Tuesday, 05 March 2024
  1.  Home/
  2. Blog/
  3. Mubashir Ali Zaidi/
  4. Sab Se Khoobsurat Larki

Sab Se Khoobsurat Larki

سب سے خوبصورت لڑکی

وہ ہمارے خاندان کی سب سے خوبصورت لڑکی تھی۔ شہابی رنگ، آہو چشم، کمر سے نیچے تک زلفیں۔ میں نے بس ایک بار کسی موقع پر اس کی جھلک دیکھی تھی اور دنگ رہ گیا تھا۔ میں محض خوبصورتی سے متاثر نہیں ہوتا۔ اس کے حسن میں سادگی اور شخصیت میں ایک وقار تھا۔

میں لڑکپن میں بہت شرمیلا ہوتا تھا۔ اسکول، محلے یا خاندان میں اپنی جنریشن کی کسی لڑکی سے شاید ہی کبھی بات کی ہو۔ نہ کسی کا نام یاد رہتا تھا، نہ چہرہ۔ اس کی ایک جھلک بھی دھندلا گئی۔

ایک بار گھر میں میری بہنیں بات کررہی ہیں۔ یاد نہیں کس بات پر اس کا ذکر آیا۔ بہنوں نے بتایا کہ وہ نہ صرف بہت خوبصورت ہے بلکہ اسے کمال کی فیشن سینس ہے۔ لیکن شوخ نہیں ہے۔ پڑھی لکھی ہے، حسین ہے اور سہیلیوں میں بھی زیادہ بات نہیں کرتی، اس لیے گمان ہوتا ہے کہ نخرے والی ہے۔

میں نے وہ گفتگو دلچسپی سے نہیں سنی۔ میری منگنی کہیں اور ہوچکی تھی، اس کی کہیں اور۔ میں اپنی زندگی سے مطمئن تھا، وہ اپنی زندگی سے ہوگی۔ میں کچھ اور قسم کے خواب دیکھ رہا تھا، وہ کچھ اور طرح کے دیکھتی ہوگی۔

پھر ایک دن میری منگنی ٹوٹ گئی۔ اس لڑکی کو میں پسند نہیں تھا۔ وہ کسی اور کو پسند کرتی تھی۔ مجھے نہ منگنی ہونے پر کوئی خوشی ہوئی تھی، نہ ٹوٹنے پر افسوس ہوا۔ اچھا ہوا کہ میں دو محبت کرنے والوں کے بیچ سے نکل گیا۔ لو ٹرائی اینگل برموڈا ٹرائی اینگل جیسی ہوتی ہے۔ اس سے بچنا چاہیے۔

پھر ایک عجیب واقعہ ہوا۔ خاندان کی سب سے خوبصورت لڑکی کی شادی سے ایک دن پہلے ایک رشتے دار خاتون کا انتقال ہوگیا۔ میں اس شادی میں جانے کے لیے نئی شرٹ خرید کے لایا تھا۔ خبر سن کر میں نے سوچا، پتا نہیں کل شادی ہوگی یا نہیں۔

شادی ٹل گئی، لیکن اس کی وجہ کچھ اور تھی۔ مرنے والی خاتون ایک گھر میں کرائے دار تھیں۔ موت میں یہ ذکر آیا کہ کل خاندان میں ایک شادی ہے۔ مالک مکان کی بیٹی نے پوچھا، کس کی؟ جواب دیا گیا کہ فلاں لڑکی کی، فلاں آدمی سے۔ مالک مکان کی بیٹی نے چونک کر کہا، فلاں آدمی تو شادی شدہ ہے۔ اس کی بیوی بیرون ملک وہیں رہتی ہے جہاں میری بہن ہے۔

میری منگنی ٹوٹنے کے ایک ماہ بعد خاندان کی سب سے خوبصورت لڑکی کی منگنی بھی ٹوٹ گئی۔

