Sunday, 11 January 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Mushtaq Ur Rahman Zahid
  4. Badalta Mausam Aur Taleemi Nizam Ki Behissi

Badalta Mausam Aur Taleemi Nizam Ki Behissi

بدلتا موسم اور تعلیمی نظام کی بے حسی

سن 80 اور 90 کی دہائی ہمارے بچپن اور لڑکپن کا زمانہ تھا اس زمانے میں سردیاں عموماً نومبر میں ہی شروع ہو جاتی تھی۔ دسمبر اور جنوری میں اپنے فل جوبن پر ہوتی تھیں۔ صبح وشام یخ بستہ ہوائیں چلتی تھی اور سرد ماحول میں لوگ بستروں پر رضائیوں میں اپنے آپ کو سردیوں سے محفوظ کرنےکے لئے قید کر دیتے تھے، جبکہ گرمیاں جون اور جولائی میں ہوتی تھیں اور بھرپور شدت کے ساتھ ہوتی تھیں ایسی گرمیاں کہ جس میں باہر نکلنا اور کام کاج کے لئےجانا بھی ایک دل گردے کا کام ہوتا تھا۔

لیکن دس بارہ سال ہو چکے ہیں کہ کراچی سمیت سندھ میں یہ موسمی صورتحال تبدیل ہو چکی ہے اب گرمیاں جون جولائی کی نسبت اپریل اور مئی میں زیادہ سخت ہوتی ہیں پوری شدت والی گرمی ہوتی ہے جبکہ جون اور جولائی میں اس کے نسبت معمولی کم ہوجاتی ہے۔ کبھی بادل کبھی ہوائیں چلتی رہتی ہیں جس سے گرمی کا زور ٹوٹ جاتا ہے، جبکہ سردیاں نومبر کے بجائے دسمبر کے اواخر سے شروع ہوا کرتی ہے۔ کبھی کبھی جنوری کے ابتدا سے شروع ہوتی ہیں اور پھر جنوری، فروری، مارچ کے نصف ماہ تک دورانیہ ہوتا ہے۔ پندرہ مارچ تک کراچی سمیت سندھ میں پنکھوں کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔

کراچی اور سندھ کے علاوہ ملک کے دیگر علاقوں پنجاب یا بالائی علاقوں اسلام آباد، خیبر پختونخواہ، گللگت بلتستان بشمول آزاد کشمیر میں تقریباً وہی پرانی روایت اب تک برقرارہے۔ سردیوں کا بھی اور گرمیوں کا بھی ان علاقوں میں سردیاں حسب سابق نومبر سے ہی شروع ہو جاتی ہے بلکہ اکتوبر کے آخر سے اور پھر جاکر اپریل تک سردیوں کا موسم رہتا ہے اسی طرح گرمیاں وہاں جون سے شروع ہوتی ہیں اور جون جولائی گرمیاں ہوتی ہیں اس کے بعد آگست کے بعد موسم نارمل ہو جاتا ہے۔

لیکن اس تمام صورتحال میں کراچی سمیت سندھ میں تعلیمی اداروں میں سرد موسم کی چھٹیاں اسی سابقہ مروجہ قانون کے تحت رائج ہیں یعنی گرمیوں کی چھٹیاں جون جولائی میں ہوتی ہیں اور سردیوں کی چھٹیاں پورے موسم میں صرف دس دن کی ہوتی ہیں۔ 21 سے 31 دشمبر تک وہی پرانا طریقہ کا رائج ہے اب تک حالانکہ سردی اس کے بعدہی شروع ہوتی ہے۔

جس طرح سندھ میں صورتحال موسمی طور پر تبدیل ہو چکی ہے اس حوالے سے ہمارے تعلیمی اداروں میں کوئی خاص غور اس پر نہیں کیا گیا۔ سردیوں کی چھٹیاں اس وقت دی جاتی ہے جب سردی شروع ہی نہیں ہو پاتی اور جب سردیاں شروع ہو جاتی ہے تو تعلیمی ادارے کھل جاتے ہیں جنوری اور فروری میں۔

ٹھٹھرتی سردی ہوتی ہے اس سردی کی شدت کی وجہ سے عموماً لوگوں کا کام کاج کے لیے نکلنا بھی دشوار گزار کام ہوتا ہے اور پھر خاص طور پر بچوں کا اتنی شدید سردی میں اٹھنا سکول جانا یہ کسی عذاب سے کم نہیں ہے۔ جب بڑے ہی اس ماحول میں اپنے آپ کو بڑی مشکل سے ایڈجسٹ کرتے ہیں اور اپنے معمولات زندگی کو رواں رکھتے ہیں توبچوں پرکیاگزرتی ہوگی اس حوالے سے ہمارے تعلیمی اداروں کا وہی پرانا طریقہ کار اور اس کو برقرار رکھنا یہ سمجھ سے بالاتر ہے۔

