1.  Home
  2. Blog
  3. Javed Ayaz Khan
  4. Dil Torna Mana Hai?

Dil Torna Mana Hai?

دل توڑنا منع ہے؟

میرا کالم "پھول توڑنا منع ہے" شائع ہوا تو لوگوں نے بہت پسند کیا اور مجھے دوستوں، بزرگوں اور قارئین کی جانب سے بےشمار ریمارکس بھجواے گئے۔ میرے ایک پرانے بزرگ دوست نے مجھے لکھا جاوید بھائی آپ تو پھول توڑنے سے منع کر رہے ہیں، باغ میں پھل توڑنا منع ہے۔ اسکول میں اصول توڑنا منع ہے۔ کھیل میں رول توڑنا منع ہے۔ مگر یہاں تو لوگ بڑی بے دردی سے ایک دوسرے کا دل توڑ رہے ہیں اور وہ بھی چھوٹی چھوٹی بات پر اس کے مرتکب ہو جاتے ہیں انہوں نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا فرمان بھی لکھا ہے کہ "کسی کا دل توڑ دینا یا کسی کا دل دکھانا اتنا آسان ہے جتنا پانی میں پتھر پھینکنا۔ مگر کسی کو یہ نہیں پتہ کہ اس پتھر کی گہرائی کتنی ہے۔ اس لیے ہمیں کسی کا دل نہیں دکھانا چاہیے"۔

ان کی خواہش اور تجویز ہے کہ کچھ ایسے سائن بورڈ بھی جگہ جگہ لگوا دیں جن پر لکھا ہو کہ "یہاں دل توڑنا منع ہے" گو لوگ اس پیغام کو پڑھ کر دل توڑنا ختم تو نہیں کریں گے البتہ دل توڑتے وقت ایک مرتبہ شاید ضرور سوچیں گے؟ اور ممکن ہے کہ لوگوں کے دل توڑنے میں کچھ کمی ہی آجاے۔

مجھے ان کا مشورہ پسند آیا واقعی دل توڑنا تو ایک گناہ عظیم ہے اور میں خود بھی یہ سمجھتا ہوں کہ کفر اور شرک کے بعد سب سے بڑا گناہ دل آزاری ہوتا ہے خواہ وہ کسی مومن کا ہو یا پھر کسی کافر کا ہی کیوں نہ ہو کیونکہ دل تو آخر دل ہی ہوتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ سائن بوڑد کہاں کہاں آویزاں کریں یہ سمجھ نہیں آتا؟ بات کیونکہ عشق حقیقی سے تعلق رکھتی ہے انسانی دل بڑا نازک ہوتا ہے ذرا ذرا سی معمولی بات پر بھی ٹوٹ جاتا ہے اس لیے خدا ےُ سخن میر ببر علی انیس کہتے ہیں

سدا ہے فکر ترقی بلند بینوں کو
ہم آسمان سے لاے ہیں ان زمینوں کو

خیال خاطر احباب چاہیے ہر دم
انیس ؔ ٹھیس نہ لگ جاے آبگینوں کو

اس لیے مجھے ایک بڑا اچھا اور پرانہ واقعہ یاد آگیا کہتے ہیں ایک دفعہ حضرت خواجہ معین الدین چشتیؒ کے پاس ایک بوڑھا شخص بڑی دور سے پیدل چل کر بڑی محبت سے آپکے لیے کھانا لایا۔ وہ بہت خوش تھا کہ آپ یہ کھانا ضرور کھائیں گے جبکہ اسے معلوم نہ تھا کہ آپ روزے سے ہیں۔ آپ نے اس کا دل رکھنے کیلئے روزہ توڑ دیا۔۔ وہاں موجود ایک شخص نے آپ کو یاد دلایا کہ حضور آپ کا تو آج روزہ تھا۔ آپ نے فرمایا: روزہ توڑنے کا کفارہ ہے لیکن دل توڑنے کا کفارہ نہیں ہوتا۔ اس لیے خیال رکھو کبھی بھی تمہاری وجہ سے کسی کا دل نہ ٹوٹے۔

