Thursday, 26 February 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Muhammad Umar Shahzad
  4. Maryam Nawaz Aur 11 Arab Ka Jahaz

Maryam Nawaz Aur 11 Arab Ka Jahaz

مریم نواز اور 11 ارب کا جہاز

انیس سو ستر کی دہائی میں افریقہ کا ایک غریب ملک زائر کہلاتا تھا، جسے آج دنیا کانگو کے نام سے جانتی ہے۔ اس دور میں وہاں کا حکمران Mobutu Sese Seko تھا۔ کہا جاتا ہے کہ ملک کی اکثریت پینے کے صاف پانی سے محروم تھی، دیہی علاقوں میں اسپتال صرف عمارتیں تھیں، دوائیں نایاب تھیں اور بچے تعلیم کے بجائے کانوں میں مزدوری پر مجبور تھے، مگر صدارتی محل میں سونے کے نل لگے تھے۔

کہا جاتا ہے کہ موبوتو اپنے بال کٹوانے کے لیے پیرس جاتا تھا، اس کے پاس ذاتی طیاروں کا بیڑا تھا اور یورپ میں اس کی جائیدادیں تھیں۔ تاریخ دان لکھتے ہیں کہ زائر کا اصل مسئلہ غربت نہیں بلکہ ترجیحات تھیں، کیونکہ حکمران اور عوام دو مختلف دنیاؤں میں رہتے تھے۔ انجام یہ ہوا کہ تمام عیاشیاں، سارا پروٹوکول اور پوری طاقت بھی عوام کے غصے کے سامنے ٹھہر نہ سکیں۔

یہ مثال اس لیے ذہن میں آئی کہ پاکستان بھی ایک غریب ملک ہے اور پنجاب اس کا سب سے بڑا صوبہ ہے۔ یہاں بھی مسئلہ صرف وسائل کی کمی نہیں بلکہ ترجیحات کا بنتا جا رہا ہے اور ان ترجیحات کی علامت ان دنوں گیارہ ارب روپے کا ایک جہاز بن چکی ہے۔

پنجاب کی وزیر اعلیٰ مریم نواز کے بارے میں یہ بات دیانت داری سے تسلیم کرنا ہوگی کہ اقتدار سنبھالنے کے بعد ان کی کارکردگی نمایاں رہی۔ یہ محض حکومتی دعویٰ نہیں بلکہ وہ تاثر ہے جو عام شہری نے خود محسوس کیا۔ ناجائز تجاوزات کے خلاف آپریشن وہ کام تھا جو برسوں سے فائلوں میں دب کر رہ گیا تھا۔ لاہور، راولپنڈی اور دیگر بڑے شہروں کی وہ سڑکیں جہاں ریڑھیوں، کھوکھوں اور غیر قانونی تعمیرات نے شہری زندگی کو مفلوج کر رکھا تھا، وہاں پہلی مرتبہ کسی حد تک نظم و ضبط نظر آیا۔

یہ بھی کہا جاتا ہے کہ حکومت نے ریڑھی والوں کو محض ہٹا کر بے روزگار نہیں کیا بلکہ کئی مقامات پر انہیں ایک ترتیب کے ساتھ ایڈجسٹ کیا گیا۔ فٹ پاتھ واپس پیدل چلنے والوں کو ملے، صفائی پر توجہ دی گئی اور ٹریفک کے بہاؤ میں واضح فرق محسوس ہوا۔ ٹریفک قوانین پر عمل درآمد ہوا، ہیلمٹ اور سیٹ بیلٹ جیسے معاملات پر سختی کی گئی۔ یہ وہ اقدامات تھے جن کا اثر فوری طور پر شہری زندگی میں محسوس ہوا اور یہی وجہ تھی کہ وزیر اعلیٰ کی مقبولیت میں اضافہ ہوا۔

