Arz e Muqadas Aur Yahoodi
ارضِ مقدس اور یہودی

تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ جب 70 عیسوی میں رومی جنرل ٹائٹس نے یروشلم پر حملہ کیا تو شہر جل رہا تھا، ہیکل سلیمانی مسمار ہو چکی تھی اور یہودی جلاوطن ہو رہے تھے۔ اس وقت عیسائی خوش تھے، اس لیے کہ وہ یہودیوں کو حضرت عیسیٰؑ کے انکار اور ان کے خلاف سازشوں کی سزا سمجھتے تھے۔ یہ وہ لمحہ تھا جب یہودی اور عیسائی دشمنی کھل کر سامنے آئی۔ دونوں ایک دوسرے کو خدا کے غضب کی علامت سمجھتے تھے۔ یہ دشمنی صدیوں تک جاری رہی، خون بہا، بستیاں اجڑیں اور تاریخ کے کئی ابواب سیاہ ہو گئے۔
لیکن آج، دو ہزار سال بعد، ہم ایک عجیب منظر دیکھ رہے ہیں۔ وہی عیسائی دنیا اور وہی یہودی ریاست ایک دوسرے کے ساتھ کھڑی ہیں اور ان کا مشترکہ مخالف مسلمان ہے۔ غزہ جل رہا ہے، بچے دفن ہو رہے ہیں، مگر اتحاد قائم ہے۔ یہ منظر نیا نہیں، یہ وہی حقیقت ہے جس کی نشاندہی قرآن اور رسولِ اکرم ﷺ نے صدیوں پہلے کر دی تھی۔
یہ بحث اس وقت دوبارہ زندہ ہوئی جب اسرائیل میں امریکہ کے سفیر Mike Huckabee نے ایک انٹرویو میں کہا کہ اسرائیل کو نہ صرف فلسطین بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ پر حق حاصل ہے، اس لیے کہ بائبل کے مطابق یہ زمین اللہ نے حضرت ابراہیمؑ کی نسل کو دی تھی۔ یہ بیان سفارتی نہیں، نظریاتی تھا۔ یہ بندوق کے ساتھ مذہب کو جوڑنے کی کوشش تھی۔
سوال یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ارضِ مقدس کا وعدہ کب کیا، کن شرائط پر کیا اور وہ وعدہ کیسے ختم ہوا؟
قرآنِ کریم ہمیں بتاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ارضِ مقدس میں داخل ہونے کا حکم حضرت موسیٰؑ کے ذریعے دیا۔ یہ وعدہ موجود تھا، لیکن قرآن نے اسے کبھی نسلی حق قرار نہیں دیا۔ یہ وعدہ ایک ذمہ داری تھا، ایک آزمائش تھی۔ شرط یہ تھی کہ اللہ کی اطاعت کی جائے، نبی کی قیادت کو مانا جائے، ظلم نہ کیا جائے اور دشمن کے سامنے بزدلی نہ دکھائی جائے۔ لیکن بنی اسرائیل ان شرائط پر پورا نہ اتر سکے۔ قرآن خود گواہ ہے کہ انہوں نے جہاد سے انکار کیا اور حضرت موسیٰؑ سے کہا کہ تم اور تمہارا رب جا کر لڑو، ہم یہیں بیٹھے ہیں۔ یہ جملہ تاریخ میں صرف ایک مکالمہ نہیں، ایک قوم کے زوال کی علامت ہے۔
اللہ تعالیٰ کا فیصلہ آیا کہ یہ زمین چالیس سال تک ان پر حرام ہے۔ یہاں ایک بنیادی حقیقت سامنے آتی ہے: وعدہ ختم نہیں ہوا، لیکن اطاعت ختم ہوتے ہی حق معطل ہوگیا۔ اسلام کے نزدیک زمین کسی قوم کی دائمی ملکیت نہیں، یہ اللہ کی امانت ہے۔
یہودی ارضِ مقدس سے مسلمانوں کے ہاتھوں نہیں نکلے۔ یہ بات بار بار دہرانا ضروری ہے کیونکہ جدید بیانیہ تاریخ کو مسخ کرتا ہے۔ یہودیوں کو بابل کے بادشاہ نے نکالا، رومیوں نے جلاوطن کیا اور عیسائی سلطنتوں نے صدیوں تک انہیں یورپ میں دربدر رکھا۔ مسلمانوں نے جب یروشلم فتح کیا تو یہودیوں کو پہلی مرتبہ مذہبی آزادی ملی۔ حضرت عمرؓ کے عہد میں انہیں شہر میں رہنے کی اجازت دی گئی۔ یہ حقیقت آج کے شور میں دب جاتی ہے۔
اسلامی مؤقف واضح ہے زمین کا تعلق ایمان اور عدل سے ہے، نسل سے نہیں۔ قرآن کہتا ہے کہ زمین کے وارث نیک بندے ہوتے ہیں۔ یہی اصول بنی اسرائیل پر بھی لاگو ہوا اور یہی اصول مسلمانوں پر بھی لاگو ہے۔
اب ہم اس آیت کی طرف آتے ہیں جسے سیاق و سباق سے کاٹ کر پیش کیا جاتا ہے یہود و نصاریٰ تمہارے دوست نہیں ہو سکتے۔ قرآن یہاں فرد کی بات نہیں کرتا، یہ اجتماعی سیاسی رویے کی بات کرتا ہے۔ تاریخ اس کی تصدیق کرتی ہے۔
یہودیوں اور عیسائیوں کے درمیان شدید مذہبی دشمنی رہی ہے۔ یہودیوں نے حضرت عیسیٰؑ کو نبی ماننے سے انکار کیا اور انہیں مصلوب کرنے کی کوشش کی۔ عیسائی دنیا نے اس کا بدلہ صدیوں تک یہودیوں کو ستا کر لیا۔ یورپ کی تاریخ یہودی قتلِ عام سے بھری پڑی ہے۔
چوتھی صدی میں جب عیسائیت رومی سلطنت کا سرکاری مذہب بنی تو یہودیوں پر پابندیاں لگنا شروع ہوگئیں۔ انہیں سرکاری عہدوں سے نکالا گیا، عبادت گاہیں محدود ہوئیں اور انہیں "قاتلانِ مسیح" کہہ کر معاشرتی طور پر الگ کر دیا گیا۔ یہ سب تاریخ کی مستند کتابوں میں درج ہے۔
پانچویں سے پندرہویں صدی تک یورپ میں یہودیوں پر ظلم کی ایک طویل داستان ملتی ہے۔
صلیبی جنگوں کے دوران ہزاروں یہودی قتل کیے گئے، جرمنی اور فرانس میں یہودی بستیاں جلائی گئیں، 1492 میں اسپین سے یہودیوں کو مکمل طور پر نکال دیا گیا۔ یہ سب کچھ کسی مسلمان نے نہیں کیا۔ یہ عیسائی یورپ کی تاریخ ہے۔
اس سب کے باوجود، آج ہمیں یہ بتایا جا رہا ہے کہ یہودی اور عیسائی فطری اتحادی ہیں۔ سوال یہ ہے یہ اتحاد کب اور کیسے بنا؟
اس سوال کا جواب ہمیں مذہب میں نہیں، سیاست میں ملتا ہے۔
لیکن رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا کہ ان کے آپس میں جتنے بھی اختلافات ہوں، یہ تمہارے خلاف اکٹھے ہوں گے۔ آج ہم اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔
غزہ ہو یا عراق، افغانستان ہو یا شام، جب بات مسلمانوں کی آتی ہے تو اختلافات ختم ہو جاتے ہیں۔ امریکہ اور اسرائیل ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہیں اور یورپ خاموش شریک۔ یہ اتحاد عقیدے کا نہیں، مفاد کا ہے، مگر رخ ایک ہی طرف ہے۔
مائیک ہکابی کا بیان اسی اتحاد کی علامت ہے۔ جب ایک سفیر بائبل کی بنیاد پر پورے مشرقِ وسطیٰ پر قبضے کا جواز پیش کرے تو یہ صرف ایک بیان نہیں رہتا، یہ مستقبل کی پالیسی کا اشارہ بن جاتا ہے۔ اگر مذہب کو اس طرح سیاست میں استعمال کیا گیا تو دنیا امن نہیں، تصادم کی طرف جائے گی۔
اسلام ہمیں نفرت نہیں سکھاتا، لیکن غفلت کی اجازت بھی نہیں دیتا۔ ارضِ مقدس کسی کی جاگیر نہیں، یہ اللہ کی امانت ہے اور امانت ہمیشہ عدل مانگتی ہے، طاقت نہیں۔
تاریخ کا سب سے بڑا سبق یہی ہے کہ جو قوم خدا کے نام پر ظلم کرتی ہے، وہ وقتی طور پر طاقتور ہو سکتی ہے، مگر آخرکار جواب دہی سے نہیں بچ سکتی اور تاریخ ہمیشہ بندوق کی زبان نہیں بولتی، کبھی کبھی یہ خاموشی سے فیصلہ سنا دیتی ہے۔
اور شاید اصل المیہ یہ نہیں کہ ارضِ مقدس پر کس کا دعویٰ ہے، اصل المیہ یہ ہے کہ ہم نے خدا کو بھی فریق بنا لیا ہے۔ ہر قاتل کے ہاتھ میں کوئی نہ کوئی مقدس حوالہ ہے، ہر بم کے پیچھے کوئی نہ کوئی آیت یا آیت کی تشریح کھڑی ہے اور ہر لاش کے اوپر کوئی نہ کوئی "خدائی وعدہ" لہرایا جا رہا ہے۔ تاریخ چیخ چیخ کر بتا رہی ہے کہ جب مذہب انصاف سے جدا ہو جائے تو وہ عبادت نہیں رہتا، جواز بن جاتا ہے اور جواز کے ساتھ ظلم ہمیشہ باوقار لگنے لگتا ہے۔
غزہ کے ملبے تلے دبے بچے ہم سے یہ نہیں پوچھتے کہ بائبل کیا کہتی ہے یا تورات کس کی تفسیر ہے، وہ صرف یہ سوال کرتے ہیں کہ کیا خدا واقعی اس سب سے خوش ہے؟ اور شاید یہی وہ سوال ہے جس کا جواب نہ وائٹ ہاؤس کے پاس ہے، نہ تل ابیب کے پاس، نہ ہمارے نعروں میں، بلکہ صرف تاریخ کے کٹہرے میں محفوظ ہے، جہاں ایک دن سب کو کھڑا ہونا ہے، بغیر ہتھیار، بغیر اتحادی اور بغیر مقدس جواز کے۔

