Thursday, 02 April 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Muhammad Umar Shahzad
  4. Sifaratkari Ya Bare Hamle Ki Tayyari

Sifaratkari Ya Bare Hamle Ki Tayyari

سفارت کاری یا بڑے حملے کی تیاری؟

تاریخ کے اوراق پلٹیں تو ایک حقیقت بار بار سامنے آتی ہے کہ دنیا کی بڑی جنگیں اکثر مذاکرات کے سائے میں پروان چڑھتی رہی ہیں۔ 1938ء میں Munich Agreement ہوا۔ برطانیہ اور فرانس نے ہٹلر کے ساتھ بیٹھ کر امن کی بات کی، دنیا نے سکھ کا سانس لیا، لیکن صرف ایک سال بعد دوسری عالمی جنگ شروع ہوگئی۔ اس وقت بھی کہا گیا تھا کہ سفارت کاری کامیاب ہوگئی ہے، مگر درحقیقت وہ وقت خریدا جا رہا تھا، ایک بڑے طوفان سے پہلے کی خاموشی۔

اسی طرح 1973ء کی عرب اسرائیل جنگ سے پہلے بھی خفیہ سفارتی رابطے جاری تھے، مگر میدانِ جنگ میں ٹینک ہی بولے اور حالیہ تاریخ میں 2020ء کا واقعہ سب کے سامنے ہے جب قاسم سلیمانی کو بغداد میں نشانہ بنایا گیا۔ یہ حملہ اس وقت ہوا جب خطے میں سفارتی رابطے مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے تھے۔ اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ مذاکرات اور حملے ایک دوسرے کی ضد نہیں بلکہ بعض اوقات ایک ہی حکمت عملی کے دو پہلو ہوتے ہیں۔

آج امریکہ اور ایران کے درمیان موجودہ کشیدگی بھی اسی تاریخ کا تسلسل دکھائی دیتی ہے۔ ایک طرف بیانات میں سختی ہے، دوسری طرف پس پردہ مذاکرات جاری ہیں اور ان مذاکرات میں ایک بار پھر پاکستان کا کردار نمایاں ہو کر سامنے آیا ہے۔

پاکستان نے حالیہ دنوں میں جو سفارتی سرگرمیاں دکھائی ہیں، وہ غیر معمولی ہیں۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر جیسے اہم ممالک کے وزرائے خارجہ کا پاکستان آنا دراصل ایک بڑے سفارتی عمل کی کڑی تھا۔ یہ ملاقاتیں رسمی نہیں تھیں بلکہ ان کے پیچھے ایک واضح مقصد تھا: امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کسی حد تک کنٹرول کرنا اور مذاکرات کی راہ ہموار کرنا۔

ان ملاقاتوں کے فوراً بعد پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا چین کا دورہ کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔ کیا یہ محض ایک روٹین سفارتی دورہ تھا؟ یا اس کے پیچھے کوئی بڑا پیغام چھپا ہوا تھا؟

چین، جس کے وزیر خارجہ وانگ یی ہیں، اس وقت عالمی سیاست میں ایک کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔ ایران کے ساتھ اس کے قریبی تعلقات ہیں اور امریکہ کے ساتھ اس کی مسابقت بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اگر امریکہ اور ایران کے درمیان کوئی بھی سنجیدہ مذاکرات ہونے ہیں تو چین کو اعتماد میں لینا ضروری ہو جاتا ہے۔

یہاں دو امکانات سامنے آتے ہیں۔ پہلا یہ کہ سعودی عرب اور دیگر ممالک کے وزرائے خارجہ نے پاکستان کو یہ ذمہ داری سونپی ہو کہ وہ چین کو اس عمل میں شامل کرے۔ یعنی پاکستان ایک پل کا کردار ادا کرے۔ دوسرا امکان یہ ہے کہ پاکستان ایران کا کوئی اہم پیغام لے کر چین گیا ہو، کیونکہ ایران ماضی کے تجربات کے بعد اب کسی بھی معاہدے میں مضبوط ضمانتیں چاہتا ہے۔

یہ بات ہمیں JCPOA یعنی ایران جوہری معاہدے کی طرف لے جاتی ہے۔ اس معاہدے میں ایران نے بڑی قربانیاں دیں، لیکن بعد میں امریکہ نے یکطرفہ طور پر اس سے علیحدگی اختیار کر لی۔ اس واقعے نے ایران کے اعتماد کو شدید نقصان پہنچایا۔ اسی لیے اب ایران چاہتا ہے کہ اگر کوئی نیا معاہدہ ہو تو اس میں چین جیسی طاقت ضامن کے طور پر موجود ہو۔

