Jalta Khyber Pakhtunkhwa Aur Hukumrano Ki Shobda Baziyan
جلتا پختونخوا اور حکمرانوں کی شعبدہ بازیاں

ایک طرف صوبہ خیبر پختونخوا جل رہا ہے، قتل و غارت، ڈکیتی، اغوا برائے تاوان، خودکش حملے یہ روز کے معمول بن گئے ہیں، کبھی کسی ضلع میں خودکش حملے ہوتے ہیں کبھی کسی ضلع میں سیاست دانوں عام عوام اورسیکورٹی اہلکاروں کو نشانہ بنایا جاتا ہے، ہر طرف قتل و غارت کا بازار گرم ہے۔
دو ہزار پچیس میں رپورٹس کے مطابق صوبہ خیبر پختونخوا میں مجموعی طور پر ایک ہزار سے زائد حملے ہوئے جس میں سیکیورٹی اہلکاروں سمیت عام شہری بھی بڑی تعداد میں جاں بحق ہوئے ہیں۔ فروری میں صوبے کے سب سے بڑے جامعہ دارالعلوم حقانیہ میں خودکش حملے میں آٹھ افراد شہید اور متعدد زخمی ہوئے، جون دو ہزار پچیس میں میر علی میں خودکش کار بم دھماکے میں سولہ فوجی جوان شہید ہوئے، جولائی میں باجوڑ میں سرکاری گاڑی پر حملے میں متعدد افراد جاں بحق اور زخمی ہوئے۔
دو ہزار پچیس میں ملک بھر میں 71 فیصد دہشتگردی کے واقعات خیبر پختونخوا میں رپورٹ ہوئے اور یہ صوبہ دہشتگردی کا سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ ہے جس کی حالت بدستور یہی ہے۔ حال ہی میں جنوری دو ہزار چھبیس میں باجوڑ میں جمعیت علماء اسلام کے سرکردہ رہنما بھی شہید کیے گئے ہیں۔ ایک طرف یہ صورت حال جس میں خیبر پختونخوا آگ اورخون میں جل رہا ہے جبکہ صوبہ بھر میں ان واقعات کے علاوہ بھی متعدد مسائل ایسے ہیں جو ان کی توجہ کے مستحق ہیں۔
دوسری طرف یہاں کے وزیراعلیٰ جو اپنی شعبدہ بازیوں سے فارغ نہیں ہیں، کبھی پنجاب کی طرف رخ کرتے ہیں جلسے جلوس لے کر جاتے ہیں، کبھی صوبہ سندھ کی طرف چلتے ہیں جلسے جلوس لے کر جاتے ہیں، کبھی کیپیٹل کی طرف جانے کی خواہش رکھتے ہیں لیکن ان کو وزارت اعلیٰ جیسے اہم منصب پر فائز ہونے کے باوجود بھی صوبے کے عوام صوبے کے مسائل اور مشکلات سے کوئی دلچسپی نہیں ہے اور وہی اپنا ایک ہی رٹہ لگایا ہوا ہے فرد واحد کے لیے اور آزادی کے نام پر نعروں کے لیے ایک فرد کی آزادی کی آواز اور آزادی کے نام پر خیالی پلاؤ اس میں لگے ہوئے ہیں، حالانکہ وہ خود بھی حقیقت میں آزاد نہیں ہیں۔
اتنی بڑے انتظامی ذمہ داری کے باوجود انہیں صوبے کے معاملات سے کوئی دلچسپی نہیں اور نہ ہی اسے اس کی اجازت ہے اسے صرف ون پوائنٹ پر لایا گیا ہے کہ آپ نے محض فرد واحد کے لیے اور اس کی آزادی کے لیے اور ملک میں عام طور پر آزادی کے لیے بات کرنی ہے۔ جب انہیں خود آزادی میسر نہیں ہے کہ وہ اپنے صوبے کے معاملات دیکھیں جس مقصد کے لیے عوام نے پارلیمان نے انہیں منتخب کیا ہے اس معاملات کو دیکھیں تو وہ دوسروں کو کیسےآزادی دلا سکتے ہیں۔ وہ سیاست کر رہے ہیں اور سیاست میں بھی وہ سیاست جو کسی انتظامی ذمہ دار کے لیے قطعاً جواز پیش نہیں کرتا۔
موصوف کو اتنے پسماندہ اور مسائل میں گھرے ہوئے صوبے کے وزیراعلیٰ منتخب کرنے کے بجائے اس کے کردار کا تقاضہ یہ تھا کہ اسے اپنی پارٹی کی چیئرمین شپ حوالے کی جاتی یا کوئی اس سے بھی بڑی ذمہ داری حوالے کی جاتی تو وہ شاید اس میں کوئی نہ کوئی کردار ادا کر لیتے جو ان کے کام آتا لیکن انتظامی طورپر اتنی بڑی ذمہ داری کے باوجود اسے کوئی احساس نہیں ہے کہ میرے صوبے میں کیا ہو رہا ہے۔ قتل و غارت کا بازار گرم ہے گیس نہیں ہے، بجلی نہیں ہے ہر طرف عوام پس رہی ہے لیکن انھوں نے سیاست کرنی ہے اور سیاست بھی وہ سیاست جس میں صرف اور صرف اپنے محسنوں کو ملک کے رکھوالوں کو اور اس قوم کے پہریداروں کو ہدف تنقید بنایا جاتا ہو۔ یہ کسی بھی طور نہ تو اس ملک کے لیے مفید ہے نہ اس قوم کے لیے اور خاص طور پر اس صوبے کے لیے تو قطعی طور پر یہ مفید نہیں بلکہ انتہائی نقصان دہ ہے جو پہلے سے مسائل میں گھرا ہوا ہے اس صوبے میں اگر یہی صورت حال رہے گی تو کیا وہ صوبہ ترقی کی طرف گامزن ہوگا یا مزید تنزلی کا شکار ہوگا۔
اس پر غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے اور ان کا جو بنیادی کردار ہے انتظامی طور پر اور عوام کے لیے جو خدمات ان کو ادا کرنے چاہیے انہیں اس پر فوکس کرنا چاہیے اور یا اپنی انتظامی ذمہ داری سبکدوش ہوکر سے عملی طور پر تنظیمی کوئی ذمہ داری قبول کر لیں اور صوبے کے عوام پر رحم کریں۔ فرد واحد کی آزادی مسائل کے دلدل میں پسی ہوئی اس قوم اور اس صوبے کی عوام کے لئے مسئلے کا حل نہیں، انہیں اپنے صوبے سے دہشت گردی کے خاتمے، امن و امان کے قیام، بجلی اور گیس کے مسائل اور روڈ وغیرہ کے حوالے سے کوئی ٹھوس منصوبہ بندی کی ضرورت ہے، عوام کو اس چیز سے کوئی سروکار نہیں کہ کوئی رہا ہو یا گرفتار ہو، ان کی بنیادی ضروریات اور بنیادی مسائل کو حل کیا جانا چاہیے۔ امید ہے کہ موصوف خیبر پختونخوا پر رحم کھاتے ہوئے اپنے کردار پر نظرثانی کرکے صوبے کو خوشحال، مثالی اور ترقی یافتہ بنائیں گے۔

