Wednesday, 24 July 2024
  1.  Home
  2. Blog
  3. Asif Ali Yaqubi
  4. Blood Activism, Samaji Khidmat Ka Dil

Blood Activism, Samaji Khidmat Ka Dil

بلڈ اکٹوزم، سماجی خدمات کا دل

میں گذشتہ 15 سال سے سماجی خدمات میں مصروف عمل ہوں۔ یونیسف اور عورت فاؤنڈیشن کے پلیٹ فارم سے بچوں اور خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے سے لے کر دیار خان فاؤنڈیشن کی تعلیمی و ثقافتی خدمات تک، اور بلڈ چین پاکستان کے خون عطیات و تھیلیسیمیا آگاہی کے مشن تک میں نے بہت سی سرگرمیوں میں حصہ لیا ہے۔ اس تجربے کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ ان تمام فلاحی خدمات میں خون کے عطیات اور اس سے متعلقہ سرگرمیاں، یعنی بلڈ اکٹوزم، ایک مرکزی اور اہم حیثیت رکھتی ہیں۔ اس لیے میں بلڈ اکٹوزم کو تمام سماجی خدمات کا دل سمجھتا ہوں اور بلڈ چین پاکستان کے مشن کو لے کر قلمی و سماجی تبلیغ کر رہا ہوں۔ اس کالم میں میں نے واضح کیا ہے کہ خون کے عطیات کس طرح انسانی زندگی و صحت کے لیے مفید ہیں۔

خون دینا ایک نہایت اہم عمل ہے جو انسانیت کی خدمت میں گہرے معنی رکھتا ہے۔ خون کی منتقلی مریضوں کی زندگی بچانے کا ایک موثر ذریعہ ہے اور اس کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں۔ ہر سال ہزاروں مریض حادثات، سرجری اور مختلف بیماریوں کی وجہ سے خون کی کمی کا شکار ہو جاتے ہیں اور ان کی زندگیاں خطرے میں پڑ جاتی ہیں۔ ایسے میں خون کا عطیہ ان کی زندگیاں بچانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔

خون دینے کی اہمیت کو سمجھنے کے لیے سب سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ خون کا کوئی مصنوعی متبادل نہیں ہے۔ جدید ترین سائنسی تحقیقات کے باوجود، خون کو لیبارٹری میں تیار نہیں کیا جا سکتا۔ اس کا واحد ذریعہ رضاکارانہ عطیہ دہندگان ہیں۔ ایک فرد کے خون دینے سے تین مختلف مریضوں کی جان بچائی جا سکتی ہے کیونکہ خون کو اس کے مختلف اجزاء، جیسے سرخ خلیات، پلیٹ لیٹس اور پلازما میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔

مریضوں کی مختلف حالتوں میں خون کی ضرورت پیش آ سکتی ہے۔ مثال کے طور پر، کینسر کے مریض، جنہیں کیموتھراپی یا ریڈیوتھراپی دی جاتی ہے، انہیں باقاعدگی سے خون کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسی طرح، سرجری کے دوران یا حادثات کی صورت میں زخمی ہونے والے افراد کو فوری طور پر خون کی منتقلی کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ ان کی جان بچائی جا سکے۔

خون کی منتقلی صرف مریضوں کے لیے ہی نہیں بلکہ عطیہ دہندگان کے لیے بھی مفید ثابت ہو سکتی ہے۔ تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ باقاعدہ خون دینے سے دل کی بیماریوں کا خطرہ کم ہو سکتا ہے۔ خون دینے سے جسم میں اضافی آئرن کم ہوتا ہے جو دل کی صحت کے لیے فائدہ مند ہے۔ اس کے علاوہ، خون دینے سے جسم میں خون کی نئی پیداوار میں بھی اضافہ ہوتا ہے جو مجموعی صحت پر مثبت اثرات مرتب کرتا ہے۔

ہمارے معاشرے میں خون کی مسلسل ضرورت ہوتی ہے۔ خون کے اجزا کی محدود مدت ہوتی ہے، سرخ خلیات تقریباً 42 دن، پلیٹ لیٹس 5 دن، اور پلازما ایک سال تک محفوظ رہتا ہے۔ اس لیے خون کے عطیات کی مستقل فراہمی ضروری ہے تاکہ ضرورت کے وقت فوری طور پر خون دستیاب ہو سکے۔

قدرتی آفات، حادثات یا وبائی امراض کے دوران خون کی طلب میں اچانک اضافہ ہو سکتا ہے۔ ایسے ہنگامی حالات میں خون کی دستیابی فوری مدد فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اگر خون کی مناسب مقدار پہلے سے دستیاب ہو تو ہنگامی حالات میں زیادہ موثر طریقے سے نمٹا جا سکتا ہے۔

خون دینا ایک نیک عمل ہے جو نہ صرف مریضوں کی زندگی بچاتا ہے بلکہ معاشرتی ہم آہنگی اور انسانی ہمدردی کو بھی فروغ دیتا ہے۔ یہ ایک ایسا عمل ہے جس میں ہم سب کو حصہ لینا چاہیے تاکہ دوسروں کی زندگیوں میں بہتری لا سکیں۔ خون دینے سے نہ صرف ایک فرد کی بلکہ پورے معاشرے کی فلاح و بہبود میں اضافہ ہوتا ہے۔ اس لیے ہمیں خون دینے کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے اس عظیم عمل میں حصہ لینا چاہیے اور انسانیت کی خدمت کے جذبے کو پروان چڑھانا چاہیے۔

مریضوں کی زندگی بچانے کے لیے خون کی منتقلی کی اہمیت کو سمجھنے کے بعد، یہ ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے کہ ہم رضاکارانہ طور پر خون دیں اور اس عظیم عمل میں حصہ لیں۔ اپنے وقت کا تھوڑا سا حصہ نکال کر ہم دوسروں کی زندگیوں میں بڑا فرق پیدا کر سکتے ہیں۔ آیئے، خون دیں اور انسانیت کی خدمت کریں۔

About Asif Ali Yaqubi

Asif Ali Yaqubi hails from Swabi, an important district in Khyber Pakhtunkhwa. He is one of the emerging young columnists in Khyber Pakhtunkhwa. His columns are published in most of the province national newspapers.

Check Also

Kulli Ya Juzvi Tajzia

By Dr. Nawaz Amin