یہاں ایک اور تاریخی مثال بھی اہم ہے۔ 1972ء میں امریکہ اور چین کے درمیان خفیہ سفارت کاری ہوئی، جس کے نتیجے میں امریکی صدر نکسن کا چین کا دورہ ممکن ہوا۔ اس وقت بھی بظاہر دنیا کو کچھ نظر نہیں آ رہا تھا، مگر پس پردہ ایک بڑی تبدیلی کی بنیاد رکھی جا رہی تھی۔ آج بھی کچھ ایسا ہی ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ اگر امریکہ اور ایران کے درمیان براہ راست مذاکرات ہوتے ہیں تو وہ کہاں ہوں گے؟ اس حوالے سے دو ممالک نمایاں ہیں: ترکیہ اور پاکستان۔

ایران کے لیے یہ دونوں ممالک نسبتاً محفوظ سمجھے جاتے ہیں۔ ترکیہ ایک مضبوط ریاست ہے جس کی اپنی علاقائی حیثیت ہے، جبکہ پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہونے کے ساتھ ساتھ ایک اہم جغرافیائی پوزیشن رکھتا ہے۔ ایران شاید کسی ایسے ملک میں مذاکرات نہ کرے جہاں اسے سیکیورٹی خدشات ہوں، کیونکہ ماضی کے واقعات نے اسے محتاط بنا دیا ہے۔

یہاں ایک اور تلخ مثال بھی یاد آتی ہے۔ مختلف مواقع پر مشرقِ وسطیٰ میں ایسے حملے ہوئے جہاں مذاکرات یا سیاسی عمل کے دوران شخصیات کو نشانہ بنایا گیا۔ ان واقعات نے یہ ثابت کیا کہ سفارت کاری کے دوران بھی خطرہ ختم نہیں ہوتا بلکہ بعض اوقات بڑھ جاتا ہے۔

اب اس تمام صورتحال میں ایک اہم سوال ابھرتا ہے، کیا یہ مذاکرات واقعی امن کے لیے ہیں؟ یا اس کے پیچھے کوئی اور حکمت عملی کارفرما ہے؟

میرے خیال میں یہاں ایک اور زاویہ بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ ڈونلڈ ٹرمپ، جو اپنی غیر روایتی پالیسیوں کے لیے مشہور ہیں، ماضی میں بھی اچانک فیصلے کرتے رہے ہیں۔ یہ ممکن ہے کہ امریکہ اس وقت مذاکرات کی آڑ میں وقت حاصل کر رہا ہو۔ کیونکہ جغرافیائی حقیقت یہ ہے کہ امریکہ ایران سے ہزاروں کلومیٹر دور ہے۔ کسی بھی بڑے حملے کی تیاری، فوجی نقل و حرکت اور اسٹریٹجک پوزیشننگ کے لیے وقت درکار ہوتا ہے۔

تاریخ ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ بڑی طاقتیں اکثر مذاکرات کو ایک اسٹریٹجک ٹول کے طور پر استعمال کرتی ہیں۔ 1991ء کی خلیجی جنگ سے پہلے بھی سفارتی کوششیں جاری تھیں، مگر بالآخر جنگ ہی فیصلہ کن ثابت ہوئی۔ اسی طرح 2003ء میں عراق پر حملے سے پہلے بھی دنیا کو مذاکرات کی امید دلائی جاتی رہی۔

لہٰذا یہ بھی ممکن ہے کہ موجودہ مذاکرات دراصل کسی بڑے اقدام کی تیاری کا حصہ ہوں۔ خاص طور پر جب امریکہ جیسے ملک کو اپنے فوجی وسائل کو خطے میں منتقل کرنے کے لیے وقت درکار ہوتا ہے۔

دوسری طرف یہ بھی حقیقت ہے کہ عالمی حالات اس وقت ایک بڑی جنگ کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ معیشتیں کمزور ہیں، توانائی کا بحران بڑھ رہا ہے اور دنیا پہلے ہی کئی تنازعات میں الجھی ہوئی ہے۔ اس لیے یہ بھی ممکن ہے کہ یہ مذاکرات واقعی کسی حل کی طرف لے جائیں۔

پاکستان کے لیے یہ صورتحال ایک موقع بھی ہے اور ایک آزمائش بھی۔ اگر پاکستان اس عمل میں کامیاب ثالث ثابت ہوتا ہے تو اس کی عالمی حیثیت میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔ لیکن اگر حالات بگڑتے ہیں تو اس کے اثرات خطے پر بھی پڑیں گے اور پاکستان پر بھی۔

آخر میں سوال وہی رہ جاتا ہے کیا یہ سفارت کاری واقعی امن کی طرف قدم ہے یا ایک بڑے حملے کی تیاری؟ تاریخ دونوں امکانات کی گواہی دیتی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اس بار دنیا کون سا راستہ اختیار کرتی ہے۔

Check Also

Jang Mukhalif Mumalik Ko Ishtial Dilane Ki Americi, Israeli Sazishen

By Nusrat Javed