سیاسی اور صحافتی حلقوں میں یہ بات ہونے لگی کہ پنجاب میں کم از کم گورننس کی ایک جھلک نظر آ رہی ہے۔ سوشل میڈیا پر تعریف کے پل باندھے گئے اور یہ تاثر مضبوط ہوا کہ شاید مریم نواز واقعی ماضی کی روایتی سیاست سے ہٹ کر کچھ مختلف کرنا چاہتی ہیں۔ مگر سیاست میں بعض فیصلے ایسے ہوتے ہیں جو برسوں کی محنت کو ایک لمحے میں دھندلا دیتے ہیں اور گیارہ ارب روپے کے جہاز کا فیصلہ بھی کچھ ایسا ہی ثابت ہوا۔

کہا جاتا ہے کہ پنجاب حکومت نے جو جہاز خریدا ہے وہ امریکہ کی معروف کمپنی Gulfstream Aerospace کا تیار کردہ ایک لگژری بزنس جیٹ ہے۔ یہ کمپنی دنیا بھر میں اپنے مہنگے، جدید اور طویل فاصلے تک پرواز کرنے والے بزنس جیٹس کے لیے جانی جاتی ہے اور یہ دفاعی صنعت کی عالمی شہرت یافتہ کمپنی General Dynamics کی ذیلی ادارہ ہے۔ کہا جاتا ہے کہ گلف اسٹریم ایسی کمپنی نہیں جو عام مسافر بردار کمرشل جہاز بناتی ہو، بلکہ اس کی پوری شناخت ہی پرائیویٹ اور لگژری بزنس جیٹس ہیں۔

یہ بھی کہا جاتا ہے کہ گلف اسٹریم کے جہاز عام طور پر ارب پتی کاروباری شخصیات، بڑی ملٹی نیشنل کمپنیوں کے سی ای اوز، شاہی خاندانوں اور دنیا کے چند ممالک کے صدور یا وزرائے اعظم استعمال کرتے ہیں۔ یہ جہاز ایئر لائنز کے لیے نہیں بلکہ مخصوص وی آئی پی سفر کے لیے تیار کیے جاتے ہیں۔ اسی لیے ناقدین سوال اٹھاتے ہیں کہ اگر پنجاب حکومت مستقبل میں کسی صوبائی ایئر لائن کے قیام کی خواہاں ہے تو پھر ایسے لگژری بزنس جیٹ کا انتخاب کیوں کیا گیا۔

کہا جاتا ہے کہ اس جہاز میں آرام دہ نشستیں، نجی میٹنگ کیبن، سونے کی سہولت، جدید کمیونیکیشن سسٹم اور مکمل پرائیویسی موجود ہے۔ یعنی یہ جہاز سفر کے لیے نہیں، طرزِ زندگی کے اظہار کے لیے بنایا جاتا ہے۔

سوال یہ نہیں کہ وزیر اعلیٰ کو سہولت درکار ہے، سوال یہ ہے کہ اس سہولت کی قیمت گیارہ ارب روپے کیوں ہو؟ اور وہ بھی ایسے وقت میں جب صوبے کے لاکھوں نوجوان بے روزگار ہوں، اسپتالوں میں مریض فرش پر ہوں اور اسکول اساتذہ سے خالی ہوں۔

آخر میں بات وہی ہے جو تاریخ ہمیں بار بار یاد دلاتی ہے۔ غریب قومیں عیاشی نہیں، سادگی دیکھنا چاہتی ہیں۔ مریم نواز کی کارکردگی کے کئی پہلو قابلِ تعریف ہیں، مگر گیارہ ارب روپے کے جہاز نے ان پہلوؤں کو دھندلا دیا ہے۔ اگر وہ واقعی مختلف ثابت ہونا چاہتی ہیں تو انہیں یہ دکھانا ہوگا کہ اقتدار سہولت نہیں، امانت ہے اور امانت کا پہلا اصول یہی ہے کہ عوام کے پیسے پر عوام سے زیادہ حق کسی کا نہیں۔

Check Also

House Of Sharif

By Javed Chaudhry