Kya Karachi Wafaq Ka Hissa Banne Ja Raha Hai
کیا کراچی وفاق کا حصہ بننے جا رہا ہے

کیا کراچی وفاق کا حصہ بننے جا رہا ہے، یہ سوال اب محض سوشل میڈیا کی زینت یا چند سیاسی حلقوں کی سرگوشی تک محدود نہیں رہا، بلکہ قومی سیاست، مقتدر ایوانوں اور سنجیدہ مجالس میں بھی زیرِ بحث آ چکا ہے۔ بظاہر یہ سوال ایک انتظامی تبدیلی سے متعلق محسوس ہوتا ہے، مگر درحقیقت اس کے پیچھے برسوں کی محرومی، ناانصافی اور مسلسل نظر انداز ہونے جیسے عوامل کارفرما ہیں۔ کراچی پاکستان کا سب سے بڑا شہر ہے، معاشی شہ رگ ہے، قومی معیشت کا مرکز اور ریونیو کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ بندرگاہیں ہوں، صنعتیں ہوں، تجارتی مراکز ہوں یا مالیاتی سرگرمیاں ملک کی معیشت کا پہیہ بڑی حد تک کراچی کے دم سے ہی چلتا ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق قومی خزانے میں شامل ہونے والے ٹیکس کا بڑا حصہ اسی شہر سے آتا ہے۔ اس کے باوجود المیہ یہ ہے کہ سہولیات کے اعتبار سے کراچی کو ہمیشہ سوتیلا سلوک ہی ملا ہے۔
شہر کا انفراسٹرکچر زبوں حالی کی بدترین مثال بن چکا ہے۔ پانی، جو زندگی کی بنیادی ضرورت ہے، آج کراچی کے شہریوں کے لیے سب سے بڑی آزمائش بن چکا ہے۔ کئی کئی دن نلکوں میں پانی نہیں آتا، لوگ ایک ایک بوند کے لئے ترستے ہیں اور مجبوراً مہنگے داموں ٹینکر مافیا سے پانی خریدتے ہیں۔ یہ صورتِ حال نہ صرف ملک کے سب سے بڑے شہر کے شایانِ شان نہیں، بلکہ یہ ریاستی ناکامی کا برملا اظہار ہے۔ سڑکوں کی حالت ایسی ہے کہ بارش ہو یا نہ ہو، گڑھے اور ٹوٹ پھوٹ شہریوں کے لئے روزمرہ کا عذاب بن چکے ہیں۔ بجلی اور گیس کے مسائل اپنی جگہ، بلدیاتی ادارے مکمل طور پر مفلوج دکھائی دیتے ہیں۔ کوڑا کرکٹ، نکاسیِ آب، ٹرانسپورٹ اور شہری منصوبہ بندی ہر شعبہ بدنظمی اور عدم توجہی کی تصویر پیش کرتا ہے۔ اس تمام تر بدحالی نے کراچی کے عوام کو شدید ذہنی دباؤ، مایوسی اور احساسِ محرومی میں مبتلا کر دیا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ اب کراچی کے شہری یہ سوال اٹھانے لگے ہیں کہ جب ہم ملک کو سب سے زیادہ ریونیو دیتے ہیں تو ہمیں سب سے کم سہولیات کیوں ملتی ہیں اگر لاہور، اسلام آباد، پشاور یا دیگر شہروں کو بنیادی سہولیات فراہم کی جا سکتی ہیں تو کراچی کو کیوں محروم رکھا جا رہا ہے شہری یہ بھی کہتے ہیں کہ ہمیں ان شہروں کے مقابلے میں زیادہ سہولیات حاصل ہونی چاھئیے مگر اس کے باوجود اگر ہمیں ان شہروں کے برابر سہولیات بھی مل جائیں تو شاید ہم اس پربھی شکر گزار ہوں، مگر موجودہ حالات میں تو شہر کو دانستہ طور پر کھنڈرات میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔ دلچسپ اور قابلِ غور بات یہ ہے کہ اب یہ احساس صرف عوام تک محدود نہیں رہا، بلکہ وفاقی حکومت اور بعض اہم اداروں میں بھی اس بات کو محسوس کیا جا رہا ہے کہ ملک کے سب سے بڑے شہر کو یوں لاوارث چھوڑ دینا کسی صورت دانش مندی نہیں۔ ریاستی نظام کو چلانے والے حلقے بھی اب اس نتیجے پر پہنچتے دکھائی دے رہے ہیں کہ کراچی کی بربادی دراصل پاکستان کی کمزوری ہے۔
