Tuesday, 05 March 2024
  1.  Home/
  2. Blog/
  3. Ali Akbar Natiq/
  4. Ali Ke Kuen Aur Urwa Bin Zubair Ka Mahal

Ali Ke Kuen Aur Urwa Bin Zubair Ka Mahal

علیؑ کے کنویں اور عروہ بن زبیر کا محل

کل 13جنوری تھی۔ کل کی زیارات اور کھوج کا محور مولا علیؑ کے وہ سات کنویں تھے۔ جو اُنھوں نے حاجیوں کے لیے میقات کے میدان میں بنائے تھے۔ تاکہ حاجیوں کو پانی کی کمی نہ ہو۔ اِنھی کنووں سے ایک کنواں اپنی کھیتی باڑی کے لیے رکھ لیا تھا۔ مَیں نے جب گوگل میپ سے اِن کا فاصلہ دیکھا تو سات میل تھا یعنی بارہ کلومیٹر۔ مَیں اللہ کا نام لے کر چل پڑا۔ راستے میں بیت الحزن تھا، پہلے وہاں رُکا اور تمام عزیزوں اور دوستوں کے لیے دعائیں کی بی بی پاک سلام اللہ علیہا پر اور اُن کی آؒل اولاد اور اب و جد پر درود بھیجے اور اُن کے دشمنوں سے برات کا اظہار کیا۔ چاہے وہ آج کے دشمن ہوں یا پرانے۔ اُس کے بعد آگے چلا۔

ابھی تین چار کلومیٹر چلا ہوں گا کہ مجھے اپنے دائیں ہاتھ قدیم کھنڈر دکھائی دیے، مَیں نے اپنا رُخ اُن کی طرف موڑ دیا اور جب قریب پہنچا تو دیکھ کر حیران رہ گیا کہ یہ تو اچھے خاصے کھنڈرات ہیں۔ اور قدیم ہیں۔ خیر چاروں طرف چکر لگایا تو ایک جگہ بورڈ لگا تھا۔ جس پر لکھا تھا کہ یہ صحابی، رسوؒل حضرت زبیر کے بیٹے عروہ کا محل تھا۔ عروہ بن زبیر کو مَیں جانتا تھا۔ یہ تابعی تھے۔ اپنے بھائیوں میں سب سے چھوٹے تھے۔ حضرت ابو بکر کی بیٹی اسما اِن کی والدہ تھی۔ عروہ اپنی خالہ اماں عائشہ رضی اللہ کی پرورش میں رہتے تھے۔

جب اماں عائشہ رضی اللہ حضرت علیؑ کے خلاف جنگِ جمل میں نکلیں تو یہ ساتھ جانا چاہتے تھے۔ لیکن اِن کی عمر اُس وقت چودہ سال تھی لہذا اِنھیں ساتھ نہیں لے گئیں۔ یہ محل اُنھوں نے خلیفہ عبدالملک کے دور میں مدینہ سے باہر عقیق کے گائوں میں بنایا تھا۔ جب حجاج نے عبد اللہ ابنِ زبیر کی لاش سولی پر لٹکائی تو یہ بھاگ کر عبدالملک کے پاس چلے گئے اور اُن سے معافی تلافی کروائی اور عبداللہ کی لاش وصول کرنے کی بھی سفارش کی جو قبول کر لی گئی مگر اُس وقت لاش فقط ہڈیوں کا پنجر رہ گئی تھی۔

اب مَیں اِس محل کے کھنڈرات کے سامنے کھڑا تھا۔ اِس کا رقبہ کم از کم پانچ سو افراد کی آبادی کے برابر تھا اور محل کے درودیوار کم و بیش پانچ پانچ فٹ موٹے تھے اور مدینہ سے سات کلومیٹر دور تھا۔ اِس کے تہہ خانے بھی تھے۔ سیاہ پتھروں سے تعمیر کیا گیا تھا۔ ایک بڑا ہال بھی تھا۔ دیواریں قلعہ نما تھیں۔ مَیں نے یہاں کھڑے ہو کر تصویریں لیں۔ اندر جنڈ، کریر اور ببول اُگے ہوئے تھے اور یہ اُسی دور کی باقیات پڑی ہیں۔ اہلِ دل اور آرٹسٹ لوگ جانتے ہیں کہ ہمارے لیے کھنڈرات کیا معنی رکھتے ہیں۔ تہذیبوں اور عبرتوں کی داستان ہوتے ہیں، جن کے اندر زندگی کی روح کتنے ہی زمانوں سے سو رہی ہوتی ہے۔ جسے ہم ٹھوہکا لگا کربیدار کرتے ہیں اور اُِنھی بوسیدہ اور شکستہ ہڈیوں سے ہم اپنی تخلیق کی نئی کونپلیں نکالتے ہیں۔

