Saturday, 14 February 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Mushtaq Ur Rahman Zahid
  4. BNP Ki Fatah, Dhaka Islamabad Naye Daur Ka Aghaz

BNP Ki Fatah, Dhaka Islamabad Naye Daur Ka Aghaz

بی این پی کی فتح، ڈھاکہ اسلام آباد نئے دور کا آغاز

آج بنگلہ دیش کی سیاسی تاریخ میں ایک نہایت اہم اور فیصلہ کن دن ثابت ہوا، جب ملک میں ہونے والے تیرہویں پارلیمانی انتخابات کے نتائج نے نہ صرف اندرونِ ملک سیاسی منظرنامہ تبدیل کر دیا بلکہ خطے کی سیاست پر بھی دور رس اثرات مرتب کرنے کی بنیاد رکھ دی۔ ان انتخابات میں بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی نے اپنے اتحادیوں کے ساتھ، جن میں جمعیت علماء اسلام سمیت دیگر جماعتیں بھی شامل تھیں، 299 میں سے 212 نشستوں پر شاندار کامیابی حاصل کرکے واضح دو تہائی اکثریت اپنے نام کر لی۔

بی این پی کے چیئرمین اور خالدہ ضیا کے صاحبزادے طارق رحمان نے ڈھاکہ اور بوگرا دونوں نشستوں پر بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کرکے اپنی سیاسی مقبولیت کا بھرپور ثبوت دیا۔ یہ کامیابی محض انتخابی فتح نہیں بلکہ اس امر کی غمازی بھی کرتی ہے کہ عوام نے انہیں وزارتِ عظمیٰ کے لیے اپنا واضح مینڈیٹ دے دیا ہے اور وہ نہ صرف وزیرِاعظم کے امیدوار بلکہ نومنتخب وزیرِاعظم بھی ہوں گے۔

انتخابی نتائج کے مطابق جماعتِ اسلامی اتحاد نے بھی 70 کے قریب نشستوں پر کامیابی حاصل کی، جو اس بات کا اظہار ہے کہ بنگلہ دیش کی سیاست میں مذہبی و نظریاتی جماعتیں اب بھی ایک مؤثر قوت رکھتی ہیں۔ جین زی کی نیشنل سٹیزن پارٹی نے 5 اور جمعیت علماء اسلام نے 4 نشستیں جیت کر پارلیمان میں اپنی نمائندگی یقینی بنائی۔ جماعتِ اسلامی کے صدر شفیق الرحمان نے اپنی نشست پر کامیابی حاصل کی، جبکہ طلباء اتحاد کے رہنما ناہید اسلام نے ریکارڈ ووٹ لے کر سیاسی حلقوں کو حیران کر دیا۔

یہ انتخابات اس اعتبار سے بھی منفرد رہے کہ بی این پی کے ٹکٹ پر 6 خواتین نے نمایاں کامیابیاں حاصل کیں، جن میں افروزا خان، عشرت سلطانہ، تاشینہ رشدیر، شمع عبیدی، نایاب وصف کمال اور فرزانہ شرمینہ شامل ہیں۔ یہ پیش رفت نہ صرف خواتین کی سیاسی شمولیت کا مظہر ہے بلکہ اس بات کا ثبوت بھی ہے کہ بنگلہ دیشی سیاست میں خواتین کی نمائندگی بھی ہے۔ اس کے علاوہ بیرسٹر رحمینہ فرحان نے آزاد حیثیت سے کامیابی حاصل کرکے اپنی انفرادی سیاسی شناخت کو منوایا۔

انتخابات کے ساتھ ساتھ آئینی اصلاحات پر قومی ریفرنڈم بھی منعقد ہوا، جس میں 73 فیصد عوام نے ان اصلاحات کی حمایت کی۔ یہ تناسب عوام کے سیاسی شعور اور نظام میں بہتری کی خواہش کو ظاہر کرتا ہے۔ الیکشن کا مجموعی ٹرن آؤٹ 60 فیصد سے زائد رہا، جو خطے کے کئی ممالک کے مقابلے میں ایک حوصلہ افزا شرح ہے۔ پوسٹل ووٹ ایپ کے ذریعے لئےگئےجن میں 11 لاکھ 43 ہزار 480 ووٹ موصول ہوئے، جن میں بیرونِ ممالک سے 4 لاکھ 95 ہزار 555 اور بنگلہ دیش کے اندر سے 6 لاکھ 48 ہزار 294 ووٹرز نے حصہ لیا۔ پوسٹل ووٹس کی مجموعی تعداد 15 لاکھ سے زائدہے جو جدید انتخابی طریقۂ کار پر عوام کے اعتماد کو ظاہر کرتی ہے۔

جیسا کہ میں نے گزشتہ روز 12 فروری کے اپنے کالم میں زمینی حقائق اور عوامی رجحانات کو مدنظر رکھتے ہوئے پیش گوئی کی تھی کہ اس بار بی این پی تاریخی اور بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کرے گی، انتخابی نتائج نے اس تجزیے کو تقریباً سو فیصد درست ثابت کر دیا۔ یہ عوامی مینڈیٹ دراصل موجودہ قیادت پر اعتماد کا واضح اظہار ہے۔