پھر امی بابا نے مجھ سے پوچھے بغیر وہاں رشتہ دے دیا۔ مجھے یہ بات پسند نہیں آئی۔ اس لیے نہیں کہ اس لڑکی میں کوئی کمی تھی۔ اس لیے کہ میں کسی قابل نہیں تھا۔ بابا ریٹائر ہوچکے تھے اور میں ایکسپریس میں معمولی سی ملازمت کرتا تھا۔ میری تنخواہ اور بابا کی پنشن سے گھر مشکل سے چلتا تھا۔ مجھے سو فیصد یقین تھا کہ انکار ہوجائے گا۔ لیکن اس کی والدہ نے کہا، استخارہ کروالیتے ہیں۔

سہہ پہر کا وقت تھا۔ میں دفتر میں تھا جب گھر سے فون آیا کہ استخارہ آگیا ہے۔ لیکن یہ ادھوری خبر تھی۔ اس روز منگل تھا۔ امی نے کہا، بیٹے اتوار کو شادی ہے۔

کیا؟ پانچ دن بعد؟ امی میرے پاس پیسے نہیں ہیں۔ دفتر سے چھٹی نہیں ملے گی۔ رمضان میں شادی کون کرتا ہے؟

یاد نہیں امی نے کیا جواب دیا۔ ایکسپریس نیا نیا نکلا تھا۔ تین مہینے ہوئے تھے۔ صرف ایک ہفتے کی چھٹی ملی۔ ہفتے کی رات بارہ بجے تک کام کیا اور طارق روڈ سے چند پینٹیں شرٹیں خرید کر گھر پہنچا۔ سسرال والے دو بجے مہندی لائے۔ اگلی شام ہم دلہن گھر لے آئے۔

فلمیں دیکھنے کا شوق تھا۔ یہ علم نہیں تھا کہ اپنی شادی بھی فلمی ہوگی۔

***

میں نے کئی سال پہلے اس دن کی یاد ان الفاظ میں لکھی تھی۔

ایک سال 14 رمضان کو، کہ جب برادرانِ اسلام نے روزہ رکھا، اِس ناچیز نے نکاح رکھ لیا۔ اور اُس شام کہ جب پرہیز گاروں نے کھجور سے روزہ کھولا، اِس فقیر کے باراتیوں نے چھوہارے سے افطار کیا۔ اور اُن لمحات میں کہ جب پورے چاند کی چاندنی آنگن میں اُتر رہی تھی، اِس دیوانے کے گھر میں دلہن اُتری۔ اور اُن ساعتوں میں کہ جب تہجد گزار شبینہ پڑھ رہے تھے، یہ گناہ گار بھی شبینہ پڑھ رہا تھا۔

***

امی اور بابا آپس میں کزن تھے، زندگی اچھی گزری لیکن خوشگوار نہیں۔ پانچ بچے پیدا ہوئے لیکن ذہنی ہم آہنگی کبھی پیدا نہیں ہوئی۔ اس سے میں نے یہ سیکھا کہ جب اپنی شادی ہوگی تو بیوی کا ذہن پڑھوں گا اور ہم آہنگی پیدا کروں گا۔ لیکن ایک دن بھی یہ کوشش نہیں کرنا پڑی۔ مجھے ایسا لگا جیسے آرڈر پر مال تیار ہوتا ہے، ویسے اللہ میاں نے اپنے کارخانے میں میرے مزاج اور خیالات کے مطابق ایک لڑکی بنائی اور چونکہ میں افسانے لکھتا ہوں، اس لیے کچھ افسانوی حالات و واقعات کے بعد اسے میری بیوی بنادیا۔

جب کسی شخص کی منگنی ہوتی ہے تو وہ دوسرے شخص سے ایموشنلی اٹیچ ہوجاتا ہے۔ یہ فطری معاملہ ہے۔ لیکن میرے معاملے میں ایسا نہیں تھا۔ میں ذرا پرانے زمانے کا آدمی ہوں۔ شادی کے بعد میں نے نئی نویلی دلہن سے پہلا سوال یہی کیا کہ بی بی، گھر والوں نے پوچھ کر شادی کی ہے یا زبردستی کا فیصلہ سنادیا۔ جواب سن کر تسلی ہوئی۔ وہ بھی پرانے زمانے کی خاتون نکلیں۔

