Board Of Peace Aur Fazal Ur Rehman Ki Ghan Garaj
بورڈ آف پیس اور فضل الرحمن کی گھن گرج

آج بروز جمعہ قومی اسمبلی کے اجلاس میں ملک کے سینئر سیاستدان اور جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے حکومتی قوانین اور پالیسیوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے ایوان کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ گرجدار آواز، مدلل گفتگو اور بےباک لہجے کے ساتھ انہوں نے نہ صرف حکومتی اقدامات کو آڑے ہاتھوں لیا بلکہ بعض قوانین کو کھلے سرعام چیلنج کرتے ہوئے ان کی خلاف ورزی کا اعلان بھی کر دیا۔
مولانا فضل الرحمٰن نے ایک جانب بورڈ آف پیس میں پاکستان کی شمولیت پر سخت احتجاج کیا اور اسے پارلیمنٹ کی صریح توہین قرار دیا، جبکہ دوسری طرف اٹھارہ سال سے کم عمر شادی پر پابندی کے قانون کو مسترد کرتے ہوئے اس کے خلاف سرعام اعلانِ بغاوت کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بورڈ آف پیس دراصل ڈونلڈ ٹرمپ کا پیش کردہ ایک نظریہ ہے جس کا آغاز بظاہر امن کے قیام کے لیے بیس نکاتی فارمولے سے ہوا، مگر خود ہمارے وزیر خارجہ ایوان کے فلور پر یہ تسلیم کر چکے ہیں کہ اس میں ہماری مرضی کے بغیر تبدیلیاں کی گئیں۔ اس کے باوجود آنکھیں بند کرکے اسے قبول کرنا اور اس میں شمولیت اختیار کرنا آخر کس منطق کے تحت درست ہو سکتا ہے
مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ ٹرمپ نے محض ایک دن قبل یہ اعلان کیا ہے کہ اگر حماس غیر مسلح نہ ہوئی تو اس کا وہی انجام ہوگا جو لبنان میں حزب اللہ کا ہوا۔ دنیا جانتی ہے کہ لبنان میں حزب اللہ کو اسرائیلی جارحیت کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکہ نے ہمیشہ فلسطین کے مقابلے میں اسرائیل کو کھلی چھوٹ دی ہے، حالانکہ امن نہ دھمکیوں سے قائم ہوتا ہے اور نہ ہی طاقت کے زور پر۔
انہوں نے ایوان کو خبردار کیا کہ اگر اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا تو اس کے اثرات براہِ راست پاکستان کی سرحدوں تک آن پہنچیں گے، کیونکہ یہ سارا کھیل ہمارے گردوپیش ہی کھیلا جا رہا ہے۔ مولانا نے یاد دلایا کہ اسرائیل کے قیام کے فوراً بعد اس کے پہلے صدر نے اپنی اولین پالیسی اسٹیٹمنٹ میں یہ واضح کیا تھا کہ ان کی خارجہ پالیسی کی بنیاد ایک نوزائیدہ اسلامی ریاست کے خاتمے پر ہوگی اور اس سے مراد پاکستان تھا۔ پیدائش کے دن سے ہی اسرائیل کے عزائم ہمارے خلاف رہے ہیں، تو پھر ایسے مشن میں پاکستان کی شرکت آخر کیا معنی رکھتی ہے۔
مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ اسرائیل مظلوم فلسطینی مسلمانوں کا قاتل ہے، عالمی عدالت اسے مجرم قرار دے چکی ہے، حتیٰ کہ یہ بھی کہا جا چکا ہے کہ اگر وہ کسی بھی ملک کی سرحد سے گزرے تو اسے گرفتار کیا جائے۔ اس کے باوجود امن کے نام پر ایسے منصوبے میں شمولیت اختیار کرنا نہ صرف اخلاقی دیوالیہ پن ہے بلکہ فلسطینی مسلمانوں کے خون سے صریح ناانصافی بھی ہے۔
انہوں نے کہا کہ آج حالات یہ ہیں کہ ہندوستان ہمارا دشمن ہے، افغانستان کے ساتھ کشیدگی برقرار ہے، چین ہم سے مایوس دکھائی دیتا ہے اور ایران کو ہمارے بارے میں تحفظات لاحق ہیں۔ ایسے نازک حالات میں ہم جس سمت قدم بڑھا رہے ہیں وہ پاکستان کے تاریخی مستقبل کے لیے نہایت خطرناک ہے۔ مولانا نے مطالبہ کیا کہ پارلیمنٹ متفقہ طور پر بورڈ آف پیس کو مسترد کرے، کیونکہ وزیراعظم نے اس معاملے پر ایوان کو اعتماد میں ہی نہیں لیا۔
