Thursday, 08 January 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Mushtaq Ur Rahman Zahid
  4. Barish, Thitharti Sardi Aur Ghaza

Barish, Thitharti Sardi Aur Ghaza

بارش، ٹھٹھرتی سردی اور غزہ

اس ٹھٹھرتی ہوئی سردی میں، جب غزہ کے مظلوم مسلمان خیموں میں پناہ لینے پر مجبور ہیں، شدید بارشوں نے ان کی مشکلات کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ پہلے ہی جنگ، بھوک، افلاس بے گھرہونے اور خوف کے سائے میں زندگی گزارنے والے یہ نہتے انسان اب ایک نئے عذاب میں مبتلا ہوگئے ہیں اور قدرت نے انہیں ایک اور مشکل امتحان میں ڈال دیا ہے جو شاید اب اسکی استطاعت بھی نہیں رکھتے ہونگے۔

حالیہ شدید بارشوں نے ان پر قیامت ڈھا دی، بارش کو رحمت خداوندی کے نام سے یاد کیا جاتا ہے مگر اس وقت رحمت خداوندی کی بجائے قہر خداوندی کا منظر پیش کررہی ہے۔ شدید بارشوں نے ان کے پاس موجود تھوڑی بہت خوراک، کمبل اور بستر بھی ناقابل استعمال کر دیے ہیں۔ بچے سردی سے کانپ رہے ہیں، مائیں بے بسی سے انہیں سینے سے لگائے کھلے آسمان تلے بےسروسامانی کے عالم کسی مسیحا کے انتظار میں بیٹھے ہوئے ہیں اور بوڑھے حضرات کمزوری و بیماری سے نڈھال ہو چکے ہیں۔

جنوبی غزہ کے شہر خان یونس اور ساحلی علاقے المواسی میں ہونے والی شدید بارشوں نے تباہی مچا دی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ان بارشوں کے نتیجے میں تین معصوم بچوں سمیت پندرہ افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، جبکہ ہزاروں خاندان شدید متاثر ہوئے ہیں۔ خیمے جو پہلے ہی کمزور تھے، یا تو بہہ گئے ہیں یا پانی سے بھر چکے ہیں۔ شدید سردی کے باعث ہائپوتھرمیا جیسی خطرناک بیماری دوبارہ سے سر اٹھا رہی ہے، جبکہ مختلف وبائی امراض بھی تیزی سے پھیل رہے ہیں۔

ان تمام المناک حالات کے باوجود اسرائیلی جارحیت میں کوئی کمی نہیں آئی۔ جبالیہ، غزہ سٹی اور خان یونس پر مسلسل بمباری جاری ہے۔ پناہ گزین کیمپوں پر جنگی کشتیوں سے گولے داغے جا رہے ہیں، جس کے نتیجے میں مزید چار بے گناہ فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔ مختلف علاقوں سے پچیس لاشیں بھی ملی ہیں، جو اس بات کی گواہ ہیں کہ غزہ میں موت ہر لمحہ رقص کر رہی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اسرائیلی فوج کی جانب سے چھاپہ مار کارروائیاں بھی جاری ہیں، جن میں پناہ گزین کیمپوں میں گھس کر بےگناہ لوگوں کو گرفتار کیا جا رہا ہے۔

اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق غزہ کی تقریباً اسی فیصد عمارتیں جنگ میں تباہ ہو چکی ہیں، بائیس لاکھ کی آبادی میں سے لگ بھگ پندرہ لاکھ افراد بے گھر ہو چکے ہیں ان بے گھر خاندانوں کے لیےاس وقت کم از کم تین لاکھ خیموں کی اشد ضرورت ہے، مگر راستے منقطع ہونے اور ناکہ بندی کے باعث اب تک صرف ساٹھ ہزار خیمے ہی غزہ پہنچ سکے ہیں۔ باقی خاندان یا تو کھلے آسمان تلے پڑے ہیں یا ایسے خیموں میں زندگی گزار رہے ہیں جو آدھے پھٹ چکے ہیں یا جن میں بارش کا پانی بھر چکا ہے۔

شدید بارشوں، کیچڑ، تباہ شدہ سڑکوں اور آمدورفت کی بندش نے زندگی کو مفلوج کرکے رکھ دیا ہے۔ بچوں، خواتین اور بوڑھوں کے لیے معمولی نقل و حرکت بھی ایک اذیت بن چکی ہے۔ یہ وہ مناظر ہیں جو کسی ضمیر رکھنے والے انسان کو راتوں کی نیند حرام کر دینے کے لیے کافی ہیں، مگر افسوس کہ عالمی ضمیر جیسے مردہ ہوچکا ہے۔

فلسطین کے مظلوم مسلمان گزشتہ چار سے پانچ دہائیوں سے مسلسل ظلم و جبر کا سامنا کر رہے ہیں۔ اسرائیلی حملے، بے گناہ افراد کی شہادتیں اور بنیادی انسانی حقوق کی پامالی ان کی روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکی ہے۔ مگر حالیہ شدید بارشوں اور سردی نے ان کے لیے ایک نئی اور غیر معمولی آزمائش کھڑی کر دی ہے۔ ایسے میں امت مسلمہ کی اجتماعی خاموشی ایک لمحۂ فکریہ ہی نہیں بلکہ ایک سوالیہ نشان بھی ہے۔

اس سے بھی زیادہ حیران کن اور افسوسناک بات یہ ہے کہ انسانی حقوق کی علمبردار عالمی تنظیمیں اور اقوام متحدہ اس بدترین انسانی بحران پر مجرمانہ خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ مظلوم، بے سہارا اور کھلے آسمان تلے پڑے خاندانوں کے لیے امداد کے دروازے کھولنے کے بجائے، عالمی سطح پر اس بات کی فکر کی جا رہی ہے کہ "امن فورس" کے نام پر مختلف ممالک، جن میں بعض اسلامی ممالک بھی شامل ہیں، اپنی مشترکہ فوج غزہ بھیجیں تاکہ وہاں مزاحمت کو کچلا جا سکے۔

دنیا کے اس عجیب و غریب فلسفے کو آخر کیا نام دیا جائے، جو ذمہ داری اقوام متحدہ اور عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں کی بنتی ہے وہ یہ ہے کہ اس کڑی سردی اور بارش میں نہتے، مظلوم اور بے گناہ انسانوں کو تحفظ فراہم کریں، ان کی مدد کریں، ان کے زخموں پر مرہم رکھیں، انہیں سرچھپانےکےلئےخیمےمہیا کریں علاج معالجےکامعقول بندوبست کیا جائے مگر وہ اپنی ذمہ داری کے بالکل برعکس ایسے اقدامات پر غور کر رہی ہیں جو غزہ کے مظلوموں کے دکھوں میں مزید اضافہ کریں گے۔

وقت کا تقاضا یہ ہے کہ اقوام متحدہ، انسانی حقوق کی تنظیمیں اور بالخصوص امت مسلمہ اجتماعی بے حسی سے باہر نکلیں۔ حالات کی سنگینی کا ادراک کریں اور ان مظلوم خاندانوں کی عملی مدد کے لیے آگے بڑھیں۔ وہ لوگ جو گزشتہ چالیس پچاس سال سے جنگ، بمباری، خوف اور موت کے درمیان زندگی گزار رہے ہیں، کم از کم اس شدید سردی اور بارش میں انسانی ہمدردی کے مستحق تو ہیں۔ اگر آج بھی ہم خاموش رہے تو تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔

Check Also

Sir Major James Abbott: Aik Muntazim, Aik Insan

By Asif Masood