Mazhab Ki Talwar
مذہب کی تلوار

تاریخ کبھی صرف تاریخ نہیں ہوتی، وہ دراصل انسان کی فطرت کا آئینہ ہوتی ہے۔ اگر اس آئینے کو غور سے دیکھا جائے تو ایک عجیب حقیقت سامنے آتی ہے۔ انسان زمین، دولت اور اقتدار کے لیے لڑتا ہے لیکن جب وہ مذہب کے نام پر لڑنے لگتا ہے تو جنگ صرف جنگ نہیں رہتی بلکہ ایک مقدس مشن بن جاتی ہے۔ اسی یقین نے دنیا کی تاریخ میں ایسی خونریز جنگیں پیدا کیں جنہوں نے براعظموں کے نقشے بدل دیے اور لاکھوں انسانوں کو موت کے حوالے کر دیا۔
سنہ 1095ء میں یورپ کے ایک شہر کلیرمونٹ میں ایک ایسا اجتماع ہوا جس نے آنے والی کئی صدیوں کی تاریخ بدل دی۔ یہاں کیتھولک چرچ کے سربراہ پوپ اربن دوم نے ایک جذباتی خطبہ دیا۔ انہوں نے یورپ کے عیسائیوں کو پکار کر کہا کہ مقدس شہر یروشلم مسلمانوں کے قبضے میں ہے اور اسے آزاد کرانا عیسائیوں کا مذہبی فریضہ ہے۔ اس اپیل کے پیچھے کئی سیاسی اور مذہبی عوامل تھے۔ بازنطینی سلطنت کے شہنشاہ الیکسیوس اول کومنینوس مسلمانوں کے خلاف یورپ سے مدد مانگ چکے تھے اور یورپ کے مذہبی رہنما چاہتے تھے کہ عیسائی دنیا کو ایک مشترکہ مقصد کے تحت متحد کیا جائے۔
پوپ کے اس اعلان کے بعد پورے یورپ میں ایک مذہبی جوش پیدا ہوگیا۔ ہزاروں لوگ صلیب کا نشان اپنے کپڑوں پر لگا کر مشرق کی طرف روانہ ہونے لگے۔ یہی وہ لمحہ تھا جب تاریخ میں صلیبی جنگوں کا آغاز ہوا۔ پہلی صلیبی جنگ 1096ء میں شروع ہوئی۔ فرانس، جرمنی اور اٹلی کے ہزاروں نائٹس اور سپاہی مشرق کی طرف روانہ ہوئے۔ ان کی قیادت میں یورپ کے طاقتور سردار شامل تھے اور ان کا مقصد صرف ایک تھا: یروشلم پر قبضہ۔
کئی سال کی طویل اور خونریز لڑائی کے بعد 1099ء میں صلیبی فوجیں یروشلم میں داخل ہوگئیں۔ تاریخ دان لکھتے ہیں کہ شہر پر قبضے کے بعد خوفناک قتل عام ہوا۔ مسلمان اور یہودی دونوں اس قتل عام کا نشانہ بنے۔ بعض مؤرخین کے مطابق شہر کی گلیاں خون سے بھر گئی تھیں۔ اس کے بعد یروشلم میں صلیبی ریاست قائم ہوئی جسے "کنگڈم آف یروشلم" کہا جاتا تھا۔ اس فتح کے ساتھ ہی مشرقِ وسطیٰ میں کئی نئی صلیبی ریاستیں بھی وجود میں آئیں، جیسے ایڈیسہ، انطاکیہ اور طرابلس کی ریاستیں۔
لیکن تاریخ ہمیشہ ایک ہی رخ پر نہیں چلتی۔ مسلمانوں کی طرف سے بھی مزاحمت بڑھتی گئی اور وقت کے ساتھ ایک ایسی شخصیت ابھری جس نے صلیبی طاقت کو شدید دھچکا دیا۔ یہ شخصیت صلاح الدین ایوبی کی تھی۔ بارہویں صدی کے اس عظیم مسلمان حکمران نے مسلم دنیا کو متحد کیا اور صلیبی طاقت کے خلاف ایک منظم جدوجہد شروع کی۔
1187ء میں حطین کی جنگ تاریخ کا ایک فیصلہ کن لمحہ ثابت ہوئی۔ اس جنگ میں صلاح الدین ایوبی نے صلیبی افواج کو شکست دی اور دوبارہ یروشلم پر قبضہ کر لیا۔ اس واقعے نے یورپ کو ہلا کر رکھ دیا اور وہاں ایک نئی صلیبی مہم کی تیاری شروع ہوگئی۔
اس کے نتیجے میں تیسری صلیبی جنگ شروع ہوئی جس میں انگلینڈ کے بادشاہ رچرڈ اول، جسے رچرڈ دی لاین ہارٹ بھی کہا جاتا ہے اور فرانس کے بادشاہ فلپ دوم جیسے حکمران شامل ہوئے۔ ان جنگوں میں شدید لڑائیاں ہوئیں لیکن صلیبی افواج یروشلم دوبارہ حاصل نہ کر سکیں۔
