Jab Karkunan Ulema Ki Toheen Ko Daleel Samjhne Lagein
جب کارکنان علماء کی توہین کو دلیل سمجھنے لگیں

اختلافِ رائے کسی بھی زندہ اور باشعور معاشرے کی علامت ہوتا ہے، مگر جب اختلاف دلیل، تہذیب اور اخلاق کی حدود سے تجاوز کر جائے تو وہ فکری اختلاف نہیں رہتا، بلکہ فتنہ بن جاتا ہے۔ بدقسمتی سے جمعیت علماء اسلام کے بعض کارکنوں کی جانب سے یہ طرزِ عمل بارہا دیکھنے میں آ رہا ہے، جس نے نہ صرف سنجیدہ دینی حلقوں کو تشویش میں مبتلا کیا ہے، بلکہ خود اس جماعت کے وقار اور ساکھ پر بھی سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔
جمعیت علماء اسلام کے بہت سے کارکنوں پر بداخلاقی، الزام تراشی اور دشنام طرازی کے الزامات لگنا کوئی نئی بات نہیں۔ بڑے بڑے اہلِ علم، معتبر اور قابلِ احترام مذہبی شخصیات بھی ان کے جارحانہ رویوں کا سامنا کرچکی ہیں۔ جو بھی جماعتی بیانیے سے اختلاف کرے، اس کے لیے سوشل میڈیا پر کردارکشی، تمسخر اور گالم گلوچ تک کو جائز سمجھ لیا جاتا ہے۔ اختلاف دلیل سے کم اور زبان درازی سے زیادہ کیا جاتا ہے۔ جمعیت علماء اسلام کے کارکنوں کی جانب سے شیخ الحدیث مولانا مفتی محمد زاہد صاحب کے خلاف طوفان بدتمیزی کا واقعہ اسی سلسلے کی ایک افسوسناک کڑی ہے۔ معروف عالمِ دین، شیخ الحدیث مولانا مفتی محمد زاہد صاحب نے خوارج کے معاملے میں مفتی عبدالرحیم صاحب کے مؤقف کی تائید کی، جو کہ ایک علمی رائے ہے، مگر جمعیت علماء اسلام کے بعض کارکنوں نے اسے اختلاف کے بجائے دشمنی سمجھ لیا اور مولانا زاہد صاحب کے خلاف منظم پروپیگنڈا شروع کر دیا۔
سوشل میڈیا پر جمعیت علماء اسلام سے وابستہ متعدد کارکنوں کی تحریریں سامنے آئیں، جن میں نہ صرف مولانا زاہد صاحب کی علمی حیثیت کو مشکوک بنانے کی کوشش کی گئی، بلکہ ان پر کھلے عام طعن و تشنیع، الزام تراشی اور بے ہودہ جملے بھی اچھالے گئے۔ ایک کارکن کی تحریر میں کہا گیا کہ "سوشل میڈیا نے ہر ایرا غیرا، نتھو خیرا کو نقاد بنا دیا ہے"۔ اس کے علاوہ بھی اس تحریر میں بہت بدتمیزی کی گئی اور اسی تحریر کے نیچے کمنٹس میں جو زبان استعمال کی گئی، وہ کسی بھی مہذب معاشرے کے لیے قابل قبول نہیں، جبکہ ایک مذہبی جماعت کے بالکل بھی شایانِ شان نہیں۔
معاملہ گالم گلوچ تک جا پہنچا اور حیرت انگیز طور پر جمعیت علماء اسلام کے سینکڑوں کارکنوں نے نہ صرف اس بے ہودہ تحریر کو پسند کیا، بلکہ آگے بھی شیئر کیا۔ انہی کمنٹس میں ایک شخص نے یہ جملہ بھی لکھا: "مفتی زاہد صاحب اگرچہ میرے استاد ہیں، لیکن اس جیسے ہزاروں مفتی مولانا فضل الرحمٰن کی جوتیوں پر قربان"۔ یہ جملہ محض ایک فرد کی ذہنیت کی عکاسی نہیں کرتا، بلکہ اس تربیت کا آئینہ دار ہے جو اختلاف کو استاد کی توہین اور جماعتی وابستگی کو علم، اخلاق اور احترام پر فوقیت دیتی ہے۔ یہ کیسی مذہبی جماعت ہے جس کے بہت سے کارکن اپنے ہی اساتذہ کی تذلیل کو دیانت داری سمجھنے لگیں؟ جو جماعت خود کو مذہبی اور مدارس و علماء کی محافظ بھی کہتی ہے، مگر اس کے کارکن علماء کی توہین کریں اور جماعتی قیادت خاموش تماشائی بنی رہے۔