سبحان اللہ! یہ کیسی برگزیدہ ہستیاں تھیں وہ جن کے نزدیک کسی کا دل ٹوٹنا بھی بہت بڑا گناہ تھا جبکہ ہم روز اس کے مرتکب ہوتے ہیں۔ مولانا جلال الدین رومیؒ کا قول ہے سب مر کر قبروں میں جاتے ہیں لیکن اچھا انسان مر کر لوگوں کے دلوں میں چلا جاتا ہے اور لوگ یاد کے ذریعے اسے زندہ رکھتے ہیں خد ا بزرگ وبرتر سے دُعا ہے کہ وہ ہمیں کسی کا دل توڑنے جیسے گناہ سے ہمیشہ بچائے رکھے اور خاص طور پر جوان اولاد کو بوڑھے والدین کی دل شکنی جیسے گناہ کبیرہ سے محفوظ رکھے آمین! تاکہ ہم بھی اس دنیا سے جانے کے بعد لوگوں کے دلوں میں زندہ رہ سکیں کسی کا دل مت دکھاو کیونکہ معافی مانگنے کے باوجود اُسے دکھ ضرور رہے گا جیسے دیوار میں لگے کیل کو نکال بھی لیں تو نکلنے کے بعد بھی اس کا نشان اور سوراخ رہ جاتا ہے دل توڑنا، دل آزاری کرنا، یا دلی شکنی کرنا دراصل ہم معنی الفاظ ہی ہوتے ہیں۔ پنجابی کے مشہور صوفی شاعر حضرت بلھے شاہؒ نے فرمایا تھا

مسجد ڈھا دے مندر ڈھا دے ڈھا دے جو کچھ ڈھیندا
ایک بندے دا دل نہ ڈھاویں رب دلاں وچ رہیندا

اس لیے صوفیاء کرام کہتے ہیں کہ دل اللہ کا گھر ہوتا ہے اور انسان کا دل توڑنے والا شخص کبھی اللہ کو تلاش نہیں کر سکتا حضرت عبداللہ بن مسعود سے روایت ہے کہ وہ آپ ﷺ کے ساتھ بیت اللہ کا طواف فرما رہے تھے تو آنحضور ﷺ نے کعبہ کی جانب نگاہ کی اور فرمایا: اے کعبہ۔۔ تو کتنا مقدس، مکرم اور معظم ہے پھر عبداللہ بن مسعودؒ سے فرمایا۔۔ اے عبداللہ۔۔ کیا تمہیں معلوم ہے کہ ایک مسلمان کی جان مال اور آبرو کا تقدس کعبہ سے بھی زیادہ ہے۔۔ کسی دوسرے کی جان مال اور آبرو پر ناحق حملہ آور ہونا کعبہ کو ڈھا دینے سے بھی بڑا جرم ہے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا قول ہے "ہر اس چیز کو توڑ دو جس کو انسان نے بنایا ہے لیکن انسان کا دل کبھی نہ توڑنا جس کو خدا نے بنایا ہے" جو ٹوٹتا بھی بڑی جلدی ہے اور ذرا سی معذرت سے جڑ بھی جھٹ سے جاتا ہے۔

عام اور روزمرہ زندگی میں دو لفظ کہہ کر یا بول کر کسی کا دل دکھانا یا توڑنا بہت آسان ہوتا ہے لیکن سوچنا یہ ہے کہ کہ اگر وہی سب کچھ اپنے ساتھ ہو جو ہم دوسروں کے ساتھ کرتے ہیں تو ہمیں کیسا لگے گا پھر اندازہ ہوگا کہ یہ تکلیف سہنا کتنا مشکل کام ہوتا ہے جو ہم دوسروں کے ساتھ بلا سوچے سمجھے اور باآسانی کر دیتے ہیں۔ اس لیے کہتے ہیں کسی کا دل توڑ کر اور نیچا دکھا کر جیتنے سے بہتر ہے کہ ہار جاو۔

