Wednesday, 10 August 2022
  1.  Home/
  2. Blog/
  3. Asif Masood/
  4. Maseehai Kaise Ho (3)

Maseehai Kaise Ho (3)

اب یہ دوسری کہانی اسی خاتون ڈاکٹر کے اس بہنوئی کے دل کے ہونے والے ہارٹ ٹرانسپلانٹ آپریشن کے متعلق ہے۔ جو امریکہ میں ایک سال پہلے ہوا تھا۔ کہانی کچھ یوں ہے کہ ایک نوجوان پاکستان سے اپنی منگیتر کو سالگرہ کا سرپرائز گفٹ دینے امریکہ جاتا ہے۔ پہلے وہاں اپنے ایک دوست کے ہاں ٹھہرتا ہے۔ اس کے ٹی وی لاؤنج میں بیٹھا ٹیلی ویژن دیکھ رہا ہوتا ہے کہ وہاں ہارٹ کے ایک ہسپتال کی طرف سے ایک اشتہار بار بار چل رہا ہوتا ہے کہ دل کے ایک مریض کو تبدیلی دل کے لئے ایک صحت مند دل کی ضرورت ہے۔

وہ یہ اشتہار دیکھتا ہے اور اپنے دوست کو وصیت لکھ کر دے دیتا ہے کہ جب میں فوت ہو جاؤں تو میرا دل وقف کر دیا جائے۔ اگلے دن وہ اپنی منگیتر کے پاس اسے وہ گفٹ دینے جاتا ہے تو وہ اسے سیر کرانے باہر لے جاتی ہے۔ سیر کرتے وہ ایک پہاڑی علاقے میں پہنچ جاتے ہیں۔ پہاڑی پر چڑھتے ہیں دونوں کا توازن بگڑتا ہے، گرتے ہیں۔ منگیتر شدید زخمی ہوتی ہے لیکن زندہ بچ جاتی ہے۔ لیکن لڑکے کی گردن ٹوٹ جاتی ہے۔ اسے فوراً ہسپتال پہنچایا جاتا ہے لیکن وہ پہلے سے ہی دم توڑ چکا ہوتا ہے۔

اس کی جیب سے کارڈ برآمد ہوتا ہے جو اس کے دوست نے گھر سے روانگی کے وقت اس کی جیب میں ڈال دیا تھا کہ کسی ہنگامی صورتحال میں کام آئے گا۔ وہ اسی دن ہی کام آ گیا۔ اس کے دوست کے فون کی گھنٹی بجی۔ اس نے فوراً ریسیور اٹھایا۔ ایک شخص امریکی لہجے میں بول رہا تھا۔ اس نے بتایا یہاں ہسپتال میں ایک زخمی آیا ہے، اس کی جیب میں آپ کا کارڈ تھا۔ زخمی کی حالت انتہائی خراب ہے آپ جلدی یہاں تشریف لائیے۔

دوست گھبرا گیا۔ فوراً تیار ہوا، وصیت نامہ اسی طرح میز پر پڑا تھا۔ وہ بھی تہہ کر کے اس نے اپنی جیب میں رکھ لیا۔ جب ہسپتال پہنچا تو پتہ چلا کہ اس کا پیارا دوست اس جہان فانی سے کوچ کر چکا ہے۔ وہ دھاڑیں مار مار کر رویا۔ سامنے ٹیلی ویژن چل رہا تھا۔ اس کو دیکھتے ہی اسے اپنے دوست کی وصیت یاد آ گئی۔ جیب سے کاغذ نکال کر ڈاکٹروں کو دکھایا۔ اچھی طرح تصدیق کے بعد ہسپتال انتظامیہ نے خود اس ہسپتال سے جہاں صحت مند انسانی دل کی ضرورت تھی، رابطہ کیا اور مل کر ہارٹ ٹرانسپلانٹ کے تمام انتظامات کیے۔

اس کے بعد انسانی تاریخ کا سب سے بڑا آپریشن شروع ہوا۔ اس لیڈی ڈاکٹر کا بہنوئی پہلے سے ہی آپریشن تھیٹر میں موجود تھا۔ ٹیلی ویژن پر ایک صحت مند دل کی ضرورت کی اپیل شروع کر دی گئی تھی۔ مریض کے دل میں پیدائشی طور پر ایک بڑا سوراخ تھا۔ معائنے کے وقت ڈاکٹروں نے فیصلہ کیا تھا کہ جب تک یہ دل کام کر رہا ہے، کرتا رہے جب کام کرنا چھوڑ جائے تو اسے ایک نئے صحت مند انسانی دل سے بدل دیا جائے گا۔

اس کا کوئی اور ممکنہ علاج نہیں تھا۔ اللہ کی شان کہ ضرورت پڑنے پر چوبیس گھنٹے کے اندر ایک صحت مند انسانی دل میسر آ گیا۔ آپریشن کا مرحلہ کامیابی سے مکمل ہوا اور اس کے تمام تر مراحل مائیکرو فلم میں محفوظ کر لیے گئے۔ دل نکال کر مریض کو لگا دیا گیا۔ پھر بجلی کے جھٹکے دے کر اسے چالو کیا گیا۔ چار ڈاکٹر اس کے پاس کھڑے تھے۔ وقت انسانی عقل کی تاریخ لکھ رہا تھا۔

