Doosra Nikah, Sunnat Ya Samaji Jurm?
دوسرا نکاح، سنت یا سماجی جرم؟

زندگی کبھی کبھی انسان کو ایسے موڑ پر لا کھڑا کرتی ہے جہاں خوشیوں سے بھرا گھر اچانک خاموش ہو جاتا ہے۔ ایک کمرہ بند ہو جاتا ہے، ایک آواز ہمیشہ کے لیے چپ ہو جاتی ہے اور ایک شخص جو پوری عمر دوسروں کے لیے جیتا رہا، بڑھاپے کی دہلیز پر تنہائی کے صحرا میں دھکیل دیا جاتا ہے۔ لیکن ہمارے معاشرے کا المیہ دیکھیے، ہم اس تنہا شخص کو سہارا دینے کے بجائے اس کے گرد دیواریں کھڑی کر دیتے ہیں۔
میرے ایک دوست کی والدہ کا انتقال ہوگیا تھا۔ والد صاحب ریٹائرڈ افسر تھے، عمر کے اس حصے میں داخل ہو چکے تھے جہاں انسان کو دوا سے زیادہ دلاسے اور روٹی سے زیادہ رفاقت کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایک دن میرے دوست نے ہمت کرکے اپنے والد سے کہا: "ابا جی! آپ نکاح کر لیں"۔
باپ خاموش ہوگیا۔
یہ خاموشی شاید حیرت کی تھی، شاید خوشی کی، شاید اس خوف کی جو ہمارے معاشرے نے ایک فطری خواہش کے گرد لپیٹ رکھا ہے۔ پھر گھر میں بات ہوئی اور قیامت آ گئی۔ بہنیں ناراض، داماد خفا، بھائی مشتعل۔ گویا ایک شخص نکاح نہیں بلکہ کوئی جرم کرنے جا رہا ہو۔
حالانکہ وہ اپنی جائیداد تقسیم کر چکے تھے، بچوں کو سیٹل کر چکے تھے، زندگی بھر اولاد کے لیے جیتے رہے تھے، لیکن اب جب انہوں نے اپنی باقی ماندہ زندگی کے لیے ایک ساتھی چاہا تو سب ان کے مخالف ہو گئے۔
یہ صرف ایک گھر کی کہانی نہیں۔
ہمارے ایک اور جاننے والے کی اہلیہ وفات پا گئیں۔ کئی سال تنہا زندگی گزارنے کے بعد انہوں نے بچوں سے کہا: "میرے لیے کوئی رشتہ دیکھ لو"۔ اولاد نے مخالفت کی۔ پھر کسی طرح نکاح ہوگیا، لیکن نئی آنے والی عورت کا جینا حرام کر دیا گیا۔ طعنے، نفرت، بدگمانیاں، الزام، یہاں تک کہ باپ کو مجبور کر دیا گیا کہ وہ طلاق دے دے۔
میں سوچتا ہوں، آخر ہم کس مذہب کے پیروکار ہیں؟ وہ مذہب جس نے نکاح کو عبادت کہا؟
وہ دین جس کے نبی حضرت محمد ﷺ نے فرمایا: "النکاح من سنتی" یعنی "نکاح میری سنت ہے"۔
ہم وہ لوگ ہیں جو عشقِ رسول ﷺ کے دعوے کرتے ہیں، لیکن جب کوئی شخص رسول اللہ ﷺ کی سنت پر عمل کرنا چاہتا ہے تو ہم اس کے راستے میں کھڑے ہو جاتے ہیں۔
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: "اور اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ اس نے تمہارے لیے تمہاری ہی جنس سے بیویاں پیدا کیں تاکہ تم ان کے پاس سکون حاصل کرو اور تمہارے درمیان محبت اور رحمت رکھ دی"۔ (سورۃ الروم، آیت 21)
ذرا غور کیجیے، اللہ نے نکاح کو "سکون"، "محبت" اور "رحمت" کہا ہے۔
اور ہم نے اسے "بدنامی" بنا دیا۔
ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے نکاح کو صرف جوانی کے ساتھ جوڑ دیا ہے۔ ہمیں لگتا ہے کہ اگر کوئی ساٹھ سال کا شخص دوسری شادی کرنا چاہے تو وہ شاید کوئی گناہ کر رہا ہے۔ اگر کوئی بیوہ عورت دوبارہ گھر بسانا چاہے تو ہم اسے کردار کے ترازو میں تولنا شروع کر دیتے ہیں۔
حالانکہ اسلام کا پورا معاشرتی ڈھانچہ اس سوچ کے بالکل الٹ تھا۔ حضرت خدیجہ الکبریٰؓ بیوہ تھیں جب رسول اللہ ﷺ سے ان کا نکاح ہوا۔ حضرت سودہ بنت زمعہؓ بیوہ تھیں۔ حضرت ام سلمہؓ بیوہ تھیں۔ حضرت زینب بنت خزیمہؓ بیوہ تھیں۔ حضرت حفصہ بنت عمرؓ بیوہ تھیں۔
یہ وہ معاشرہ تھا جہاں بیوہ عورت کو زندگی بھر کے لیے سیاہ کپڑوں اور تنہائی کی سزا نہیں دی جاتی تھی۔ اس کے نکاح کی فکر کی جاتی تھی، اس کی عزتِ نفس بچائی جاتی تھی، اس کی جذباتی اور معاشی ضروریات کا خیال رکھا جاتا تھا۔
حضرت عمر فاروقؓ کی بیٹی حضرت حفصہؓ بیوہ ہوئیں تو حضرت عمرؓ خود ان کے لیے رشتہ لے کر گئے۔ سوچیں، ایک باپ اپنی بیوہ بیٹی کے نکاح کے لیے خود کوشش کر رہا ہے۔ آج ہمارے ہاں کیا ہوتا ہے؟ بیوہ بیٹی اگر دوسری شادی کی بات کر دے تو خاندان کی غیرت جاگ جاتی ہے۔
اسلامی تاریخ میں حضرت اسماء بنت عمیسؓ کی مثال بھی موجود ہے۔ ان کے پہلے شوہر حضرت جعفر طیارؓ جنگِ موتہ میں شہید ہوئے۔ پھر ان کا نکاح حضرت ابوبکر صدیقؓ سے ہوا۔ حضرت ابوبکرؓ کے انتقال کے بعد ان کا نکاح حضرت علی المرتضیٰؓ سے ہوا۔ ذرا سوچیے! یہ وہ مقدس معاشرہ تھا جہاں بیوہ عورت کی زندگی ختم نہیں سمجھی جاتی تھی بلکہ اسے دوبارہ عزت اور محبت کے ساتھ گھر بسانے کا حق دیا جاتا تھا۔
اسی طرح حضرت ام حبیبہؓ کے شوہر کا انتقال ہوا تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے نکاح فرمایا۔ حضرت زینب بنت جحشؓ پہلے مطلقہ تھیں، بعد میں ان کا نکاح رسول اللہ ﷺ سے ہوا۔ حضرت میمونہؓ بیوہ تھیں۔ گویا رسول اللہ ﷺ کی ازواجِ مطہرات میں اکثریت یا تو بیوہ تھیں یا مطلقہ۔
یہی نہیں، انبیاء کرام علیہم السلام کی تاریخ بھی یہی بتاتی ہے کہ نکاح ایک فطری اور باعزت عمل ہے۔ حضرت ابراہیمؑ کے ایک سے زیادہ نکاح تھے۔ حضرت یعقوبؑ کے ایک سے زیادہ نکاح تھے۔ حضرت داؤدؑ اور حضرت سلیمانؑ کے بھی ایک سے زیادہ نکاح تھے۔ اسلام نے نکاح کو کبھی معیوب نہیں سمجھا بلکہ اسے ذمہ داری، عفت اور معاشرتی استحکام کا ذریعہ قرار دیا۔
صحابۂ کرامؓ میں بھی ایک سے زیادہ نکاح عام تھے۔ حضرت عثمان غنیؓ، حضرت علیؓ، حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ، حضرت زبیر بن عوامؓ اور دیگر کئی صحابہؓ کے ایک سے زیادہ نکاح تھے۔ اس معاشرے میں اصل چیز انصاف، ذمہ داری اور اخلاق تھے، صرف لوگوں کی باتیں نہیں۔
لیکن ہم نے دین کو رسموں میں دفن کر دیا ہے۔
ہم کہتے ہیں: "اس عمر میں شادی؟ لوگ کیا کہیں گے؟"، "اب بچوں والے ہو کر نکاح کرو گے؟"، "مرحومہ کی روح کو کیا جواب دو گے؟"
مجھے حیرت ہوتی ہے، کیا وفات پانے والا شریکِ حیات یہ چاہے گا کہ اس کے بعد اس کا ساتھی ساری زندگی تنہائی میں جلتا رہے؟ کیا محبت کا مطلب یہ ہے کہ انسان زندہ لاش بن جائے؟