امام علی کرم اللہ وجہہ سے دل توڑنے کی سزا پوچھی گئی تو فرمایا "اے شخص اللہ روز محشر جو سزا قتل کرنے والے کو دے گا وہی سزا کسی کے دل توڑنے والے کو دے گا تو اس شخص نے پوچھا یاعلیؑ قتل کرنا اور دل توڑنا ان دونوں کی سزا برابر وہ کیوں؟ تو امام علی کرم اللہ وجہہ نے فرمایا اے شخص یاد رکھنا کسی کو قتل کرنے سے انسان کا جسم مر جاتا ہے لیکن کسی کا دل توڑنے سے انسان کی روح کو وہ صدمہ پہنچتا ہے نہ وہ مر سکتا ہے اور نہ جی سکتا ہے۔ تبھی اللہ نے روز محشر بد ترین گناہ کی یہ سزا رکھی ہے کہ اس کی ساری نیکیاں ختم کردی جائیں گیں اور اس کے مقدر میں دوزخ لکھ دیا جاے گا اور کہا جاے گا کہ دنیاوی زندگی میں بدترین گناہ کسی کا دل توڑنا ہے۔

حقیقی اسلامی معاشرہ وہی ہوتا ہے جہاں لوگ ایک دوسرے کی راحت وآرام کا خیال رکھیں آپس کے معاملات لوگوں کی دل آزاری یا دل توڑنے کا باعث نہ بنیں حضور ﷺ نے فرمایا "مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں اور مومن وہ ہے جس سے ایمان والے اپنی جانیں اور اموال محفوظ سمجھیں" کہتے ہیں اگر کسی کو تکلیف میں دیکھ کر تمہیں تکلیف ہونے لگے تو سمجھ لینا تم اللہ کے بناے ہوے بہترین انسان ہو۔

حدیث سے ثابت ہے کہ ہمارے آقا ﷺ کسی کا دل توڑنا پسند نہیں کرتے تھے آپ نے فرمایا مسلمان کو گالی دینا فسق اور اس سے جنگ کرنا کفر ہے۔ یہاں تک کہ اگر غلط فہمی سے بھی کسی کی دل آزاری ہو جاے یا آپ کی کسی حرکت یا بات سے کسی کا دل ٹوٹ جاے تو فوراََ معافی مانگ لینی چاہیے۔ لوگوں کے عیوب کو اچھالنے کی بجاے اپنے گریبان میں جھانکیں آپ جان لیں گے کہ خدا بزرگ وبرتر اور کسی رحمت نے ہمیں کیسے ڈھانپ رکھا ہے میرے ایک مرحوم دوست سعید چشتی یہ شعر اکثر پڑھا کرتے تھے اور ہمیشہ معافی مانگنے میں جلدی کرتے تھے اور کہتے تھے جلد معافی مانگنے کی توفیق بھی خدا کی سب سے بڑی نعمت ہوتی ہے اور فرماتے تھے کہ

میں آخر آدمی ہوں کوئی لغزش ہو ہی جاتی ہے
مگر اک وصف ہے مجھ میں دل آزاری نہیں کرتا

ہماری بخشش اور مغفرت کے لیے صرف عبادات ہی ذریعہ نجات نہیں بلکہ حقوق العباد کی ادائیگی بھی بے حد ضروری اور اہم ہے اللہ کی جانب سے دنیا میں جتنے بھی عذاب اب تک نازل ہوے ہیں ان کی وجہ عبادات ہرگز نہ تھیں وہ سب کے سب حقوق العباد اور معاملات کی عدم ادائیگی کی باعث نازل ہوے ہیں اور روز مرہ زندگی میں کسی کا دل توڑنا یا کسی کی دل آزاری کرنا بھی حقوق العباد کی خلاف ورزی کی اولین قسم ہے۔ اس لیے آج سے یہ بات اپنے اپنے دل کی دیواروں پر بھی لکھ لیں کہ "یہاں دل توڑنا منع ہے"۔

Check Also

Hamare Ewan Aur Hum

By Qasim Asif Jami