Jang, Bayan Bazi Aur Pas e Parda Muahida
جنگ، بیان بازی اور پسِ پردہ معاہدہ

سن 1962ء کی بات ہے۔ دنیا دو سپر پاورز کے درمیان ایٹمی جنگ کے دہانے پر کھڑی تھی۔ ایک طرف جان ایف کینیڈی اور دوسری طرف نکیتا خروشیف۔ کیوبا میں میزائل نصب ہو چکے تھے، دنیا سانس روکے بیٹھی تھی، بیانات سخت سے سخت تر ہو رہے تھے، اخبارات جنگ کی سرخیاں لگا رہے تھے، لیکن پسِ پردہ خطوط، خفیہ رابطے اور سفارتی پیغامات چل رہے تھے۔ نتیجہ؟ دنیا ایک تباہ کن جنگ سے بچ گئی۔ بعد میں معلوم ہوا کہ جس دوران دونوں رہنما ایک دوسرے کے خلاف سخت بیانات دے رہے تھے، اسی دوران معاہدے کی بنیاد رکھی جا رہی تھی۔
آج کی صورتحال کو دیکھیں تو کچھ ایسا ہی منظر دوبارہ بنتا دکھائی دیتا ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی، عارضی جنگ بندی اور پھر اس کی مدت ختم ہونے کے باوجود قیادت کا بظاہر ایک دوسرے سے دور رہنا بظاہر خطرے کی علامت لگتا ہے۔ لوگ سوال اٹھا رہے ہیں کہ اگر واقعی مذاکرات ہونے ہیں تو پھر دونوں ممالک کے رہنما ابھی تک پاکستان کیوں نہیں پہنچے؟ اور اگر نہیں پہنچے تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ مذاکرات ختم ہو چکے ہیں؟
میری رائے اس کے برعکس ہے۔ یہ صورتحال دراصل کسی تعطل کی نہیں بلکہ ایک "خاموش پیش رفت" کی نشاندہی کرتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جنگ بندی کی مدت ختم ہونے کے باوجود کئی ایسے اشارے موجود ہیں جو واضح طور پر بتاتے ہیں کہ پسِ پردہ کچھ بڑا طے پا رہا ہے۔ مثال کے طور پر ڈونلڈ ٹرمپ نے خود عارضی جنگ بندی میں تین سے پانچ دن کی توسیع کر دی۔ یہ فیصلہ کسی جذباتی ردعمل کا نتیجہ نہیں ہو سکتا بلکہ یہ ایک حساب شدہ سفارتی قدم ہوتا ہے۔
دوسری طرف ایران نے بھی ڈونلڈ ٹرمپ کی درخواست پر آٹھ ایرانی خواتین کی سزائے موت روک دی۔ یہ ایک معمولی واقعہ نہیں بلکہ ایک "گڈ وِل جیسچر" ہے، یعنی نیک نیتی کا اظہار۔ بین الاقوامی سیاست میں ایسے اشارے بڑی اہمیت رکھتے ہیں۔
اگر دونوں ممالک واقعی مذاکرات سے پیچھے ہٹ چکے ہوتے تو ایسے اقدامات دیکھنے میں نہ آتے۔ مزید اہم بات یہ ہے کہ امریکی صدر اور نائب صدر کی سیکیورٹی ٹیمیں اور ان کا سامان پاکستان پہنچ چکا ہے اور اب بھی یہاں موجود ہے۔ یہ کوئی چھوٹی موٹی انتظامی تیاری نہیں ہوتی بلکہ اس کے پیچھے ایک واضح منصوبہ بندی ہوتی ہے۔ اس کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ امریکہ کسی بھی وقت اعلیٰ سطحی ملاقات کے لیے تیار ہے۔
اسی طرح ایران کی طرف سے بھی سفارتی تیاریوں کے آثار موجود ہیں۔
یہ تمام حقائق ایک ہی سمت کی طرف اشارہ کرتے ہیں: مذاکرات جاری ہیں، بس نظر نہیں آ رہے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر مذاکرات ہو رہے ہیں تو پھر دونوں ممالک ایک دوسرے کے خلاف سخت بیانات کیوں دے رہے ہیں؟ اس کا جواب بھی تاریخ میں موجود ہے۔
بین الاقوامی سیاست میں "بیان بازی" دراصل مذاکرات کا حصہ ہوتی ہے، اس کے خلاف نہیں۔ ہر ملک کو اپنے عوام کو مطمئن رکھنا ہوتا ہے۔ اسے یہ تاثر دینا ہوتا ہے کہ وہ کمزور نہیں بلکہ مضبوط پوزیشن میں ہے، وہ جھک نہیں رہا بلکہ جیت رہا ہے۔
خاص طور پر امریکہ جیسے ملک کے لیے، جو خود کو سپر پاور سمجھتا ہے، نرم لہجہ اختیار کرنا بعض اوقات اس کے عالمی امیج کو متاثر کر سکتا ہے اور جہاں تک ڈونلڈ ٹرمپ کا تعلق ہے تو ان کا انداز تو ویسے ہی دباؤ ڈالنے والا ہے۔