صلیبی جنگیں تقریباً دو صدیوں تک وقفے وقفے سے جاری رہیں۔ بالآخر 1291ء میں عکہ کے سقوط کے ساتھ مشرقِ وسطیٰ میں آخری بڑی صلیبی ریاست بھی ختم ہوگئی۔ ان جنگوں میں مرنے والوں کی تعداد کے بارے میں مختلف اندازے موجود ہیں لیکن اکثر مورخین کے مطابق لاکھوں انسان اس طویل سلسلۂ جنگ میں مارے گئے۔ ان جنگوں نے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ یورپ کی سیاست، معیشت اور سماج کو بھی بدل دیا۔ تجارت کے نئے راستے کھلے، یورپ کے شہروں کی ترقی ہوئی اور مغرب کی طاقت آہستہ آہستہ بڑھنے لگی۔
مگر مذہب کے نام پر خونریزی کی کہانی یہاں ختم نہیں ہوئی۔ چند صدیوں بعد یورپ کے اندر ہی عیسائی ایک دوسرے کے خلاف تلواریں اٹھانے لگے۔ سولہویں صدی میں ایک مذہبی تحریک نے جنم لیا جسے پروٹسٹنٹ اصلاحات کہا جاتا ہے۔ اس تحریک کا آغاز جرمنی کے ایک عالم مارٹن لوتھر نے کیا۔ انہوں نے کیتھولک چرچ کی بعض پالیسیوں اور عقائد پر تنقید کی اور اصلاحات کا مطالبہ کیا۔
اس تحریک کے نتیجے میں عیسائی دنیا دو بڑے دھڑوں میں تقسیم ہوگئی: کیتھولک اور پروٹسٹنٹ۔ ابتدا میں یہ اختلاف مذہبی بحث تک محدود تھا لیکن جلد ہی یہ سیاسی اور فوجی تنازع میں تبدیل ہوگیا۔ اس تنازع کا سب سے خوفناک مرحلہ تیس سالہ جنگ تھا جو 1618ء میں شروع ہوئی۔
اس جنگ کی ابتدا پراگ میں ایک عجیب واقعے سے ہوئی جب پروٹسٹنٹ رہنماؤں نے کیتھولک حکام کو محل کی کھڑکی سے باہر پھینک دیا۔ اس واقعے کو تاریخ میں "ڈیفینسٹریشن آف پراگ" کہا جاتا ہے۔ یہ واقعہ دراصل ایک چنگاری تھا جس نے پورے یورپ کو جنگ کی آگ میں دھکیل دیا۔
اس جنگ میں ایک طرف مقدس رومی سلطنت اور کیتھولک ریاستیں تھیں جبکہ دوسری طرف پروٹسٹنٹ ریاستیں اور ان کے اتحادی۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ جنگ صرف مذہبی نہیں رہی بلکہ یورپی طاقتوں کے درمیان اقتدار کی جنگ بن گئی۔ فرانس، سویڈن اور اسپین جیسے ممالک بھی اس میں شامل ہو گئے۔
یہ جنگ یورپ کی تاریخ کی سب سے تباہ کن جنگوں میں شمار ہوتی ہے۔ بعض اندازوں کے مطابق آٹھ سے دس ملین یعنی تقریباً ایک کروڑ انسان اس جنگ میں مارے گئے۔ کئی شہر ویران ہو گئے، معیشت تباہ ہوگئی اور یورپ کی آبادی کا بڑا حصہ ختم ہوگیا۔
بالآخر 1648ء میں یورپ کی طاقتوں نے "معاہدہ ویسٹ فیلیا" کے نام سے ایک تاریخی معاہدہ کیا اور یہ طویل جنگ ختم ہوگئی۔ اس معاہدے نے یورپ کی سیاسی تاریخ بدل دی۔ اس کے بعد یہ اصول تسلیم کیا گیا کہ ہر ریاست اپنے مذہب کا خود فیصلہ کرے گی۔ اسی معاہدے نے جدید قومی ریاستوں کے تصور کو بھی مضبوط کیا۔
ان تمام واقعات کو دیکھ کر ایک حقیقت واضح ہو جاتی ہے۔ مذہب خود انسانوں کو قتل کرنے کا حکم نہیں دیتا، لیکن جب سیاست اور اقتدار کے ساتھ مذہب کو ملا دیا جائے تو وہ ایک خطرناک ہتھیار بن جاتا ہے۔ صلیبی جنگوں نے مشرق اور مغرب کے درمیان صدیوں تک بداعتمادی پیدا کی جبکہ تیس سالہ جنگ نے یورپ کو ویران کر دیا۔
تاریخ ہمیں یہی سبق دیتی ہے کہ جب مذہب انسان کے دل میں اخلاق اور روحانیت پیدا کرے تو وہ معاشرے کو بہتر بناتا ہے، لیکن جب اسے سیاسی طاقت کے لیے استعمال کیا جائے تو وہ خونریزی کا سبب بن جاتا ہے۔
آج جب دنیا کے مختلف خطوں میں پھر سے مذہبی بیانیہ سیاست میں داخل ہوتا دکھائی دیتا ہے تو تاریخ کے یہ ابواب ہمیں خبردار کرتے ہیں۔ کیونکہ ماضی گواہ ہے کہ جب انسان یہ یقین کر لیتا ہے کہ اس کی جنگ خدا کے لیے ہے تو پھر میدان جنگ میں سب سے پہلے انسانیت ہی قربان ہوتی ہے۔

