Riyasat Soleti Maa Na Bane
ریاست سوتیلی ماں نہ بنے

لاہور کی سڑکیں ان دنوں ایک ایسے منظر کی گواہ ہیں جو بظاہر احتجاج ہے، مگر درحقیقت ایک طبقے کی اجتماعی بے بسی، اضطراب اور مستقبل کے خوف کی علامت بن چکا ہے۔ پنجاب کے ہزاروں سرکاری ملازمین کئی روز سے سیکرٹریٹ کے سامنے اپنے جائز مطالبات اور حقوق کے لیے سراپا احتجاج ہیں۔ ان میں بڑی تعداد اساتذہ کرام کی ہے، جنہیں بجا طور پر معمارِ قوم کہا جاتا ہے، جبکہ دیگر محکموں کے ملازمین بھی شامل ہیں جنہوں نے اپنی زندگیاں ریاستی نظام کو چلانے کے لیے وقف کر رکھی ہیں۔
یہ احتجاج دراصل طویل عرصے سے جمع ہوتی محرومیوں اور احساسِ ناانصافی کا اظہار ہے۔ ایک سرکاری ملازم اپنی جوانی اور صلاحیتیں ریاست کے سپرد اس امید کے ساتھ کرتا ہے کہ ریٹائرمنٹ کے بعد پنشن، گریجویٹی اور لیو انکیشمنٹ اسے باوقار زندگی کا سہارا دیں گے، مگر پنشن اصلاحات، لیو انکیشمنٹ میں تبدیلیوں اور مالی مراعات میں کٹوتیوں نے اس اعتماد کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔
ریاست کو اپنے ملازمین کے لیے ماں کا درجہ دیا جاتا ہے، مگر افسوس کہ آج یہی ریاست سرکاری ملازمین کے لیے سوتیلی ماں کا کردار ادا کرتی دکھائی دیتی ہے۔ ایک طرف ملازمین مہنگائی، معاشی دباؤ، ناانصافی اور غیر یقینی مستقبل سے دوچار ہیں، جبکہ دوسری طرف حکومتی ایوانوں میں مراعات اور اخراجات کم ہوتے نظر نہیں آتے۔ ریاستی وسائل سے آسائشیں برقرار رہتی ہیں، مگر ملازمین کے حقوق کی بات آئے تو خزانہ خالی ہونے کا اعلان کر دیا جاتا ہے۔
مہنگائی کے بے پناہ اضافے نے بجلی، گیس، علاج، تعلیم اور رہائش جیسی بنیادی ضروریات کو عام ملازم کی پہنچ سے دور کر دیا ہے، جبکہ تنخواہوں میں اضافہ نہایت معمولی رہا ہے۔ ایسے حالات میں وفاق کی طرز پر تیس فیصد ڈسپیرٹی الاؤنس کی عدم فراہمی ملازمین میں مزید مایوسی پیدا کر رہی ہے۔ یکساں خدمات کے بدلے یکساں معاوضہ نہ ملنا صرف معاشی نہیں، بلکہ نفسیاتی ناانصافی بھی ہے۔ اسی طرح طویل عرصے سے کنٹریکٹ پر خدمات انجام دینے والے ملازمین مستقل عدم تحفظ کا شکار ہیں۔
لاہور میں جاری احتجاج کی اہم بات اس کا پُرامن ہونا ہے۔ ہزاروں ملازمین سڑکوں پر موجود ہیں، مگر کہیں تشدد یا توڑ پھوڑ دیکھنے میں نہیں آئی۔ افسوس کہ ایسے مہذب احتجاج اکثر میڈیا کی توجہ حاصل نہیں کر پاتے، حالانکہ میڈیا کی ذمہ داری ہے کہ وہ ریاستی نظام کو چلانے والے ان خاموش طبقات کے مسائل بھی اپنا فرض سمجھ کر اجاگر کرے۔
کوئی ملازم شوق سے سڑکوں پر نہیں آتا، احتجاج ہمیشہ آخری راستہ ہوتا ہے۔ جب مکالمے کے دروازے بند ہو جائیں اور معاشی دباؤ ناقابلِ برداشت ہو جائے تو لوگ احتجاج پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ یہ ریاست کے خلاف بغاوت نہیں، بلکہ ریاست سے انصاف کی اپیل ہے۔ پنشن اصلاحات پر نظرثانی، لیو انکیشمنٹ کی بحالی، ڈسپیرٹی الاؤنس کی فراہمی اور کنٹریکٹ ملازمین کی مستقلی جیسے مطالبات اضافی مراعات نہیں، بلکہ اعتماد کی بحالی کا تقاضا ہیں۔
اگر ریاست اپنے ہی ملازمین کو عدم تحفظ کا شکار کر دے تو اس کے اثرات پورے معاشرے پر مرتب ہوتے ہیں۔ لاہور کا یہ احتجاج دراصل ریاست کے لیے ایک امتحان ہے۔ پُرامن آوازوں کو سن لینا ہی مہذب ریاست کی پہچان ہوتا ہے۔ اب فیصلہ حکومت کو کرنا ہے کہ وہ اس خاموش چیخ کو سن کر مسئلہ حل کرتی ہے یا اسے شور میں بدلنے کا انتظار کرتی ہے۔

