Sunday, 11 January 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Abid Mehmood Azaam
  4. Musalman Khatoon Ka Naqab, Bharat Ka Be Naqab Chehra

Musalman Khatoon Ka Naqab, Bharat Ka Be Naqab Chehra

مسلمان خاتون کا نقاب، بھارت کا بے نقاب چہرہ

آج کا بھارت نفرت، تعصب اور مذہبی انتہا پسندی کی ایسی دلدل میں دھنستا جا رہا ہے جہاں انسانی اقدار، آئینی ضمانتیں اور جمہوری روایات مسلسل پامال ہو رہی ہیں اور اس کا سب سے بڑا نشانہ مسلمان بن رہے ہیں۔ حال ہی میں سامنے آنے والی ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ بہار کے وزیرِ اعلیٰ نتیش کمار ایک سرکاری تقریب کے دوران ڈاکٹروں میں تقرری کے خطوط تقسیم کر رہے تھے۔ اسی دوران انہوں نے ایک مسلم خاتون ڈاکٹر کے حجاب کی طرف اشارہ کیا اور اچانک اسے زبردستی نیچے کھینچ دیا۔ اس موقع پر نائب وزیرِ اعلیٰ سمرات چودھری بھی موجود تھے، جبکہ ہیلتھ منسٹر منگل پانڈے اور وزیرِ اعلیٰ کے پرنسپل سیکریٹری دیپک کمار اس شرمناک حرکت پر ہنستے دکھائی دیے۔ نتیش کمار کی یہ گھٹیا حرکت اس سوچ کی نمائندہ ہے جو آج بھارتی ریاستی سیاست پر غالب آ چکی ہے۔

یہ واقعہ اس تلخ حقیقت کو عیاں کرتا ہے کہ بھارت میں اسلاموفوبیا کو عملی طور پر ریاستی سرپرستی بھی حاصل ہے۔ ویڈیو میں موجود دیگر وزراء اور اعلیٰ افسران کا ہنسنا اور خاموش رہنا اس پورے نظام کے اخلاقی دیوالیہ پن کا واضح ثبوت ہے۔ بھارت میں مسلمانوں کے خلاف نفرت گلی محلوں یا سوشل میڈیا تک محدود نہیں رہی، بلکہ یہ الیکشن جیتنے کا ایک مؤثر سیاسی ہتھیار بن چکی ہے۔ مسلمان دشمنی، پاکستان دشمنی اور مذہبی تعصب آج بھارتی سیاست کی بنیاد بن چکے ہیں۔

وہاں انتخابات مذہبی جذبات بھڑکا کر جیتے جاتے ہیں، مساجد کے مقابلے میں مندروں کی تعمیر کو سیاسی کامیابی قرار دیا جاتا ہے اور مسلمانوں کو دوسرے درجے کا شہری بنانے کو حب الوطنی کا نام دیا جاتا ہے۔ پاکستان پر عالمی سطح پر انتہا پسندی کے طعنے دیے جاتے ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ عملی انتہا پسندی کہاں نظر آتی ہے؟ کیا پاکستان میں کسی وزیرِ اعلیٰ کو یہ جرات حاصل ہے کہ وہ کسی خاتون کے مذہبی لباس کو سرِعام نوچ ڈالے؟ کیا پاکستان میں کسی اقلیت کے خلاف نفرت کو ووٹ بینک میں تبدیل کیا جا سکتا ہے؟ تمام تر مسائل کے باوجود پاکستان میں ایسا تصور بھی ممکن نہیں۔

بھارت کی انتہا پسندی صرف سیاست تک محدود نہیں بلکہ فلم، میڈیا اور ادب تک سرایت کر چکی ہے۔ آئے روز پاکستان مخالف فلمیں بنائی جاتی ہیں جن میں فرضی جنگیں جیتی جاتی ہیں، خیالی بہادری دکھائی جاتی ہے اور پاکستان کو ایک کمزور، ناکام اور دہشت گرد ریاست کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ بھارتی عوام ان فلموں کو شوق سے دیکھتے ہیں اور فلمی اداکاروں کی پاکستان مخالف بڑھکوں کو داد دیتے ہیں۔

فلموں میں بھارت بار بار پاکستان کو شکست دیتا ہے، پاکستان میں گھس کر کارروائیاں کرتا ہے اور پوری فوج، طیارے اور ٹینک چند مکالموں میں تباہ کر دیتا ہے، مگر یہ سب کچھ عوام کو اصل مسائل، غربت، بے روزگاری، کسانوں کی خودکشیاں اور معاشی ناہمواری سے غافل رکھنے کے لیے کیا جاتا ہے۔ فلمی اسکرین پر لڑی جانے والی جنگیں زمینی حقائق کو نہیں بدل سکتیں۔ عملی میدان میں جب مقابلہ ہوا تو ابھینندن جیسا پائلٹ گرفتار بھی ہوا اور بھارت کو عالمی سطح پر شرمندگی کا سامنا بھی کرنا پڑا۔

حقیقت میں پاکستان نے بھارت میں گھس کر بھارت کے سات رافائل طیارے، ٹینک اور ائیرپورٹ بھی تباہ کیے، جسے بھارت سمیت دنیا نے تسلیم کیا۔ پروپیگنڈے کی چکاچوند حقیقت کے سورج کو زیادہ دیر نہیں چھپا سکتی۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ بھارت کے بعض دانشور اور تجزیہ کار بھی اس نفرت انگیز بیانیے کا حصہ بن چکے ہیں۔ وہ مذہبی تعصب کو حب الوطنی اور مسلمانوں سے نفرت کو قومی سلامتی کے ساتھ جوڑ کر پیش کرتے ہیں۔

یہ وہ خطرناک موڑ ہے جہاں ریاست صرف سرحدوں پر نہیں، بلکہ اخلاقیات کے محاذ پر بھی شکست کھانے لگتی ہے۔ آج بھارت کو سب سے بڑا اپنی اندرونی انتہا پسندی سے ہے۔ دنیا کو یہ سمجھنا ہوگا کہ اصل انتہا پسندی کہاں ہے اور اصل مظلوم کون ہے۔ مسلمانوں پر ظلم، مذہبی آزادی کی پامالی اور نفرت کی سیاست، یہ سب بھارت کا نیا چہرہ بن چکے ہیں، چاہے اسے کتنا ہی خوش نما میک آپ کیوں نہ دے دیا جائے۔

Check Also

Ehd e Qayadat Aur Aaina e Qaum

By Asif Masood