے پہلے پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کی تقرری سے پڑتی ہے۔ بدقسمتی سے اکثر ایسا شخص چیئرمین بنا دیا جاتا ہے جس کا کرکٹ سے سرے سے کوئی تعلق ہی نہیں ہوتا، نہ اسے کرکٹ کے تقاضوں کا علم ہوتا ہے اور نہ ہی اس کھیل کے مزاج اور باریکیوں سے وہ واقف ہوتا ہے۔

یہی صورتحال صرف چیئرمین تک محدود نہیں رہتی بلکہ اس کے بعد سلیکشن کمیٹیوں اور دیگر اسٹاف کی تقرریوں میں بھی شاذ و نادر ہی ایسے افراد نظر آتے ہیں جو خود کرکٹر رہ چکے ہوں یا جنہیں کرکٹ کی عملی سمجھ بوجھ حاصل ہو۔ زیادہ تر وہ افراد سامنے آ جاتے ہیں جو کرکٹ کے رموز سے ناواقف ہوتے ہیں، مگر طاقت کے مراکز کے قریب ہونے کی وجہ سے اہم عہدوں پر فائز ہو جاتے ہیں۔

پی سی بی کی چیئرمین شپ چاہے کسی بھی دور میں ہو، یہ عہدہ زیادہ تر سیاسی بنیادوں پر دیا گیا ہے۔ ایک حکومت آتی ہے تو اپنے افراد میں سے چیئرمین مقرر کر دیتی ہے، دوسری حکومت آتی ہے تو وہ اپنے قریبی لوگوں کو لے آتی ہے۔ ان سیاسی تقرریوں کا خمیازہ ہمیشہ پاکستان کرکٹ کو بھگتنا پڑتا ہے۔

پی سی بی چیئرمین کی تقرری کا عموماً نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ ہر چیئرمین اپنے ماتحت ایسے افراد کو مقرر کرتا ہے جو معاونت کے نام پر "یس باس" کا کردار ادا کریں، خواہ ان کا کرکٹ سے کوئی لینا دینا ہو یا نہ ہو۔ یہی صورتحال پھر نچلی سطح تک چلی جاتی ہے۔ سلیکشن کمیٹیاں بنتی ہیں، کوچ مقرر ہوتے ہیں اور وہ اپنی صوابدید کے مطابق قومی ٹیم منتخب کرتے ہیں۔

کھلاڑیوں کے انتخاب میں من مانیاں کی جاتی ہیں۔ اگر کوئی کھلاڑی بولنگ یا بیٹنگ میں کتنا ہی کمزور کیوں نہ ہو، مگر اگر اس کے پاس سفارش، سیاسی پشت پناہی یا بیوروکریسی کا سہارا ہو تو اس کے لیے قومی ٹیم کے دروازے کھل جاتے ہیں۔ اس کے برعکس ڈومیسٹک لیول پر شاندار کارکردگی دکھانے والے، ٹرافی سیزن میں نمایاں رہنے والے، پی ایس ایل اور دیگر لیگز میں بہترین کھیل پیش کرنے والے ہمارے کئی گمنام ہیرے منظرِ عام سے غائب رہتے ہیں۔ ان کے لیے قومی ٹیم تک پہنچنا ایک مضبوط اور بھاری دیوار پھلانگنے کے مترادف بن جاتا ہے۔

یہاں معیار اور استعداد نہیں دیکھی جاتی بلکہ پرچیاں چلتی ہیں۔ وہ کرکٹرز جو ملک کا نام روشن کر سکتے ہیں، جن میں تخلیقی صلاحیتیں موجود ہوتی ہیں، جو خود بھی کامیاب ہو سکتے ہیں اور پاکستان کرکٹ کو بھی ترقی کی راہ پر ڈال سکتے ہیں، ان کے راستے مسدود کر دیے جاتے ہیں۔ جبکہ وہ کھلاڑی جو غیر معمولی کارکردگی کے حامل نہیں ہوتے، محض جان پہچان، سیاسی سفارش یا سرکاری سرپرستی کے ذریعے قومی ٹیم تک باآسانی پہنچ جاتے ہیں۔

کئی برسوں سے یہ محسوس کیا جا رہا ہے کہ پاکستان کی قومی ٹیم بنائی نہیں جا رہی بلکہ بگاڑی جا رہی ہے۔ ہمارے فیصلوں میں یہ جذبہ دکھائی نہیں دیتا کہ پاکستان کرکٹ ٹیم کو دنیا کی ایک مضبوط ٹیم بنایا جائے اور عالمی کرکٹ میں اپنا لوہا منوایا جائے۔ بلکہ ایک طویل عرصے سے یوں لگتا ہے کہ یہ رویے نہ صرف ہماری قومی کرکٹ ٹیم بلکہ پورے وطن کو بھی زوال کی طرف لے جا رہے ہیں۔