اصل میں مسئلہ جائیداد اور پیسے سے بھی جڑا ہوتا ہے۔ اولاد کو خوف ہوتا ہے کہ کہیں نئی بیوی آ گئی تو حصہ نہ کم ہو جائے۔ حالانکہ اکثر ایسے والدین اپنی ساری جائیداد پہلے ہی تقسیم کر چکے ہوتے ہیں۔ پھر بھی بچوں کو اپنے باپ کی خوشی برداشت نہیں ہوتی۔
عجیب بات یہ ہے کہ ہمارا معاشرہ صرف بوڑھے شخص کی دوسری شادی کا مخالف نہیں، بلکہ ایک جوان مرد اگر دوسری شادی کرنا چاہے تو بھی پورا خاندان، دوست احباب اور سوشل میڈیا اس کے خلاف کھڑا ہو جاتا ہے۔ حالانکہ اسلام نے ایک سے زیادہ نکاح کی اجازت مخصوص حکمتوں اور ذمہ داریوں کے ساتھ دی ہے۔
ہماری منافقت یہ ہے کہ ہم نکاح کو مشکل کرتے جا رہے ہیں مگر بے راہ روی پر خاموش ہیں۔ ہم حلال رشتوں کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں اور پھر حیران ہوتے ہیں کہ معاشرے میں زنا، ناجائز تعلقات اور خاندانی ٹوٹ پھوٹ کیوں بڑھ رہی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ جب معاشرہ فطری اور جائز راستے بند کرتا ہے تو لوگ غلط راستوں کی طرف مائل ہونے لگتے ہیں۔ اسلام نے اسی لیے خواہشات کو حرام راستوں میں بہنے کے بجائے نکاح کا پاکیزہ راستہ دیا تھا۔
ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ دنیا میں مردوں کی شرحِ اموات خواتین سے زیادہ ہے۔ جنگیں ہوں، روڈ ایکسیڈنٹس ہوں، خطرناک نوکریاں ہوں یا مختلف بیماریاں، مرد زیادہ تعداد میں دنیا سے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے کئی معاشروں میں خواتین کی تعداد مردوں سے زیادہ ہوتی ہے۔ اسلام نے چودہ سو سال پہلے اس معاشرتی حقیقت کو سمجھ لیا تھا، اسی لیے بیواؤں، مطلقہ عورتوں اور تنہا خواتین کے لیے نکاح کے دروازے کھلے رکھے گئے۔ لیکن ہم نے دین کو صرف تقریروں تک محدود کر دیا ہے۔
ہم محبتِ رسول ﷺ کے دعوے دار ہیں مگر سنتِ رسول ﷺ پر چلنے والوں کے راستے میں کانٹے بچھاتے ہیں۔
مجھے لگتا ہے ہمارے معاشرے کو نکاح کے بارے میں دوبارہ سوچنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں یہ ماننا ہوگا کہ انسان کی جذباتی ضرورتیں عمر کے ساتھ ختم نہیں ہوتیں۔ ایک بیوہ عورت، ایک تنہا مرد، ایک ریٹائرڈ باپ، یہ سب انسان ہیں، ان کے دل ہیں، ان کی راتیں ہیں، ان کی تنہائیاں ہیں اور شاید سب سے بڑا ظلم یہ ہے کہ ہم ان کی تنہائی کو "وفاداری" کا نام دے دیتے ہیں۔
وفاداری یہ نہیں کہ انسان باقی زندگی خاموش اذیت میں گزار دے۔ وفاداری یہ ہے کہ انسان اپنے مرحوم شریکِ حیات کی اچھی یادوں کے ساتھ زندگی کو عزت اور سکون کے ساتھ آگے بڑھائے۔ ہمارے معاشرے کو یہ سمجھنا ہوگا کہ دوسرا نکاح بے وفائی نہیں، زندگی ہے۔ سنت ہے۔ فطرت ہے اور بعض اوقات ایک ٹوٹے ہوئے انسان کے لیے آخری سہارا بھی۔