ابتدائی چند ماہ تک ہم دونوں ایک دوسرے کو دیکھ دیکھ کر حیران ہوتے رہے۔ ہر معاملے میں ہماری پسند ایک جیسی، ہر نکتے پر ہمارے خیالات ایک جیسے، ہر شخص کے بارے میں ہماری رائے ایک جیسی۔ کچھ دن پہلے تک ایک دوسرے سے انجانے دو افراد اس قدر ہم مزاج اور ایک جیسی عادتوں والے کیسے ہوسکتے ہیں۔

البتہ اس میں پہلے دن سے بلا کا اعتماد ہے، جس سے میں محروم تھا۔ وہ اعتماد اس نے مجھ میں پھونکا۔ میں جن فیصلوں پر شش و پنج کا شکار ہوتا تھا، ان میں اس کے مشورے کارآمد ثابت ہوئے اور جو کام میں نے اس پر چھوڑا، وہ اس نے زیادہ بہتر طریقے سے انجام دیا۔

ایکسپریس کے مقابلے میں جنگ میں ملازمت کی پیشکش کم پیسوں کی تھی۔ لیکن اس نے کہا، چلے جائیں۔ بڑا ادارہ ہے۔ پیسے بعد میں بڑھ جائیں گے۔ ایک سال بعد میری تنخواہ ڈیوڑھی ہوگئی۔ جیو نے مجھے دبئی بھیجنے کا فیصلہ کیا تو میں اس کے بغیر نہیں جانا چاہتا تھا۔ اس نے کہا، بے فکر ہوکر جائیں۔ اچھا کام کریں گے تو ایک دن ہمیں بلانے کے قابل ہوجائیں گے۔ ایک سال بعد جیو نے مجھے پرمننٹ کیا تو واقعی میں نے اسے بلالیا۔ نئی نئی ڈرائیونگ سیکھی اور رینٹ کی کار لے کر گھر آیا۔ وہ ساتھ بیٹھی اور کہا، بالکل ٹھیک چلارہے ہیں۔ آج دفتر اسی گاڑی میں جائیں۔ اس دن اس کے کہنے پر ہمت کی اور اتنی اچھی ڈرائیونگ کرنے لگا کہ ایک دن اسی کام سے پیسے کماکر گھر چلایا۔

ہم نے بہت اچھا وقت دیکھا اور بہت مشکل حالات بھی۔ میری جیب بھری ہوئی تھی یا خالی، اس کا رویہ ایک سا رہا۔ ایسی عیدیں گزریں جب میں اس کے لیے نئے کپڑے نہ بناسکا۔ اور ایسی بھی کہ اس نے پوچھا، ان چار سوٹوں میں سے کون سا لوں، تو میں نے چاروں خرید لیے۔ اچھے دنوں میں ارمان پورے ہوجائیں تو کمی کے دن بھاری نہیں پڑتے۔

ہاں، پچیس سال میں اس نے ایک ضد کی اور اس کے لیے مجھ سے باقاعدہ لڑائی کی۔ میں جنگ میں تھا اور تنخواہ قلیل تھی۔ بیٹی کو اسکول میں داخل کروانے کا وقت آیا۔ میں نے تنخواہ کے حساب سے محلے کے اسکول کا انتخاب کیا۔ لیکن اس نے زور دیا کہ بیٹی اچھے اسکول جائے گی۔ میں نے کہا، پیسے نہیں ہیں۔ اس نے کہا، میں جاب کرلیتی ہوں۔ امی بیمار تھیں۔ بچے چھوٹے تھے۔ اس کے جاب کرنے سے مسائل ہوتے۔ میں نے پارٹ ٹائم جاب کرلی۔ صبح آٹھ بجے نکلتا اور رات بارہ بجے گھر میں گھستا۔ دو سال یہی معمول رہا۔ سخت وقت تھا لیکن آج خوشی ہوتی ہے کہ بیوی نے صحیح اصرار کیا اور میں نے جائز محنت کی۔

یہ اچھی تعلیم کا ثمر ہے کہ بچوں کو امریکا کے اسکولوں میں ذرا مشکل نہیں ہوئی۔ آج وہ یونیورسٹی میں تعلیم کے ساتھ جاب بھی کررہے ہیں اور جو کچھ باپ فراہم نہیں کرپارہا، اسے خود حاصل کرنے کے قابل ہیں۔