چیئرمین اور سلیکٹرز اس بات کی قطعی فکر نہیں کرتے کہ قومی ٹیم کو ایک رول ماڈل ٹیم بنایا جائے، جس سے ملک کی عزت افزائی ہو۔ اگر کوئی کھلاڑی انٹرنیشنل سطح پر کچھ کارکردگی دکھانا شروع کر دے اور یہ محسوس ہونے لگے کہ اس سے ٹیم بہتر سمت میں جا رہی ہے، تو اسی کھلاڑی کے پاؤں پر کلہاڑی مار دی جاتی ہے۔ ایک باقاعدہ منصوبے کے تحت نہ صرف اسے ٹیم سے ڈراپ کر دیا جاتا ہے بلکہ اس کی جگہ ایسے کھلاڑی کو شامل کر لیا جاتا ہے جسے نہ بین الاقوامی کرکٹ کا تجربہ ہوتا ہے اور نہ ہی وہ بین الاقوامی دباؤ برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ قومی ٹیم مزید پستی کی طرف چلی جاتی ہے۔

تضادات کا عالم یہ ہے کہ کسی باصلاحیت کھلاڑی کو دو تین میچز میں ہی پرکھ لیا جاتا ہے۔ اگر وہ فوری طور پر کارکردگی نہ دکھا سکے تو اسے بھی گمنامی کے اندھیروں میں دھکیل دیا جاتا ہے۔ جبکہ کچھ کھلاڑی ایسے ہوتے ہیں جن پر پوری انتظامیہ مہربان ہو جاتی ہے۔ چاہے وہ ملک کے لیے کچھ نہ بھی کر سکیں، چاہے وہ مسلسل ناکامیوں کا شکار ہی کیوں نہ ہوں، مگر ان کے لیے احتساب کا کوئی معیار نہیں ہوتا۔ انہیں بار بار مواقع دیے جاتے ہیں، جو دوسرے باصلاحیت کھلاڑیوں کے ساتھ کھلی زیادتی ہے۔

اس کی زندہ مثالیں پاکستان کے مایہ ناز بلے بازوں بابر اعظم اور محمد رضوان کی ہیں۔ ان دونوں کھلاڑیوں نے گزشتہ چار پانچ برسوں سے ملک کا نام روشن کیا، آئی سی سی رینکنگ میں سرفہرست رہے اور ایشیا کپ 2023 میں پاکستان کے روایتی حریف بھارت کو تاریخی شکست دے کر آج تک حریفوں کے دلوں میں خوف بٹھا دیا۔ ان کی ٹیم میں موجودگی خود بخود مخالف ٹیم پر دباؤ ڈالتی ہے۔

اس کے باوجود ان جیسے نامور کھلاڑیوں کے ساتھ جو سلوک روا رکھا جا رہا ہے وہ نہایت افسوسناک ہے۔ بابر اعظم اور محمد رضوان کو ٹی ٹوئنٹی ٹیم سے ڈراپ کر دیا گیا، یہ کہہ کر کہ ان کا اسٹرائیک ریٹ کم ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ان کے متبادل کے طور پر جن کھلاڑیوں کو شامل کیا گیا ہے، ان کا اسٹرائیک ریٹ ان دونوں سے بھی کم ہے۔ محض انا اور ضد کی بنیاد پر قومی ٹیم کو کمزور کیا جا رہا ہے، جو سنجیدہ حلقوں کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔ ان دونوں کی کھلاڑیوں کی مقبولیت اور کارکردگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ دنیا کی سب سے مقبول کرکٹ لیگ جو اسٹریلیا میں بگ بیش کےنام سے کھیلی جاتی ہے اس میں ان دونوں کو پک کیا گیا ہے اپن ےوطن میں وہ عزت نہیں دی جارہی جوغیر انہیں دے رہے ہیں۔

اب ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 سر پر کھڑا ہے اور اس اہم ایونٹ کے لیے قومی ٹیم کا اعلان بھی ہو چکا ہے۔ اس کے باوجود تجربہ کار وکٹ کیپر بلےباز محمد رضوان کو ایک بار پھر ٹیم سے باہر رکھا گیا ہے، حالانکہ سابق سینئر کرکٹرز راشد لطیف، شعیب اختر، شاہد آفریدی، سرفراز احمد، معین خان اور دیگر کئی نامور کھلاڑی کھل کر کہہ چکے ہیں کہ رضوان کے بغیر ورلڈ کپ کھیلنا ایک سنگین غلطی ہوگی۔ ہمارے پاس اس وقت کوئی مضبوط وکٹ کیپر متبادل موجود نہیں، پھر بھی دانستہ طور پر قومی ٹیم کو کمزور کیا جا رہا ہے۔

یہ صورتحال صرف کرکٹ کا مسئلہ نہیں، یہ ہماری سوچ، ہمارے نظام اور ہماری ترجیحات کا عکاس ہے۔ اگر یہی طرزِ عمل جاری رہا تو نہ صرف پاکستان کرکٹ بلکہ قومی وقار بھی مسلسل زوال کا شکار رہے گا۔

Check Also

Iqtisadi Mahireen Ke Afrat e Zar Mein Kami Ke Daway Aur Zameeni Haqaiq

By Nusrat Javed