Karachi, Roshanio Ka Shehar Ya Tareekion Ka Sehra
کراچی، روشنیوں کا شہر یا تاریکیوں کا صحرا

کراچی، جسے کبھی روشنیوں، زندگی اور مواقع کا شہر کہا جاتا تھا، آج اندھیروں، محرومیوں اور ناانصافیوں کی ایک طویل داستان بن چکا ہے۔ سمندر کے کنارے آباد یہ عظیم شہر، جو پاکستان کی معیشت کا انجن تصور کیا جاتا ہے، آج اپنے ہی باسیوں کے لیے ایک بنجر صحرا کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ سردیوں کے موسم میں بھی کراچی کے شہری بجلی اور پینے کے پانی جیسی بنیادی انسانی ضرورتوں سے محروم ہیں اور یہ محرومی اب وقتی نہیں بلکہ مستقل شکل اختیار کر چکی ہے۔ چوبیس گھنٹوں میں محض پانچ یا چھ گھنٹے بجلی فراہم کی جاتی ہے، وہ بھی بغیر کسی واضح شیڈول کے، جو شہری زندگی کو مفلوج کر چکا ہے۔ کبھی آدھے گھنٹے کے لیے بجلی آتی ہے، کبھی ایک گھنٹے کے لیے اور پھر طویل لوڈشیڈنگ کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ اس غیر یقینی صورتحال میں گھریلو صارفین اپنے روزمرہ کے معاملات ترتیب دینے سے بھی قاصر ہیں۔
یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ بجلی کی ضرورت صرف پنکھے یا روشنی تک محدود نہیں ہوتی۔ پانی کی موٹر چلانا، کپڑوں کی استری، فریج میں کھانے پینے کی اشیاء محفوظ رکھنا، واشنگ مشین کا استعمال، بچوں کے کپڑے دھونا، موبائل فون اور دیگر ضروری آلات چارج کرنا، آن لائن تعلیم اور گھریلو کام کاج یہ سب بجلی کے بغیر ممکن نہیں مگر شہرِ قائد کے باسی ان تمام سہولتوں سے محروم کر دیے گئے ہیں اور اس محرومی کا ذمہ دار کوئی ایک فرد نہیں بلکہ پورا نظام ہے۔
سب سے زیادہ تشویشناک پہلو یہ ہے کہ یہ شہر وہ ہے جو ملک کے لیے سب سے زیادہ ریونیو پیدا کرتا ہے۔ بندرگاہیں، صنعتیں، کاروبار، فیکٹریاں اور مالیاتی ادارے اسی شہر میں قائم ہیں۔ سوال یہ ہے کہ جو شہر پورے ملک کو روشنی دیتا ہے، وہ خود اندھیروں میں کیوں ڈوبا ہوا ہے؟ کیا کراچی کے باسی پاکستانی نہیں؟ کیا ان کا حق باقی شہروں سے مختلف ہے؟
عوامی ردعمل کا موازنہ کیا جائے تو ایک تلخ حقیقت سامنے آتی ہے۔ گرمیوں میں جب لوڈشیڈنگ نسبتاً کم ہوتی ہے، تب عوام سڑکوں پر نکل آتی ہے، احتجاج ہوتا ہے، بیانات دیے جاتے ہیں اور مطالبات کی منظوری تک شور و غوغا جاری رہتا ہے۔ لیکن سردیوں میں جب لوڈشیڈنگ اپنی بدترین شکل اختیار کر چکی ہے، عوام کی اکثریت خاموش ہے۔ یہ خاموشی دراصل بے بسی، مایوسی اور اجتماعی تھکن کی علامت ہے، جس کا فائدہ بجلی فراہم کرنے والے ادارے اور متعلقہ حکام اٹھا رہے ہیں۔
بجلی نہ ہونے کے باوجود بجلی کے بلوں کا عذاب ایک الگ داستان ہے۔ ایک سو بیس گز کے عام سے مکان کا بل بیس سے تیس ہزار روپے تک پہنچ جانا کسی ظلم سے کم نہیں۔ شہری حیران ہیں کہ جب بجلی فراہم ہی نہیں کی جا رہی تو یہ بھاری بھرکم بل کس بنیاد پر بنائے جا رہے ہیں کیا یہ بل استعمال کے ہیں یا صرف جینے کی سزاہے
