Thursday, 26 March 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Muhammad Umar Shahzad
  4. Sohail Ahmed Ki Raye

Sohail Ahmed Ki Raye

سہیل احمد کی رائے

واشنگٹن کی وہ رات غیر معمولی تھی، سرد ہوا میں ہلکی سی نمی تھی، وائٹ ہاؤس کی سفید دیواریں روشنیوں میں نہا رہی تھیں، سکیورٹی کے سخت حصار کے اندر ایک ایسا ہال سجا ہوا تھا جہاں دنیا کے طاقتور ترین لوگ موجود تھے، مہمان آہستہ آہستہ اپنی نشستوں پر بیٹھ چکے تھے، سرگوشیاں ہو رہی تھیں، کیمروں کی آنکھیں ہر حرکت کو قید کر رہی تھیں اور پھر ایک لمحہ ایسا آیا جب دروازہ کھلا، ہال میں ایک ہلکی سی خاموشی چھا گئی، سب کی نظریں ایک سمت اٹھ گئیں، ایک شخص اندر داخل ہوا، نہ وہ کوئی وزیر تھا، نہ وہ کوئی جرنیل تھا، نہ وہ کوئی طاقتور سیاستدان تھا، وہ ایک کامیڈین تھا، اسٹیفن کولبرٹ۔

وہ اسٹیج کی طرف بڑھا، مائیک کے سامنے کھڑا ہوا اور اس کے سامنے پہلی صف میں بیٹھا تھا دنیا کی سب سے بڑی طاقت کا صدر جارج بش، چند لمحوں کی خاموشی کے بعد اس نے بولنا شروع کیا، جملے طنز سے بھرے ہوئے تھے، ہال میں قہقہے گونجنے لگے، مگر انہی قہقہوں کے درمیان سچ کی کاٹ بھی تھی اور سب سے حیران کن منظر یہ تھا کہ صدرِ امریکہ خود مسکرا رہا تھا، تالیاں بجا رہا تھا، جیسے وہ یہ پیغام دے رہا ہو کہ اختلاف جرم نہیں ہوتا، سچ کو سننا کمزوری نہیں بلکہ طاقت ہوتی ہے، یہ 2006ء کا امریکہ تھا جہاں ایک کامیڈین کو اس کے فن کی بنیاد پر عزت دی جاتی ہے نہ کہ اس کی رائے کی بنیاد پر اسے کٹہرے میں کھڑا کیا جاتا ہے۔

برصغیر کی روایت تو اس سے بھی زیادہ گہری رہی ہے، جب مہدی حسن بھارت جاتے تھے تو ان کے لیے خصوصی محفلیں سجائی جاتیں، لوگ کھڑے ہو کر ان کا استقبال کرتے، ان کی آواز کو سر آنکھوں پر بٹھایا جاتا، اسی طرح نصرت فتح علی خان جب سرحد پار جاتے تو انہیں صرف ایک گلوکار نہیں بلکہ ایک ادارہ سمجھا جاتا، حکومتی سطح پر ان کی پذیرائی ہوتی، بڑے بڑے فنکار ان کے احترام میں کھڑے ہو جاتے، یہ وہ رویہ تھا جو یہ بتاتا تھا کہ فنکار سرحدوں سے بڑا ہوتا ہے، سیاست سے بڑا ہوتا ہے اور پھر ہم اپنے معاشرے کی طرف دیکھتے ہیں۔۔

جہاں ایک شخص جس نے دہائیوں تک لوگوں کو ہنسایا، ان کے دکھ کم کیے، ان کے چہروں پر مسکراہٹیں بکھیریں، آج صرف اس لیے تضحیک کا نشانہ بن رہا ہے کہ اس نے ایک رائے دے دی یہ شخص ہے سہیل احمد۔

سہیل احمد کی کہانی کسی عام فنکار کی کہانی نہیں ہے، یہ اس نوجوان کی کہانی ہے جس نے لاہور کے تھیٹر سے اپنے سفر کا آغاز کیا، وہ دور جب تھیٹر ایک مکمل فن تھا، وہاں جگہ بنانا آسان نہیں ہوتا تھا، بڑے بڑے نام موجود تھے، مقابلہ سخت تھا، ہر رات ایک امتحان ہوتی تھی اور انہی حالات میں ایک فنکار نے خود کو منوایا۔

سہیل احمد نے مزاح کو صرف جملوں تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے ایک مکمل فن بنا دیا، ان کی باڈی لینگویج، ان کا لہجہ، ان کی ٹائمنگ، سب کچھ انہیں دوسروں سے منفرد بناتا تھا، یہی وجہ تھی کہ وہ جلد ہی تھیٹر کے بڑے ناموں میں شامل ہو گئے۔

لیکن پھر ایک وقت آیا جب پاکستانی تھیٹر کا معیار گرنے لگا، ڈبل میننگ جملے، سطحی مزاح اور سستی شہرت عام ہونے لگی، بہت سے لوگ اس دھارے میں بہہ گئے مگر سہیل احمد نے یہ راستہ اختیار نہیں کیا، انہوں نے تھیٹر کو خیرباد کہا کیونکہ وہ اپنے فن کا معیار گرانا نہیں چاہتے تھے، یہ فیصلہ آسان نہیں تھا، ایک فنکار کے لیے اپنے عروج کو چھوڑ دینا بہت مشکل ہوتا ہے مگر انہوں نے یہ کرکے دکھایا۔

