Kharg: Aik Jazeera, Aik Jang
خارگ: ایک جزیرہ، ایک جنگ

یہ 1984 کی ایک گرم دوپہر تھی۔ خلیج فارس کے نیلے پانیوں پر سورج آگ برسا رہا تھا۔ ایک تیل بردار جہاز خاموشی سے آگے بڑھ رہا تھا کہ اچانک فضا میں ایک دھماکہ گونجا۔ میزائل نے جہاز کو نشانہ بنایا، شعلے بلند ہوئے اور چند ہی لمحوں میں سمندر کا نیلا پانی سیاہ دھویں میں چھپ گیا۔ دنیا نے اگلے دن اخبار میں ایک چھوٹی سی خبر پڑھی، مگر اس خبر کے پیچھے ایک بڑی حقیقت چھپی تھی، یہ حملہ دراصل خارگ جزیرہ کے گرد لڑی جانے والی جنگ کا حصہ تھا۔ یہ وہی خارگ ہے جسے آج بھی ایران اپنی معاشی شہ رگ کہتا ہے۔
خارگ جزیرہ خلیج فارس میں ایران کے جنوبی ساحل سے تقریباً 25 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ اس کا کل رقبہ لگ بھگ 20 مربع کلومیٹر ہے۔ بظاہر یہ ایک چھوٹا سا جزیرہ ہے، مگر اس کی جغرافیائی حیثیت اسے غیر معمولی بنا دیتی ہے۔ یہ جزیرہ ایران کے صوبہ بوشہر کے سامنے، خلیج کے بیچوں بیچ واقع ہے، جہاں سے دنیا کے اہم ترین تیل بردار راستے گزرتے ہیں۔ اگر آپ نقشہ کھول کر دیکھیں تو محسوس ہوگا کہ خارگ دراصل ایران کے دروازے کے عین سامنے کھڑا ایک محافظ ہے۔ لیکن یہ جزیرہ ہمیشہ سے ایران کے پاس نہیں رہا۔
تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ 18ویں صدی میں اس پر ڈچ ایسٹ انڈیا کمپنی نے قبضہ کیا۔ بعد ازاں برطانوی اثر بھی یہاں تک پہنچا۔ مگر آخرکار ایران نے اسے واپس حاصل کر لیا اور تب سے یہ مستقل طور پر ایرانی کنٹرول میں ہے۔ اس جزیرے کی اہمیت اس وقت مزید بڑھ گئی جب ایران نے یہاں دنیا کے بڑے آئل ٹرمینلز میں سے ایک قائم کیا۔
اسی طرح ایران کے دیگر جزائر جیسے ابوموسی، تنب بزرگ اور تنب کوچک بھی خلیج فارس میں اسٹریٹجک اہمیت رکھتے ہیں۔ ان جزائر پر ایران نے ہمیشہ سے فوجی موجودگی قائم رکھی ہے کیونکہ یہ خلیج میں تیل کی ترسیل اور دفاع کے نقطہ نظر سے انتہائی اہم ہیں۔ ابوموسی جزیرہ، جس پر ایران نے 1971 میں قبضہ کیا اور جسے متحدہ عرب امارات بھی اپنا حق سمجھتا ہے، خارگ کی طرح ایران کی قومی سلامتی اور معیشت میں ایک کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔
آج صورتحال یہ ہے کہ ایران کی تیل برآمدات کا بڑا حصہ اسی جزیرے سے ہوتا ہے۔ تیل کے وسیع ذخائر سے نکل کر پائپ لائنز کے ذریعے خام تیل خارگ پہنچتا ہے، یہاں سے بڑے بڑے ٹینکرز میں بھر کر دنیا بھر کو بھیجا جاتا ہے۔ یوں سمجھ لیجیے کہ اگر خارگ بند ہو جائے تو ایران کی معیشت کا پہیہ رک سکتا ہے۔