چند روز قبل شہر قائد کی نمائندہ جماعت متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) نے اس حوالے سے ایک نہایت اہم پریس کانفرنس کی۔ ایم کیو ایم کے رہنما اور وفاقی وزیر مصطفیٰ کمال نے واضح الفاظ میں مطالبہ کیا کہ کراچی کو وفاق کے زیرِ انتظام دیا جائے تاکہ اس شہر کے مسائل کا سنجیدہ اور غیر جانبدارانہ حل ممکن ہو سکے۔ اگرچہ اس سے قبل بھی مختلف سیاسی، سماجی اور انسانی حقوق کی تنظیمیں اس قسم کے مطالبات کرتی رہی ہیں، مگر اس بار ایک بڑی شہری سیاسی جماعت کی جانب سے کھل کر یہ بات سامنے آنا اس معاملے کی سنگینی کو دوچند کر دیتا ہے۔
دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی، جو گزشتہ کئی دہائیوں سے سندھ میں اقتدار میں رہی ہے، سخت ردِعمل دیتی نظر آتی ہے۔ پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کے بیانات میں سختی اور تلخی نمایاں ہے اور یہ کہا جا رہا ہے کہ کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے کا تصور ہی ناقابلِ قبول ہے۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ اتنے طویل عرصے میں پیپلز پارٹی کراچی کو وہ توجہ اور ترقی نہ دے سکی جس کا یہ شہر مستحق تھا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ آج کراچی پورے ملک کے بڑے مسائل کا مرکز بن چکا ہے۔
سیاسی تاریخ ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ جب کسی معاملے پر اس شدت سے تردید کی جائے تو اکثر اس کے پسِ پردہ کوئی نہ کوئی سنجیدہ بحث ضرور چل رہی ہوتی ہے۔ اسمبلی میں آئینی ترامیم، اختیارات کی نئی تقسیم، اٹھارہویں ترمیم پر بحث اور انتظامی ڈھانچے میں ممکنہ تبدیلیاں اس بات کی جانب اشارہ کر رہی ہیں کہ شاید کراچی کے لیے کوئی نیا فارمولا زیرِ غور ہے۔
میں ذاتی طور پر اسی شہر کا باسی ہوں۔ یہیں میری پیدائش ہوئی، یہیں میری زندگی کے چالیس پینتالیس برس گزرے۔ میں نے کراچی کو عروج پر بھی دیکھا ہے اور زوال کی اس انتہا پر بھی جہاں آج یہ کھڑا ہے۔ گلیوں، کوچوں، اداروں اور نظامِ حکومت کے نشیب و فراز سے بخوبی واقف ہوں۔ میرے مشاہدات اور تجربات یہ کہتے ہیں کہ اب محض روایتی نعروں اور سیاسی بیانات سے بات نہیں بنے گی۔
کراچی میں تبدیلی اب ناگزیر ہو چکی ہے۔ سوال صرف یہ ہے کہ یہ تبدیلی کس شکل میں آئے گی اگر انتظامی اصلاحات، غیر جانبدار نگرانی اور حقیقی وسائل کی فراہمی کے بغیر یہی پرانا نظام چلتا رہا تو حالات مزید بگڑیں گے۔ مگر اگر جرات مندانہ فیصلے کیے گئے، اختیارات کو عوامی مفاد کے مطابق استعمال کیا گیا اور کراچی کو واقعی اس کا جائز مقام دیا گیا تو یہی شہر ایک بار پھر پاکستان کی ترقی کا انجن بن سکتا ہے۔
کراچی کی ترقی، کراچی کی بحالی اور کراچی کی خوبصورتی دراصل پاکستان کے روشن مستقبل کی ضمانت ہے۔ اب فیصلہ ریاست، سیاست دانوں اور اداروں کو کرنا ہے کہ آیا وہ اس شہر کو ماضی کی غلطیوں کی نذر کرتے رہیں گے یا اسے بچانے کے لیے تاریخ ساز قدم اٹھائیں گے۔