اس تاریخی کامیابی پر صدرِ پاکستان آصف علی زرداری اور وزیراعظم پاکستان میاں شہباز شریف نے حکومتِ پاکستان اور پاکستانی عوام کی جانب سے بی این پی کے سربراہ طارق رحمان کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کی اور نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔ وزیراعظم میاں شہباز شریف نے اپنے پیغام میں اس خواہش کا اظہار کیا کہ بنگلہ دیش کی نئی قیادت کے ساتھ قریبی تعاون کے فروغ کے خواہاں ہیں تاکہ تاریخی برادرانہ اور ہمسایہ دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کیا جا سکے اور جنوبی ایشیا سمیت دیگر خطوں میں امن، استحکام اور ترقی کے مشترکہ اہداف کو آگے بڑھایا جا سکے۔

کامیابی کے بعد طارق رحمان نے اپنے پہلے پیغام میں واضح کیا کہ امنِ عامہ ان کی حکومت کی اولین ترجیح ہوگی، تاکہ عوام خود کو محفوظ اور مطمئن محسوس کریں۔ دوسری جانب جماعتِ اسلامی کے سربراہ ڈاکٹر شفیق الرحمان نے اپنی جماعت کی شکست کو خندہ پیشانی سے قبول کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ جماعتِ اسلامی مخالفت کی سیاست کے بجائے مثبت، تعمیری اور جمہوری کردار ادا کرے گی۔

یہ امر نہایت قابلِ تحسین ہے کہ یہ پارلیمانی انتخابات ماضی کے مقابلے میں انتہائی پرامن ماحول میں منعقد ہوئے، کہیں سے کوئی ناخوشگوار واقعہ رپورٹ نہیں ہوا اور الیکشن کمیشن نے کامیابی کے ساتھ اپنے فرائض سرانجام دیے۔ ایک طرف بی این پی کی واضح جیت اور دوسری طرف جماعتِ اسلامی کی جانب سے نتائج کو تسلیم کرنا بنگلہ دیشی سیاست میں ایک مثبت اور جمہوری رجحان کی عکاسی کرتا ہے۔ بی این پی کی یہ خواہش بھی سامنے آئی ہے کہ وہ اپنے اتحادیوں اور تمام سیاسی قوتوں کو ساتھ لے کر ایک جامع اور مستحکم حکومت تشکیل دے۔

ماضی میں شیخ حسینہ واجد کے دورِ حکومت میں پاکستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات شدید سرد مہری کا شکار رہے۔ یہ کشیدگی نہ صرف حکومتی سطح تک محدود رہی بلکہ عوامی سوچ میں بھی سرایت کر گئی تھی جس کے نتیجے میں بنگلہ دیش میں پاکستان کے بارے میں منفی تاثر پروان چڑھا۔ تاہم طلباء تحریک کے نتیجے میں شیخ حسینہ کا اقتدار سے خاتمہ اور ان کا ہندوستان فرار ہونا ایک نئے سیاسی باب کا آغاز ثابت ہوا۔

اس کے بعد نہ صرف عوامی سطح پر بلکہ حکومتی اور انتظامی اداروں میں بھی پاکستان کے حوالے سے ایک مثبت سوچ نے جنم لیا ہے۔ بنگلہ دیشی عوام اور نئی قیادت اس بات کی خواہاں دکھائی دیتی ہے کہ اپنے برادر ملک پاکستان کے ساتھ تعلقات کو ازسرِنو استوار کیا جائے، ماضی کی تلخیوں کو بھلا کر تعاون، احترام اور خوشحالی پر مبنی رشتہ قائم کیا جائے۔

یہی سوچ آج پاکستانی عوام اور قیادت میں بھی پائی جاتی ہے۔ حکومتی سطح پر نیک تمناؤں کا اظہار اس امر کا ثبوت ہے کہ دونوں ممالک ایک نئے دور کا آغاز کرنے کے لیے تیار ہیں۔ موجودہ حالات میں یہ بنگلہ دیش کی نو منتخب قیادت، بالخصوص طارق رحمان، کے لیے ایک سنہری موقع ہے کہ وہ تمام سابقہ اختلافات، غلط فہمیاں اور دوریاں پسِ پشت ڈال کر پاکستان کے ساتھ ایک روشن، مستحکم اور باوقار مستقبل کی طرف قدم بڑھائیں۔

اگر یہ موقع دانشمندی سے استعمال کیا گیا تو نہ صرف بنگلہ دیش کو سیاسی استحکام اور معاشی ترقی حاصل ہوگی بلکہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے بہتر تعلقات پورے خطے میں امن، تعاون اور خوشحالی کے نئے دورکاآغازہو سکتے ہیں۔

Check Also

Naujawan Nasal, Deeni Taleem Aur Valentine Ki Fikri Yalghar

By Komal Shahzadi