یہی وجہ تھی کہ ایران عراق جنگ کے دوران عراق نے بارہا اس جزیرے کو نشانہ بنایا۔ صدام حسین جانتا تھا کہ اگر خارگ تباہ ہوگیا تو ایران خود بخود کمزور ہو جائے گا۔ مگر ایران نے ہر حملے کے بعد اسے دوبارہ کھڑا کیا۔ یہ جزیرہ صرف کنکریٹ اور لوہے کا نہیں، بلکہ عزم اور بقا کی علامت بن چکا ہے۔
اسی دوران ایران کے تیل ٹرمینلز اور جزائر جیسے ابوموسی اور تنب بزرگ بھی میزائل اور ہوائی حملوں کا نشانہ بنتے رہے، تاکہ ایران کی تیل برآمدات کمزور ہوں۔ مگر ایران نے ہر حملے کے بعد اپنی فوجی اور انجینئرنگ صلاحیتوں سے ان جزائر کو محفوظ بنایا۔ یہ جزائر صرف علاقے کا دفاع نہیں، بلکہ ایران کی توانائی کی معیشت کا بنیادی ستون بھی ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ امریکہ اس جزیرے میں دلچسپی کیوں لے سکتا ہے؟
جواب سادہ ہے، توانائی اور کنٹرول۔
دنیا کی بڑی طاقتیں ہمیشہ ان مقامات پر نظر رکھتی ہیں جہاں سے توانائی گزرتی ہے۔ خارگ جزیرہ نہ صرف ایران کی معیشت کو کنٹرول کرتا ہے بلکہ خلیج فارس کی تیل سپلائی پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔ اگر کوئی طاقت اسے کنٹرول کر لے تو وہ ایران کو معاشی طور پر گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر سکتی ہے۔
لیکن کیا امریکہ واقعی اس پر قبضہ کر سکتا ہے؟
اگر ہم عسکری حقیقت کو دیکھیں تو جواب ہے، ہاں، مگر کہانی اتنی سادہ نہیں۔ کسی بھی ایسے آپریشن کا پہلا مرحلہ فضائی برتری حاصل کرنا ہوتا ہے۔ امریکی بحریہ اور امریکی فضائیہ مشترکہ کارروائی کریں گے۔ پہلے مرحلے میں جزیرے کے ریڈار سسٹمز، میزائل لانچرز اور کمیونیکیشن نیٹ ورک کو تباہ کیا جائے گا۔ کروز میزائلز اور اسٹیلتھ طیارے چند گھنٹوں میں جزیرے کو دفاعی طور پر مفلوج کر سکتے ہیں۔
اس کے بعد دوسرا مرحلہ شروع ہوگا، بحری حملہ۔ امریکی بحری بیڑا خارگ کے اردگرد پوزیشن لے گا، ایران کی بحریہ کو دور رکھے گا اور سپلائی لائنز کاٹ دے گا۔ خلیج فارس کا پانی اس وقت ایک جنگی میدان بن جائے گا جہاں ہر حرکت پر نظر رکھی جائے گی۔
تیسرا اور فیصلہ کن مرحلہ ہوگا زمینی قبضہ۔ امریکی میرینز، جو خصوصی طور پر ایسے آپریشنز کے لیے تربیت یافتہ ہوتے ہیں، جزیرے پر اتریں گے۔ اندازہ ہے کہ ابتدائی قبضے کے لیے 2000 سے 5000 کے درمیان فوجی کافی ہوں گے کیونکہ جزیرہ چھوٹا ہے اور محدود جگہ پر مشتمل ہے۔ لیکن اصل مسئلہ یہاں ختم نہیں ہوتا، یہیں سے شروع ہوتا ہے۔