اگر ہم خود ہی اس صورتحال میں اپنے مستقبل پر کوئی توجہ نہیں دیں گے غورو فکر نہیں کریں گے جو معماران ہیں ہماری مستقبل کا ان کے ساتھ اس طرح کا سلوک رواں رکھیں گے تو اس کا نتیجہ یقیناً یہی نکلے گا کہ بچوں پرمنفی اثرات مرتب ہونگے۔ بچے اسکول وغیرہ جانے سے کتراتے ہیں نہ اٹھنےکی وجہ سے چھٹیاں کرتے ہیں لڑتے جگھڑتے ہیں اور والدین کے لیے ان کا اٹھانا ان کو تیار کرا کے بھیجنا یہ بہت مشکل مرحلہ ہوتا ہے۔

اس پر ہم کیوں سنجیدگی سے غور نہیں کر رہے، کیا کہیں ایسا تو نہیں ہے کہ ہم خود سے ہی اپنے بچوں کو ان کے مستقبل بنانے سے اور وطن کے لیے بھی ان کی کارآمد زندگی کو خراب کرنے پرتلے ہوئے ہیں۔ اگر ہم ان کو ایک اچھا ماحول میسر نہیں کرینگے تو یقیناً اس کا نتیجہ منفی میں ہوگا چاہیئے یہ کہ جس طرح موسمی صورتحال خاص طور پر سندھ اور کراچی میں تبدیل ہوئی ہے تو تعلیمی اداروں کو بھی اس حوالے سے خصوصی اور سنجدگی کے ساتھ اقدامات کرنے ہوں گے۔

اب اس وقت دس جنوری ہے اور کراچی کا موسم یہ منظر پیش کر رہا ہے کہ پارا دس ڈیجٹ سے نیچے یعنی سنگل ڈیجٹ پر آ چکا ہے۔ سرد ہوائیں ایسی چل رہی ہیں کہ صبح اور شام کے اوقات باہر نکلنا بہت مشکل ہوا کرتا ہے تو اس سنگل ڈیجٹ میں بھی چھوٹے چھوٹے معصوم بچے صبح سویرےاٹھتے ہیں ان کو اٹھانا اور پھر انہیں تیار کراکے اسکول بھیجنا اس موسم میں ہم سب کے لیے ایک ڈراؤنا خواب بن چکا ہے۔

سنگل ڈیجٹ میں جب یہ صورتحال ہے اور تعلیمی ادارے ہمارے کھلے ہیں تو کیا ہمارے تعلیمی اداروں کے ذمہ داران خواب خرگوش میں مبتلا ہیں، کیا وہ اپنے خواب خرگوش سےکبھی بیدار نہیں ہوں گے اور کیا انہیں اس کی فکر نہیں کرنی چاہیے۔ یقیناََ اس کی بہت سخت ضرورت ہے کہ موسم سرما کی تعطیلات جو21 سے 31 دسمبر تک محض دس دن ہوتی ہیں جبکہ اس وقت سردیاں شروع ہی نہیں ہوا کرتی تقریباََ کراچی میں تو اس کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے اور یہ ناگزیرہے۔ ان تعطیلات کو جنوری یا فروری بلکہ جنوری تک تو کم از کم لے جانا چاھئے وہ بھی کم از کم ایک ماہ تو ہونی چاہیے۔

جن علاقوں میں سردیوں کا موسم تبدیل ہوتا ہے خیبر پختخواہ کشمیر گلگت بلتستان ان میں چھٹیاں بھی اتنی ہی ہوتی ہیں۔ تین تین مہینوں کی دو ڈھائی مہینوں کی تو کراچی سمیت سندھ میں بھی کم از کم تعطیلات کا دورانیہ ایک ماہ ہونا چاہیے تاکہ سردیوں میں بچوں کو بھی ریلیف مل سکے جو نہایت ضروری ہے۔ ہمیں اپنے بچوں کا مستقبل سنوارنےکی ضرورت ہے چہ جائےکہ اسے اپنے ہی ہاتھوں اور فیصلوں سےکچل دیں۔ بچے تندرست اور صحت مند ہونگے تو تعلیمی سلسلےکو جاری بھی رکھ سکیں اور پڑھائی میں بھی دلچسپی لیں گے۔ اگر سردی کی وجہ سے صحت ہی باقی نہ رہے تو تعلیم کس کام کی اور کیسے حاصل ہوگی۔

Check Also

Fauj, Dollars Aur Madaniyat

By Najam Wali Khan