ٹرمپ کی پوری سیاسی اور کاروباری زندگی اس بات کی گواہ ہے کہ وہ پہلے مخالف پر شدید دباؤ ڈالتے ہیں، پھر مذاکرات کی میز پر بیٹھتے ہیں اور آخر میں ایک ڈیل حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
اس کی ایک واضح مثال چین کے ساتھ تجارتی جنگ ہے۔ ٹرمپ نے چین پر بھاری ٹیرف عائد کیے، سخت بیانات دیے، عالمی سطح پر دباؤ بڑھایا، لیکن بالآخر "فیز ون ڈیل" طے پا گئی۔ اسی طرح شمالی کوریا کے ساتھ ان کا رویہ دیکھیں، پہلے کم جونگ اُن کو دھمکیاں، پھر اچانک ملاقاتیں اور تاریخی مذاکرات۔
کاروباری دنیا میں بھی ٹرمپ کی یہی حکمت عملی رہی ہے۔ وہ پہلے سخت موقف اپناتے ہیں، سامنے والے کو دیوار سے لگاتے ہیں اور پھر ایک ایسی ڈیل نکالتے ہیں جو ان کے لیے فائدہ مند ہو۔ اسی لیے اگر آج وہ ایران کے خلاف سخت بیانات دے رہے ہیں تو اسے صرف جنگی تیاری نہ سمجھا جائے بلکہ یہ بھی ممکن ہے کہ یہ مذاکراتی دباؤ کا حصہ ہو۔
اب اگر ہم ممکنہ مذاکراتی ٹیموں پر نظر ڈالیں تو یہ بھی واضح ہو جاتا ہے کہ معاملات سنجیدگی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ ایران کی طرف سے باقر قالیباف اور عباس عراقچی جیسے اہم رہنما سامنے آ سکتے ہیں جبکہ امریکہ کی نمائندگی جے ڈی وینس کر سکتے ہیں۔ خود ڈونلڈ ٹرمپ بھی اشارہ دے چکے ہیں کہ ابتدائی مذاکرات نائب صدر کی سطح پر ہو سکتے ہیں۔ لیکن اصل دلچسپ پہلو اس کے بعد سامنے آتا ہے۔
اگر یہ وفود مذاکرات میں کامیاب ہو جاتے ہیں اور کسی ڈیل پر متفق ہو جاتے ہیں تو عین ممکن ہے کہ ایران کی طرف سے مسعود پزشکیان اور امریکہ کی طرف سے ڈونلڈ ٹرمپ خود پاکستان پہنچ جائیں تاکہ معاہدے پر دستخط کیے جا سکیں۔
یہ کوئی غیر معمولی بات نہیں ہوگی۔ تاریخ میں ایسے کئی مواقع آئے ہیں جب آخری لمحے میں بڑے رہنما خود سامنے آئے تاکہ معاہدے کو تاریخی حیثیت دی جا سکے۔
یہاں ایک اور اہم پہلو بھی سمجھنا ضروری ہے۔ امریکی پروٹوکول کے مطابق صدر اور نائب صدر ایک ہی وقت میں کسی غیر ملکی دورے پر اکٹھے موجود نہیں ہوتے۔ یہی وجہ ہے کہ اگر ڈونلڈ ٹرمپ پاکستان آتے ہیں تو جے ڈی وینس فوراً امریکہ واپس روانہ ہو جائیں گے۔
چند دن قبل ڈونلڈ ٹرمپ نے جس امریکی خاتون صحافی کو فون کرکے کہا تھا کہ آپ ابھی واپس نا آئیں بلکہ پاکستان میں ہی رہیں، اس خاتون صحافی کرسٹین امانپور کی پاکستان میں موجودگی بھی اس بات کا ایک اہم اشارہ ہے کہ پسِ پردہ کچھ نہ کچھ سنجیدہ سفارتی سرگرمی جاری ہے اور معاملات کسی نہ کسی حتمی مرحلے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔
اس وقت جو صورتحال ہے وہ بظاہر خاموش ہے لیکن حقیقت میں بہت متحرک ہے۔ یہ بالکل ویسی ہی خاموشی ہے جیسے طوفان سے پہلے ہوتی ہے، فرق صرف اتنا ہے کہ یہاں طوفان جنگ کا نہیں بلکہ ایک بڑے معاہدے کا ہو سکتا ہے۔ لہٰذا صرف اس بنیاد پر کہ دونوں ممالک کے رہنما ابھی تک پاکستان نہیں پہنچے، یہ نتیجہ اخذ کرنا کہ مذاکرات ختم ہو گئے ہیں، درست نہیں۔
حقیقت اس کے برعکس بھی ہو سکتی ہے۔ میرا خیال ہے کہ آئندہ چند روز انتہائی اہم ہوں گے۔ یا تو دنیا ایک اور کشیدگی کی طرف جائے گی، یا پھر ایک ایسا معاہدہ سامنے آئے گا جو پورے خطے کی سیاست بدل دے گا اور اگر تاریخ ہمیں کچھ سکھاتی ہے تو وہ یہی ہے کہ بڑے معاہدے اکثر خاموشی میں طے پاتے ہیں، جبکہ شور صرف عوام کے لیے کیا جاتا ہے۔
یہی وہ حقیقت ہے جسے سمجھنے کی ضرورت ہے، کیونکہ سیاست میں جو نظر آتا ہے وہ ہمیشہ مکمل سچ نہیں ہوتا بلکہ اصل کہانی اکثر پسِ پردہ لکھی جا رہی ہوتی ہے اور دنیا کو اس کا علم اس وقت ہوتا ہے جب معاہدے پر دستخط ہو چکے ہوتے ہیں۔

