Islah Ka Mahina
اصلاح کا مہینہ

رحمتوں اور برکتوں والا عظیم مہینہ اپنی آمد کی نوید سنا رہا ہے۔ یہ وہ مبارک مہینہ ہے جو نہ صرف رحمتوں، برکتوں اور مغفرت کا مہینہ ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کے خصوصی فضل و کرم کے حصول کا بہترین موقع بھی ہے۔ رمضان المبارک درحقیقت ایک ایسا روحانی موسمِ بہار ہے جس میں بندۂ مومن کو اپنی زندگی کے ہر پہلو پر غور و فکر کا موقع ملتا ہے۔
عموماً ہم رمضان المبارک کو عبادات کے ساتھ خاص کر لیتے ہیں، جو بلاشبہ اس مہینے کا بنیادی تقاضابھی ہے۔ ہم نمازوں کی پابندی کرتے ہیں، خشوع و خضوع کے ساتھ تراویح کا اہتمام کرتے ہیں، تہجد کی سعادت حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، قرآنِ کریم کی تلاوت، ذکر و اذکار اور دعاؤں میں مشغول ہو جاتے ہیں۔ یہ سب اعمال یقیناً باعثِ اجر و ثواب ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا صرف عبادات ہی رمضان کا اصل مقصد ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ رمضان المبارک صرف عبادات ہی نہیں بلکہ معاملات کی اصلاح کا بھی مہینہ ہے۔ جس طرح ہم عبادات میں اضافہ کرتے ہیں، اسی طرح ہمارے اخلاق، رویّے، لین دین اور کاروباری معاملات میں بھی واضح تبدیلی آنی چاہیے۔ روزہ داروں کے لیے آسانیاں پیدا کرنا، اشیائے ضروریہ اور بالخصوص کھانے پینے کی اشیاء مناسب اور سستے داموں فراہم کرنا، ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری سے اجتناب کرنا اور ترازو کو درست رکھنایہ سب بھی ہمارے دینی فرائض میں شامل ہیں۔
یہ سمجھ لینا چاہیے کہ صرف عبادات ادا کر لینے سے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل نہیں ہوتی، جب تک کہ ہمارے معاملات اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے احکامات کے مطابق نہ ہوں۔ عبادات اور معاملات دونوں دین کے دو پہلو ہیں اور ان میں سے کسی ایک کو نظر انداز کرنا دین کی روح کے منافی ہے۔
یہ ایک تلخ مگر قابلِ غور حقیقت ہے کہ دنیا کے کئی غیر مسلم ممالک میں جب ماہِ رمضان کا آغاز ہوتا ہے تو وہاں مسلمان اقلیتوں کے لیے خصوصی رعایتوں کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ کھانے پینے کی اشیاء، رمضان میں استعمال ہونے والی ضروریات، حتیٰ کہ سال بھر چلنے والی اشیاء کی قیمتیں بھی کم کر دی جاتی ہیں، معیار بہتر بنایا جاتا ہے اور مسلمانوں کے مذہبی جذبات کا خیال رکھا جاتا ہے۔ کئی مقامات پر سحری اور افطاری کے مفت انتظامات بھی کیے جاتے ہیں۔ یہ طرزِ عمل دراصل مسلمانوں کے ساتھ ہمدردی اور احترام کا مظہر ہے۔
اس کے برعکس، جب ہم اپنے معاشرے پر نظر ڈالتے ہیں تو ایک افسوس ناک منظر سامنے آتا ہے۔ جیسے ہی رمضان المبارک کی آمد ہوتی ہے، اشیائے خورد و نوش کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگتی ہیں۔ بالخصوص پھل، سبزیاں، دودھ، مشروبات اور دیگر ضروری اشیاء یکدم مہنگی کر دی جاتی ہیں۔ اگر کہیں قیمتیں ظاہری طور پر نہ بھی بڑھائی جائیں تو مقدار میں کمی کر دی جاتی ہے، معیار گرا دیا جاتا ہے یا ناپ تول میں کمی شروع ہو جاتی ہے۔
یہ طرزِ عمل اس مسلمان کے شایانِ شان نہیں جس کا امتیازی وصف ایمانداری اور تقویٰ ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں معاملات کا حساب نہایت سختی کے ساتھ ہوگا۔ ہم عبادات میں تو بھرپور محنت کر لیتے ہیں، مگر زندگی سے جڑے معاملات میں وہی لوگ روزہ داروں کے لیے تکلیف کا سبب بن جاتے ہیں جو خود کو دیندار سمجھتے ہیں۔ روزہ داروں کو مہنگے داموں اشیاء خریدنے پر مجبور کرنا، ان کی مجبوری سے فائدہ اٹھانا، نہ دین ہے اور نہ ہی اخلاق۔
اسلام ہمیں یہ تعلیم دیتا ہے کہ جس طرح ہماری عبادات خضوع، خشوع اور کثرت کے ساتھ ہونی چاہئیں، اسی طرح ہمارے معاملات بھی صاف، شفاف اور مکمل طور پر ایماندار ہونے چاہئیں۔ کسی قسم کی دھوکہ دہی، خودساختہ مہنگائی، ناجائز منافع یا ملاوٹ کا دینِ اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔
اللہ تعالیٰ نے پورے سال میں ہمیں بارہ مہینے عطا فرمائے، مگر ان میں سے ایک مہینہ اپنے خصوصی فضل و کرم کے لیے منتخب فرمایا تاکہ اگر ہم سے پورے سال میں عبادات یا معاملات میں کوتاہیاں ہوگئی ہوں تو اس مہینے میں ان کی تلافی کر سکیں۔ یہ موقع ہے کہ ہم اپنے گزرے ہوئے وقت پر ندامت کریں، اللہ کے حضور سچی توبہ کریں اور آئندہ زندگی کے لیے خود سے پختہ عہد کریں۔
اصل کامیابی یہ ہے کہ ہم رمضان المبارک میں جس طرح عبادات کی طرف رجوع کرتے ہیں، اسی طرح باقی مہینوں میں بھی اس تسلسل کو برقرار رکھیں اور خصوصاً اپنے مالی، کاروباری اور معاشرتی معاملات میں دیانت داری کو شعار بنائیں۔ اگر ہمارا رمضان صرف عبادات تک محدود رہے اور ہمارے کاروبار، خرید و فروخت اور لین دین میں بددیانتی، ذخیرہ اندوزی اور مہنگی فروشی جاری رہے تو ایسا رمضان نہ ہمیں فائدہ پہنچا سکتا ہے اور نہ ہی اللہ تعالیٰ کو اس کی کوئی حاجت ہے۔
لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم رمضان المبارک کو عبادات کے ساتھ ساتھ معاملات کی اصلاح کا مہینہ بنائیں۔ جب ہمارے لین دین میں سچائی اور ایمانداری آئے گی، تب ہی رمضان المبارک کے حقیقی ثمرات حاصل ہوں گے اور ان شاء اللہ یہی طرزِ عمل ہماری مغفرت اور نجات کا ذریعہ بنے گا۔

