1.  Home
  2. Blog
  3. Muhammad Saqib
  4. General Sahib Aur Razi Ba Raza (2)

General Sahib Aur Razi Ba Raza (2)

جنرل صاحب اور راضی بہ رضا (2)

لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) معین الدین حیدر کی زندگی کے رنگا رنگ گوشوں میں مزید جھانکتے ہیں۔ کہتے ہیں اللہ تعالی کی نظر کرم اور عنایت ہمیشہ ان کے ساتھ رہی۔ ایک بار کیریئر میں ایسا لگا کہ پروگریس کچھ سست پڑ گئی ہے۔ فیملی میں اس بارے میں بات چیت ہوتی تھی لیکن کچھ ہی مہینوں بعد ان کا نام لندن میں قائم شدہ رائل کالج آف ڈیفنس سٹڈیز کے لیے منتخب ہوتا ہے۔ زندگی کا بہترین وقت وہاں پر گزارتے ہیں۔ ان کا سینٹرل ایشیا، روس اور ایران پر لکھا ہوا تحقیقی مقالہ نمایاں حیثیت سے شائع ہوتا ہے۔ فاطمید فاؤنڈیشن سے وابستگی یقینا خدا کی عطا ہے۔ کہتے ہیں ثاقب صاحب کامیابی کے سفر میں پہلا قدم ضبط نفس ہے۔ خاموش رہنے کا فن سیکھنا اور تول کر بات کرنا۔

اکبر بادشاہ کی مشہور حکایت یاد آگئی۔ اکبر بادشاہ نے ایک دفعہ خواب دیکھا کہ اس کے سب دانت گر گئے ہیں اس نے تعبیر جاننے والے کو بلایا اور تعبیر پوچھی معبر نے عرض کی کہ بادشاہ سلامت اس خواب کا مطلب یہ ہے کہ آپ کے سب گھر والے آپ کی آنکھوں کے سامنے فوت ہو جائیں گے۔

بادشاہ بہت پریشان ہوا ایک اور معبر سے پوچھا اس نے بھی یہی تعبیر بتائی جتنے معبر تھے سب سے پوچھا سب نے یہی تعبیر بتائی بادشاہ پریشانی کے عالم میں ٹہل رہا تھا کہ اس کے وزیر بیر بل نے دیکھا تو پوچھا بادشاہ سلامت کیا ہوا بادشاہ نے ماجرہ سنایا تو بیر بل بولا حضور یہ سب آپ کو غلط تعبیر بتا رہے ہیں بادشاہ کی آنکھوں میں روشنی چمکی کیا واقعی جی بادشاہ سلامت آپ کے خواب کی تعبیر یہ ہے کہ اللہ پاک آپ کو اپنے سب گھر والوں سے زیادہ لمبی عمر عطا فرمائیں گے۔

اکبر بادشاہ یہ سن کر بے اختیار واہ کیے بغیر نہ رہ سکا۔ اس کی پریشانی بھی جاتی رہی جیسے پہلے وہ خواہ مخواہ ہی پریشان ہو رہا تھا۔

اس طریقے سے ہر بات کا مثبت پہلو تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ فاطمید فاؤنڈیشن کے بارے میں بریف کیا کہ پورے پاکستان میں اس کے 10 سینٹرز ہیں اور 400 لوگ یہاں پر کام کر رہے ہیں۔ ہر روز سینکڑوں بچوں کو ان سینٹرز میں خون لگایا جاتا ہے۔ مزید بتایا کہ ہر سال تھیلیسیمیا کے 50 ہزار نئے کیسز سامنے آتے ہیں۔

شادی سے پہلے ایک چھوٹے سے ٹیسٹ کے ذریعے اس بیماری کو قابو کیا جا سکتا ہے۔ سعودی عرب، ایران اور اٹلی نے اس مرض پر کامیابی سے قابو پا لیا ہے۔

تھیلیسیمیا سے متاثرہ بچوں کی قوت ارادی کے جنرل صاحب گرویدہ ہیں۔ یہ بچے تعلیمی میدان میں جھنڈے گاڑ رہے ہیں۔ ڈاکٹرز، آئی ٹی سپیشلسٹ، انجینیئرز، فنکار کھلاڑی غرض ہر فیلڈ میں آپ کو تھیلیسیمیا سے متاثرہ بچے نظر آئیں گے۔

وقت سے چھین لاؤں گا
میں اپنے حصے کی جیت

وہ دور ہی کیا جو
میرے قبضے میں نہ رہے

تھیلیسیمیا سے متاثرہ ان بچوں کی اوسط عمر میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ لندن میں انہوں نے 51 سال عمر کے ایک متاثرہ شخص کو دیکھا۔ پاکستان میں بھی اوسط عمر اب 30 سال کو کراس کر چکی ہے۔

ایک بچے کو خون چڑھانے کے ایک سیشن میں تقریبا 15 ہزار کا خرچ آتا ہے اور ہر متاثرہ بچہ ایک ماہ میں خون چڑھانے کے مراحل سے دو سے تین بار گزرتا ہے۔

