Friday, 09 January 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Mushtaq Ur Rahman Zahid
  4. Husn Ki Devi, Wadi e Ghizer Gilgit Baltistan

Husn Ki Devi, Wadi e Ghizer Gilgit Baltistan

حسن کی دیوی، وادی غذر گلگت بلتستان

جگلوٹ کے حسین و دل فریب گاؤں برماس سے جدا ہوتے وقت دل عجیب اداسی سے بھرا ہوا تھا۔ یہی کیفیت ہمارے شفیق میزبان مجاہد بھائی کی بھی تھی۔ ان کی التجا کرتی آنکھیں صاف بتا رہی تھیں کہ وہ ہمیں مزید کچھ دن اپنی خدمت کا موقع دینا چاہتے ہیں اور انہوں نے یہ بات زبان سے بھی کہہ دی مگر چونکہ ہمارا اگلا سفر طے تھا، اس لیے فجر کی نماز کے فوراً بعد دیسی انڈوں، خالص مکھن اور گرم گرم پراٹھوں پر مشتمل پیٹ بھر کر ناشتہ کیا اور رختِ سفر باندھ لیا۔

جگلوٹ بازار سے نکلتے ہی کچھ فاصلے پر تین عظیم پہاڑی سلسلوں کوہِ ہمالیہ، کوہِ ہندوکش اور کوہِ قراقرم کا سنگم نظر آتا ہے یہاں ایک سڑک دائیں جانب حسین پہاڑوں اور بہتے دریاؤں کی وادی اسکردو کی طرف جاتی ہے، مگر ہم نے سیدھا گلگت شہر کا رخ کیا۔

گلگت شہر اگرچہ رقبے میں چھوٹا ہے، مگر حسن اور کشش میں کسی بڑے شہر سے کم نہیں۔ چھوٹے چھوٹے بازار، دلکش ہوٹل اور خوبصورت رہائشی آبادیاں اسے ایک پیارا شہر بناتی ہیں۔ شہر کے اندر گھومتے ہوئے ہم بائیں جانب مڑے، جہاں مضافاتی علاقے میں سرسبز درختوں سے گھرے گاؤں کے درمیان سے ایک سڑک نکلتی ہے۔ یہی گلگت تا چترال روڈ کا ابتدائی حصہ تھا اور حقیقت یہ ہے کہ چترال تک یہی واحد زمینی راستہ ہے۔ اس کے علاوہ دائیں بائیں کسی سڑک کا وجود نہیں۔

کچھ دیر سفر کے بعد رحمتِ خداوندی برسنے لگی۔ موسم نہایت سہانا اور سرد ہوگیا۔ راستے میں ایک خوبصورت سا چائے کا ڈھابہ نظر آیا جہاں کئی خاندان پہلے ہی رکے ہوئے تھے اور گرم چائے سے موسم کا لطف لے رہے تھے۔ ہم نے بھی یہی موقع غنیمت جانا۔ چائے کا آرڈر دینے کے بعد سامنے کھلی چھوٹی دکانوں سے دیسی اخروٹ خریدے تاکہ دیہی ماحول کی چاشنی دوبالا ہو جائے۔ زبردست بارش، گرم چائے اور دیسی اخروٹ اس لمحے نے سفر کو یادگار بنا دیا۔

بارش کے ہلکا ہوتے ہی دوبارہ روانہ ہوئے۔ ابتدا میں راستہ کچھ حد تک نارمل تھا، مگر آگے جا کر سڑک کی حالت ایسی ہوگئی جسے شاید صرف دیکھا ہی جا سکتا ہے۔ کچی، خستہ حال، پتھروں کے ڈھیر ہمارے جیسے شہری لوگوں کے لیے اسے سڑک کہنا بھی عجیب لگ رہا تھا۔ اوپر سے ہمارے پاس چھوٹی گاڑی (وٹز) تھی، جسے مقامی لوگوں نے اس راستے کے لیے مناسب نہیں سمجھا تھا۔ مگر ہم بضد تھے کہ اسی نئے اور مشکل راستے سے جائیں تاکہ کچھ نیا دیکھ سکیں اور تجربات میں اضافہ ہو۔

راستے میں سب سے پہلے عطا آباد کے بعد گلگت کے قریب وہ گاؤں آیا جہاں ناردرن اسکاؤٹس کا ہیڈ آفس واقع ہے۔ یہاں سے باقاعدہ گلگت، شندور، چترال روڈ شروع ہو جاتا ہے۔ اس سڑک پر سب سے پہلا خوبصورت گاؤں بسین آیا، پھر ہنزل جہاں گلگت کی مشہور اور نہایت لذیذ ٹراؤٹ مچھلی ملتی ہے۔ اس کے بعد گلاپور اور اس کے بالمقابل تاریخی اہمیت کا حامل شیر قلعہ گاؤں آیا۔ ہر گاؤں اپنی مثال آپ تھا۔