اِس کے بعد میری اصلی منزل ابیارِ علیؑ تھا۔ لہذا آگے بڑھا اور اب مَیں عقیق کے میدان میں تھا۔ یہ علاقہ بارشی نالے کے ساتھ ساتھ ایک وسیع وادی میں پھیلا ہوا ہے۔ جب پہاڑوں پر بارش ہوتی تھی تو اُن کا سارا پانی بہہ کر اِسی نالے میں گرتا تھا۔ جو بعد میں کھیتوں اور نخلستانوں میں چھوڑ دیا جاتا تھا۔ اِسی لیے یہ وادی رسولِ خدا کے دور میں نہایت سرسبز اور نخلستانوں سے بھری ہوئی تھی۔

ایک بار جب حضرت عمر بن خطاب خلیفہ ہوئے تو اپنے ساتھیوں کے ساتھ مدینہ کے مضافات کے وزٹ کو نکلے۔ اُن کے رفقا میں اُس وقت سعد بن ابی وقاص بھی تھے۔ جب وہ یہاں عقیق کی وادی میں بارانی نالے کے اوپر پہنچے تو فرمایا، مَیں دنیا کے بڑے ملکوں میں تجارت کے لیے گیا ہوں مگر اِس جیسا خوبصورت خطہ نہیں دیکھا۔ کاش کوئی مجھ سے اِس وادی کو اپنے لیے مانگنے والا مانگتا تو مَیں اُسے بخش دیتا۔ فوراً حضرت سعد بن ابی وقاص بغل سے بولے، یا امیر المومنین یہ وادی مجھے عنایت کر دیجیے۔

حضرت عمر نے فرمایا، جائو مَیں نے تجھے بخش دی لیکن یہاں کاغذ قلم نہیں ہے۔ حضرت سعد بن ابی وقاص نے وہیں کاغذ قلم نکالا اور سامنے پیش کر دیا، حضرت عمر دیکھ کر مسکرائے اور وہ تمام وادی اُسی وقت اُن کے نام کر دی۔ خیر اب یہ وادی تھوڑی بہت آبادی اور باقی چٹیل میدان میں بدل گئی ہے۔ لیکن وہ بارشی نالہ ابھی تک باقی ہے جو عقیق وادی کے شمال سے اچانک پھیر کھا کر مشرق کی طرف بہہ رہا ہے۔ اُس کے اندر نَڑے اور بڑی بڑی گھاس اُگی ہوئی ہے۔

مَیں اِسے عبور کرکے آگے نکل گیا۔ اور فقط اِس سے دو کلومیٹر آگے ابیارِ علیؑ کا مقام آ گیا۔ ابیار بئر کی جمع ہے۔ جس طرف سے مَیں گیا تھا وہاں سے مجھے ایک ٹیلہ چڑھ کر نیچے اُترنا پڑا۔ مَیں اٹھائیس سال پہلے آیا تھا تو یہاں ایک چھوٹی سی مسجد تھی، جس کا نام مسجد علیؑ ابن ابی طالبؑ تھا۔ اور تھوڑے تھوڑے فاصلے پر کنویں تھے۔ اُس وقت اور کوئی عمارت دور دور تک نہیں تھی۔ اب جو دیکھا تو اُن کنووں کی جگہ ایک لمبی چوڑی اور بلند مسجد بنا دی گئی ہے۔ جس کی ساخت مسجدالحرام کی ہے۔

دائیں اور بائیں جانب آبادی کے آثار بھی نمودار ہو گئے ہیں۔ مزید کدالیں اور ایکسیویٹر چل رہے ہیں۔ اب جو مَیں مسجد کے اندر داخل ہوا تو وہاں کوئی کنواں نہیں تھا۔ البتہ عمرہ کرنے والے حاجیوں کے احرام تھے اور حمام یعنی واش روم تھے۔ مجھے حاجیوں پر اعتراض نہیں ہے مگر جس طرح یہ مسجد الحرام، مسجد نبوی اور دیگر متبرک جگہ کو لیٹرینوں سے پُر کر رہے ہیں اُس پر حیرت ہوتی ہے کہ یہ کیا ہو رہا ہے۔ بخدا اتنی زیادہ لیٹرینیں اور حمام بنا دیے ہیں کہ اِن مقدس جگہوں کا تقدس پامال ہو کر رہ گیا ہے۔

