Gul Plaza Atishzadgi, Karachi Mein Qayamat e Sughra
گل پلازہ آتشزدگی، کراچی میں قیامت صغری

کراچی کے قلب، ایم اے جناح روڈ پر واقع شاپنگ سینٹر گل پلازا میں ہفتے کی رات سوا دس بجے بھڑکنے والی آگ محض ایک عمارت کا جل جانا نہیں تھا، بلکہ یہ اس پورے نظام کی علامتی تصویر تھی جو برسوں سے اس شہر کو بے یار و مددگار چھوڑے ہوئے ہے۔ چوبیس گھنٹے سے زائد کا عرصہ گزر جانے کے باوجود آگ پر مکمل قابو نہ پایا جانا اس تلخ حقیقت کی گواہی ہے کہ ہم ایک ایسے ملک کے سب سے بڑے شہر میں رہ رہے ہیں جہاں ہنگامی حالات سے نمٹنے کی صلاحیت نہ ہونے کے برابر ہے۔
گل پلازا ایک تجارتی مرکز تھا، ایک چھوٹی سی دنیا تھی، جہاں بارہ سو سے زائد دکانیں آباد تھیں۔ کپڑوں، پلاسٹک، کراکری، گفٹس، کاسمیٹکس اور دیگر اشیائے ضروریہ کی تجارت یہاں ہوتی تھی۔ اس ایک عمارت سے تقریباً سات ہزار افراد کا روزگار وابستہ تھا۔ کوئی باپ اپنے بچوں کی تعلیم کا خرچ یہیں سے پورا کرتا تھا، کوئی بیٹی کی شادی کے خواب بُن رہا تھا، کوئی بڑھاپے کے سہارے کے لیے چند روپے جمع کر رہا تھا۔ مگر ایک ہی رات میں سب کچھ راکھ ہوگیا اور ہزاروں گھروں کے چراغ بجھ گئے۔ سانحے کا سب سے زیادہ تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ آگ لگنے کے ڈیڑھ گھنٹے بعد فائر بریگیڈ کی گاڑیاں جائے وقوعہ پر پہنچیں۔ وہ بھی ایسے وقت میں جب آگ پورے پلازا کو اپنی لپیٹ میں لے چکی تھی۔ عینی شاہدین کے مطابق لگ بھگ بیس فائر ٹینڈرز کئی گھنٹوں تک جدوجہد کرتے رہے، مگر ناکافی پانی، پرانے آلات اور جدید مشینری کی عدم موجودگی کے باعث آگ بے قابو رہی اگر شہر کے عین مرکز میں حالات یہ ہیں تو شہر کے مضافات میں کسی بڑے حادثے کی صورت میں کیا ہوگا۔
پیرکی فجرتک کی اطلاعات کے مطابق اس ہولناک سانحے میں فائر فائٹرز سمیت کم از کم نو افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں، تیس سے زائد لوگ زخمی ہیں، جبکہ پچاس سے زائد افراد تاحال لاپتہ ہیں۔ وہ لوگ جو شاید ملبے تلے دبے ہیں، یا دھوئیں میں دم گھٹنے کے باعث بے ہوش پڑے ہیں، جن کے موبائل فون بند ہیں، جن سے کوئی رابطہ ممکن نہیں۔ ان کے گھروں میں قیامت برپا ہے۔ مائیں سجدوں میں گر کر دعائیں مانگ رہی ہیں، باپ در در کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں، بہن بھائی اسپتالوں اور ریسکیو مراکز کے چکر لگا رہے ہیں۔ بظاہر تو یہ مناظر کسی جنگ زدہ ملک کے لگتے ہیں، مگر یہ پاکستان کے سب سے بڑے اور سب سے اہم شہر کی تصویر ہے۔ وہ شہر جو ملک کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی سمجھا جاتا ہے، جہاں سے قومی خزانے کا بڑا حصہ بھرا جاتا ہے، مگر بدلے میں اسے صرف وعدے، بیان اور غفلت ملتی ہے۔
مئیر اور وزیراعلیٰ کا واقعے کے تقریباً بیس گھنٹے بعد جائے حادثہ پر پہنچنا اس پورے نظام پر ایک اور سوالیہ نشان ہے۔ یہ تاخیر محض انتظامی کمزوری نہیں بلکہ حکومتی بے حسی کی عکاس ہے۔ ایسے سانحات میں دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں چند منٹوں کے اندر ایمرجنسی نافذ ہو جاتی ہے، جدید فائر فائٹنگ یونٹس، ریسکیو ٹیمیں اور ہیلی کاپٹرز حرکت میں آ جاتے ہیں۔ مگر کراچی جیسے بین الاقوامی شہر میں ہم اب بھی پرانی گاڑیوں، ناکارہ آلات اور غیر تربیت یافتہ نظام کے رحم و کرم پر ہیں۔ کراچی ویسے ہی مسائل کا گڑھ بنا ہوا ہے۔ ٹوٹا ہوا انفراسٹرکچر، کچرے کے پہاڑ، پانی کی قلت، بجلی کی لوڈشیڈنگ، ٹریفک کا عذاب اور جرائم کی بڑھتی ہوئی شرح اور اب یہ اندوہناک سانحات۔ روشنیوں کا شہر، جو کبھی ترقی، امنگوں اور مواقع کی علامت تھا، اب دھوئیں، راکھ اور آہوں کا شہر بنتا جا رہا ہے۔
