Tasaveer Ki Ghair Zaroori Behas Se Aage Ki Sochen
تصاویر کی غیر ضروری بحث سے آگے سوچیں

نیشنل پیغامِ امن کمیٹی کی ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف سے جی ایچ کیو میں ملاقات کے بعد سامنے آنے والی تصاویر نے غیر ضروری اور سطحی بحث کو جنم دے دیا ہے۔ ان تصاویر میں مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے علمائے کرام شریک ہیں، جن میں حضرت استاذِ محترم مفتی عبدالرحیم صاحب کا نام نمایاں ہے۔ افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ جامعۃ الرشید کے بعض فضلاء اور خود ادارے سے منسلک سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی جانب سے ان تصاویر کو اس انداز میں شیئر کیا گیا ہے، گویا کسی ریاستی شخصیت کے ساتھ کھڑا ہونا کوئی سندِ افتخار یا خصوصی اعزاز ہو۔
یہ طرزِ عمل نہ صرف غیر ضروری، بلکہ فکری اور اخلاقی اعتبار سے نقصان دہ بھی ہے۔ مفتی عبدالرحیم صاحب کسی تعارف کے محتاج نہیں۔ ان کی علمی، فکری، تعلیمی اور فلاحی خدمات ایک طویل اور روشن تاریخ رکھتی ہیں۔ مشکل ترین حالات میں مؤثر اخبارات کا اجرا، جامعۃ الرشید جیسے عظیم الشان ادارے کی بنیاد، کلیۃ الشریعہ اور مختلف تخصصات کا آغاز، ہمہ گیر فلاحی سرگرمیاں اور پھر ایک باوقار یونیورسٹی کا قیام اور ان کے علاوہ بھی مفتی صاحب کی بہت سی خدمات ہیں، جو کسی تصویر، کسی تقریب یا کسی سرکاری قربت کے محتاج نہیں۔ ایسی شخصیات کو متعارف کرانے کے لیے کیمرے کی نہیں، کردار کی ضرورت ہوتی ہے۔ درحقیقت کیمرے ان کے محتاج ہوتے ہیں، وہ کیمروں کے نہیں۔ تصاویر میں ان کے ساتھ موجود دیگر افراد اپنی جگہ محترم ہو سکتے ہیں، مگر علمی و دینی خدمات کے اعتبار سے کوئی بھی ان کے ہم پلہ نہیں۔
آج ایک نہایت نازک اور پیچیدہ دور میں مفتی عبدالرحیم صاحب احادیث میں بیان کیے گئے خوارج کے فتنے کے خلاف فکری اور دینی محاذ پر فرضِ کفایہ ادا کر رہے ہیں۔ ایسے وقت میں جب بہت سی مذہبی قیادت خاموشی، مصلحت یا خوف کا شکار نظر آتی ہے، مفتی صاحب بلا خوف و خطر ان عناصر کے خلاف کھل کر آواز اٹھا رہے ہیں جو مسلمانوں کے خون کو حلال سمجھتے ہیں۔ یہ ایک بڑا، خطرناک اور نہایت قابلِ قدر کام ہے، جو کسی ذاتی مفاد، شہرت یا ریاستی قربت کے لیے نہیں، بلکہ خالص دینی ذمہ داری کے احساس کے تحت انجام دیا جا رہا ہے۔
تاہم یہی وہ مقام ہے جہاں یہ توقع بھی فطری ہے کہ ان کا طرزِ عمل عام مذہبی یا سرکاری نمائشی کرداروں سے مختلف اور ممتاز نظر آئے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کے قریب کھڑا ہونا ہو یا فاصلے پر دونوں صورتیں غیر ضروری ہیں۔ ایک بڑے عالمِ دین کے لیے ایسی تصاویر میں موجودگی ہی سوالات کو جنم دیتی ہے، کیونکہ اس سے نادانستہ طور پر ریاستی قربت، مدح سرائی یا شہرت پسندی کا تاثر پیدا ہو سکتا ہے، چاہے نیت کچھ بھی ہو۔ مفتی عبدالرحیم صاحب کا مقام ان تصاویر میں موجود دیگر مذہبی شخصیات سے کہیں بلند ہے، اس لیے ان کا انداز بھی سب سے مختلف اور محتاط ہونا چاہیے۔
مفتی صاحب جو بہتر سمجھتے ہیں وہ یقیناً کھل کر کریں، اس کارِ خیر کی قیادت بھی کریں، مگر یہ تاثر پیدا نہ ہو کہ وہ بھی کانفرنسوں اور تصویری سرگرمیوں میں شریک دیگر شخصیات کی صف میں کھڑے ہیں۔ اگر ریاستی اداروں کو واقعی کسی دینی رہنما کی ضرورت ہے تو انہیں خود ان کے پاس جانا چاہیے، ان کے ساتھ بیٹھنا چاہیے اور اسی سطح پر معاملات طے کرنے چاہییں۔ ایک بڑے عالمِ دین کو خود کو اس انداز میں پیش نہیں کرنا چاہیے کہ اس کے بارے میں ایسے شکوک جنم لیں جو اس کے مقام کے شایانِ شان نہ ہوں۔
یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ دینی خدمات کو زیادہ مؤثر بنانے کے لیے ریاستی اداروں سے رابطہ یا مکالمہ معیوب نہیں، مگر اس کے ساتھ اپنے مقام و وقار کا شعور اور غیر معمولی احتیاط بھی ناگزیر ہے۔
اصل مسئلہ تصاویر پر بحث کرنا نہیں، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ خوارج کا فتنہ کیوں اور کیسے پروان چڑھا؟ وہ کن پالیسیوں، کن غلط فیصلوں اور کن پراکسی جنگوں کا نتیجہ ہیں؟ اتنے برس گزرنے کے باوجود بدامنی کا خاتمہ کیوں نہ ہو سکا؟ تصویری بحث اور جذباتی صف بندی ان مسائل کا حل نہیں۔ اصل مسئلے کا حل بہرحال ضروری ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ فکری سطح پر بامعنی مکالمہ ہو، ریاستی پالیسیوں کا دیانت دارانہ محاسبہ کیا جائے اور ان فیصلوں کے نتائج پر کھل کر بات کی جائے جنہوں نے ملک کو مسلسل عدمِ استحکام سے دوچار رکھا ہے۔ خوارج کے فتنے کی سرکوبی کے لیے مذہبی حلقوں کو محض علامتی طور پر نہیں، بلکہ حقیقی معنوں میں اعتماد میں لینا ہوگا، تاکہ سب متفقہ طور پر اس چیلنج کا مقابلہ کر سکیں۔
مفتی عبدالرحیم صاحب کا مقام تصاویر سے کہیں بلند ہے۔ ان کی اصل پہچان ان کا علم، ان کا کردار اور ان کی خدمات ہیں۔ ان کے متعلقین اور چاہنے والوں کو یہ سمجھنا چاہیے کہ ناسمجھی میں کی گئی سوشل میڈیا تشہیر، دانستہ یا نادانستہ طور پر انہیں اسی صف میں لا کھڑا کرتی ہے جہاں وہ لوگ موجود ہیں جو مقام و مرتبے میں ان سے بہت پیچھے ہیں۔

