Thursday, 20 June 2024
  1.  Home
  2. Blog
  3. Muhammad Yasin
  4. Insan Ki Nafsiyat Aur Samaji Rawaiye

Insan Ki Nafsiyat Aur Samaji Rawaiye

انسان کی نفسیات اور سماجی رویے

انسان روبوٹ نہیں بلکہ جیتی جاگتی مخلوق ہے۔ تین چیزیں جو تمام انسانوں میں یکساں پائی جاتی ہیں۔ پہلی کہ انسان عقلی وجود ہے دوسری چیز کہ انسان اخلاقی وجود ہے اور تیسری مطلب آخری چیز انسان اپنے ساتھ حس جمالیات رکھتا ہے۔ مطلب جنس کی جبلت اور بھوک کی جبلت۔ ان تینوں میں ایک چیز انسان اور دوسرے جانوروں میں یکساں پائی جاتی ہے وہ تیسری شے ہے مطلب جنس کی جبلت اور بھوک کی جبلت وغیرہ۔

میرے مطابق ڈارون نے جو انسان بارے ایک نظریہ ارتقاء بیان کیا ہے وہ اس تیسری شے کے بارے ہو سکتا ہے۔ بیشک یہ تیسری شے انسان اور دوسرے جانوروں میں مشترک ہے۔ لیکن انسان کو دوسرے جانوروں سے جو چیز ممتاز کرتی ہے وہ عقلی اور اخلاقی وجود ہی ہے۔ اگر انسان اپنی معلوم تاریخ کا مطالعہ کرے تو انسان جانور جیسا نہیں بلکہ انسان عقلی و اخلاقی وجود کے ساتھ اپنا تعارف کرواتا ہے۔ تاہم ماضی میں جنگلوں اور دور دراز دیہاتوں میں زندگی ضرور گزارتا رہا ہے۔

اس سے یہ مراد ہرگز نہیں لی جا سکتی کہ انسان شاید دوسرے جانوروں کی طرح کوئی جانور ہو۔ بلکہ انسان اپنی صفات کے لحاظ سے معلوم تاریخ میں موجودہ دور کے انسان جیسا ہی تھا لیکن غیر معاشرتی زندگی گزارنے پر مجبور تھا۔ حالات اور وقت کے تبدیل ہونے سے انسان کے سماجی و سائنسی ترقی کی اس سے علم بڑھتا گیا۔ موجودہ دور میں جو انسان ہے آئیے اس کا جائزہ لیتے ہیں۔ موجودہ انسان میں تین بنیادی چیزیں بالکل یکساں ہیں جو درج بالا بیان کی گئی ہیں اس میں کوئی دو رائے نہیں۔

تاہم علم نفسیات کی روح کے مطابق انسان پیچیدہ مرکبات کا بنا ہوا ہے۔ اگر وہ عقلی وجود ہے تو عقل کی آخری حدود تک جاتا ہے۔ اگر اخلاقی وجود ہے تو وہ اچھے اور برے کی تمیز جانتا ہے۔ جہاں تک حس جمالیات کی بات ہے تو شدید جنسی رغبت رکھتا ہے۔ جب انسانی نفسیات اور سماجیات کا جائزہ لیا جائے تو معلوم پڑھتا ہے کہ ان تین بنیادی چیزوں کے یکساں ہونے کے باوجود جزئیات اور اطلاقات میں کافی تضاد ہیں۔ مثلاً اگر انسان سوچتا ہے تو وہ اچھا یا برا دونوں طرح سے سوچتا ہے۔

بھوک لگتی ہے تو کوئی سبزی پسند کرتا ہے تو کوئی گوشت یا پھل وغیرہ۔ لیکن تین چیزیں ہی ہیں جس کا اطلاق میں اضافہ یا کمی کی جا سکتی ہے۔ یہ جاننا بہت ضروری ہے کہ انسان بیک وقت کئی چیزوں کے ساتھ جی رہا ہے۔ مثلاً اگر وہ بھوک محسوس کرتا ہے تو وہیں اس کے مفادات بھی ہیں۔ اگر جنسی رغبت رکھتا ہے تو عزت و دولت کے پیچھے مارا مارا پھرتا ہے۔ کہیں علم و تحقیق کی جستجو میں لگا ہوا ہے تو کہیں سیرو تفریح۔ انسان کو ماحول، علم اور کئی چیزیں متاثر کرتی ہیں۔

کہی وہ ماحول سے متاثر ہو رہا ہوتا ہے تو کہی علم و عقل سے خود اور معاشرے کو متاثر کر رہا ہوتا ہے۔ انسان کی صفات میں غصہ، محبت، نفرت، شائستگی اور طرح طرح کی کئی صفات ہیں۔ اگر ان تمام کو الگ الگ اپلائی کیا جائے تو بات سادہ ہے لیکن یہ تمام چیزیں انسان میں بیک وقت پائی جاتی ہیں۔ کبھی ایک کا پلڑا بھاری ہوتا ہے تو کبھی دوسری صفت کا۔ مثلاً کئی مذاہب نظریہ ضرورت کے تحت وجود میں آئے۔ اگر انسان نے سورج سے روشنی حاصل کی اور کر رہا ہے تو انسانوں کا ایک طبقہ اسی کو خدا ماننے پر تلا ہوا ہے۔

اگر آگ سے کھانا پکایا جاتا ہے تو اسی کو اپنا دیوتا مانا گیا۔ حالانکہ انسان عقلی وجود ہونے کے باوجود ایسے کئی اقدام کر ڈالتا ہے کہ جس کا دور دور تک کوئی عقلی توجہی نہیں ہوتی۔ اس کی یہی وجہ ہے کہ بعض اوقات خوف انسان پر غلبہ پا لیتا ہے تو کبھی محبت تو کبھی مفادات۔ انسان اپنے ساتھ تعصبات، رجحانات اور جذبات بھی رکھتا ہے۔ اسی حوالے سے مولانا وحیدالدین خان صاحب کا اقتباس ملاحظہ فرمائیں۔ (ہم ایک ایسی دنیا میں رہتے ہیں۔ جہاں تعصب کی کار فرمائی ہے۔ جہاں کسی بات کو قبول کرنے میں طرح طرح کے جذبات حائل ہو جاتے ہیں۔ پھر ایک ایسی دنیا میں کیوں کوئی امید کی جا سکتی ہے کہ کوئی بات محض اس لیے قبول کر لی جائے گی کہ وہ دلیل سے ثابت ہوگئی ہے)۔

تاریخ کا طویل تجربہ یہ ہے کہ انسان کے رہنماء اکثر اس کے جذبات رہے ہیں نہ کے اس کی عقل۔ اگرچہ علمی اور منطقی طور پر عقل کو ہی بلند ترین مقام دیا جاتا ہے۔ مگر عملاً زیادہ تر ایسا ہی ہوا ہے کہ عقل خود ہی جذبات کی اعلیٰ کار بنتی رہی ہے۔ تاریخ میں بہت کم ایسا ہوا ہے کے عقل جذبات کو اپنے قابو میں کرنے میں کامیاب ہوئی ہو۔ عقل اکثر جذبات کے زیر اثر کام کرنے لگتی ہے۔ عقل نے ہمیشہ جذبات کے حق میں دلائل تراشے ہیں۔ اور اس طرح ایک جذباتی رویے کو عقلی رویہ ظاہر کرنے کی کوشش ہوتی رہی ہے۔ خواہ حقیقت واقعہ اس کا ساتھ نہ دے رہی ہو۔ لیکن انسان کی یہ کمزوری ہے کہ وہ اپنے جذباتی رویے سے لپٹا رہنا اپنے لیے ضروری سمجھتا ہے۔

ہمیں یہ حقیقت یاد رکھنی چاہیے کے ہمارا معاملہ کسی مشین سے نہیں جس کو چلانے کے لیے یہ کافی ہو کے ایک بٹن دبا دیا جائے۔ مشین ہمارے اندازے کے عین مطابق اپنا ردعمل ظاہر کرتی ہے۔ ہمارا مخاطب انسان ہے اور انسان کا حال یہ ہے کہ وہ اسی وقت کسی بات کو مانتا ہے جب وہ خود بھی ماننا چاہے۔ اگر آدمی خود نہ ماننا چاہتا ہوں تو کوئی دلیل محض دلیل ہونے کی حیثیت سے اسے قائل نہیں کر سکتی۔ دلیل کو برقی بٹن کے قائم مقام نہیں بنایا جا سکتا۔

اور بلاشبہ یہ انسانی تاریخ کی سب سے بڑی ٹریجڈی ہے) اسی حوالے سے مولانا ابوالکلام آزاد کا اقتباس ملاحظہ فرمائیں ("انسان کی دماغی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ اس کے تقلیدی عقائد ہیں۔ اسے کوئی طاقت اس طرح جکڑ بند نہیں کر سکتی، جس طرح تقلیدی عقائد کی زنجیریں کر دیا کرتی ہیں۔ وہ ان زنجیروں کو توڑ نہیں سکتا، اس لیے کہ توڑنا چاہتا ہی نہیں۔ وہ انہیں زیور کی طرح محبوب رکھتا ہے۔ ہر عقیدہ ہر عمل، ہر نقط نگاہ، جو اسے خاندانی روایات اور ابتدائی تعلیم و صحبت کے ہاتھوں مل گیا ہے، اس کے لیے ایک مقدس ورثہ ہے۔ وہ اس ورثہ کی حفاظت کرے گا مگر اسے چھوڑنے کی جرات نہیں کرے گا۔

بسا اوقات موروثی عقائد کی پکڑ اتنی سخت ہوتی ہے کہ تعلیم اور گرد و پیش کا اثر بھی اسے ڈھیلا نہیں کر سکتا تعلیم دماغ پر ایک نیا رنگ چڑھا دے گی لیکن اس کی بناوٹ کے اندر نہیں اترے گی۔ بناوٹ کے اندر ہمیشہ نسل، خاندان اور صدیوں کی متوارث روایات ہی کا ہاتھ کام کرتا رہے گا) انسانوں کے درمیان اب تک بہت سے نفسیاتی و سماجی مسائل رہے ہیں اور اب تک موجود ہیں۔ اس کی اصل وجہ خود انسان اپنے سماجی ادارے اور رویوں کو تبدیل و ترمیم نہیں کر سکا۔ کوئی بھی نظام خواہ سیاسی، سماجی یا قانونی ہو جب تک وہ انسان کی فطرت کے مطابق نہیں ہوگا زیادہ دیر تک نہیں چل پائے گا۔ دنیا کی بہت سی تہذیبیں، ثقافتیں اور زبانیں اسی وجہ سے دم توڑ گئی کہ وہ انسانی فطرت سے متصادم تھی۔

Check Also

Chota Gosht

By Javed Ayaz Khan