Thursday, 07 May 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Muhammad Umar Shahzad
  4. Awam Ke Paison Par Ayyashiyan

Awam Ke Paison Par Ayyashiyan

عوام کے پیسوں پر عیاشیاں

میں پچھلے دو دنوں سے تین ویڈیوز کے بوجھ تلے دبا ہوا ہوں اور سچ پوچھیں تو یہ ویڈیوز نہیں تھیں، یہ اس ملک کے نظام کی کھلی کتاب تھیں، ایسی کتاب جس کے ہر صفحے پر ایک ہی جملہ لکھا تھا "یہ ملک عوام کا نہیں، مراعات یافتہ طبقے کا ہے"۔

پہلی ویڈیو لاہور کے ایک مصروف شاپنگ سینٹر کے باہر کی تھی۔ سرکاری نمبر پلیٹ والا ویگو ڈالا، پولیس کا باوردی ڈرائیور، ساتھ مسلح گارڈ۔ صحافی نے سوال کیا "صاحب کہاں ہیں؟" جواب آیا "صاحب نہیں، صاحب کی بیگم شاپنگ کرنے آئی ہیں"۔

دوسری ویڈیو میں ایک سرکاری کرولا تھی۔ ڈرائیور سے پوچھا گیا "صاحب کہاں ہیں؟" جواب ملا "میں صاحب کے بچے کو سکول سے لینے آیا ہوں"۔

تیسری ویڈیو، وہی کہانی، صرف الفاظ بدلے "بیگم صاحبہ سوٹ لینے آئی ہیں"۔

یہ تینوں ویڈیوز دیکھنے کے بعد ایک سوال میرے ذہن میں بار بار گونجتا رہا: کیا واقعی یہ ریاست عوام کے ٹیکس سے چلتی ہے یا یہ کسی اشرافیہ کی ذاتی جاگیر بن چکی ہے؟

ہمیں روز بتایا جاتا ہے کہ ملک مشکل معاشی حالات سے گزر رہا ہے۔ ہمیں کہا جاتا ہے کہ پیٹرول بچائیں، بجلی کم کریں، اخراجات محدود کریں۔ لیکن انہی دنوں میں سرکاری گاڑیاں، سرکاری ڈرائیور اور سرکاری پیٹرول، بیگمات کی شاپنگ اور بچوں کی سکول سے پک اینڈ ڈراپ سروس میں لگے ہوئے ہیں۔

یہ کوئی ایک واقعہ نہیں، یہ ایک سوچ ہے۔

یہ وہ سوچ ہے جو کہتی ہے "ریاستی وسائل ہمارے لیے ہیں، عوام صرف انہیں بھرنے کے لیے ہے"۔

اب ذرا دنیا کی طرف چلتے ہیں۔

امریکہ میں 2017ء میں ایک بڑا اسکینڈل سامنے آیا۔ امریکی وزیر صحت ٹام پرائس نے سرکاری کام کے لیے نجی طیارے استعمال کیے۔ قانونی طور پر شاید اس کی کچھ گنجائش تھی، لیکن جب یہ سامنے آیا کہ اس سے حکومت کو لاکھوں ڈالر کا نقصان ہوا، تو عوامی ردعمل شدید تھا۔ میڈیا نے سوال اٹھائے، اپوزیشن نے دباؤ ڈالا اور بالآخر ٹام پرائس کو استعفیٰ دینا پڑا۔

یہاں غور کرنے کی بات یہ ہے کہ یہ معاملہ صرف "غلطی" نہیں سمجھا گیا بلکہ عوام کے پیسے کے ضیاع کے طور پر دیکھا گیا۔

اسی طرح امریکہ میں 2012ء میں ایک ریاستی افسر نے سرکاری گاڑی کو ذاتی کاموں کے لیے استعمال کیا خریداری، فیملی کے کام اور روزمرہ کے ذاتی سفر۔ جب یہ بات سامنے آئی تو اس پر باقاعدہ انکوائری ہوئی۔ نتیجہ؟

نوکری ختم، جرمانہ اور سروس ریکارڈ تباہ۔

امریکہ میں قانون صاف کہتا ہے: سرکاری وسائل ذاتی استعمال کے لیے نہیں ہیں اور اگر آپ ایسا کرتے ہیں تو یہ بدعنوانی ہے۔

اب برطانیہ کی ایک مثال دیکھیں۔ 2009ء میں "پارلیمانی اخراجات اسکینڈل" سامنے آیا۔ اس میں کئی ارکان پارلیمنٹ نے سرکاری فنڈز کو ذاتی اخراجات کے لیے استعمال کیا کسی نے گھر کی مرمت، کسی نے ذاتی سامان، حتیٰ کہ کسی نے ٹی وی اور فرنیچر تک سرکاری پیسے سے خرید لیا۔

نتیجہ کیا نکلا؟ کئی ارکان کو استعفیٰ دینا پڑا، کچھ کو جیل ہوئی اور تقریباً سب کو عوام کے سامنے جواب دینا پڑا۔