پانی کا مسئلہ بھی کسی سانحے سے کم نہیں۔ کراچی کے شہری گرمیوں میں پانی کی بوند بوند کو ترستے ہیں، مگر افسوس کہ سردیوں میں بھی یہی صورتحال برقرار ہے۔ پندرہ سے بیس دن بعد پانی آتا ہے، وہ بھی اتنے کم پریشر کے ساتھ کہ بغیر موٹر کے گھروں تک اس کا پہنچنا ناممکن ہو جاتا ہے۔ یوں شہری مجبوراً مہنگی موٹریں، ٹینکر مافیا اور اضافی اخراجات کی دلدل میں دھنس جاتے ہیں۔
یہاں ایک اور تلخ حقیقت یہ ہے کہ پانی کی قلت کے باوجود بل باقاعدگی سے وصول کیے جا رہے ہیں۔ نہ پانی مکمل، نہ پریشر مناسب، نہ سپلائی باقاعدہ مسلسل مگر بل پورے وصول کئے جاتےہیں۔ سوال یہ ہے کہ آخر شہری کس چیز کی قیمت ادا کر رہے ہیں ایسے حالات میں بجلی کی عدم دستیابی پانی کے بحران کو مزید سنگین بنا دیتی ہے۔ موٹر نہ چلے تو پانی نہیں بھر سکتے اور پانی نہ ہو تو زندگی مفلوج ہو جاتی ہے۔ یہ ایک ایسا شیطانی کھیل ہے جس میں کراچی کا شہری پوری طرح پھنسے ہوئے ہیں۔ ان تمام مشکلات کے درمیان اگر کسی ایک ادارے کا ذکر مثبت انداز میں کیا جائے تو وہ سوئی سدرن گیس کمپنی ہے، جو اس شدید سردی میں بھی دن کے اوقات میں گھریلو صارفین کو بلا تعطل گیس فراہم کر رہی ہے۔ اگر گیس کی فراہمی بھی متاثر ہو جائے تو شہریوں کے لیے کھانا پکانا اور روزمرہ زندگی گزارنا بھی ممکن نہ رہے۔
یہ انتہائی افسوسناک امر ہے کہ جن سہولتوں کو دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں بنیادی انسانی حق سمجھا جاتا ہے، وہی سہولتیں کراچی کے باسیوں کے لیے ایک خواب بن چکی ہیں۔ بجلی اور پانی کے بغیر زندگی کا تصوربھی ممکن نہیں اور جب یہی سہولتیں اس شہر کے مکینوں سے چھین لی جائیں جو ملکی معیشت کو سہارا دیتا ہے، تو یہ صرف ناانصافی نہیں بلکہ ایک اجتماعی جرم بن جاتا ہے۔
آخر کراچی کے ساتھ یہ دشمنی کیوں، کیا اس شہر کا قصور صرف یہ ہے کہ یہ ملک کو سب سے زیادہ ٹیکس دیتا ہے، کیا یہاں کے عوام کو کبھی وہ بنیادی سہولتیں میسر آ سکیں گی جو دیگر شہروں میں معمول کی بات سمجھی جاتی ہیں اور سب سے اہم سوال کیا ریاست اور متعلقہ ادارے اس صورتحال کی ذمہ داری قبول کرنے کو تیار ہیں۔
یہ سوالات آج ہر حساس شہری کے دل میں موجود ہیں۔ اگر اب بھی ان مسائل کو سنجیدگی سے حل نہ کیا گیا تو خدشہ ہے کہ یہ شہر مکمل طور پر اندھیروں، مایوسی اور بداعتمادی میں ڈوب جائے گا اور جب کسی شہر کے باسی اپنے نظام سے اعتماد کھو بیٹھیں تو پھر صرف بجلی اور پانی ہی نہیں، ریاستی رٹ بھی خطرے میں پڑ جاتی ہے۔
روشنیوں کے اس شہر کو اندھیروں سے نکالنا محض وعدوں سے نہیں بلکہ عملی اقدامات، شفافیت اور جوابدہی سے ہی ممکن ہے۔ ورنہ تاریخ گواہ رہے گی کہ ایک زندہ شہر کو آہستہ آہستہ بے حسی کے ہاتھوں مار دیا گیا۔