***

میں جملے باز ہوں، اس کی وجہ انچولی کا ماحول تھا۔ جگتیں سن سن کر جگتیں مارنا آگیا۔ لیکن خاموش طبع گھریلو لڑکی نے جملے بازی کب اور کیسے سیکھی، پتا نہیں۔ میری کہانیوں کے بہت سے مکالمے اور سوشل میڈیا کے بہت سے جملے اسی کی دین ہیں۔ کسی موقع پر میں نے مذاق میں بچوں سے کہا کہ آپ کی ماما اس لیے بیک ورڈ ہیں کہ پنڈی میں پیدا ہوئی تھیں۔ فورا جواب آیا، اور آپ کے پاپا پنڈ میں۔

ایک دن میں کراچی میں موٹرسائیکل پر دھول مٹی میں اٹا ہوا گھر آیا۔ بیوی سے کہا، نہانے جارہا ہوں۔ فورا بولی، ٹھہر جائیں، ذرا ڈالر انک والوں کو فون کرکے بلالوں۔ ان کا بھلا ہوجائے۔

ایک مرتبہ بال کٹوا کے گھر آیا تو فرمایا، آج کیا بھیڑ مونڈنے والوں کے ہاتھ لگ گئے تھے؟

ایک دن بیٹے نے پوچھا، ماما آپ کا بلڈ گروپ کیا ہے؟ اس نے کہا، میرا بی پوزیٹو۔ پاپا کا ٹی پوزیٹو۔

میں نے اوپر لکھا کہ شادی کے بعد بیوی سے پہلا سوال کیا کیا تھا۔ جواب میں بیوی نے بھی مجھ سے ایک مشکل سوال کیا۔ یعنی شادی سے پہلے آپ کتنی محبتیں کرچکے ہیں؟ میں نے کہا، میں ویسے بھی جھوٹ نہیں بولتا اور شادی کے پہلے دن تو بالکل جھوٹ نہیں بولنا چاہیے۔ میری پہلی محبت سنڈریلا تھی۔ دوسری انسپکٹر جمشید کی بیٹی فرزانہ۔ تیسری ابن صفی کی جولیانا فٹزواٹر۔ چوتھی فرہاد علی تیمور کی سونیا۔ بیوی نے کہا، بس بس، اسلام میں چار کی اجازت ہے۔ ہم دونوں زور سے ہنسے۔ اسی دن اندازہ ہوگیا تھا کہ ساری زندگی ہنستے ہوئے گزرے گی۔

کسی بھی شوہر کے لیے بیوی کو یہ یقین دلانا مشکل ترین کام ہے کہ وہ اس سے خالص محبت کرتا ہے۔ یہ کام مجھے نہیں کرنا پڑا۔ وہ حج کلاسیں لے رہی تھیں۔ مولانا عون نقوی معلم تھے۔ انھوں نے میری بیوی سے کہا، عام طور پر میاں بیوی ساتھ حج پر جاتے ہیں۔ آپ تنہا کیوں جارہی ہیں؟ اس نے کہا، ہمارے بچے چھوٹے ہیں۔ میرے شوہر نے کہا، بچے میں سنبھال لوں گا، اس سال آپ چلی جائیں۔ میں اگلے سال میں چلا جاوں گا۔ مولانا نے کہا، اس سے زیادہ کوئی شوہر اپنی بیوی سے محبت نہیں کرسکتا کہ پہلے اسے حج پر بھیج دے۔ میں نے ہمیشہ بیوی کی آنکھوں میں محبت دیکھی ہے، لیکن اس دن وہ رنگ گہرا تھا۔

***

پچیس سال کی خوشیوں بھری زندگی میں صرف ایک دن ایسا آیا جب بیوی نے بات ماننے سے انکار کردیا۔

اس ایک دن کے سوا کبھی ایسا نہیں ہوا کہ میں نے کوئی کام کہا ہو اور وہ اس نے پہلی فرصت میں نہ کیا ہو۔ کبھی کہیں چلنے کو کہا تو اسے تیار دیکھا۔ کوئی پریشانی ہوئی تو اسے حوصلہ مند پایا۔