مولانا مفتی محمد زاہد صاحب کوئی معمولی عالمِ دین نہیں۔ ان کا شمار ملک کے جید، معتدل اور باوقار اہلِ علم میں ہوتا ہے۔ وہ جامعہ اسلامیہ امدادیہ فیصل آباد جیسے قدیم اور معروف دینی ادارے کے نائب مہتمم اور شیخ الحدیث ہیں۔ ان کی پوری زندگی تدریسِ حدیث، علمی تحقیق اور فکری رہنمائی میں گزری ہے۔ ان کی تصانیف، دروس اور علمی خدمات کا ایک زمانہ معترف ہے۔ اختلاف کے باوجود انہوں نے کبھی گالی، الزام یا بدزبانی کا سہارا نہیں لیا، بلکہ جو بات درست سمجھی، دلیل اور وقار کے ساتھ بیان کی۔
جمعیت علماء اسلام کے بعض کارکنوں کی جانب سے یہ الزام بھی لگایا جا رہا ہے کہ مولانا زاہد صاحب نے خوارج کی مذمت سے متعلق مؤقف کسی کے کہنے پر یا حکومت کی خوشنودی کے لیے اختیار کیا ہے۔ یہ الزام سراسر بے بنیاد ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مولانا زاہد صاحب برسوں سے مذہبی انتہا پسندی، شریعت کے نام پر خونریزی اور خوارجانہ فکرکے خلاف لکھتے اور بولتے آ رہے ہیں۔ اس پاداش میں انہیں پہلے بھی الزامات اور مخالفت کا سامنا کرنا پڑا، مگر انہوں نے کبھی حق بات کہنے سے قدم پیچھے نہیں ہٹایا۔
ہم نے خود جامعہ اسلامیہ امدادیہ فیصل آباد میں ان سے تعلیم حاصل کی ہے۔ دورانِ تعلیم ہم نے انہی سے یہ سیکھا کہ شریعت کا نام لے کر بے گناہوں کا خون بہانا دین نہیں، بلکہ فتنہ ہے۔ مشکواۃ شریف اور دورۂ حدیث کے اسباق میں باب الفتن، باب الجہاد، باب الایمان اور باب الامارۃ و القضاء اور دیگر ابواب کے مباحث میں مولانا زاہد صاحب نے ہمیشہ فقہی لٹریچر اور ائمہ کے اقوال کی روشنی میں خوارج کی تردید کی۔
ایک واقعہ آج بھی ذہن میں تازہ ہے۔ پندرہ سولہ برس قبل جب ہم مشکواۃ شریف کے طالب علم تھے، کراچی میں ایک بم دھماکے پر ایک طالب علم نے خوشی کا اظہار کیا۔ جب یہ بات مولانا زاہد صاحب تک پہنچی تو وہ شدید غصے میں درسگاہ آئے، شریعت کے نام پر جاری خونریزی کی سخت مذمت کی اور غصے کے عالم میں سبق پڑھائے بغیر واپس چلے گئے۔ میں نے انہیں اس دن جتنا غصے میں دیکھا، اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ یہ غصہ کسی فرد پر نہیں، بلکہ اس خوارجانہ سوچ پر تھا جو دین کو قتل و غارت کا جواز بناتی ہے۔
یہ حقیقت بھی ریکارڈ پر ہے کہ مولانا زاہد صاحب برسوں سے ٹٹی پی اور ان جیسے عناصر کو فقہی دلائل کے ساتھ خوارج قرار دیتے آ رہے ہیں۔ ریاست اور بعض اداروں نے بعد میں جا کر یہ مؤقف اختیار کیا، مگر مولانا زاہد صاحب یہ بات بہت پہلے سے درس و تدریس میں بیان کرتے آ رہے تھے۔ وہ نہ صرف ایسے عناصر کو خوارج کہتے تھے بلکہ اسباق میں خوارج سے متعلق وارد احادیث کا مصداق بھی واضح کرتے تھے۔
آج اگر جمعیت علماء اسلام یا کسی اور جماعت کو مولانا زاہد صاحب کی رائے سے اختلاف ہے تو یہ ان کا حق ہے، مگر اختلاف کے نام پر بدزبانی، کردارکشی اور اساتذہ کی توہین کسی طور قابلِ قبول نہیں۔ اگر جمعیت علماء اسلام واقعی اس گالم گلوچ اور بدتمیزی کی حامی نہیں تو اسے چاہیے کہ اپنے کارکنوں کو لگام دے، ورنہ یہ طرزِ عمل صرف دوسروں کو نہیں، بلکہ خود جماعت کو بھی شدید نقصان پہنچا رہا ہے۔ جماعتیں طاقت سے نہیں، اخلاق سے پہچانی جاتی ہیں اور جمعیت علمائے اسلام کے کارکنوں میں دن بدن اسی اخلاق کی کمی ہوتی جارہی ہے۔