آگے چل کر ڈلناٹی گاؤں اور پھر ضلع غذر کا ہیڈکوارٹر گاھکوچ پہنچے۔ یہاں پہنچتے پہنچتے بھوک نے برا حال کر دیا، مگر افسوس کہ کوئی ایسا مناسب ہوٹل نہ ملا جہاں بیٹھ کر کھانا کھایا جا سکے۔ مجبوراً ایک چھوٹی سی بیکری سے سموسے، پکوڑے اور بسکٹ لے کر گزارا کیا۔ ویسے بھی پورے سفر میں ہمارا دوپہر کا کھانا اکثر یہی سوچتے سوچتے رہ جاتا کہ آگے کہیں بہتر جگہ مل جائے گی اور شام ہو جاتی۔ اورشام کوپھرایک ساتھ ہی دونوں ٹائم کا کھانا کھا لیتے۔

گاھکوچ میں ظہر کی نماز ادا کی، ایک خراب ٹائر کی مرمت کروائی، پٹرول ڈلوایا اور پھر دوبارہ روانہ ہوئے۔ کچھ فاصلے کے بعد گوپس بازار آیا اور اس سے آگے دنیا کی حسین ترین وادیوں میں سے ایک پھنڈر ویلی۔

سچ پوچھیں تو ہم سوات، ناران اور مری دیکھ چکے تھے، مگر پھنڈر ویلی کے حسن نے ہمیں اپنا دیوانہ بنا دیا۔ شاید پاکستان میں اس جیسی حسین وادی اور کہیں نہ ہو۔ بے شمار چھوٹی بڑی، رنگ برنگی جھیلیں، کھلے سبز میدان، بہتا دریا اور چاروں طرف پہاڑی سلسلے ایک ایسا منظر جو آنکھوں میں سما جائے۔ یہی اس وادی کا حسن ہے کہ یہ اب تک لوگوں کی نظروں سے اوجھل ہے۔ اگر یہاں کی سڑکیں بہتر ہو جائیں تو پورا پاکستان سیاحت کے لیے ضلع غذر کا رخ کرے گا۔

پھنڈر کا خوبصورت گاؤں بھی اسی وادی میں واقع ہے۔ دل چاہتا تھا کہ یہیں رک جائیں، مگر سفر جاری رکھنا تھا۔ یہاں کے لوگوں کی سادگی اور خوش مزاجی قابلِ رشک ہے۔ دلچسپ بات یہ کہ جب کسی مقامی سے پوچھیں کہ آگے فلاں جگہ کتنی دور ہے تو وہ مسکراتے ہوئے کہتے ہیں: "بس آدھا گھنٹہ"۔ دو گھنٹے بعد دوبارہ پوچھیں تو جواب آتا ہے: "اب تو ایک گھنٹہ رہ گیا ہے"۔ مگر یقین جانیں، ان کی خوش مزاجی اتنی دلکش ہے کہ تھکن کا احساس ہی نہیں رہتا۔

مغرب کے وقت ضلع غذر کے آخری گاؤں برست پہنچے۔ اندھیرا ہو چکا تھا اور اس سے آگے چترال تک کوئی آبادی نہیں تھی۔ مجبوراً وہیں رکنا پڑا۔ صرف ایک چھوٹا سا مگر نہایت صاف ستھرا ہوٹل تھا۔ وہاں تازہ کڑاہی بنوا کر کھائی اور سخت تھکن کے باعث فوراً سو گئے۔ سردی شدید تھی، مگر گرم کمبلوں اور رضائیوں نے اچھی نیند فراہم کی

فجر کے بعد جیسے ہی باہر کے مناظر دیکھے تو انگشت بدنداں رہ گئے۔ قدرت کی ساری خوبصورتی گویا یہیں سمٹ آئی تھی۔ اسی گاؤں میں ایک چشمہ بھی ہے جس کے بارے میں مشہور ہے کہ اس کا پانی سیون آپ جیسا ذائقہ رکھتا ہے، مگر وقت کی قلت کے باعث ہم اسے نہ دیکھ سکے۔

آگے راستہ انتہائی دشوار تھا۔ پتھروں پر گاڑی چل رہی تھی، رفتار دس کلومیٹر فی گھنٹہ سے زیادہ نہ ہو پاتی۔ ایک مقام پر ٹائر پھٹ گیا، مگر اسپئر ٹائر ہونے کی وجہ سے اللہ کا بڑا کرم ہوا، ورنہ اس ویرانے میں کسی انسان کا ملنا بھی مشکل تھا۔

بالآخر ہم شندور ٹاپ پہنچ گئے۔ راستے میں دنیا کا سب سے بلند پولو گراؤنڈ بھی دیکھ لیا۔ شندور ٹاپ پر پہنچ کر یوں محسوس ہوا جیسے ہم زمین سے نکل کر خلا میں آ گئے ہوں۔ خاموشی، بلندی اور فطرت کا رعب دل چاہتا تھا کہ یہیں رک جائیں، مگر سفر ابھی باقی تھا۔

دو دن کے مسلسل اور مشکل سفر کے بعد رات تقریباً دس بجے ہم چترال شہر میں داخل ہوئے۔ یہ سفر ہماری زندگی کے حسین ترین اور یادگار ترین سفروں میں سے ایک تھا ایسا سفر جو شاید مدتوں بھلایا نہ جا سکے گا۔

Check Also

Kuwan Pyase Ki Talash Mein

By Muhammad Zeashan Butt