ہمیں بحیثیت قوم شادی سے پہلے تھیلیسیمیا کے ٹیسٹ کروانے کے رجحان کی حوصلہ افزائی کرنی ہوگی۔ اس گھمبیر مسئلے کا حل اس کی جڑوں کو کاٹنے میں پوشیدہ ہے۔

جنرل صاحب کی شریک حیات ایک بزنس مین فیملی سے تعلق رکھتی تھیں۔ شادی کے بعد محدود تنخواہ میں گزارا کرنا ایک چیلنج تھا۔ نظم و ضبط کے سانچے میں ڈھلی ہوئی اس خاتون کا صبر مثالی تھا اور جنرل صاحب کی کامیابیوں میں ان کی شریک سفر کا خاص ہاتھ رہا۔

اپنے سیالکوٹ پوسٹنگ کے دنوں کا حوال بیان کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ ہماری فیملی سیالکوٹ کے مشہور چکڑ چھولے شوق سے کھاتی تھی مہینے کے شروع کے دنوں میں پیسے ہوتے تھے تو چھولوں کے ساتھ چکن پیس بھی لے لیتے تھے مہینے کے آخری دنوں میں دکاندار کو کہتے تھے کہ بھائی صرف سادہ چھولے ہی دے دو۔ بڑے عہدے کے ساتھ سادگی اور درویشی۔

زندگی میں توازن کی اہمیت پر زور دیا۔ کام اور ہر رشتے کو مناسب وقت دیا جائے۔ کسی کام کو حقیر نہ جانا جائے۔ کوئی سکل سیکھی جائے۔

الطاف حسین حالی نے فرمایا

کمال کشف دوزی علم افلاطون سے بہتر ہے

آج اس محاورے کا معنی اس طرح بنتا ہے کہ ایک بے روزگار پی ایچ ڈی سے کام کرنے والا موچی بہتر ہے۔

جنرل صاحب سکول کے ایام سے ہی مطالعے کے شوقین رہے اور اردو اور انگلش لٹریچر کے تمام قابل ذکر مصنفین کی کتابیں ان کے زیر مطالعہ رہیں۔ اپنی خود نوشت پر بھی کام کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں محنت کا کوئی متبادل نہیں۔

فیصلہ سازی کی صلاحیت انسان کو آگے لے کر جاتی ہے اور خاص بات یہ ہے کہ انسان کی پہچان ایک اچھے شخص کی حیثیت سے ہونی چاہیے۔

ڈاکٹر امجد ثاقب کہتے ہیں، سب سے بڑی غربت تو امید کا مٹ جانا ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے مزید بیان کیا کہ یہ کوئی اور (اللہ تعالی) ہی ہے جو بلندیوں سے ہمکنار کرتا ہے۔

جنرل صاحب نے بچوں اور نوجوانوں کی حوصلہ افزائی پر زور دیا۔ کہتے ہیں لیڈر دو کام کرتا ہے پہلا کام خواب دیکھنا ہے جسے آج کی زبان میں وژن کہتے ہیں۔ دوسرا کام اپنے خواب سے عشق ہے یعنی وہ اپنے خواب کی تعبیر کے لیے اپنے آپ کو وقف کر دیتا ہے۔

کوہ کن کیا پہاڑ توڑے گا
عشق نے زور آزمائی کی

جنرل صاحب کی شریک حیات اب اس دنیا میں نہیں لیکن اپنی زندگی میں انہوں نے تین سکولوں کو گود لیا تھا۔ کچھ عرصے بعد جنرل صاحب نے بھی تین سکولوں کو گود میں لے لیا اور آج وہ پسماندہ علاقوں میں قائم ان چھ سکولوں کو چلانے میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ کہنے لگے ثاقب صاحب ان سکولوں میں مزدوروں ماسیوں کے بچوں اور بچیوں کے لیے انتہائی معیاری علمی ماحول مہیا کیا گیا ہے اور جب یہ غریب بچے اعلی نمبرز لیتے ہیں تو احساس ہوتا ہے کہ پاکستان کا مستقبل محفوظ ہے۔

جنرل صاحب کی زندگی ہمیں یہ پیغام دے رہی ہے کہ اگر کوئی شخص یہ فیصلہ کر لے کہ اسے کیسی زندگی گزارنی ہے تو کیا کوئی شخص اسے روک سکتا ہے اور یہ کہ اللہ تعالی کی نعمتوں کا شکر ادا کرنے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ اس کی عطا کردہ صلاحیتوں کو لوگوں کی مفاد میں استعمال کیا جائے۔

آج 2024 میں 82 سال کی عمر میں بھی جنرل صاحب صبح کا آغاز ورزش سے کرتے ہیں اور ان کی ٹائم مینجمنٹ کی مثالیں دی جاتی ہیں۔ جنرل صاحب سے اگلی ملاقات کے بعد ان کی زندگی کے کچھ مزید گوشے آپ کے ساتھ شیئر کریں گے۔

Check Also

Out Of The Box

By Javed Chaudhry