اب آپ ہی بتایے کہ مَیں پندرہ کلومیٹر چل کر ابیارِ علیؑ کی زیارت کو گیا تھا اور آگے لیٹرینیں میرا منہ چڑا رہی تھیں۔ دل بہت پامال ہو کر رہ گیا۔ کچھ دیر وہاں ٹھہرا رہا۔ ارد گرد سوائے خلا کے کچھ نہیں تھا۔ سچ پوچھیں تو مجھے اُن احرام باندھے ہوئے حاجیوں سے وحشت ہونے لگی جو بھیگے بھیگے لیٹرینوں اور حماموں سے نکل رہے تھے اور احرام باندھے ہوئے اِدھر اُدھر پھیلے ہوئے تھے۔ جس بہتات سے لیٹرینیں اور حمام ہیں اور اُن میں پانی گرا ہوتا ہے۔ مَیں نہیں سمجھتا کہ یہ لوگ اپنے احرام کو اُس گندے پانی اور چھینٹوں کی نجاست سے کیسے سنبھال پاتے ہیں۔ کاش اِنھیں پتا ہوتا کہ یہ کس جگہ دن رات ہگ رہے ہیں۔ یا اللہ مجھے معاف کرنا، مگر تُو ضرور کوئی انتظام کر، مجھے تو یہ چیزیں وارے میں نہیں ہیں۔

دل رو رہا تھا اور خون کے آنسو بہا رہا تھا۔ اب مَیں نے مولا علیؑ سے شکایت کی، مولا کوئی ایک چیز تو اپنی اِن بدئوں سے سلامت رکھوا لیتے۔ یہ سوچتے ہوئے آخر وآپسی کی ٹھانی۔ اور اب سچ پوچھیں تو دل اتنا ٹوٹا تھا کہ پیدل چلنے کی ہمت نہ رہی اور وہاں کسی ٹیکسی والے کو دیکھنے لگا۔ تھوڑی دیر میں ایک ٹیکسی والا ملا، یہ ایک بنگالی لڑکا تھا۔ کہنے لگا مَیں واپسی کے بیس ریال لوں گا۔ مَیں نے کہا، بھائی بیس ہی لے لینا، بس لے چلو۔ جب مَیں ٹیکسی پر بیٹھا تو اُس نے کہا، آپ کی اپنی ٹیکسی کہاں ہے جس پر یہاں پہنچے ہیں؟

مَیں نے کہا مَیں پیدل آیا ہوں۔ وہ شدید حیران ہوا اور بولا، آپ کیوں آئے ہیں، آپ نے نہ کوئی احرام باندھا ہے اور نہ عمرے والا لگتے ہیں۔ پھر غریب بھی نہیں لگتے۔ مَیں نے اُس کے سامنے اپنا رونا رو دیا اور کہا میاں مَیں تو مولا علیؑ کے کنویں دیکھنے آیا تھا، احرام باندھنے نہیں آیا تھا، مگر اب تو وہ کنویں ہی نہیں رہے۔

اُس بنگالی لڑکے نے فوراً ٹیکسی روکی اور بولا، ایک کنواں بچ گیا ہے۔ اگر دیکھنا چاہیں تو حضرت علیؑ کے ہاتھ کا ایک کنواں یہ پچھلی طرف موجود ہے۔ کنویں کو جانے والا عام رستہ بند کر دیا گیا ہے۔ لیکن مَیں چونکہ اِدھر ہی رہتا ہوں اور وہ پاس ہی میرا گھر ہے۔ جس کے عین پیچھے وہ کنواں ہے۔ اگر تم کنویں پر جانا چاہتے ہو تو مَیں اپنے گھر میں سے لے جا کر کنویں کے پاس لے جاتا ہوں۔