دسمبر 2008 میں اس کے بھائی کی شادی تھی جو چند دن کی چھٹی لے کر کینیڈا سے دلہن بیاہنے آیا تھا۔ باقی بہن بھائی اس سے بڑے ہیں اور ان کی شادیاں پہلے ہوچکی تھیں۔ ہماری شادی کے بعد یہ اس کے میکے کا سب سے بڑا ایونٹ تھا۔ میں جیو میں کام کرتا تھا اور لاکھوں روپے سیلری پارہا تھا۔ شادی سے دس دن پہلے چھٹی بھی لے لی تاکہ اسے کہیں بھی لانے لے جانے کے لیے دستیاب رہوں۔ اسے شہر کی مہنگی ترین دکانوں سے دل کھول کر شاپنگ کروائی۔ بہترین ملبوسات، جوتے اور جیولری دلوائی۔ ہر شام میکے لے جاتا رہا اور شادی سے پہلے کی ہر تقریب، ہر دعوت میں حاضری یقینی بنائی۔

ان دنوں ہماری امی جگر کے کینسر میں مبتلا تھیں۔ ایک دن طبیعت بگڑی تو اسپتال لے جانا پڑا۔ بیوی کو میکے چھوڑ کر اس رات میں اسپتال میں رہا۔ وہ امی کی آخری رات تھی۔ صبح ان کا انتقال ہوگیا۔ اسی شام بیوی کے بھائی کی شادی تھی۔

امروہے والوں کے برعکس، جو ہر موت کا سوگ پورے ایک سال تک مناتے ہیں، میں کسی سوگ کا قائل نہیں۔ کبھی کسی موت کا سوگ نہیں منایا۔ اس دن بھی بیوی سے بہت کہا، اصرار کیا، سختی سے بھی کہا کہ جنازے کے بعد بھائی کی شادی میں چلی جاو، لیکن اس نے میری بات نہیں مانی۔ اس دن اس نے چھوٹی بہن کے بجائے بڑی بہو کا کردار ادا کیا۔ مجھے آج بھی اس بات کا افسوس ہے۔

***

بیوی نے کہا، منت پوری کرنی ہے، دمشق بی بی زینب کے روضے پر جانا ہے۔ میں نے کہا، جیسے کہو۔ اس نے کہا، عمرہ کرنا ہے۔ میں نے کہا، کیوں نہیں۔ وہ بولی، جوانی میں حج کرلیں تو اچھا ہے۔ میں نے کہا، بالکل ٹھیک۔ اس نے خواہش کی، مشہد میں امام رضا کے روضے پر حاضری دینی ہے۔ میں نےکہا، حاضر۔ اس نے پوچھا، کربلا کی زیارت کب کریں گے؟ میں نے کہا، اسی سال۔ جو یار کی مرضی، وہ میری مرضی۔ جو یار کا مذہب، وہ میرا مذہب۔

وہ جانتی ہے کہ مذہب کے بارے میں میرے خیالات کیا ہیں۔ لیکن میں گھر سے نکلتا ہوں تو وہ آیت الکرسی پڑھتی ہے۔ میری طبیعت خراب ہو تو دعائیں پڑھ پھونکتی ہے۔ ہر نماز کے بعد کچھ نہ کچھ میرے لیے بھی مانگتی ہوگی۔ میں البتہ کچھ نہیں مانگتا۔ دہریے کو بھاگوان مل جائے تو کچھ اور مانگنا بنتا نہیں ہے۔

***

ہماری شادی 3 جنوری 1999 کو ہوئی تھی۔ آج 25 سال مکمل ہوگئے۔ ہر سال شادی کی سالگرہ پر بیوی کو کوئی تحفہ دیتا تھا۔ اس بار نوکری نہیں تھی۔ جیب خالی تھی۔ سوچا کہ قلم تو ہے۔ جس کے پاس قلم ہے، اس کی جیب کبھی خالی نہیں ہوتی۔

Check Also

Koi To Rasta Bataye

By Rao Manzar Hayat