قبضہ کرنا آسان ہے، برقرار رکھنا مشکل۔ ایران اس جزیرے کو کبھی آسانی سے نہیں چھوڑے گا۔ اسلامی انقلابی گارڈ کور (IRGC) اس جنگ میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔ ایران کے ساحل سے خارگ کا فاصلہ بہت کم ہے، جس کا مطلب ہے کہ ایران مسلسل میزائل، ڈرون اور تیز رفتار کشتیوں کے ذریعے حملے کر سکتا ہے۔
آپ تصور کریں، ہر چند گھنٹوں بعد ایک نیا حملہ۔ کبھی ڈرون، کبھی بیلسٹک میزائل، کبھی سمندر سے اچانک یلغار۔ امریکہ کو اس صورتحال میں صرف فوجی نہیں بلکہ ایک مکمل دفاعی نظام وہاں تعینات کرنا ہوگا۔ جدید ایئر ڈیفنس سسٹمز، مسلسل فضائی نگرانی، بحری گشت اور سب سے بڑھ کر ایک مضبوط سپلائی چین۔
یہی وہ نکتہ ہے جہاں مسئلہ پیچیدہ ہو جاتا ہے۔ امریکہ ہزاروں کلومیٹر دور سے اپنی سپلائی لے کر آئے گا، جبکہ ایران اپنے ساحل سے چند منٹوں میں حملہ کر سکتا ہے۔ ہر سپلائی جہاز ایک ہدف ہوگا، ہر ایئر بیس ایک خطرہ۔
یہ ایک ایسی جنگ ہوگی جس میں جغرافیہ ایران کے ساتھ ہوگا اور فاصلے امریکہ کے خلاف۔ اگر امریکہ اس جزیرے پر قبضہ کر بھی لیتا ہے تو اسے برقرار رکھنا ایک مسلسل جنگ بن جائے گا۔ اخراجات بڑھتے جائیں گے، خطرات بڑھتے جائیں گے اور عالمی دباؤ بھی۔
اس کے ساتھ ایک اور پہلو بھی ہے، عالمی معیشت۔ خارگ جزیرے پر کسی بھی بڑی جنگ کا مطلب ہوگا تیل کی سپلائی میں خلل۔ قیمتیں آسمان تک پہنچ جائیں گی، عالمی مارکیٹس ہل جائیں گی اور اس کے اثرات پاکستان جیسے ممالک تک بھی پہنچیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ ایسی جنگیں اکثر شروع ہونے سے پہلے ہی رک جاتی ہیں۔
آخر میں سوال یہ نہیں کہ کون زیادہ طاقتور ہے۔ سوال یہ ہے کہ کون زیادہ دیر تک برداشت کر سکتا ہے۔ ایران کے لیے خارگ بقا کا سوال ہے اور جب بقا کا سوال ہو تو قومیں اپنی آخری حد تک لڑتی ہیں۔ امریکہ کے لیے یہ ایک اسٹریٹجک ہدف ہو سکتا ہے، مگر ایران کے لیے یہ زندگی اور موت کا مسئلہ ہے۔
تاریخ ہمیں یہی سکھاتی ہے کہ جب جنگ بقا کی ہو، تو چھوٹے ملک بھی بڑی طاقتوں کو روک لیتے ہیں۔ خارگ جزیرہ آج بھی وہیں ہے، خاموش، مگر فیصلہ کن۔ یہ صرف ایک جزیرہ نہیں، بلکہ ایک سوال ہے، ایک ایسا سوال جس کا جواب شاید کبھی میدان جنگ میں نہ دیا جائے، کیونکہ بعض اوقات جنگ جیتنے سے زیادہ ضروری اسے نہ لڑنا ہوتا ہے اور یاد رکھیے، جیسے تنب بزرگ اور ابوموسی جزائر ایران کی مستقل نگرانی میں ہیں، اسی طرح خارگ بھی ایران کی معیشت اور دفاع کی شہ رگ کے طور پر قائم ہے۔ دنیا کی طاقتیں اس کی اہمیت کو نظر انداز نہیں کر سکتیں۔