مَیں نے کہا خدا آپ کا بھلا کرے، جلدی کرو اور مجھے لے جائو۔ تب اُس نے ٹیکسی موڑی اور کھجوروں کے ایک جھنڈ کے پاس جا کر روک دی۔ جس کے قریب ہی گھر تھا۔ وہ مجھے گھر کے دروازے سے گزار کر پچھلی جانب لے آیا۔ اور مَیں نے دیکھا کہ سامنے کنواں تھا اور کنویں کے آس پاس کھجوروں کا جھنڈ تھا۔ کنویں کے ارد گرد کنکریٹ کے پتھر رکھے ہوئے تھے لیکن مَیں نے بھاگ کر اُن پتھروں کے اوپر سے کنویں میں جھانکا اور دل کی زبان سے کنویں کو بوسے دینے لگا۔ کنویں میں پانی بھی تھا۔ ساتھ ہی وہ چھوٹی مسجد بھی موجود تھی۔ لیکن مجھے حیرت ہوئی کہ اُس کے اوپر مسجد عمر بن خطاب کا بورڈ لگا ہوا تھا۔

مَیں نے بنگالی سے پوچھا، یہ تو حضرت عمر بن خطاب کی مسجد ہے۔ وہ مسجدِ علیؑ کہاں ہے۔ وہ کہنے لگا یہ بورڈ سعودی حکومت نے دو سال پہلے لگایا ہے۔ یہاں پہلے مسجدِ علیؑ ابنِِ ابی طالب کا بورڈ ہی تھا۔ لوگ یہاں بہت آتے تھے اور یہاں سے مٹی اور کنکر اٹھا کر لے جاتے تھے اور دیواروں کو چومتے تھے۔ چونکہ یہ مدینہ سے کافی باہر ہے اور یہاں ہر وقت شُرطے پہرہ نہیں دے سکتے تھے، لہذا اُنھوں نے اِس جگہ سے زائرین کو روکنے اور بدعت، شرک کو ختم کرنے کے لیے مسجد عمر بن خطاب کا بورڈ لگا دیا ہے اور اب یہاں کوئی نہیں آتا۔ صرف وہی آتا ہے جسے پتا ہے کہ یہ علی ابنِ ابی طالب کی مسجد ہے۔

مَیں سعودیوں کی اِس عیاری پر بہت حیران ہوا اور لرز گیا کہ چودہ سو سال میں اہلِ بیتِ رسول کی کتنی چیزیں دوسروں کے نام ہو چکی ہوں گی اور اگر ابھی بھی اہلِ بیت کا نام زندہ ہے تو بذاتِ خود یہ خدا کا کتنا بڑا معجزہ ہے۔

بہر حال مولا نے میری سُن لی تھی اور اپنی ایک نشانی کی زیارت کروا دی تھی۔ مَیں نے اِس کی ویڈیو بھی بنائی اور تسلی سے وہاں کافی دیر رُکا رہا۔ مسجد کا دروازہ چونکہ مقفل تھا لہذا اُس کے چاروں طرف گھوم کر ویڈیو بنا لی اور فوٹو بھی لے لیے۔ مسجد کے ایک طرف کی دیوار کھجور کے پتوں کی ہے، جیسے اگلے زمانوں میں ہوتی تھی۔ مگر یہ زیادہ دیر ایسی حالت میں نہیں رہے گی، کیونکہ اِس کے آس پاس بھی کھدائی جاری ہے۔ خدا آپ لوگوں کو بھی زیارت کروائے۔

مَیں نے ٹیکسی والے کا بہت شکریہ ادا کیا اور کہا بھائی تمھیں کیا بتائوں مولا علیؑ نے میری شکایت آپ کے ذریعے سے دور کی ہے۔ اور خاص اپنی کھیتی باڑی کے لیے مخصوص کنویں کی مجھے زیارت کروا دی ہے۔ ہزار دل سے درودو سلام پڑھنے کے بعد کچھ دیر وہیں کنویں پر ہی بیٹھ گیا، وہاں کی مٹی بھی اٹھا لی جو انشاللہ گھر لے کر جائوں گا۔ تب ٹیکسی والے کے ساتھ بیٹھا اور جو کرایہ طے کیا تھا اُس سے ہر صورت زیادہ دیا۔ ٹیکسی والا بھی بہت خوش ہوا۔ یوں میرے فاصلے کی قیمت وصول ہوئی۔

Check Also

Falsafa Aur Falsafa e Science

By Idrees Azad