حکومت کو دوٹوک انداز میں مخاطب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ اس جعلی حکومت کے خلاف جدوجہد جاری رکھنا ہمارا قومی فریضہ ہے اور یہ جنگ ہم جیت کر رہیں گے۔ انہوں نے واشگاف الفاظ میں اعلان کیا کہ میں ان قوانین کی سرعام خلاف ورزی کروں گا۔ پندرہ، سولہ، بارہ حتیٰ کہ دس سال کے نوجوانوں کی شادیاں کراؤں گا اور خود ان میں شریک ہوں گا، پھر دیکھتے ہیں کہ حکومت مجھے کس طرح روکتی ہے۔ انہوں نےقانون سازی کو بھی چیلنج کیا اور حکمران طبقے کی سوچ اور ذہنیت پر کھلے عام سوالات اٹھائے۔
مولانا فضل الرحمٰن نے حکومت کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ تم اللہ کو ناراض کرکے ٹرمپ نامی بت کو راضی کرنے نکلے ہو اور اس سے بڑا شرک کوئی نہیں ہو سکتا۔ پاکستان کو اگر کوئی بچا سکتا ہے تو وہ صرف اللہ کی ذات ہے، اس کی ننانوے صفات اس کی ضمانت ہیں۔ خدا کی قسم، امریکہ نے تمہیں بنگال میں بھی نہیں بچایا تھا اور اگر آج یہ ملک ٹوٹا تو امریکہ تب بھی تمہیں نہیں بچائے گا، کیونکہ ٹرمپ نے اسلامی دنیا کو نشانے پر رکھا ہوا ہے۔
مولانا فضل الرحمٰن کوئی عام سیاسی رہنما نہیں۔ انہوں نے پینتالیس برس اس ملک کی سیاست میں گزارے ہیں، قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں، اپوزیشن میں رہ کر مضبوط اور جرات مند کردار ادا کیا اور ہمیشہ ملکی سلامتی اور اسلامی قوانین کے خلاف اقدامات پر حکمرانوں کو للکارتے رہے۔ ایسے حالات میں قومی اسمبلی جیسے سنجیدہ اور ذمہ دار فورم پر ان کی یہ جوشیلی اور مدلل تقریر غیرمعمولی اہمیت رکھتی ہے۔
خاص طور پر ایسے وقت میں جب غزہ میں مسلمانوں پر ہونے والا ظلم تاریخ کا سیاہ باب بن چکا ہے، جسے دنیا کبھی فراموش نہیں کر سکے گی۔ اس کے باوجود امن کے نام پر بورڈ آف پیس کے ذریعے تمام ممالک کو اکٹھا کرکے حماس کو طاقت کے زور پر غیر مسلح کرنے کی کوشش نہ صرف دانشمندی کے خلاف ہے بلکہ ان مسلمانوں کے خلاف مزید قتلِ عام کے مترادف ہے جو اپنی آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ امن ہمیشہ انصاف کے تقاضوں کو پورا کرکے اور مذاکرات کے ذریعے قائم کیا جاتا ہے، نہ کہ دھونس، دباؤ اور دھمکیوں کے ذریعے۔
اسی طرح ملک میں اٹھارہ سال سے کم عمر شادی پر پابندی کا قانون صریحاً اسلامی اور آئینی اصولوں کے خلاف ہے۔ قرآنِ کریم پاکستان کے آئین کی اساس ہے اور آئین میں واضح طور پر درج ہے کہ پاکستان میں کوئی قانون قرآن و سنت کے خلاف نہیں بنایا جا سکتا۔ اس کے باوجود ایسی قانون سازی کرنا نہ صرف آئین سے انحراف ہے بلکہ اسلامی تشخص پر بھی حملہ ہے۔ اس لئے مولانا فضل الرحمٰن نے اس قانون کے خلاف اسمبلی کے فلور پر علی الاعلان جنگ کا اعلان کر دیا ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت اور ریاستی ادارے ایسے حساس معاملات میں پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیں اور ان سینئر سیاستدانوں کو شریکِ مشاورت بنائیں جو ملک اور اسلام کی سلامتی کے لئے پرامن، آئینی اور پارلیمانی جدوجہد کر رہے ہیں۔ یہی طرزِ عمل پاکستان کے بہتر اور محفوظ مستقبل کی ضمانت بن سکتا ہے۔

