Tuesday, 14 April 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Muhammad Umar Shahzad
  4. Deadlock Ke Peeche Chupi Hikmat e Amli

Deadlock Ke Peeche Chupi Hikmat e Amli

ڈیڈلاک کے پیچھے چھپی حکمتِ عملی

اسلام آباد کے بند کمروں میں دنیا کی دو بڑی طاقتیں آمنے سامنے بیٹھی تھیں۔ باہر خاموشی تھی، اندر لفظوں کا شور تھا۔ میز کے ایک طرف جے ڈی وینس بیٹھے تھے اور دوسری طرف عباس عراقچی۔ دونوں کے درمیان فاصلے زیادہ نہیں تھے مگر سوچوں کے درمیان فاصلہ بہت گہرا تھا۔

مجھے اس منظر سے اچانک تاریخ کا ایک واقعہ یاد آ گیا۔

مصطفیٰ کمال اتاترک نے اپنے قریبی ساتھی عصمت انونو کو ایک اہم عالمی اجلاس میں بھیجا۔ رخصت کرتے وقت انہوں نے ان کی آنکھوں میں دیکھا اور آہستہ سے کہا: "فیصلہ نہیں کرنا، وقت لینا ہے"۔ انونو نے سر ہلایا اور خاموشی سے روانہ ہو گئے۔

اجلاس شروع ہوا۔ ایک بڑا ہال، لمبی میز، گردنیں تن کر بیٹھی ہوئی، ہر شخص اپنے ملک کا بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھائے ہوئے۔ آوازیں بلند ہو رہی تھیں، دلائل دیے جا رہے تھے، ہاتھ میز پر پڑ رہے تھے، فائلیں کھل رہی تھیں۔ مگر اس ہجوم میں ایک شخص ایسا بھی تھا جو مکمل خاموش تھا۔

عصمت انونو۔

وہ کرسی پر سیدھے بیٹھے تھے، چہرے پر غیر معمولی سکون تھا۔ جب بھی کوئی سوال ان کی طرف آتا، وہ ذرا سا آگے جھکتے جیسے غور سے سن رہے ہوں، پھر آہستہ سے جیب سے ایک چھوٹا سا کاغذ نکالتے، اسے دیر تک دیکھتے کچھ پڑھتے اور پھر اسے دوبارہ تہہ کرکے جیب میں رکھ لیتے۔ کبھی کبھی وہ سر ہلاتے، کبھی ہلکی سی مسکراہٹ، مگر کوئی واضح جواب نہیں۔

کمرے میں بیٹھے لوگوں کو آہستہ آہستہ یہ احساس ہونے لگا کہ شاید وہ سن نہیں سکتے۔

اجلاس میں شریک لوگ تنگ آ گئے ہال کے باہر ایک توپ لا کر کھڑی کر دی گئی۔ کھڑکیوں کے پار اچانک توپ کو حرکت دی گئی۔ اگلے ہی لمحے زور دار دھماکہ ہوا۔ آواز اتنی شدید تھی کہ میز پر رکھے گلاس تک لرز گئے، کچھ لوگ بے اختیار اٹھ کھڑے ہوئے۔ مگر عصمت انونو، وہ نہ چونکے، نہ ہلے، نہ ان کے چہرے کے تاثرات بدلے۔

اس بار لوگوں کے یقین میں کوئی شک نہ رہا۔ وہ سمجھ گئے کہ وہ بہرے ہیں۔ مگر حقیقت کچھ اور تھی۔ وہ سب کچھ سن رہے تھے، ہر لفظ، ہر آواز، ہر دھماکہ۔ مگر وہ خاموش رہ کر وقت خرید رہے تھے، جیسے ہر سیکنڈ ان کے ملک کے حق میں ایک قدم بن رہا ہو۔

اس دوران مصطفیٰ کمال اتاترک میدان میں اپنی پوزیشن مضبوط کر رہے تھے اور جب وقت آیا تو فیصلے بھی ان کی شرائط پر ہوئے۔ یہی سفارت کاری ہے۔ یہی مذاکرات کی اصل روح ہے۔

یہ واقعہ ہمیں ایک بنیادی سبق دیتا ہے، ہر ڈیڈلاک ناکامی نہیں ہوتا، بعض اوقات یہ سب سے بڑی کامیابی کی تیاری ہوتا ہے۔ اگر ہم پاکستان میں ہونے والے حالیہ امریکہ-ایران مذاکرات کو اسی زاویے سے دیکھیں تو تصویر بالکل مختلف نظر آتی ہے۔

اس اہم مذاکراتی عمل میں امریکی وفد کی قیادت جے ڈی وینس کر رہے تھے جبکہ ایرانی وفد کی باگ ڈور عباس عراقچی کے ہاتھ میں تھی۔ بظاہر یہ ایک مشکل اور پیچیدہ مکالمہ تھا، مگر اندر کی کہانی کچھ اور بتاتی ہے۔

مذاکرات کے بعد جے ڈی وینس نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایک نہایت اہم جملہ کہا: "ہم بہت سے معاملات پر متفق ہو گئے تھے، لیکن دو نکات پر اتفاق نہ ہو سکا"۔ انہوں نے یہ نہیں کہا کہ مذاکرات ناکام ہو گئے۔ یہ فرق معمولی نہیں، بہت بڑا ہے۔

یہ دو نکات کیا تھے؟ پہلا آبنائے ہرمز اور دوسرا ایران کا ایٹمی پروگرام۔

آبنائے ہرمز محض ایک سمندری راستہ نہیں، یہ دنیا کی معیشت کی شہ رگ ہے۔ یہاں معمولی سی کشیدگی بھی عالمی منڈیوں کو ہلا دیتی ہے۔ دوسری طرف ایران کا ایٹمی پروگرام ایک ایسا معاملہ ہے جس میں خودمختاری، سیکیورٹی اور عالمی دباؤ تینوں آپس میں ٹکرا رہے ہیں۔ یہ وہ مقامات ہیں جہاں فوری اتفاق ممکن نہیں ہوتا۔ یہی وہ جگہ ہے جہاں مذاکرات رک جاتے ہیں، یا یوں کہیں کہ روک دیے جاتے ہیں۔

دوسری طرف ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز کو بند کرنے یا ناکہ بندی کی دھمکی کو اگر سفارتی زبان میں پڑھا جائے تو یہ دراصل ایک "توپ" ہے، وہی توپ جو انونو کے اجلاس کے باہر چلائی گئی تھی۔ مقصد دھماکہ کرنا نہیں، بلکہ پیغام دینا ہوتا ہے: "ہم سنجیدہ ہیں، دباؤ بڑھ رہا ہے"۔

ادھر ایران نے بھی فوری ردعمل دیا۔ عباس عراقچی نے سعودی عرب اور قطر کے وزرائے خارجہ کو ٹیلی فون کیے۔ یہ محض رسمی رابطے نہیں تھے بلکہ ایک بڑے سفارتی دائرے کو متحرک کرنے کی کوشش تھی۔

اسی دوران شہباز شریف نے بھی اگلے اڑتالیس گھنٹوں میں سعودی عرب اور ترکی کے ہنگامی دوروں کا فیصلہ کیا۔ یہ دورے اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستان اس پوری صورتحال میں محض میزبان نہیں بلکہ ایک فعال ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔

پاکستان اب صرف جگہ فراہم نہیں کر رہا، بلکہ کہانی لکھنے میں بھی شریک ہو رہا ہے۔

یہاں ایک اور اہم موڑ آتا ہے، چین اور روس کی ممکنہ شمولیت۔

دنیا اب یک قطبی نہیں رہی۔ امریکہ اکیلا فیصلہ نہیں کر سکتا۔ چین اور روس اس خطے میں اپنے اپنے مفادات رکھتے ہیں اور ان کی شمولیت کے بغیر کوئی بھی معاہدہ ادھورا رہ سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب ایک درمیانی راستہ تلاش کیا جا رہا ہے۔

سفارتی حلقوں میں ایک تجویز زیر گردش ہے، ایک ایسا حل جو بظاہر سادہ ہے مگر اپنے اندر بڑی گہرائی رکھتا ہے: ایران اپنی یورینیم روس کے حوالے کر دے۔

یہ تجویز نئی نہیں۔ روس اس سے پہلے بھی امریکہ اور ایران دونوں کو اس قسم کی آفر دے چکا ہے۔ اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ امریکہ کو اطمینان مل جائے گا کہ اب ایران کے پاس یورینیم نہیں ہے، جبکہ ایران کو بھی یہ تسلی ہوگی کہ اس کا مواد کسی پیچیدہ بین الاقوامی نظام اور جانبدار طاقت کے پاس نہیں ہے۔

یہ حل ایران کے لیے بھی زیادہ قابل قبول ہو سکتا ہے، کیونکہ کسی بین الاقوامی باڈی کی نگرانی میں جانا اس کے لیے سیاسی طور پر مشکل ہے۔ جبکہ روس ایک ایسا شراکت دار بن سکتا ہے جس پر ایران نسبتاً زیادہ اعتماد کر سکتا ہے۔

یہی وہ "درمیانی راستہ" ہے جو اکثر بڑے تنازعات کو حل کرتا ہے۔

ممکن ہے کہ پاکستان، چین اور دیگر علاقائی طاقتیں مل کر امریکہ اور ایران کو اس قسم کا حل پیش کریں، ایک ایسا حل جس میں سب کو تھوڑا تھوڑا ملے اور کوئی بھی مکمل طور پر نہ ہارے۔ کیونکہ سفارت کاری میں مکمل جیت یا مکمل شکست نہیں ہوتی، صرف سمجھوتے ہوتے ہیں۔

اب سوال یہ ہے کہ آگے کیا ہوگا؟

جو کچھ اب تک ہوا ہے، وہ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ مذاکرات ختم نہیں ہوئے، بلکہ ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گئے ہیں۔ فریقین اپنے اپنے دارالحکومتوں میں واپس جا کر مشاورت کریں گے، اپنے اتحادیوں کو اعتماد میں لیں گے اور پھر ایک نئی حکمت عملی کے ساتھ دوبارہ میز پر آئیں گے۔

ممکن ہے کہ اگلا مذاکراتی دور دوبارہ پاکستان میں ہو، یا قطر جیسے کسی غیر جانبدار مقام پر۔ لیکن ایک بات طے ہے: یہ مذاکرات دوبارہ ہوں گے۔ کیونکہ دنیا اس کشیدگی کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ آبنائے ہرمز بند نہیں ہو سکتی اور ایران کا ایٹمی پروگرام بغیر کسی معاہدے کے نہیں چل سکتا۔

لہٰذا راستہ نکالنا ہوگا اور شاید یہی اس ڈیڈلاک کا اصل مقصد بھی ہے، وقت لینا، پوزیشن مضبوط کرنا اور بہتر شرائط کے ساتھ واپس آنا۔ بالکل ویسے ہی جیسے کبھی ایک اجلاس میں ایک شخص خاموش بیٹھا رہا تھا، سب کچھ سنتا رہا تھا مگر کچھ کہہ نہیں رہا تھا اور دنیا اسے بہرہ سمجھتی رہی۔ حالانکہ وہ سب سے زیادہ سن رہا تھا۔

Check Also

Maqoolat Aur Mazhab

By Mohammad Din Jauhar