ایک اور افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ کراچی میں بلڈنگ کنٹرول کا نظام تقریباً مفلوج ہو چکا ہے۔ سنگل پلاٹ پر بغیر کسی معیاری جانچ کے بلند و بالا عمارتیں کھڑی کر دی جاتی ہیں۔ نہ فائر الارم، نہ ایمرجنسی سیڑھیاں، نہ فائر ایکزٹ، نہ فائر فائٹنگ سسٹم۔ دو سو یا تین سو گز کے پلاٹ پر دس دس، پندرہ پندرہ منزلہ عمارتیں بنا دی جاتی ہیں اور کوئی پوچھنے والا نہیں کہ یہ عمارت کس قانون، کس اجازت اور کس حفاظتی نظام کے تحت تعمیر کی گئی ہے۔
جب ایسی عمارتوں میں آگ لگتی ہے تو وہ محض ایک حادثہ نہیں رہتی، بلکہ اجتماعی قتل کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ اس قتل میں صرف آگ ذمہ دار نہیں ہوتی، بلکہ وہ نظام، وہ افسران، وہ ادارے اور وہ حکمران بھی شریک ہوتے ہیں جو اپنی ذمہ داریوں سے غافل ہیں۔
اس سانحے میں اربوں روپے کا نقصان ہو چکا ہے۔ وہ تاجر جو چالیس پچاس برس سے ایمانداری کے ساتھ اپنا کاروبار چلا رہے تھے، آج کھلے آسمان تلے سڑکوں پر بیٹھے ہیں۔ ان کی زندگی بھر کی کمائی، ان کا سرمایہ، ان کی امیدیں سب کچھ راکھ بن چکا ہے۔ ایک طرف پیاروں کے بچھڑنے کا صدمہ، دوسری طرف معاشی تباہی یہ دوہرا عذاب شاید ہی کوئی معاشرہ برداشت کر سکتا ہو۔ کراچی میں اگر کہیں کوئی حادثہ پیش آ جائے تو شہری اپنی مدد آپ کے تحت ہی متحرک ہوتے ہیں۔ لوگ اپنی جانیں خطرے میں ڈال کر دوسروں کو بچانے کی کوشش کرتے ہیں، کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ حکومتی مشینری یا تو دیر سے پہنچے گی یا محض کاغذی کارروائی تک محدود رہے گی۔ حکمران بیانات دیتے ہیں، کمیٹیاں بنتی ہیں، تحقیقات کا اعلان ہوتا ہے، مگر نتیجہ ہمیشہ صفر نکلتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ آخر ہم کب تک اس شہر کے ساتھ یہ ظلم کرتے رہیں گے کب تک کراچی کو لاوارث سمجھ کر اس کی قربانی دیتے رہیں گے اگر کراچی نہیں تو پاکستان نہیں یہ محض نعرہ نہیں بلکہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے۔ یہ شہر پورے ملک کا پہیہ چلاتا ہے، مگر خود زنگ آلود نظام کے نیچے پس رہا ہے۔
اب وقت آ چکا ہے کہ اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے لوگ خوابِ غفلت سے جاگیں۔ ایمرجنسی بنیادوں پر فائر سیفٹی قوانین پر عمل درآمد کرایا جائے، بلڈنگ کنٹرول کے نظام کو درست کیا جائے، جدید فائر فائٹنگ اور ریسکیو آلات فراہم کیے جائیں اور انسانی جانوں کو قیمتی امانت سمجھا جائے۔
اگر آج بھی ہم نے کراچی پر توجہ نہ دی، اگر آج بھی اس شہر کو اسی طرح جلنے دیا گیا، تو کل کو یہ آگ صرف عمارتوں تک محدود نہیں رہے گی، بلکہ پورے ملک کے مستقبل کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی اور پھر تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔

