Tuesday, 24 March 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Muhammad Umar Shahzad
  4. Tel Aviv, Jaffa Aur Israel Ki Tareekh

Tel Aviv, Jaffa Aur Israel Ki Tareekh

تل ابیب، یافا اور اسرائیل کی تاریخ

یہ نومبر 1917ء کی ایک ٹھنڈی شام تھی۔ لندن کے ایک کمرے میں ایک خط لکھا جا رہا تھا۔ الفاظ سادہ تھے مگر اثرات صدیوں پر پھیلنے والے تھے۔ یہ خط برطانوی وزیرِ خارجہ آرتھر بالفور لکھ رہا تھا اور مخاطب تھا ایک بااثر یہودی رہنما۔ اس خط کو دنیا آج اعلامیہ بالفور 1917ء کے نام سے جانتی ہے۔ اس ایک صفحے نے مشرقِ وسطیٰ کی تقدیر بدل دی اور تل ابیب و یافا کی کہانی کو ایک نئے رخ پر ڈال دیا۔ مگر اس خط کو سمجھنے کے لیے ہمیں واپس جانا ہوگا، ہزاروں سال پیچھے، یافا کی طرف۔

یافا، بحیرۂ روم کے کنارے آباد ایک قدیم شہر، جس کی گلیوں میں تاریخ سانس لیتی ہے۔ یہ شہر تقریباً چار ہزار سال پرانا ہے۔ یہاں سے کبھی فرعونوں کے جہاز روانہ ہوتے تھے، کبھی رومی سپاہی اترتے تھے اور کبھی مسلمان فاتحین یہاں سے گزر کر آگے بڑھتے تھے۔ یہ شہر کبھی ایک قوم کا نہیں رہا، بلکہ ہر اس طاقت کا رہا جو اسے حاصل کر سکی۔

یافا پر کبھی فارسی سلطنت کے پرچم بھی لہرا چکا ہے، مگر وہ ایک وسیع سلطنت تھی، آج کے ایران جیسی قومی ریاست نہیں۔ پھر رومی آئے، بازنطینی آئے، مسلمان آئے، صلیبی آئے اور آخرکار یہ شہر عثمانی سلطنت کے قبضے میں چلا گیا، جہاں یہ صدیوں تک رہا۔

انیسویں صدی کے آخر میں دنیا بدل رہی تھی۔ یورپ میں قوم پرستی ابھر رہی تھی اور یہودی، جو صدیوں سے مختلف ممالک میں بکھرے ہوئے تھے، اپنے لیے ایک وطن کا خواب دیکھ رہے تھے۔ اسی خواب نے صیہونی تحریک کو جنم دیا۔ بس یہ وہ لمحہ تھا جب سیاست، مذہب اور تاریخ کے پیچیدہ دھاگے ایک ساتھ جڑنے لگے۔

یہودی فلسطین کیوں آئے؟ اس کی ایک بڑی وجہ ظلم تھا۔ روس اور یورپ میں ان پر حملے ہو رہے تھے، انہیں نکالا جا رہا تھا۔ وہ ایک ایسی جگہ چاہتے تھے جہاں وہ محفوظ رہ سکیں۔ فلسطین، جو اس وقت عثمانیوں کے زیرِ اقتدار تھا، ان کے لیے ایک تاریخی اور مذہبی اہمیت رکھتا تھا اور یہاں ایک اور دلچسپ حقیقت ہے: یہودیوں نے یافا میں آہستہ آہستہ بستیاں بنائیں، زمینیں خریدیں اور عرب آبادی کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کی کوشش کی، مگر اس عمل کے ساتھ ہی کشیدگی کا بیج بھی بو دیا گیا۔

1909ء میں تل ابیب پیدا ہوا۔ ریت کے ٹیلوں پر 66 خاندان جمع ہوئے اور قرعہ اندازی کے ذریعے زمین تقسیم کی۔ صاف سڑکیں، جدید عمارتیں اور ایک واضح منصوبہ، تل ابیب صرف ایک شہر نہیں بلکہ ایک خواب تھا، ایک منصوبہ بندی کا شاہکار۔ برطانوی مینڈیٹ سے پہلے یہودی اپنی چھوٹی چھوٹی بستیاں یافا کے اطراف میں بسا چکے تھے، مگر تل ابیب نے ان کے خواب کو ایک شکل دی۔

1917ء میں پہلی جنگِ عظیم کے دوران برطانیہ نے مشرقِ وسطیٰ میں اپنے اثر و رسوخ کو مستحکم کرنے کی کوشش کی۔ اس دوران وہ خط لکھا گیا، اعلامیہ بالفور۔ برطانیہ کے کئی مقاصد تھے: پہلی جنگِ عظیم میں یہودی حمایت حاصل کرنا، امریکہ اور روس میں یہودی کمیونٹی کو اپنے حق میں کرنا اور جنگ کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں سیاسی اثرات قائم کرنا۔ اعلامیہ میں کہا گیا کہ برطانیہ فلسطین میں یہودیوں کے لیے "قومی وطن" کے قیام کی حمایت کرتا ہے، مگر ساتھ ہی کہا گیا کہ وہاں کے غیر یہودی باشندوں کے حقوق متاثر نہیں ہوں گے۔ یہ وہ جملہ تھا جو بعد میں سب سے بڑا تنازع بن گیا اور آج تک گونج رہا ہے۔

محمد علی جناح کا موقف بالکل واضح تھا۔ انہوں نے فلسطین میں یہودی ریاست کے قیام کی مخالفت کی۔ ان کے نزدیک کسی اور قوم کی زمین پر ریاست قائم کرنا ناانصافی تھی۔ علامہ اقبال بھی اس نظریے کے قائل تھے، جو مسلم دنیا کے اتحاد کو مقدم رکھتے تھے اور فلسطین کے مسئلے کو عالمی مسئلے کی حیثیت دیتے تھے۔ آج جب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ لاکھوں لوگ بے گھر ہوئے، فلسطینی اپنا وطن کھو بیٹھے، تو قائداعظم اور علامہ اقبال کے فہم کی گہرائی واضح نظر آتی ہے۔

1920ء سے 1948ء تک فلسطین برطانوی مینڈیٹ کے تحت رہا۔ اس دوران یہودی ہجرت میں تیزی آئی اور ہولوکاسٹ کے بعد لاکھوں یہودی فلسطین میں آئے۔ 1948ء میں اسرائیل کا قیام عمل میں آیا۔ اعلان تل ابیب میں کیا گیا اور اس کے فوراً بعد جنگ شروع ہوگئی۔ عرب ممالک نے حملہ کیا، مگر اسرائیل نے نہ صرف اپنے وجود کو برقرار رکھا بلکہ مزید علاقے حاصل کر لیے۔ یافا، جو کبھی عرب اکثریتی شہر تھا، خالی ہوگیا اور تل ابیب میں ضم ہوگیا۔

1967ء کی جنگ میں اسرائیل نے مزید علاقے حاصل کیے: مغربی کنارہ، غزہ اور مشرقی یروشلم۔ یہ وہ لمحہ تھا جب مسئلہ پیچیدہ تر ہوگیا اور پھر ایران کا کردار سامنے آیا۔ 1979ء کے انقلاب کے بعد ایران نے اسرائیل کو تسلیم کرنے سے انکار کیا اور فلسطینیوں کی حمایت شروع کر دی۔ آج تک یہ کشیدگی جاری ہے، کبھی براہِ راست جنگ، کبھی پراکسی تنازعات کے ذریعے۔

یافا کبھی مختصر وقت کے لیے فارسی سلطنت کے زیرِ اثر رہا، مگر یہ کہنا درست نہیں کہ یہ ایران کا حصہ تھا۔ یہ شہر ہمیشہ طاقتوں کے درمیان گھومتا رہا۔ تل ابیب آج روشنیوں کا شہر ہے، جدیدیت کی علامت اور یافا اس کے پہلو میں خاموش تاریخ کے ساتھ بیٹھا ہے، جو ہر آنے والے کو یہ بتاتی ہے کہ زمینیں صرف زمینیں نہیں ہوتیں، ان کے ساتھ خواب، کہانیاں اور کبھی کبھی زخم جڑے ہوتے ہیں۔

قائداعظم محمد علی جناح کا موقف آج بھی گونجتا ہے۔ وقت گزر گیا، حالات بدل گئے، مگر فلسطین کا مسئلہ آج بھی زندہ ہے اور شاید یہی وہ لمحہ ہے جہاں تاریخ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ فیصلے وقتی ہوتے ہیں مگر ان کے اثرات صدیوں تک رہتے ہیں اور شاید یہی اس پوری کہانی کا سب سے بڑا سبق ہے، کہ طاقت اور انصاف ہمیشہ ایک ساتھ نہیں چلتے، مگر تاریخ سچ کا پل کبھی نہ کبھی قائم کر ہی دیتی ہے۔

Check Also

Tel Aviv, Jaffa Aur Israel Ki Tareekh

By Muhammad Umar Shahzad