یہ وہ ممالک ہیں جہاں قانون صرف کتابوں میں نہیں، عملی زندگی میں نظر آتا ہے۔

اب سنگاپور کی طرف آتے ہیں ایک ایسا ملک جسے کرپشن کے خلاف زیرو ٹالرنس کی علامت سمجھا جاتا ہے۔

2014ء میں سنگاپور کے ایک سرکاری افسر کو اس بات پر سزا دی گئی کہ اس نے سرکاری وسائل کو ذاتی فائدے کے لیے استعمال کیا۔ یہ استعمال شاید ہمارے معیار کے مطابق "چھوٹا" تھا، لیکن وہاں قانون نے اسے بڑا جرم سمجھا۔

نتیجہ؟ عدالتی کارروائی، جرمانہ اور قید۔

اسی طرح 2020ء میں ایک اور کیس سامنے آیا جہاں ایک سرکاری اہلکار نے اپنی پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ذاتی سہولتیں حاصل کیں۔ اینٹی کرپشن ایجنسی نے فوری کارروائی کی، کیس عدالت میں گیا اور اسے سزا سنائی گئی۔

سنگاپور کا اصول بہت واضح ہے: ریاستی وسائل عوام کی امانت ہیں اور امانت میں خیانت کی کوئی گنجائش نہیں۔

اب واپس پاکستان آتے ہیں اور دل خود بخود بوجھل ہو جاتا ہے۔ یہاں سرکاری گاڑی ایک سہولت نہیں، ایک اسٹیٹس سمبل ہے۔ یہاں سرکاری ڈرائیور ایک ملازم نہیں، خاندانی خدمتگار بن جاتا ہے۔ یہاں سرکاری پیٹرول ایک محدود وسیلہ نہیں، بلکہ ایک کھلا خزانہ سمجھا جاتا ہے اور سب سے بڑی بات یہ سب کچھ "معمول" بن چکا ہے۔

سوشل میڈیا پر کسی نے افسر شاہی پر ایک طنزیہ جملہ لکھا تھا "ہم سی ایس ایس پاس کرکے آئے ہیں، اب ہمارے بیوی بچوں کو بھی عوام پالے گی"۔

یہ جملہ صرف ایک جملہ نہیں، یہ ایک ذہنیت ہے اور یہی ذہنیت اس ملک کے مسائل کی جڑ ہے۔

سوال یہ نہیں کہ یہ سب کیوں ہو رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اسے روکے گا کون؟

جب اوپر احتساب نہیں ہوتا، تو نیچے بے لگامی پیدا ہوتی ہے۔ جب حکمران خود پروٹوکول اور مراعات میں ڈوبے ہوں، تو افسر شاہی کیوں پیچھے رہے؟

اسی طرح میں نے سوشل میڈیا پر وزیراعظم صاحب کے ایک مشیر کے بیٹے کو بغیر کسی عہدے کے پولیس پروٹوکول کے ساتھ شادیوں اور فوتگیوں میں دیکھا یہ صرف ایک واقعہ نہیں، یہ ایک علامت ہے۔

یہ اس بات کی علامت ہے کہ اس ملک میں طاقت کا استعمال قانون کے مطابق نہیں بلکہ حیثیت کے مطابق ہوتا ہے۔

یہ ایک "شاہی نظام" کی جھلک ہے جہاں عہدے سے زیادہ تعلقات اہم ہوتے ہیں۔

دنیا کے ترقی یافتہ ممالک نے ایک اصول اپنایا: قانون سب کے لیے برابر۔

ہم نے ایک اصول اپنایا: قانون کمزور کے لیے سخت، طاقتور کے لیے نرم۔

جب تک یہ اصول تبدیل نہیں ہوگا، کچھ نہیں بدلے گا۔

آج عوام مہنگائی سے پریشان ہے، پیٹرول کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں، لیکن اسی وقت سرکاری گاڑیاں شاپنگ سینٹرز کے باہر کھڑی ہیں، انجن چل رہا ہے، اے سی آن ہے اور اندر خریداری جاری ہے۔

یہ صرف مالی نقصان نہیں، یہ اعتماد کا قتل ہے۔ ریاست اور عوام کے درمیان جو رشتہ ہوتا ہے، وہ اعتماد پر قائم ہوتا ہے اور جب عوام کو یہ محسوس ہو جائے کہ ان کے ٹیکس کا پیسہ ان کی فلاح کے بجائے کسی کی ذاتی آسائش پر خرچ ہو رہا ہے، تو وہ رشتہ ٹوٹ جاتا ہے۔

آخر میں ایک سیدھا سوال: کیا ہم واقعی ایک جمہوری ریاست ہیں؟ یا ہم صرف ایک ایسے نظام میں جی رہے ہیں جہاں نام جمہوریت کا ہے لیکن طرز زندگی بادشاہوں والا ہے؟

جب تک اس سوال کا ایماندار جواب نہیں دیا جائے گا۔ تب تک سرکاری گاڑیاں اسی طرح شاپنگ سینٹرز کے باہر کھڑی رہیں گی اور عوام اسی طرح اپنے ہی پیسوں پر ہونے والی عیاشیوں کو دیکھ کر کڑھتی رہے گی۔

Check Also

Operation Bunyan Ul Marsoos (4)

By Javed Chaudhry