پھر ٹیلی ویژن کا دور آیا اور "عزیزی" پیدا ہوا، سہیل احمد نے "حسبِ حال" میں عزیزی کا کردار ادا کیا تو وہ صرف ایک کردار نہیں رہا بلکہ ایک علامت بن گیا، عزیزی نے لوگوں کو ہنسایا بھی اور سوچنے پر بھی مجبور کیا، یہ وہ مزاح تھا جس میں سیاست بھی تھی، معاشرت بھی تھی اور حقیقت بھی۔

سہیل احمد برسوں سے لاکھوں لوگوں کے چہروں پر مسکراہٹ بکھیر رہے ہیں اور یہ حقیقت ہے کہ ہنسانا دنیا کے مشکل ترین کاموں میں سے ایک ہے، رونا آسان ہوتا ہے مگر ہنسانا مشکل ہوتا ہے۔

انہوں نے صرف ٹی وی تک خود کو محدود نہیں رکھا بلکہ پاکستانی فلموں میں بھی کام کیا اور اپنی اداکاری کا لوہا منوایا، وہ ان چند فنکاروں میں سے ہیں جو کامیڈی کے ساتھ ساتھ سنجیدہ کردار بھی نبھا سکتے ہیں، ان کے کام کو نہ صرف پاکستان بلکہ بیرونِ ملک بھی سراہا گیا، کئی بھارتی فنکاروں نے بھی ان کے فن کی تعریف کی، مزاح کی دنیا میں ان کا نام احترام سے لیا جاتا ہے، یہ وہ مقام ہے جو برسوں کی محنت کے بعد حاصل ہوتا ہے، سوشل میڈیا کے چند ٹرینڈز سے نہیں۔

سہیل احمد کو ان کی خدمات کے اعتراف میں حکومتِ پاکستان کی جانب سے پرائیڈ آف پرفارمنس جیسے اعزاز سے نوازا گیا، یہ اعزاز کسی عام فنکار کو نہیں ملتا بلکہ ان لوگوں کو دیا جاتا ہے جو اپنے فن کے ذریعے قوم کا نام روشن کرتے ہیں۔

اور اب ذرا حالیہ واقعے کی طرف آتے ہیں سہیل احمد نے ایک پروگرام میں عمران خان کے بارے میں اپنی رائے دی، یہ رائے کسی کو پسند آئی اور کسی کو نہیں آئی، مگر اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ لمحۂ فکریہ ہے، انہیں "مسخرا" کہا گیا، ان کے چہرے کا مذاق اڑایا گیا، ان پر گالم گلوچ کی گئی۔

سوال یہ ہے کہ کیا یہی ہمارا معیار ہے، اگر آپ سہیل احمد کی بات سے اختلاف کرتے ہیں تو ضرور کریں، اختلاف آپ کا حق ہے، تنقید بھی آپ کا حق ہے، لیکن کیا یہ بھی آپ کا حق ہے کہ آپ ایک ایسے شخص کی تضحیک کریں جس نے اپنی پوری زندگی لوگوں کو خوش کرنے میں گزار دی۔

کیا ایک کامیڈین ہونا جرم ہے، کیا ہنسانے والا انسان رائے نہیں دے سکتا۔ یہاں ہمیں ایک بنیادی بات سمجھنی ہوگی، سہیل احمد صرف ایک کامیڈین نہیں بلکہ ایک شہری ہیں، انہیں بھی وہی حق حاصل ہے جو اس ملک کے ہر شہری کو حاصل ہے، وہ بھی سوچ سکتے ہیں، بول سکتے ہیں اور اختلاف کر سکتے ہیں۔

اگر کل ہم نے یہ اصول بنا لیا کہ صرف سیاستدان ہی سیاست پر بات کر سکتے ہیں تو پھر یہ معاشرہ چند لوگوں تک محدود ہو جائے گا۔

ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ معاشرے فنکاروں سے زندہ رہتے ہیں، سیاست ہمیں تقسیم کرتی ہے اور فن ہمیں جوڑتا ہے اور جو لوگ ہمیں جوڑتے ہیں انہیں ہم توڑنے پر تلے ہوئے ہیں۔

سہیل احمد نے برسوں تک اس قوم کو ہنسایا ہے، ایسے وقت میں ہنسایا ہے جب لوگ پریشان تھے، جب حالات مشکل تھے، جب زندگی بوجھ لگ رہی تھی، انہوں نے لوگوں کے چہروں پر مسکراہٹ واپس لائی اور آج ہم انہیں "مسخرا" کہہ رہے ہیں۔ یہ صرف سہیل احمد کی توہین نہیں بلکہ مسکراہٹ کی توہین ہے۔

قومیں اپنے ہیروز کو پہچانتی ہیں اور جو قومیں اپنے ہیروز کی عزت نہیں کرتیں وہ تاریخ میں کھو جاتی ہیں۔ آج ہمیں فیصلہ کرنا ہے کہ ہم نے ایک فنکار کو عزت دینی ہے یا اسے سوشل میڈیا کے شور میں گم کر دینا ہے۔

اختلاف کریں مگر دلیل سے، تنقید کریں مگر احترام کے ساتھ کیونکہ اگر ہم نے یہ حد عبور کر لی تو کل جب کوئی اور بولے گا تو اس کے ساتھ بھی یہی ہوگا اور پھر شاید اس معاشرے میں سچ بولنے والے کم اور خاموش رہنے والے زیادہ ہوں گے۔

سہیل احمد آج بھی وہی انسان ہیں جو کل تھے، وہ آج بھی لوگوں کو ہنسا سکتے ہیں اور شاید ہمیں سوچنے پر بھی مجبور کر سکتے ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہم سننے کے لیے تیار ہیں۔

Check Also

Ilm Ki Aag

By Muhammad Tayyab Ilyas