یہ دنیا ہے اس میں ایسے عجوبے اور معجزے ہوتے رہتے ہیں۔ چند سال پہلے ہم سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ اس طرح دل تبدیل بھی کیا جا سکتا ہے۔ یہ تیسرا کامیاب تجربہ ہے جو ہم نے کیا ہے۔ اب میڈیکل کی دنیا میں مصنوعی دل بنانے کے تجربے بھی کئے جا رہے ہیں۔ اللہ نے انسان کو اشرف المخلوقات کہا ہے تو صرف اس عقل کی وجہ سے کہا ہے۔ انسان ہمیشہ عقل کے تعاقب میں رہے گا اور دنیا میں ایسے ناقابل یقین واقعات ہوتے رہیں گے۔ اللہ کے نیک بندے انسانیت کی بقا کے لئے سرگرم رہیں گے۔

یہ چونکہ ہمارے لئے بھی ایک بالکل نیا تجربہ تھا اس لئے یقین نہیں تھا کہ یہ کتنا کامیاب ثابت ہو گا۔ اس لئے ہم نے مائیکرو فلم کی ایک نقل مریض کو بھی دے دی تھی کہ جب یہ بالکل صحت مند ہو جائے تو یہ فلم دیکھ کر دل عطیہ کرنے والے اس نوجوان کے گھر جائے، ان سے ملے، ان جگہوں کو دیکھ لے اور اس کے ان عزیزوں سے رابطہ رکھے کہ یہ بھی شکر گزاری کا ایک طریقہ ہو گا۔ مگر ہمیں بتایا گیا کہ وہ فلم کہیں گم ہو گئی۔ پھر ہم سے استدعا کی گئی کہ وہ فلم سب متاثرین کو دکھائی جائے اور اس کی پوری تفصیل سامنے لائی جائے۔

آپریشن تھیٹر کے پہلو میں ایک پروجیکشن روم تھا۔ جہاں بالکل گہرے سمندر جیسی تنہائی اور خاموشی تھی۔ وہاں سفید لباس میں ملبوس ڈاکٹر صاحب آپریشن کی مائیکرو فلم دکھانے کے لئے تیار کھڑے تھے۔ تمام متاثرین کمرے میں موجود تھے۔ کمرے میں دل کا عطیہ دینے والے مرحوم نوجوان کی تصویر بھی لگی ہوئی تھی۔ اس کے نیچے اس کے ہاتھ کی لکھی ہوئی وصیت کو چپکا دیا گیا تھا۔

ڈاکٹر صاحب نے ان سے اجازت لے کر فلم چلا دی۔ پورا منظر سامنے آ گیا۔ سٹریچر پر مرحوم نوجوان کو اندر لایا گیا۔ اس کا جسم، اس کا چہرہ، اس کے زخم، بالکل ٹھیک طرح دکھائے گئے۔ یہ منظر دیکھ کر سب زور زور سے رونے لگے۔ خاص کر وہ جس کے پہلو میں اس کا دل دھڑک رہا تھا۔ فلم ختم ہو گئی، کمرے میں سنہری روشی تیر گئی۔ ڈاکٹر نے سب کو محبت سے دیکھا اور نرس کو کافی لانے کے لئے کہا۔ کرنجی آنکھوں والے، گرے بالوں والے، سفید لباس والے ڈاکٹر نے دھیرے دھیرے بولنا شروع کیا جیسے فرشتہ پر ہلاتا ہے۔

وہ ایک عظیم نوجوان تھا، اس نے اپنی موت سے تھوڑی دیر پہلے ایک وصیت لکھی کہ اگر میرے ساتھ کوئی حادثہ پیش آ جائے اور میں جانبر نہ ہو سکوں تو میرا دل، میری آنکھیں، میرے گردے، اور دیگر اعضاء ایسے مریضوں کو لگا دئیے جائیں جن کی زندگیاں یہ اعضاء لگانے سے بچ سکتی ہوں۔ اس نوجوان کی وصیت کے مطابق اس کے قیمتی اعضاء حاجت مندوں کو لگا کر انہیں بچایا جا چکا ہے۔ اب وہ نوجوان ایک ملک میں نہیں تین چار ملکوں میں زندہ ہے۔ ایسے لوگ ہمیشہ زندہ رہتے ہیں، کبھی نہیں مرتے۔

واجد نے کہانی ختم کی اور میری طرف دیکھا۔ اگرچہ یہ کہانیاں میں نے بشریٰ رحمٰن کے ایک ناول سے مستعار لے کر تمہیں سنائی ہیں۔ لیکن ان کا ہماری زندگیوں سے گہرا تعلق ہے۔ ان میں لوگوں کے زندگی بھر کے تجربات اور مشاہدات ہوتے ہیں۔ ہم ان سے بہت کچھ سیکھ اور اخذ کر سکتے ہیں۔ ویسے بھی یہ کہانیاں حقیقی زندگی سے ہی لی جاتی ہیں اور تخیل کے بازوؤں سے گزار کر ناول، افسانوں اور ڈراموں کی شکل میں لکھ دی جاتی ہیں کہ لوگ پڑھ کر ان سے سبق لیتے رہیں۔

آپ یہ ناول، یہ کہانیاں، یہ افسانے اور یہ ڈرامے پڑھ کر بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں اور دوسروں کو سکھا سکتے ہیں۔ اپنی اور دوسروں کی سوچ میں ایک مثبت تبدیلی برپا کر سکتے ہیں۔ ہمیں کہانیوں کی اسی طرح ضرورت ہے جس طرح انسانی جسم کو پانی کی۔

Check Also

Julius Caesar

By Sami Ullah Rafiq