Friday, 28 February 2025
  1.  Home
  2. Blog
  3. Mujahid Khan Taseer
  4. Bheek Ka Karobar, Haqiqat Ya Fareb?

Bheek Ka Karobar, Haqiqat Ya Fareb?

بھیک کا کاروبار، حقیقت یا فریب؟

مساجد کے دروازوں، بازار کی گلیوں، چوراہوں اور بس اڈوں پر ہاتھ پھیلائے چہرے روزانہ ہمارے سامنے آتے ہیں۔ کہیں کوئی نحیف بوڑھا مدد کا طلبگار ہوتا ہے، تو کہیں کوئی ماں اپنے بیمار بچے کا واسطہ دے رہی ہوتی ہے۔ کچھ نابینا ہونے کا ڈرامہ کرتے ہیں، تو کچھ ہاتھوں میں پٹیاں باندھ کر معذوری کا جھوٹا دکھاوا کرتے ہیں۔ یہ سب محض اتفاق نہیں بلکہ ایک منظم کاروبار ہے، جس کی جڑیں معاشرتی کمزوریوں اور انسانی ہمدردی کے جذبات کے استحصال میں پیوست ہیں۔

پاکستان میں بھیک مانگنا محض ایک ضرورت مند کا ذریعہ معاش نہیں بلکہ ایک ایسا دھندہ بن چکا ہے، جس کے پیچھے باقاعدہ گروہ کام کر رہے ہیں۔ ان گروہوں کے کارندے بھکاریوں کو بھرتی کرتے ہیں، انہیں مخصوص علاقوں میں تعینات کرتے ہیں اور ان کی کمائی پر نظر رکھتے ہیں۔ سینٹ میں پیش کیے گئے ایک ترمیمی بل کے مطابق جو شخص منظم بھیک مانگنے میں کسی کو بھرتی کرے، پناہ دے، یا اس کام میں معاونت کرے، اسے سات سال قید اور دس لاکھ روپے تک جرمانے کی سزا دی جا سکتی ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ دھندہ صرف پاکستان تک محدود نہیں بلکہ کچھ بھکاری تو حج، عمرہ اور زیارات کے نام پر بیرون ملک بھی یہی کام کرتے ہیں۔ حکومت پاکستان نے حال ہی میں 4300 بھکاریوں کو نو فلائی لسٹ میں شامل کر دیا ہے اور بھکاریوں کو بیرون ملک بھیجنے والے مافیا کے خلاف کریک ڈاؤن بھی جاری ہے۔

یہ تمام صورتحال اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک لوگ جذبات میں آ کر ان دھوکے بازوں کی مدد کرتے رہیں گے۔ ایک عام شہری کی حیثیت سے ہم سب کو اس بات کا شعور ہونا چاہیے کہ بھیک دینا درحقیقت اس دھندے کو تقویت دینے کے مترادف ہے۔ اگر کوئی واقعی مستحق ہے تو اسے ہنر سکھانے اور خود کفیل بنانے کی کوشش کی جائے، نہ کہ محض چند سکے دے کر اسے مزید محتاج بنایا جائے۔

یہ مسئلہ صرف قانون سازی سے حل نہیں ہوگا بلکہ عوامی آگاہی اور سماجی شعور بیدار کرنے کی ضرورت ہے۔ مساجد، اسکول، میڈیا اور دیگر پلیٹ فارمز کے ذریعے یہ پیغام عام کیا جائے کہ محنت میں عظمت ہے اور بھیک میں ذلت۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے ارد گرد سفید پوش ضرورت مندوں کی مدد کریں، لیکن پیشہ ور بھکاریوں کے جال میں نہ پھنسیں۔ جب لوگ ان کو پیسے دینا بند کر دیں گے، تب ہی یہ دھندہ ختم ہوگا اور ہمارا معاشرہ حقیقی معنوں میں خودداری اور خودکفالت کی راہ پر گامزن ہو سکے گا۔

Check Also

Masnoi Zahanat Ka Naya Daur

By Saqib Ali