?Kafir Kot Ki Gumshuda Awaz
کافر کوٹ کی گمشدہ آواز

تاریخ لکھنا بذاتِ خود ایک کٹھن اور ذمہ دارانہ عمل ہے اور جب بات حقائق پر مبنی تاریخ کی ہو تو یہ کٹھنائی مزید بڑھ جاتی ہے۔ کسی بھی عہد کی سچی تاریخ تک رسائی کے لیے محض تواریخی متون کا مطالعہ کافی نہیں ہوتا، بلکہ ادب خصوصاً شاعری، ناول اور افسانہ ایک ناگزیر ذریعہ بن جاتا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ مروجہ تاریخ عموماً محلات، فتوحات اور اقتدار کے گرد گھومتی ہے، جب کہ عام انسان، مظلوم رعایا، بیوائیں، یتیم اور جبر سہنے والے افراد تاریخ کے حاشیے پر دھکیل دیے جاتے ہیں۔
مورخ اکثر وہی کچھ رقم کرتا ہے جو بادشاہِ وقت یا مقتدر طبقے کے لیے قابلِ قبول ہو۔ یہاں مورخ کی نیت پر سوال اٹھانا مقصود نہیں، بلکہ اُس معاشی اور سماجی جبر کی نشاندہی مقصود ہے جس کے تحت تاریخ لکھی جاتی ہے۔ تاریخ نگاری کے لیے جس فکری آزادی اور معاشی بے نیازی کی ضرورت ہوتی ہے، وہ عملی زندگی میں شاذ و نادر ہی میسر آتی ہے۔ فکرِ معاش انسان کو مصلحت کا اسیر بنا دیتی ہے۔ اس کے برعکس تخلیق کار عموماً دربار سے وابستہ نہیں ہوتا، اِسی لیے وہ اپنی آنکھ سے دیکھا ہوا سچ اور دل پر بیتا ہوا کرب بیان کرنے کی جرات رکھتا ہے۔ یہی سبب ہے کہ ادب اکثر تاریخ کا اصل متبادل بن کر سامنے آتا ہے۔
ہیرو ازم کے فلسفے پر غور کیا جائے تو یہ حقیقت آشکار ہوتی ہے کہ جو شخصیت ایک گروہ کے لیے ہیرو ہوتی ہے، وہی کسی دوسرے کے لیے ولن بن جاتی ہے۔ حجاج بن یوسف، محمد بن قاسم اور محمود غزنوی جیسے کردار اس کی واضح مثال ہیں۔ بحیثیت مسلمان ہم محمد بن قاسم اور محمود غزنوی کے اقدامات کو نظریاتی بنیادوں پر جواز فراہم کر سکتے ہیں، مگر بحیثیت مقامی باشندہ اس خطے میں ہونے والی قتل و غارت، لوٹ مار اور تہذیبی شکست و ریخت سے صرفِ نظر ممکن نہیں۔ یہ حملہ آور آئے، دولت لوٹی اور مقامی معاشرت و ثقافت کو گہرے زخم دیے۔
اسی فکری پس منظر میں حمزہ حسن شیخ کا ناول "کیول رام کا کافر کوٹ" غیر معمولی اہمیت اختیار کر لیتا ہے۔ یہ ناول ایک ایسے خطے کی داستان بیان کرتا ہے جس کے بارے میں تاریخ کے چند ہی اوراق دستیاب ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ یہاں کے بعض مقامی حکمرانوں کے نسب تک تاریخ محفوظ نہ رکھ سکی۔ مصنف نے دستیاب تاریخی مآخذ کو بنیاد بنا کر ایک تخلیقی بیانیہ تشکیل دیا ہے۔ ناول پڑھتے ہوئے جہاں کافر کوٹ کی تاریخ ایک نئی صورت میں سامنے آتی ہے، وہیں متعدد سوالات بھی جنم لیتے ہیں۔ ایسے سوالات جن کے جواب ڈھونڈتے ہوئے قاری لاشعوری طور پر مصنف کی طرف دیکھتا ہے۔
ناول کے ابتدائی تقریباً چوالیس صفحات میں ساتویں سے نویں صدی تک کا ایک تاریخی و تہذیبی بیانیہ سامنے آتا ہے۔ یہاں براہِ راست حوالہ جات سے زیادہ فضا سازی پر توجہ دی گئی ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ مصنف قاری کو کافر کوٹ کی گمشدہ تہذیب کی بازیافت کے سفر پر لے جانا چاہتا ہے۔ میلے ٹھیلے، رسم و رواج، روزمرہ زندگی اور مال بردار ذرائع کی تفصیل قاری کو نہ صرف حیرت میں مبتلا کرتی ہے بلکہ اس تہذیب کے زندہ ہونے کا احساس بھی دلاتی ہے۔
دسویں صدی کے آغاز کے ساتھ ہی ناول میں تاریخی حوالہ جات کی شدت بڑھ جاتی ہے۔ مندر کٹاس، امب (موجودہ امب شریف، ضلع خوشاب)، شمالی اور جنوبی کافر کوٹ کی تعمیرات کا ذکر نہایت باریکی اور تحقیق کے ساتھ کیا گیا ہے۔ جنوبی کافر کوٹ میں بلوٹ اور ضلع بنوں کے علاقے آکرہ میں آکلوٹ کے آثار کا بیان ناول کو تاریخی صداقت کے قریب لے آتا ہے۔ یہ قلعے آج بھی دسویں صدی کے فنِ تعمیر اور تہذیبی عظمت کی گواہی دیتے ہیں اور ناول میں ان کا باہمی ربط فنی مہارت کا ثبوت ہے۔
حمزہ حسن شیخ نے اس ناول میں فاتح اور مفتوح کے روایتی بیانیے کو یکسر الٹ دیا ہے۔ محمود غزنوی کو ایک ایسے کردار کے طور پر پیش کیا گیا ہے جس کا بنیادی محرک مذہب نہیں بلکہ دولت اور اقتدار کا حصول ہے۔ اس کی زندگی برصغیر کے مختلف علاقوں پر حملوں میں گزرتی ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ خزانے سمیٹے جا سکیں۔
"کیول رام کا کافر کوٹ" محض ایک تاریخی ناول نہیں، بلکہ تاریخ کے بیانیے کے خلاف ایک فکری بغاوت ہے۔ یہ ناول خاموش انسانوں کو زبان دیتا ہے، فاتح کو کٹہرے میں کھڑا کرتا ہے اور تاریخ سے وہ سوال پوچھتا ہے جو صدیوں سے دبائے جاتے رہے ہیں۔ تحقیق، تخلیقی جرات، علامتی گہرائی اور فنی پختگی کے اعتبار سے یہ ناول اردو ادب میں ایک منفرد اور نمایاں مقام رکھتا ہے۔
بلا شبہ حمزہ حسن شیخ کا "کیول رام کا کافر کوٹ" فن کا شاہکار ہے اور اردو کے بہترین تاریخی ناولوں میں شمار کیے جانے کا پورا حق رکھتا ہے۔

