Jang, Pur Asrar Khamoshiyan Aur Mumkina Rasta
جنگ، پراسرار خاموشیاں اور ممکنہ راستہ

سنہ 1962ء میں دنیا ایک ایسے لمحے کے قریب پہنچ گئی تھی جب انسانیت شاید ہمیشہ کے لیے بدل جاتی۔ یہ وہ وقت تھا جب امریکہ اور سوویت یونین کے درمیان Cuban Missile Crisis اپنے عروج پر تھا۔ کیوبا میں سوویت میزائل نصب ہو چکے تھے اور امریکہ نے سمندر میں ناکہ بندی کر دی تھی۔ دنیا سانس روکے بیٹھی تھی۔ امریکی صدر جان ایف کینیڈی اور سوویت رہنما نکیتا خروشچیف دونوں جانتے تھے کہ اگر ایک بھی غلط قدم اٹھ گیا تو ایٹمی جنگ چھڑ سکتی ہے۔
لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ اس بحران کے آخری دنوں میں دونوں رہنماؤں کی سرگرمیاں اچانک کم ہوگئیں۔ بیانات رک گئے، تصاویر کم ہوگئیں اور دنیا میں افواہوں کا بازار گرم ہوگیا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ پسِ پردہ خفیہ مذاکرات جاری تھے۔ بالآخر ایک سمجھوتہ ہوا، سوویت یونین نے کیوبا سے میزائل ہٹا لیے اور امریکہ نے ترکی سے اپنے میزائل واپس لینے کا وعدہ کیا۔ دنیا ایک بڑے حادثے سے بچ گئی۔
آج مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال کو دیکھیں تو کئی مبصرین کو وہی منظر یاد آ رہا ہے۔
امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری جنگ اب کئی دنوں سے مسلسل شدت اختیار کیے ہوئے ہے۔ فضائی حملے، میزائل حملے، ڈرون حملے اور سائبر جنگ سب کچھ بیک وقت چل رہا ہے۔ تینوں ممالک کو بھاری معاشی اور فوجی نقصان اٹھانا پڑا ہے اور عالمی معیشت بھی اس کے اثرات محسوس کر رہی ہے۔ لیکن اس جنگ کے درمیان ایک عجیب اور پراسرار خاموشی نے تجزیہ کاروں کو حیران کر دیا ہے۔
اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو گزشتہ چند دنوں سے منظر سے تقریباً غائب ہیں۔ نہ ان کا کوئی تازہ بیان سامنے آیا ہے، نہ کسی کابینہ اجلاس کی ویڈیو اور نہ ہی جنگی صورتحال پر کوئی براہِ راست خطاب۔ اسرائیل جیسے ملک میں جہاں ہر بڑے بحران کے دوران وزیراعظم مسلسل میڈیا کے سامنے آتے ہیں، وہاں یہ خاموشی غیر معمولی سمجھی جا رہی ہے۔
اسی طرح ایران میں بھی ایک غیر معمولی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔ ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے بارے میں بھی خاموشی ہے۔ ان کے والد آیت اللہ علی خامنہ آی کے بعد انہیں ایران کا سپریم لیڈر بنایا گیا، لیکن اس کے بعد سے نہ کوئی تقریر، نہ کوئی ویڈیو اور نہ ہی کوئی عوامی سرگرمی سامنے آئی ہے۔ یہ شاید تاریخ میں پہلا موقع ہے کہ جنگ کے دوران سپریم لیڈر کے حلف یا کابینہ اجلاس کی واضح تصاویر دنیا کے سامنے نہ آئیں۔
ان خاموشیوں نے افواہوں کو جنم دے دیا ہے۔ بعض حلقوں میں یہ خبریں گردش کر رہی ہیں کہ اسرائیلی وزیراعظم زخمی ہو چکے ہیں، بعض لوگ ان کی موت تک کی افواہیں پھیلا رہے ہیں۔ اسی طرح ایران میں بھی بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ ممکن ہے کہ نئے سپریم لیڈر کسی حملے میں زخمی ہوئے ہوں۔ لیکن ابھی تک ان خبروں کی کوئی تصدیق نہیں ہو سکی۔
دوسری طرف ایک رہنما مسلسل منظر پر موجود ہے اور وہ ہیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ۔ ٹرمپ تقریباً روزانہ اس جنگ کے بارے میں بیانات دے رہے ہیں۔ کبھی وہ ایران کو سخت دھمکیاں دیتے ہیں، کبھی کہتے ہیں کہ امریکہ کسی بھی وقت فیصلہ کن کارروائی کر سکتا ہے اور کبھی مذاکرات کا دروازہ بھی کھلا رکھنے کی بات کرتے ہیں۔ ان کے بیانات میں یہ تضاد کئی سوالات کو جنم دے رہا ہے۔
عالمی سفارتی حلقوں میں اب ایک نئی سرگرمی بھی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ روس، چین اور شمالی کوریا جیسے ممالک نے بھی اس جنگ کے بارے میں بیانات دینا شروع کر دیے ہیں۔ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے حال ہی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیلی فون پر گفتگو کی ہے اور اطلاعات کے مطابق دونوں رہنماؤں نے مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال اور جنگ کے ممکنہ خاتمے پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ یہ وہ لمحہ ہوتا ہے جب جنگیں یا تو مزید پھیلتی ہیں یا اچانک رکنے لگتی ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ اس جنگ نے تینوں ممالک کو نقصان پہنچایا ہے۔ اسرائیل کو پہلی بار اپنے شہروں پر بڑے پیمانے پر میزائل حملوں کا سامنا کرنا پڑا۔ ایران کے فوجی اڈوں اور انفراسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچا۔ امریکہ کو بھی خطے میں اپنے اڈوں اور فوجی اخراجات کی صورت میں بھاری قیمت ادا کرنا پڑ رہی ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بھی مسلسل بڑھ رہی ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی کا سب سے پہلا اثر ہمیشہ توانائی کی مارکیٹ پر پڑتا ہے اور اس وقت بھی یہی ہو رہا ہے۔ اگر یہ جنگ مزید پھیلتی ہے تو عالمی معیشت کو ایک نئے بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ایک اور حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی۔ ایران نے اس جنگ میں امریکہ اور اسرائیل کو توقع سے زیادہ سخت مزاحمت دی ہے۔ ایران کے میزائل اور ڈرون حملوں نے ثابت کیا کہ وہ خطے میں ایک طاقتور فوجی صلاحیت رکھتا ہے اور وہ آسانی سے پسپا ہونے والا نہیں۔
لیکن دوسری طرف امریکہ بھی ایک سپر پاور ہے اور وہ بغیر کسی واضح کامیابی کے میدان چھوڑنا نہیں چاہتا۔ عالمی سیاست میں اسے "فیس سیونگ" کہا جاتا ہے۔ کسی بھی بڑی جنگ کے بعد قیادت کو اپنے عوام کو یہ دکھانا ہوتا ہے کہ جنگ سے کوئی نہ کوئی کامیابی حاصل ہوئی ہے۔
یہی وہ مرحلہ ہے جہاں صورتحال خطرناک بھی ہو سکتی ہے۔ اگر امریکہ کو لگے کہ اسے اس جنگ سے نکلنے کے لیے کوئی واضح کامیابی نہیں مل رہی تو وہ کوئی غیر متوقع قدم بھی اٹھا سکتا ہے۔ بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ انتہائی صورت میں امریکہ محدود طاقت کے جوہری ہتھیار یا ٹیکٹیکل نیوکلیئر آپشن پر بھی غور کر سکتا ہے، حالانکہ ایسا قدم پوری دنیا کو ایک نئے اور خطرناک مرحلے میں داخل کر سکتا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ جیسے غیر روایتی سیاست دان کے بارے میں یہ بات اکثر کہی جاتی ہے کہ وہ بعض اوقات ایسے فیصلے کر لیتے ہیں جن کی پیش گوئی کرنا مشکل ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی سفارت کاری اس وقت بہت محتاط انداز میں آگے بڑھ رہی ہے۔ لیکن اسی کے ساتھ ایک اور پہلو بھی موجود ہے۔
جنگوں کی تاریخ بتاتی ہے کہ جب اچانک خاموشیاں بڑھنے لگیں، بیانات کم ہو جائیں اور بڑی طاقتیں پسِ پردہ رابطے شروع کر دیں تو اکثر اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ کہیں نہ کہیں مذاکرات کی زمین تیار ہو رہی ہے۔
اسرائیلی وزیراعظم کی خاموشی، ایرانی قیادت کا منظر سے غائب ہونا اور روسی صدر کا امریکی صدر سے رابطہ، یہ سب اشارے بھی ہو سکتے ہیں کہ پسِ پردہ کوئی سفارتی راستہ تلاش کیا جا رہا ہے۔ ممکن ہے آنے والے دنوں میں اچانک کوئی ایسا اعلان سامنے آئے جس میں جنگ بندی یا مذاکرات کی بات کی جائے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ چند روز بعد یہ جنگ مزید شدت اختیار کر لے۔
فی الحال دنیا ایک ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں ہر خبر، ہر خاموشی اور ہر سفارتی رابطہ بہت معنی رکھتا ہے۔
تاریخ ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ بعض اوقات جنگیں میدانِ جنگ میں نہیں بلکہ خاموش کمروں میں ختم ہوتی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ جنگ بھی اسی راستے پر جا رہی ہے یا دنیا ایک اور بڑے تصادم کے قریب پہنچ رہی ہے۔ اس سوال کا جواب شاید آنے والے چند دنوں میں مل جائے گا۔
تاریخ کا ایک اصول یہ بھی ہے کہ جنگیں اکثر بندوقوں کی آواز سے نہیں بلکہ سفارت کاری کی سرگوشیوں سے ختم ہوتی ہیں۔ جب توپیں خاموش ہونے لگتی ہیں تو سفارت کاروں کی میزیں آباد ہو جاتی ہیں۔ ممکن ہے مشرقِ وسطیٰ کی اس جنگ کے پیچھے بھی اس وقت کہیں نہ کہیں ایسی ہی میز سجی ہو جہاں الفاظ گولیوں سے زیادہ طاقتور ثابت ہو رہے ہوں۔ کیونکہ طاقتور قومیں کبھی کبھی جنگ جیتنے سے زیادہ اس بات پر توجہ دیتی ہیں کہ وہ جنگ سے کس طرح نکلتی ہیں اور بعض اوقات تاریخ میں سب سے بڑی کامیابی وہ سمجھی جاتی ہے جب ایک خطرناک جنگ کو مزید پھیلنے سے روک لیا جائے۔

