Patang Bazi Chand Afrad Ka Shoq, Pure Shehr Ki Saza
پتنگ بازی چند افراد کا شوق، پورے شہر کی سزا

لاہور کی سڑکوں پر دوڑتی ہزاروں موٹر سائیکلوں پر نصب لوہے کے اینٹینا نما راڈ ایسے محسوس ہوتے ہیں جیسے پورا شہر کسی اجتماعی سزا کا شکار ہو۔ یہ راڈ نہ صرف بدنما دکھائی دیتے ہیں، بلکہ شہریوں کے لیے مستقل خوف اور الجھن کا سبب بھی بن چکے ہیں۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ لاہوری آخر ایسے کون سے جرم کے مرتکب ہوئے ہیں کہ انہیں چند فیصد لوگوں کے شوق کا خمیازہ بھگتنا پڑ رہا ہے۔
حکومت کی جانب سے موٹر سائیکلوں پر حفاظتی راڈ لگوانے کو لازمی قرار دینا اگرچہ ایک حفاظتی اقدام ہے، مگر حقیقت میں یہ مسئلے کی جڑ سے فرار اختیار کرنے کے مترادف ہے۔ قاتل ڈور بنانے، بیچنے اور پتنگ اڑانے والے حکومت کی اجازت سے کھلے عام سرگرم ہیں، جبکہ عام شہریوں کو مجبور کیا جا رہا ہے کہ وہ اپنی جیب سے پیسے خرچ کرکے اپنی جان کی حفاظت کریں۔ اگر کوئی شہری یہ راڈ نہ لگوائے تو اس کے خلاف ایف آئی آر تک درج کی جا رہی ہے۔ گویا قانون کی نظر میں اصل مجرم وہ نہیں جو خطرناک ڈور سے انسانی جانیں لے، بلکہ مجرم وہ شہری ہے جو اس تماشے میں شریک بھی نہیں، بلکہ اسے ناپسند کرتا ہے۔
پتنگ بازی ایک محدود طبقے کا شوق ہے، چند افراد کی تفریح ہے، مگر اس کے نتائج پورا معاشرہ بھگت رہا ہے۔ قاتل ڈور کے باعث قیمتی جانیں ضائع ہوتی ہیں، بہت سے افراد شدید زخمی یا عمر بھر کے لیے معذور ہو جاتے ہیں۔ کئی خاندان اپنے پیاروں سے محروم ہو کر اجڑ جاتے ہیں۔ اسی لیے اس جان لیوا کھیل پر بیس سال سے پابندی عائد تھی، مگر اس کے باوجود اسے روکنے کے بجائے حکومتی سطح پر اس کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے۔ بسنت کو ثقافت کا نام دے کر پیش کیا جاتا ہے، حالانکہ کوئی بھی مہذب ثقافت انسانی جانوں سے کھیلنے کی اجازت نہیں دیتی۔ وہ روایت جو خون سے رنگی سڑکیں چھوڑ جائے، ثقافت نہیں، بلکہ سفاکیت ہوتی ہے۔ نئی نسل کو پرانے وقتوں کی بھولی ہوئی جہالت سے روشناس کرانا بھی جہالت ہی کی ایک شکل ہے۔
تین چار سو روپے کی لاگت بظاہر کسی ایک فرد کے لیے معمولی ہو سکتی ہے، مگر جب لاکھوں شہریوں کو اپنی جیب سے پیسے خرچ کرکے موٹر سائیکلوں پر یہ راڈ لگوانے پر مجبور کیا جائے تو یہ مجموعی طور پر کروڑوں روپے کا بوجھ بن جاتا ہے۔ جو لوگ نہ بسنت مناتے ہیں اور نہ ہی اس کے حامی ہیں، انہیں آخر کس جرم کی پاداش میں پیسے خرچ کرکے اپنی بائیکس پر یہ انٹینے لگوانے کا پابند کیا گیا ہے؟
چند افراد کے شوق پورے کرنے کے لیے پورے شہر کے عوام کو اپنی جیب اور جان دونوں قربان کرنا پڑیں تو یہ انصاف نہیں۔ حکومت نے اس مسئلے کا سب سے آسان مگر ظالمانہ حل یہ نکالا ہے کہ عوام خود کو بچائیں اور اپنی حفاظت آپ کریں۔ یہ منطق کچھ یوں ہے جیسے چوروں کو پکڑنے کے بجائے ہر شہری کو لوہے کے دروازے اور تالے لگانے پر مجبور کر دیا جائے۔ مجرم آزاد گھومتے رہیں، بلکہ ان کی حوصلہ افزائی کی جائے اور متاثرہ فریق احتیاط کرتا پھرے۔ کل کلاں اگر کسی کو فائرنگ کرنے کا شوق چرائے تو شاید یہ بھی لازم قرار دے دیا جائے کہ شہری اپنی حفاظت کے لیے گھروں میں محصور رہیں۔
یہ طرزِ فکر نہ صرف ناانصافی ہے، بلکہ ریاستی ذمہ داری سے فرار کی واضح مثال بھی ہے۔ اگر واقعی انسانی جانوں کا تحفظ مقصود ہے تو اس کا واحد اور مؤثر حل قاتل رسم پتنگ بازی پر مکمل اور سخت پابندی ہے، جیسا کہ بیس پچیس سال سے تھی۔ اس پابندی کو ختم کرنے کی کوئی معقول وجہ نہیں۔ قاتل ڈور کی تیاری، فروخت اور استعمال کو ناقابلِ ضمانت جرم قرار دیا جائے اور قانون پر بلاامتیاز عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔ نمائشی اقدامات اور عارضی حل مسائل کو ختم نہیں کرتے، بلکہ انہیں مزید پیچیدہ بنا دیتے ہیں۔
موٹر سائیکلوں پر لگے یہ بدنما لوہے کے راڈ دراصل صرف سڑکوں کا منظر ہی خراب نہیں کر رہے، بلکہ ہمارے نظامِ حکمرانی کی ناکامی کی واضح علامت بھی بن چکے ہیں۔ اگر شہریوں کی جانیں واقعی قیمتی ہیں تو انہیں خود حفاظتی انتظامات پر مجبور کرنے کے بجائے اس قاتل روایت کا خاتمہ کیا جائے، ورنہ یہ مسئلہ یونہی چلتا رہے گا اور ہر سال نئے سانحات اور نئی ناانصافیاں جنم لیتی رہیں گی۔

